229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 24

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

شاہ ابھی تک ہانی کو بے یقینی سے دیکھ رہا تھا ۔جب نرمین نے غصے سے ہانی کا ہاتھ جھٹکا تھا ۔ جو وہ شاہ کے سامنے کیے بیٹھی تھی ۔۔۔

” ارے ارے! ڈیئر سوتن آپ تو غصہ ہی کر گئیں ۔۔۔ بھئی ویٹ کر لیں آپ کو بھی مبارکبا دیتی ہوں ۔”

ہانی ایک جلتی ہوئی مسکراہٹ زین کی طرف اچھالتے ہوئے بولی ۔۔۔

” یہ لڑکی کون ہے ۔ پہلے تو اسے کبھی یہاں نہی دیکھا ۔۔”

مہمانوں میں سے کسی عورت نے کہا تھا۔ شاہد وہ ان کی قریبی رشتہ دار تھیں ۔ تبھی ہانی کو دیکھ کر اچنبھے سے بولیں۔۔۔

” ہاااا ! یہ کیا آپ نے اب تک کسی سے میرا تعارف نہیں کروایا۔۔۔ کوئی بات نہیں شاید بھول گئے ہوں گے۔۔۔اَس اوکے میں خود ہی کروا دیتی ہوں ۔۔۔”

ہانی زین پر بھر پور طنز کرتے ہوئے بولی اور پھر رخ مہمانوں کی طرف کیا۔۔۔

وہ کچھ کہنے ہی والی تھی ۔ جب اچانک زین اٹھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے لے جانے لگا۔۔۔۔اس کی برداشت ختم لو چکی تھی ۔۔۔

“ہاتھ تو چھوڑیں ۔ ابھی تو میں نے سب سے اپنا تعارف بھی نہیں کروایا۔”

ہانی زین کی سخت گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی ۔۔۔

” اندر چلو بات کرنی ہے مجھے تم سے۔۔”

شین غصے سے کہتا اسے ابھی تک اپنے ساتھ گھسیٹتا اندر لے جاتا ہوا بولا۔۔۔

” ہاں تو بات تو سب کے سامنے بھی ۔۔۔۔”

اگلی بات ہانی کہ منہ میں ہی رہ گئی تھی ۔ جب زین نے اسے جھٹکے سے چھوڑا اور وہ سیدھا صوفے پر جا گری۔۔۔۔

” یہ کیا حرکت تھی ؟”

زین غصے سے دھاڑا تھا ۔۔۔

” کون سی حرکت ؟ کیا ہوا ؟”

ہانی نے انجان بنتے ہوئے آنکھیں پھیلا کر ایسے کہا جیسے وہ کچھ جانتی ہی نہ ہو۔۔۔اور اٹھ کے اس کے مقابل آ کھڑی ہوئی ۔۔۔

” انجان مت بنو تم اچھی طرح جانتی ہو۔۔۔ ابھی تم کیا کر کے آئی ہو باہر۔۔۔”

زین غصی ضبط کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے غرایا۔۔۔۔

” کیا ! ہاں میں کیا کر آئی ہوں۔۔۔ تمہارا مجھ سے کوئی ناجائز تعلق تو نہیں جو یوں کسی کو بھی بتانے سے ڈرتے ہو ۔۔۔”

اب کی بار ہانی بھی غصے سے چلائ تھی ۔۔

” تم سمجھتی کیا ہو خود کو۔۔۔”

شین نے اس کا بازو دبوچا تھا ۔ ہانی کو اس کی انگلیاں اپنی بازو میں گڑھتی ہوئی محسوس ہوئیں لیکن اس وقت کو کسی بھی تکلیف کو محسوس نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔

” ہاتھ مت لگاؤ مجھے تم۔۔۔ کوئی حق نہیں ہے تمہارا مجھ پر۔۔ جس تعلق کو تم کسی کے سامنے تسلیم نہیں کر سکتے اسے بنانا بھی نہیں چاہئے تھا ۔۔”

ہانی غصے سے کہتی اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دھکا دے کر خود کو چھڑا کر تیزی سے اس کی اگلی بات سنے بغیر وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔۔

حنین جو اس سب ہنگامے سے ناواقف تھا ۔ حویلی کی پچھلی جانب کھانے کا انتظام چیک کر کے واپس آیا تھا ۔۔۔

اور اب پیاس لگنے کی وجہ سے کچن کی طرف جا رہا تھا کسی سے بہت بری طرح ٹکرایا تھا ۔۔

“اوہ۔۔۔۔”

ابھی حنین اتنا ہی بول پایا جب ہانی نے نا آؤ دیکھا نہ تاؤ اور حنین پر برس پڑی ۔۔۔۔۔

” اندھے ہو کیا؟ نظر نہیں آتا۔۔۔ یہ جو دو آنکھیں ہیں منہ پر ان کا استعمال بھی کر لیا کرو۔۔۔۔۔اور اگر نہیں کر سکتے تو نکال کر کسی اندھے کو دے دو کم سے کم وہ صحیح سے استعمال تو کر لے گا ان کا۔۔۔۔”

غلطی سراسر ہانی کی تھی کہ وہ اتنا تیز چل رہی تھی سامنے سے آتے حنین کو دیکھ ہی نا پائی تھی ۔۔۔لیکن اب سارا الزام حنی پر ڈالتے ہوئے وہ وہاں رکی نہیں تھی۔۔۔بلکہ غصے سے کہتی وہاں سے واک آؤٹ کر گئی۔۔۔

حنین ہنقوں کی طرح کھڑا بس دیکھتا رہ گیا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے ۔۔۔۔

کمرے میں پہنچ کر اس نے تیزی سے دروازہ بند کیا اور ایسے ہی نیچے بیٹھتی چلی گئی ۔۔۔

بہت ہمت کر کے وہ باہر گئی تھی لیکن اب اس کا ضبط ختم ہو گیا تھا وہ مزید خود کو مضبوط ظاہر نہیں کر سکتی تھی ۔۔ اسی لیے اپنے دونوں ہاتھوں سے بال نوچتے ہوئے چلائی تھی ۔۔۔

” کیوں! کیوں میرے ساتھ ایسا ہوا آخر کیوں ۔۔۔۔۔کیا قصور تھا میرا ۔۔۔ صرف اتنا کہ میں اس رشتے کو دل سے قبول کرنے لگی تھی ۔”

وہ وہیں بیٹھی روتی رہی۔۔۔چیختی چلاتی رہی ۔۔لیکن باہر کے شور میں اس کی آواز دب کے رہ گئی تھی ۔۔

کوئی نہیں سن پا رہا تھا اس کی سسکیاں ،رونا۔۔ ہسں مگر اس کا رب تو سب سن رہا تھا ۔ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

وہ رات ہانی نے کیسے گزاری تھی یہ صرف وہی جانتی تھی ۔۔۔ساری رات یہی تڑپ اسے کسی کل چین نہیں لینے دے رہی تھی ۔۔کہ وہ کسی اور کا ہو گیا تھا ۔۔۔

آج اپنی نئی زندگی کسی اور کے ساتھ شروع کرنے والا ہے ۔۔۔

اس بات سے انجان کہ کسی کی زندگی تو بس اسی رات کی اذیت کی نظر ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔

ایک ہفتہ ہو چکا تھا لیکن دوبارہ ہانی کسی کے سامنے نہیں گئی تھی نہ ہی اپنے کمرے سے نکلی تھی ۔۔۔

آج اسے یہاں گُھٹن محسوس ہو رہی تھی اسی لیے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔لیکن لان سے آتی آوازوں نے اس کے قدم روکے تھے ۔۔۔

” زین میں سوچ رہی ہوں کہ تم اپنے ساتھ نرمین کو بھی لے جاؤ۔۔ ابھی دن ہی کتنے ہوئے تم لوگوں کی شادی کو۔۔۔ساتھ رہو گے تو ایک دوسرے کو اچھے سے جان سکو گے۔۔”

یہ آواز سکینہ بیگم کی تھی ۔۔

” لیکن چچی سائیں یہاں آپ کے ساتھ کون ہو گا۔ آپ تو اکیلی رہ جائیں گی۔”

زیننے انہیں ٹالنا چاہا تھا ۔۔

” میری فکر مت کرو یہاں اتنے لوگ ہیں سارے ملازم ہیں ۔ میں بھلا کیسے اکیلی ہوئی۔۔اور ویسے بھی تم وہاں اکیلے ہو جاؤ گے کوئی ساتھ ہو گا تو مجھے تمہاری فکر نہیں ہو گی۔”

وہ نرمین کو اس کے ساتھ بھیجنے پر بضد تھیں ۔۔۔

” ٹھیک ہے جیسے آپ کو صحیح لگے ۔”

زین نے بات ختم کی۔۔۔تبھی کسی کی آواز ر سب چونکے تھے ۔۔۔

” کہاں جانے کی باتیں ہو رہی ہیں ؟”

ہانی کہتے ہوئے لاونج میں داخل ہوئی اور زین کے مقابل بیٹھ گئی ۔۔۔

” چچی کہہ رہیں تھیں کہ زین بھائی نرمین بھابھی کو بھی ساتھ لے جائیں اسلام آباد ۔”

حنین نے فوراً جواب دیا تھا۔

” ہمممم! اچھی بات ہے ۔”

ہانی نے زین کو دیکھتے ہوۓ بے دلی سے جواب دیا تھا ۔

” آئیڈیا!”

حنین کچھ سوچ کر فوراً پر جوش ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔جبکہ اس کے اس طرح چلانے پر سب نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے۔۔۔

اب سب اس کی طرف دیکھ رہے تھے تاکہ وہ اپنی عظیم سوچ سے سب کو آگاہ کرے۔۔۔

” آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں رونک لگ جائے گی ۔ ویسے بھی ہم تینوں چلے جائیں گے تو آپ یہاں اکیلی بور ہو جائیں گی ۔”

حنین نے خوشی سے اپنی بات بتائی۔ جبکہ اس کی بات سن کے کئی چہروں سے خوشی غائب ہوئی تھی ۔۔۔

” وہ یہاں آئی تھنک زیادہ کمفرٹیبل ہے۔”

زین نے فوراً اس کو ساتھ نہ لے جانے کا جواز پیش کیا تھا ۔وہ اس سے دور رہنا چاہتا تھا ۔۔جانتا تھا اگر وہ پاس رہی تو وہ اپنی محبت کا اعتراف کر بیٹھے گا۔۔

زیم جو خوش ت کہ وہ اس سے دور جا رہے ہے اس کی خوشی تب ہوا ہوئی جب ہانی نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔۔

” ہاں کیوں نہیں ویسے بھی تم سب چلے جاؤ گے تو میں اکیلی یہاں کیا کروں گی۔ کب جانا ہے تم لوگوں نے تاکہ میں بھی اپنی تیاری کر لوں۔”

ہانی زین کی غصیلی نگاہوں کو نظر انداز کرتی ہوئی بولی تھی ۔۔

جبکہ اس کی بات سن کر نرمین اور سکینہ بیگم اندر ہی اندر بل کھا کے رہ گئیں۔۔

زین بس غصے اور حیرانگی سے اس کے پل پل بدلتے روپ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔