229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 3

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

زین گاڑی تیزی سے ڈرائیو کرتا حویلی کی جانب جا رہا تھا ۔یہ دو گھنٹے کا سفر اسے دو صدیوں جتنا لگ رہا تھا ۔ایک ایک پل مشکل سے کٹ رہا تھا ۔آخر کار وہ اپنی منزل پر پہنچ گیا اور حویلی کے سامنے پہنچ کر اُس نے ہارن بجایا جسے سُن کے چوکیدار نے فوراً ہی گیٹ کھول دیا ۔ گاڑی عجلت میں پارک کر کے نیچے اُترا اور جلدی سے مردان خانے سے ہوتے ہوۓ حویلی کے اندرونی حصّے کی جانب بڑھ گیا ۔ اندر داخل ہوتے ہی چچا سائیں اُسے سامنے ہی کھڑے ملے ۔

” آ گۓ زین بیٹا ۔ میں کب سے تمہارا ہی انتظار میں رہا تھا ۔” اُس کے آتے ہی سجاول صاحب جو کہ زین کے چچا تھے فوراً ہی بولے۔ جس کا جواب زین نے گردن کو ہاں کی صورت میں ہلا کے دیا اور چلتے چلتے ہی سوال کیا ۔

” اب کیسی طبیعت ہے بی جان کی ؟”

“ڈاکٹر نے چیک کیا ہے ٹانگ میں فریکچر آیا ہے ۔ مکمل بیڈ ریسٹ کا کہا ہے ۔ اور تاکید کی ہے کہ ایک ہفتے تک ان کو چلنے پھرنے نہ دیا جاۓ۔” سجاول سائیں نے اُس کے ساتھ ہی چلتے چلتے جواب دیا۔

” یہ سب ہوا کیسے ؟ نوراں کہاں تھی؟ اُسے خاص تاکید کی تھی کہ اُن کے ساتھ رہے پھر بھی لاپرواہی کی اُس نے۔” زین غصے میں نظریں یہاں وہاں دوڑاتے ہوئے بولا ۔ اور بی جان کے کمرے کی طرف چل دیا۔

ہانی اور سمیرا کے فائنل ایگزامز ہو رہے تھے ۔اور ان دنوں وہ بہت بزی تھیں ۔آج ان کا پہلا پیپر تھا۔ پیپر دے کر باہر آئیں تو سمیرا نے ہانی سے کہا۔

” یار چلو کینٹین سے کچھ کھا لیں ۔ میرے تو پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں ۔ تھوڑی دیر اور یہاں رُکی تو ایسا نہ ہو باہر ہی آ جائیں ۔”

” ہاں چلو یار مجھے بھی بہت بھوک لگ رہی ہے ۔”

ہانی نے بھی فوراً سمیرا کی تائید کرتے ہوۓ کہا اور دونوں کینٹین کی طرف چل دیں۔ اپنا آرڈر دے کر وہ دونوں قدرے ایک کونے میں پڑی میز کی جانب گئیں اور وہاں رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئیں ۔ جب دفعتاً سمیرا کو کچھ یاد آیا اور اُس نے ہانی کو مخاطب کیا ۔

” سُنو ہانی میری ایک کزن نے بتایا ہے کہ اگلے ہفتے میں یہاں کوئ ایگزیبیشن لگنے والی ہے اور بہت بڑی بڑی شخصیات آنے والی ہیں ۔”

“تو ! پھر ہم کیا کریں ؟” ہانی نے نا سمجھی سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

” کیا مطلب ہم کیا کریں ؟ ہانی تم کتنی بے وقوف ہو ۔ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا ۔” سمیرا نے شاک سے کہا۔

” اس میں اب بے وقوفی والی کون سی بات ہے ۔ اب اگر کوئی ایسی ویسی بات ہے بھی تو مجھے کیا پتا چلے گا جب تک تم بتاؤ گی نہیں ۔” ہانی نے پریشان ہوتے ہوئے کہا ۔

” سُنو اور میری بات غور سے سمجھو میں سے کہا وہاں بڑی بڑی شخصیات آنے والی ہیں. اس نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا.

“تو ؟” ہانی نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

جس پر سمیرا اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے شریر انداز میں بولی ۔

“تو یہ کہ میں سوچ رہی تھی کہ ہم وہاں جائیں گے میری تو ویسے منگنی ہو گئ ہے کیوں نہ ہم تمہارے لیے وہاں کوئ لڑکا ڈھونڈ لیں۔ “

سمیرا کی اس بے تُکی بات پر ہانی سر تا پیر سُلگ گئ اور پاس پڑا بیگ اُٹھا کے سمیرا کے سر پر دے مارا ۔

” سمیرا حد ہوتی ہے ۔ کیا بے ہودہ مزاق تھا ۔ میں پریشان ہو گئ تھی کہ پتا نہیں کیا ہو گیا ۔” ہانی نے غصّے سے کہا ۔ جبکہ سمیرا اپنا سر سہلاتے ہوۓ منہ پُھلا کر بیٹھی رہی۔ لیکن دونوں یہ نہیں جانتی تھیں کہ اس ایگزیبیشن میں جانے کے بعد ان کی زندگی پُوری طرح بدلنے وال تھی ۔

رشیدہ خالہ کو ہدایت کرتے ہوئے وہ گھر سے باہر نکل آئ اور بس سٹینڈ کی طرف چل دی ۔ پوئنٹ پر پہنچ کر وہ بینچ پر بیٹھ گئی اور بس کا انتظار کرنے لگی ۔ایک بس وہ پہلے ہی دیر سے اُٹھنے کا وجہ سے مِس کر چُکی تھی ۔ بینچ پر بیٹھ کر وہ یہاں وہاں جاتے لوگوں کو دیکھنے لگی کہ اچانک ایک گقڑی اُس کے سامنے آ کر رُکی تو اس نے بے اختیار گاڑی کی طرف دیکھا اور گھبرا گئی ۔

” اگر وہ ہوا تو ؟ اگر اس نے مجھے یہاں دیکھ لیا تو ! “اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔ اور اس سے پہلے وہ کچھ اور سوچتی ۔ گاڑی سے کوئ اُترا اور چلتے ہوئے اس کے پاس آیا اور اسے مخاطب کر کے بولا۔

” مس حمنہ آپ یہاں پر ! لگتا ہے آپ کی بس مِس ہو گئ ہے ۔ آئیں میں بھی آفس ہی جا رہا ہوں آپ کو بھی ساتھ لے چلتا ہوں ۔”

” وہ جو کسی اور کا ہی سوچ کر رُخ نیچے کیے آنکھیں زور سے بند کیے بیٹھی تھی ۔ کہ شاید وہ جو بھی ہے اُسے پہچان نہ سکے آنے والے کی آواز ہر فوراً چونک کر اس کی جانب دیکھا اور سکون کا سانس لیا۔

” سر آپ یہاں ؟” حمنہ نے بجائے جواب دینے کے اُلٹا اس سے سوال کیا ۔

” جی میرے گھر کی طرف یہی راستہ جاتا ہے۔ لیکن آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟” جواب دیتے ہوئے حسان نے سوال کیا ۔

” جی سر میرا گھر بھی یہاں قریب ہی ہے ۔ بس کا انتظار کر رہی تھی ۔” اس نے رسان سے جواب دیتے ہوئے بتایا ۔

“چلیں پھر ساتھ ہی چلتے ہیں ۔ میں بھی تو آفس ہی جا رہا ہوں ۔” حسان نے اسے آفر دی۔ جسے وہ منع کر رہی تھی ۔

” نہیں سر! آپ تکلیف نہ کریں میں آ جاؤں گی۔” اس نے سہولت کے انکار کرتے ہوئے کہا ۔

” کم آن مِس حمنہ، اس میں تکلیف کی کیا بات ہے ۔ ہم دونوں نے ایک ہی جگہ جانا ہے ۔” حسان نے اس کے انکار کو کسی کھاتے میں نہ لاتے ہوئے کہا اور وہ بس خاموشی سے اُٹھ کر اس کے ساتھ چل دی

زین کمرے میں داخل ہوا تو سجاول سائیں باہر ہی رُک گئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ دادی پوتا اپنے بیچ کسی دوسرے کی مداخلت برداشت نہیں کرتے۔ وہ اندر داخل ہوا تو بی جان بستر ہر آنکھیں موندے لیٹی تھیں ۔ دروازے کی آہٹ سُن کے انہوں نے آنکھیں کھولیں اور زین کو دیکھ کر ہولے سے مسکرا دیں۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا ہوا اُن کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا اور ان کا ہاتھ تھام کر اُن کے چہرے کو غور سےدیکھنے لگا جہاں تکلیف کے آثار نمایاں تھے ۔

” کتنی بار آپ سے کہا ہے کہ اپنا خیال رکھا کریں ۔ لیکن آپ کو پتا نہیں مجھے پریشان کر کے کیا سکون ملتا ہے.” وہ ان کا ہاتھ تھامے شکوہ کر رہا تھا ۔

” اور میں نے بھی تم سے کتنی بار کہا ہے کہ اب بوڑھی ہو گئی ہوں ۔ اکیلے دل نہیں لگتا کمرے میں بیٹھ بیٹھ کر دل گھبرانے لگتا ہے ۔ ایک پڑھائ کے بہانے باہر چلا گیا اور دوسرا شہر سے باہر رہتا ہے یہاں مجھ بوڑھی کے پاس کون یے ۔ تم آ جاؤ تو دل لگ جائے ۔” وہ بھی اسی کی دادی تھیں بھلا اتنی آسانی سے اپنی غلطی کیونکر مانتیں ۔

” تو آپ سے کتنی بار کہا ہے کہ میرے ساتھ چلیں مگر آہ مانتی ہی نہیں ۔” وہ بھی حساب برابر کرتے ہوئے بولا ۔

” میرے مرحوم شوہر نے اپنی ساری زندگی اسی گاؤں میں گزاری۔ میرا بیٹا اور بہو یہیں دفن ہیں میں یہاں سے کہیں نہیں جاوں گی ۔” بی جان جزباتی ہو کر بولیں ۔

“اچھا اچھا ٹھیک ہے میں آپ کو کہیں نہیں جانے کا کہتا ۔” وی ان کی جزباتیت دیکھ کر بولا ۔

” اگر میری اتنی فکر ہے تو میری بات مان کیوں نہیں لیتے ۔ شادی کر لو تمہارا خیال رکھنے والی آ جائے گی تو مجھے بھی تمہاری طرف سے سکون ہو گا۔ میں بھی تمہاری خوشیاں دیکھنا چاہتے ہوں ۔ تمہارا گھر آباد یو گا تو میں بھی سکون سے مر سکوں گی۔” انھوں نے ہمیشہ کی طرح اسے شادی کا مشورہ دیا اور ساتھ ایموشنل بلیک میل کیا ۔

” اسی وجہ سے میں حویلی کم آتا ہوں ایک تو شادی کی رٹ اور دوسرا مرنے کی باتیں ۔ میری خوشی دیکھنی ہے تو دیکھیں میں ایسے ہی بہت خوش ہوں بس آپ اپنا خیال رکھا کریں میں اسی سے خوش ہو جاوں گا ۔” وہ ان کی شادی والی بات ہر زِچ ہوتے ہو ے بولا۔

” دیکھو زین میں اب بوڑھی ہو چکی ہوں ۔ میرا کیابھروسہ آج ہوں تو کل نہیں ۔ میرا بچہ میں اپنی زندگی میں یہ فرض پورا کرنا چاہتی ہوں تاکہ تمہارے ماں باپ کو مرنے کے بعد جواب دے سکوں ۔” وہ مِنت بھرے لہجے میں گویا ہوئیں ۔

” ٹھیک ہ جیسے آپ کی خوشی لیکن پلیز یہ مرنے کی باتیں مت کیا کریں۔” وہ گویا ہار مانتے ہوئے بولا ۔ جبکہ دروازے کے باہر کھڑے سجاول کی آنکھوں میں زین کا شادی کے لیے مان جانے کا سُن کر ایک عجیب سی چمک اُبھری۔

آج کی صبح کا سورج بھی معمول کی طرح اُبھرا ۔ وہ کب صوفے ہر ہی لیٹا لیٹا سو گیا اُسے پتہ ہی نہ چلا ۔وہ اُٹھ کر جلدی سے فریش ہوا اور گاڑی لے کر کمال صاحب کےآفس کی طرف نکل گیا ۔ آفس کے سامنے گاڑی روک کر نیچے اُترا اور قدم اندر کی جانب بڑھا دیے۔ وہ آفس کی طرف جا رہا تھا جب کمال صاحب کی سیکرٹری نے اُسے روکا اور پوچھا۔

” سر کیا آپ نے اپائمنٹ لی ہے ؟”

اس کے اس سوال پر وہ سر تاپیر سُلگ گیا لیکن غصہ ضبط کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا ۔

” تم جا کر کمال صاحب کو بتاؤ کہ میں آیا ہوں ۔” اُس نے اپنا نام بتاتے ہوئے کہا۔ سیکرٹری سر ہلاتی ہوئی اندر کی جانب چل دی اور وہ بے صبری سے اس کے واہس آنے کا انتظار کرتے ہوئے یہاں سے وہاں ٹہلنے لگا۔