229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 6

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

آج صبح سے ہی حویلی میں کافی چہل پہل تھی ۔ پوری حویلی کو دُلہن کی طرح سجایا جاۓ یہ بی جان کا حُکم تھا کیونکہ آج ان کے لاڈلے کی منگنی تھی اس لیے کسی قسم کی کمی برداشت نہیں کر سکتی تھیں ۔ زین شجاع کے ساتھ صبح ہی حویلی جانے کے لیے نکل چُکا تھا ۔ اور سجاول سائیں شہر جا رہے تھے فنکشن کے لیے ۔ ہانی اور سمیرا بھی ایگزیبیشن میں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھیں ۔ سب اپنی اپنی دنیا میں مگن آج کے دِن کی تیاریوں میں مصروف تھے ۔ لیکن کوئ نہیں جانتا تھا کہ آج کا سورج طلوع تو معمول کی طرح ہوا ہے لیکن غروب ان سب کی زندگیوں میں ایک نئ حل چل کے ساتھ ہو گا۔

زین اور شجاع حویلی پہنچے تو تیاریاں دیکھ کر حیران رہ گئے ۔

” ارے یار بی جان تیری منگنی ہی کر رہیں ہیں یا شادی بھی کہ بعد میں کہیں تو مُکر نہ جاۓ ۔” شجاع نے شرارت سے کہا۔ زین خود اتنی تیاریاں دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔

” بکواس نہ کیا کر کبھی کبھی قبولیت کا وقت بھی ہوتا ہے ایسا نہ ہو تیری کالی زبان سے نکلی بات سچ ہو جائے ۔” زین نے مصنوی خوف چہرے پر طاری کرتے ہوئے کہا ۔

ہاں تو تجھے تو خوش ہونا چاہیئے نا شُکرے انسان کے لگے ہاتھوں شادی بھی ہو جائے گی ۔” شجاع اسے گھرکتا ہوا بولا ۔ جبکہ زین خاموش ہی رہا اس کے خیال میں شجاع سے بحث کرنا فضول ہی تھا ۔ شجاع کو مردان خانے میں ٹھراتے ہوۓ زین بی جان سے ملنے چلا گیا ۔ شاید شجاع کی کہی بات سچ ہونے والی تھی ۔ شاید وہ واقعی قبولیت کی گھڑی تھی

سجاول سائیں شہر پہنچ گئے تھے ۔ دراصل انہیں کسی فنکشن نہیں بلکہ ایگزیبیشن میں جانا تھا لیکن وہ ایک بگڑا ہوا وڈیرا تھا جس کے لیے یہ جگہ فنکشن کی ہی حیثیت رکھتی تھی کیونکہ وہ تو صرف ایسی جگہوں پر اپنا شکار ہی ڈھونڈنے آتا تھا ۔ اور اتفاق سے ہانی اور سمیرا بھی اسی ایگزیبیشن میں آئی ہوئیں تھیں ۔ سمیرا ہانی کو کوئ پینٹنگ دکھا رہی تھی جسے دونوں بہت پُر جوش انداز میں دیکھ رہی تھیں جب سجاول سائیں کی نظر ہانی پر پڑ گئی ۔ وہ چاہ کر بھی اس سے نظریں نہی ہٹا پایا تھا اور نہ اس نے اس کی ضرورت محسوس کی ۔ اپنی حوس پرست نگاہوں سے دیکھتا وہ ان دونوں کے قریب آیا اور ایک گھٹیا مسکان چہرے پر سجاۓ ان دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

” خدا جب حُسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے ۔” بہت بھونڈے انداز میں دل پر ہاتھ رکھ کر کہا گیا۔ہانی اور سمیرا نے یکدم گھبرا کر اس کی طرف دیکھا اور پھر اپنے دائیں بائیں خود کو یقین کروانے کے لیے کہ شاید انہیں کوئ غلط فہمی ہوئ وہ کسی اور سے مخاطب ہے ۔ سجاول ان کی حرکت سمجھ گیا اس لیے دوبارہ بولا۔

” بیوٹیفل لیڈیز ! آپ سے ہی مخاطب ہوں ۔” ایک مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔ اور ساتھ ہی ہانی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ہانی اس سب سے گھبرا گئی اور غصے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوایا۔

” آہاں ! کافی نخرے والی لگتی ہو ۔ فکر مت کرو منہ مانگی قیمت دوں گا ۔” سجاول خباثت سے کہتا دو قدم مزید آگے بڑھا۔ ہانی کا اس کی بات کا مطلب سمجھ کر چہرہ غصے سے لال ہو گیا ۔

چٹاخخ! ایک زور دار آواز پورے حال میں گونجی جس نے سب لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔

” گھٹیا شخص تمہاری ہمت کیسے ہوئ مجھ سے ایسی بات کرنے کی ؟” ہانی آس پاس سے بے خبر چلا کر کہہ رہی تھی اس بات. سے انجان کے کتنے لوگ اس جانب متوجہ تھے اور اس تھپڑ کا اسے کیا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ سجاول اپنی بیزتی پر سیخ پا ہو کر رہ گیا اور غصے سے پھنکارتے ہوۓ بولا ۔

” اس تھپڑ کا جواب تمہیں بہت مہنگا پڑے گا۔” یہ کہتے ہی وہ غصے سے باہر نکل گیا ۔ اس کے باہر جاتے ہی ظفر اس کے پیچھے لپکا۔

” ظفر مجھے یہ لڑکی آج ہی چاہیئے ہر حال میں ۔ اسے بھی پتہ چلے سجاول سے پنگا لینے کا انجام۔” یہ کہتے ہی وہ غصے سے گاڑی میں بیٹھا اور ڈرائیور کو گاڑی حویلی کی جانب لے جانے کا حکم دیا ۔ اس کے جاتے ہی ظفر نے اپنا فون نکال کر کسی کو کال کی۔ اور اسے کچھ سمجھانے لگا۔

” دیکھنا اس کام کی کسی کو بھنک بھی نہ پڑے ۔ آج ہی یہ کام ہو جانا چاہئے وہ دونوں ابھی اندر ہی ہیں جیسے باہر نکلیں گی میں تمہیں خبر کر دوں گا ۔” کہہ کر کال کاٹ دی اور مسکرانے لگا۔

شام ہو چُکی تھی ۔ پوری حویلی قمقموں سے جگ مگ کر رہی تھی ۔ زین تھری پیس سوٹ پہنے بہت وجیہہ لگ رہا تھا ۔ نرمین نے پنک کلر کی سلیو لیس میکسی پہن رکھی تھی ۔ زین جب سٹیج کی جانب بڑھا تو اس کی نظر نرمین پر پڑی ۔ ایسے لباس میں اسے دیکھ کر زین خود شرمندہ ہو گیا اور نظریں جھکا لیں۔ رسم شروع کی گئی ۔ سب لوگوں نے انہیں دعائیں اور نیک تمنائیں دیں۔ رسمیں ختم ہونے کے بعد زین بی جان کے کمرے میں آ گیا

” بی جان اب مجھے اجازت دیں میری صبح ایمپورٹنٹ میٹنگ ہے۔” زین نے فرمانبرداری سے اجازت مانگی۔

” تم نے میری خواہش پوری کر کے میرا مان رکھ لیا زین ۔ آج میں بہت خوش ہوں۔” بی جان نے خوشی سے تمتاتے ہوۓ کہا ۔ زین چاہ کر بھی مسکرا نہیں سکا کیونکہ وہ لڑکی اس کی خواہش نہیں تھی ۔ ہاں اس نے کبھی اسے ناپسند نہیں کیا تھا لیکن کبھی اسے پسند بھی تو نہیں کیا تھا لیکن وہ بی جان کی خواہش تھی اس لیے اسے ناچاہتے ہوۓ بھی اب ساری زندگی اس کے ساتھ اس آس میں گزارنی تھی کہ شاید کبھی تو وہ اس کو دل ع بھا جاۓ ۔

سجاول کے جانے کے تھوڑی دیر بعد ہانی سمیرا کا بازو پکڑے اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لائی۔

” چلو اب ہاسٹل ۔ وہیں جا کر میں تمہاری خبر لیتی ہوں ۔ تمہیں ہی بہت شوق تھا نا یہاں آنے کا اب ہو گیا شوق پورا۔” ہانی اسے گھسیٹتے ہوئے ساتھ ساتھ بولی جا رہی تھی ۔ جب اچانک ان کے سامنے ایک وین آکر رُکی ۔ دونوں نے گھبرا کر ایک دوسرے کو ریکھا اور اس سے پہلے کہ دونوں وہاں سے بھاگتیں دو آدمی وین سے اترے ایک نے سمیرا کے سر پر گن ماری اور اسے بیہوش کر دیا جبکہ دوسرے نے ہانی کے منہ ہر رومال رکھا اور اس کے بیہوش ہوتے ہی اسے وین میں ڈال کر وین بھاگا لے گئے ۔

صبح حسبِ معمول ہوئی تھی ۔ لیکن اس کے لیے آج کی صبح خاص تھی ۔ ایک عرصے کے بعد اس کی تلاش مکمل ہوئی تھی ۔ وہ جلدی سے تیار ہو کر نیچے آیا اور گاڑی سٹارٹ کر کے مطلوبہ ایڈریس کی طرف بڑھ گیا۔ راستے میں وہ یہی سوچتا رہا کہ کیا بات کرے گا ۔وہ آج بہت خوش تھا ۔ سارا راستہ الفاظ کے چناؤ میں گزر گیا کہ آخر اسے کیا بولنا چاہئے

حمنہ شام کو آفس سے گھر آئی تو خالہ نے دروازہ کھولا ۔ اندر داخل ہوتے ہوئے اس نے ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار واضح دیکھ لیے تھے ۔

” کیا ہوا خالہ سب ٹھیک تو ہے ؟” اس نے دروازے میں ہی رُک کر پوچھا۔

” و۔۔۔وو۔۔۔۔۔وہ بیٹا ان۔۔ اندر ۔۔۔۔۔” وہ پریشانی میں اتنا ہی بول پائیں تھیں کہ وہ فوراً گھبرا کر اندر کی جانب بڑھی ۔

” خالہ ہادی تع ٹھیک تو نا؟” اسنے پریشانی سے اندر کی طرف جاتے ہوئے پوچھا جبکہ خالہ وہیں رُک گئیں ۔ اندر داخل ہوتے ہی لاؤنج میں بیٹھے شخص پر جب اُس کی نظر پڑی تو وہ دنگ رہ گئی جبکہ وہ شخص مزے سے ہادی کے ساتھ ساتھ بیٹھا کھیل رہا تھا ۔

” تم!” حمنہ نے بے یقینی سے اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر تقریباً چلاتے ہوئے کہا۔ جس سے وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔

” ششش آہستہ لوگ کیا سوچیں گے کہ تم کیوں چلا رہی ہو ؟” اس شخص کے چہرے پر اطمینان قائم تھا جیسے وہ صدیوں سےآشنا ہوں ۔

” تم یہاں کیوں آۓ ہو ۔ چلے جاؤ یہاں سے ۔ پلیز ہمیں ہماری زندگی جینے دو۔” وہ منت کرتے ہوئے بولی۔ اب وہ اُٹھ کر اسکے قریب آ کر کھڑا ہو گیا ۔

” مسز حمنہ شاہ ! میں آپ کو اور اپنے بیٹے کو یہاں سے لینے آیا ہوں ۔” وہ اطمینان سے بولتا مزید دو قدم آگے بڑھا تھا جس سے دونوں کے درمیان فاصلہ مزید کم ہوا تھا ۔ حمنہ اسے اتنا قریب دیکھ کر گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹی اور وہ سینے پر ہاتھ باندھے اسی اطمینان سے اسے دیکھ رہا تھا ۔

” نام مت لو میرا۔ کوئ حق نہیں ہے تمہیں میرا نام لینے کا ۔ سمجھے تم؟” وہ غصے سے بولی ۔

” نو ڈارلنگ ! تم شاید بھول گئی ہو یہ حق بہت عرصہ پہلے ہی مجھے مل چکا ہے اس لیے مجھے کچھ بھی کرنے کے لیے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔” وہ آنکھ دباتا ہوا ذومعنی الفاظ میں بولا۔ جسے سمجھ کر حمنہ بل کھا کے ہی تو رہ گئی تھی ۔ اس لیے غصے سے بولی

” کوئ حق نہیں تمہارا مجھ پر اور میرے بیٹے پر آئندہ یہاں آنے کی جرأت بھی مت کرنا” اور بس شاہ کی ہمت یہیں تک تھی ۔ کتنا خوش تھا وہ جب سے کمال صاحب نے اسے حمنہ کا ایڈریس دیا تھا ۔

” میں نے تم سے اجازت مانگی بھی نہیں ہے یہاں آنے کی یا تم پراپنا حق جتانے کی ۔سمجھی تم؟” شاہ نے اس کی کلائی ہاتھ میں پکڑ کے اس کی کمر سے لگاتے ہوئے سختی سے کہا جس ہر حمنہ سہم کر رہ گئی ۔

” اپنا سامان پیک کر لو صرف ایک دن کا وقت ہےکل تم میرے ساتھ واپس چلو گی۔” شاہ نے ابھی تک اسکی کلائی نہیں چھوڑی تھی ۔ درد کی شدت کو ضبط کرتے ہوئے حمنہ کاچہرہ سُرخ ہو چکا تھا اور آنکھیں پانی سے بھر گئی تھیں جن کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے شاہ کی گرفت ڈھیلی پڑی وہ اسے تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ اگر وہ زرا بھی نرمی دکھاتا تو اسے یقین تھا کہ وہ اس کی بات کبھی نہ مانتی۔

” میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی سمجھے تم۔” ہانی نے اس کی گرفت ڈھیلی پڑتے دیکھا تو فوراً سے بولی ۔ اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ کچھ بولتا ہادی روتا ہوا حمنہ کے ساتھ چپک گیا ۔

” میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جاؤں دا نہ ماما کو جانے دوں دا ۔ آپ دندے ہیں میرے بابا نہیں ہیں ۔ میں ماما کو نہیں کہوں دا کہ مجھے آہ کے ساتھ جانا ہے ۔” ہادی اپنی ماں کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکا اس لی صبح سے رٹاۓ گئے شاہ کے سبق کو ماں کے سامنے دہراتا ہوا بولا۔ جبکہ شاہ اپنی ساری محنت پر پانی پھرتے دیکھ کر افسوس سے بس لب کاٹتا رہ گیا اور حمنہ منہ کھولے اس شخص کو دیکھنے لگی جو اس کے بیٹے کو اس کے خلاف کرنا چاہتا تھا ۔