229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 13

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

شاہ ہادی کو گھما کر واپس لایا تو حمنہ کو بے چینی سے لاؤنج میں ٹہلتا دیکھ کر اس کی طرف آ گیا۔

” کیا ہوا سب خیریت تو ہے ۔ اتنی پریشان کیوں ہو؟” شاہ نے اسے پریشان دیکھ کر پوچھا ۔ جب حمنہ ان کی طرف متوجہ ہوئی۔

” آپ کو پتہ ہے میں کتنی پریشان ہو گئی تھی ۔ کہاں لے کر گئے تھے آپ ہادی کو مجھ سے پوچھے بغیر۔ ” حمنہ غصے سے ہادی کو اس کی گود سے لیتے ہوئے بولی ۔

” کیا ہو گیا ہے ؟ باپ ہوں میں ہادی کا کہیں بھی لے کر جا سکتا ہوں ۔” شاہ نے غصہ ضبط کرتے ہوئے جواب دیا۔

” نہیں ہیں آپ اس کے کچھ بھی ۔ کوئی حق نہیں ہے آپ کا میرے بیٹے پر سمجھے آپ۔ ” حمنہ چلائ تھی ۔

” آہستہ بولو کیوں تماشہ بنا رہی ہو اتنی سی بات کا۔” شاہ دھیمے لہجے میں غرایا۔

” میں ! میں تماشہ بنا رہی ہوں ؟ تماشہ تو آپ نے بنا دیا ہے میری زندگی کا۔ آپ کی وجہ سے آج میں اس حال تک پہنچ گئی ہوں۔” حمنہ آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوئے چیخی تھی ۔

” حمنہ!” شاہ کا ہاتھ بے اختیار اُٹھا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس کے چہرے پر اپنا نشان چھوڑتا شاہ نے ہاتھ روک لیا۔

” رُک کیوں گئے ؟ ماریں نا آپ کو تو ویسے بھی عادت ہے اس سب کی اور اب تو مجھے بھی یہ سب عجیب نہیں لگتا۔ آپ کی کھوکھلی مردانگی کا یہی تو ثبوت ہے جب چاہا میری ذات کو کرچیوں میں بکھیر کر رکھ دیا۔” حمنہ نے آنسوؤں کو روکتے ہوئے ہس کر طنز کیا ۔

شاہ کو اس کا یہ طنز بہت کچھ یاد دلا گیا تھا ۔ اس نے بہت بُرا کیا تھا اس کے ساتھ ۔ وہ تو سمجھا تھا حمنہ سب کچھ بُھلا کر اس کے ساتھ جانا چاہتی ہے لیکن وہ شاید یہ بھول گیا تھا جو زخم اس نے حمنہ کی روح کو دیے تھے ان کا ازالہ اتنی آسانی سے نہیں ہونا تھا ۔ وہ چُپ چاپ وہاں سے نکل گیا وہ جانتا تھا کہ اتنی آسانی سے اسے معافی نہیں ملنے والی۔ جب کہ حمنہ آنکھوں میں آنسو لیے اسے جاتا دیکھتی رہی۔ آج وہ بہت ڈر گئی تھی جب اس نے ہادی کو گھر پر نہیں پایا ۔ اس کی تو یہ سوچ کر ہی جان نکلی جا رہی تھی ۔

“اگر شاہ ہادی کو اس سے دور لے گیا یا اس نے ہادی کو کچھ کر دیا تو” اس سے آگے وہ سوچ ہی نہ پائی تھی ۔ اسی لیے جیسے ہی شاہ ہادی کو لے کر واپس آیا حمنہ نے جھگڑنا شروع کر دیا تھا ۔ وہ ہادی کے بغیر جینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔ اس کا سب کچھ ہادی ہی تو تھا اور اب اسے اپنے ہاس دیکھ کر وہ پُرسکون ہو گ تھی ۔

زین نے گاڑی اس کے گھر کے سامنے روکی تھی ۔ ہانی نے سر اُٹھا کر سامنے گیٹ کی طرف دیکھا ۔ کئی لمحے وہ بے یقینی سے سامنے دیکھتی رہی۔ اس کا رب کتنا مہربان تھا ۔ کیسے اس مشکل میں سے اس کو نکالا تھا ۔ اس کی عزت کو بچایا تھا ۔ آنکھوں میں نمی لیے اس نے شکر بھری نظر آسمان پر ڈالی اور گاڑی سے نیچے اُتر آئی۔ زین بھی اپنی جانب کا دروازہ کھول کر نیچے اُتر چُکا تھا ۔

” چلیں !” کچھ دیر اسے یونہی گیٹ کے سامنے کھڑا دیکھ کر زین نے اسے آواز دی۔

“آ ہاں ! چلیں ۔” زین کے آواز دینے پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔ دونوں نے قدم اندر بڑھا دیے۔ جیسے ہی ہانی اندر داخل ہوئی اپنے ماں باپ کو پریشان دیکھ کر فوراً ان کی طرف لپکی۔

” امی! بابا!” ہانی روتے ہوئے اظہار صاحب کے گلے جا لگی۔ اظہار صاحب کتنی دیر بے یقینی کی کیفیت میں خود کو یقین دلاتے رہے کہ ان کی گڑیا ان کے پاس تھی ۔ زینب بیگم بھی خوشی سے رو دی تھیں ۔ ان کی بیٹی صحیح سلامت ان کے پاس تھی ۔ زین خاموش کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا ۔

” ا ہمممم!” زین نے انہیں اپنی موجودگی کا احساس دلایا رو ہانی فوراً اظہار صاحب سے الگ ہوئی ۔

اظہار صاحب نے زین کی طرف دیکھا کیونکہ وہ اسے نہیں جانتے تھے ۔

” بابا انہوں نے میری جان بچائی ہے ۔اور یہی مجھے گھر لے کر آئیں ہیں ۔” ہانی نے اظہار صاحب کو زین کو گھورتے پایا تو اس نے وضاحت کی۔

” آؤ نا بیٹا بیٹھو ! ” اس سی پہلے اظہار صاحب کچھ کہتے زینب بیگم فوراً بولیں۔

” نہیں آنٹی میں چلتا ہوں ۔ بس آپ کی امانت آپ تک پہنچانی تھی۔ اب مجھے اجازت دیں ۔” زین سہولت سے بات بنائی ۔ حالانکہ دل اس کا بھی چاہ رہا تھا رُکنے کو لیکن ہاتھ میں پہنی انگوٹھی اسے بار بار بےایمانی کا احساس دلا رہی تھی ۔

رانیہ جو ہانی کو دیکھ چُکی تھی لیکن اس سے ملنے باہر نہ آئی وجہ زین تھا ۔ کیونکہ وہ ہر کسی کی سامنے نہیں جایا کرتی تھی ۔ فوراً اندر بھاگی اور نین کو کال ملانے لگی وہ اسے سب کچھ بتانا چاہتی تھی ۔ لیکن نین کو فون بند مل رہا تھا ۔

کھانا کھا کر نکلے تو نین نے ٹائم دیکھنے کے لیے فون اپنی پاکٹ سے نکالا ۔ لیکن فون آف تھا ۔

” اوہ نو! ” نین نے پریشانی سے کہا۔

” کیا ہوا ؟” سمیرا نے اسے اس طرح ری ایکٹ کرتے دیکھ کر پوچھا ۔

” کل سے موبائل میں نے آف کر کے رکھا ہوا تھا ۔ مجھے آن کرنا یاد ہی نہیں رہا۔ گھر پر سب بہت پریشان ہوں گے اور اب تک یقیناً ہانی کے بارے میں پتہ چل گیا ہو گا کہ وہ غائب ہے ۔ ” نین نے پریشانی سے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔

” تو اب آن کر لیں آپ ۔ گھر والوں سے بات کر لیں انہیں تسلی دیں۔” سمیرا نے اس کی پریشانی کم کرنا چاہی تھی ۔

” ہاں کرتا ہوں ۔ تم گاڑی میں بیٹھو میں کال کر کے آتا ہوں ۔” اس کہتا نین موبائل لے کر سائیڈ پر چلا گیا اور سمیرا گاڑی میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی۔

پہلی بیل جاتے ہی کال اُٹھا لی گئی۔

” بھائی میں ابھی آپ کو ہی کال کر رہی تھی لیکن آپ کا نمبر بند جا رہا تھا ۔” چھوٹتے ہی رانیہ بولی۔

” ہاں گڑیا تم پریشان نہ ہو میں گھر آ رہا ہوں ۔ مجھے ہانی کے بارے میں پتہ چل گیا ہے ۔ میں گھر آتا ہوں تو پھر ہم مل کر اسے ڈھونڈ لیں گے۔” نین نے اسے تسلی دینا چاہی ۔

” لیکن بھائی ہانی آپی واپس آ گئی ہیں ۔ ابھی ابھی ایک لڑکا انہیں چھوڑنے آیا ہے ۔” رانیہ نے اسے جھٹ سے بتایا۔

” کیااا ! سچ میں بس ٹھیک ہے میں فوراً گھر آ رہا ہوں ۔ تم بس ہانی کا خیال رکھنا ۔” نین نے پہلے حیرانی اور پ خوشی دے جواب دیتے ہوئے فون کٹ کیا اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔

” کیا ہوا سب ٹھیک تو ہیں نا کیا کہہ رہے تھے ؟” اس کو واپس گاڑی میں بیٹھتا دیکھ سمیرا نے سوالوں کی بارش کر دی تھی ۔

حوصلہ رکھو لڑکی! سانس لے لو بتاتا ہوں ۔” نین نے اس کی چلتی زبان کع بریک لگانے کے لیے بولا۔ سمیرا نے گھورتے ہوئے خاموشی اختیار کی لی۔

” ہانی مل گئی ہے ۔ گھر پر ہے اور اب ہم گھر جا رہے ہیں ۔” نین نے اپنی طوف سے تمام ممکنہ سوالات کے جواب ایک ہی بار میں دیتے ہوئے کہا۔

” کیییا! سچ میں ۔ کہاں تھی وہ۔ کب آئی اب کیسی ہے ۔ ” سمیرا نے پھر سے کئی سوال کیے تھے جبکہ نین نے افسوس سے گردن ہلائی۔ وہ چاہے جتنے بھی سوالوں کے جواب دے دیتا لیکن آگے بھی سمیرا تھی جس کے سوال نہ ختم ہونے تھے ۔

” ابھی مجھے بھی کچھ نہیں پتہ ۔ گھر جا کر خود سب پوچھ لینا اور اب میرا دماغ مت کھانا پلیز۔” نین نے اسے مزید بولنے سے روکا ۔ سمیرا نے غصے میں رُخ دوسی جانب موڑ لیا اور گاڑی سے باہر دیکھنے لگی۔ نین اس کو دیکھ کر مسکرا دیا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔

زین ان لوگوں سے اجازت لیتا ابھی باہر کی طرف بڑھا ہی تھا کہ گیٹ پر لوگوں کا شور اور ہجوم دیکھ کر وہیں رُک کر گیا اور سمجھنے کی کوشش کرنے لگا کہ آخر ہو کیا رہا ہے جب اظہار صاحب بھی شور کی آواز سُن کر باہر نکل آئے اور گیٹ کھول کر باہر نکلے۔

” نکالو اسے باہر۔ جانے کہاں رات گزار کر آئی ہے ۔ یہ شریفوں کا علاقہ ہے ۔ یہاں ایسی حرکتیں نہیں چلیں گی۔” دروازہ کھولتے ہی پہلی آواز جو اظہار صاحب کے کانوں میں پڑی ان کے قدموں کو وہیں شل سا کر گئی ۔ زین خاموش کھڑا ساری سیچوایشن کو سمجھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔

” آپ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ۔ ہوش میں تو ہیں خبردار جو کسی نے میری بیٹی کے خلاف ایک لفظ بھی نکالا تو ۔” اظہار صاحب غصے سے پھنکارے تھے ۔ مطلب بات باہر لوگوں تک پہنچ چکی تھی ۔ وہ ہوا جس کا انہیں ڈر تھا ۔ لیکن یہ بات باہر گئی کیسے وہ ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر تھے ۔

” تو تو کیا کرو گے تم ہاں ۔” ایک شخص غصے سے کہتا آگے بڑھا۔

” تو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا کسی کو۔” اظہار صاحب طیش میں بولتے اس کا کالر پکڑ چکے تھے ۔ جب کئی لوگوں نے آگے بڑھ کر اس آدمی کا گریبان چھڑوایا۔

” ارے یہ تو پاگل یو چکا ہے ۔ بھئی ہم تو پہلے ہی لڑکیوں کے گھر سے باہر جانے پر منع کرتے تھے ۔ لیکن اس پر تو بیٹی کو پڑھانے کا بھوت سوار تھا ۔اب وہ اس کے سر پر خاک ڈال آئی ہے لیکن پھر بھی اس کی عقل ٹھکانے نہیں آئی۔” ایک اور شخص نے ہانک لگائی تھی ۔

” خبردار جو اب کسی نے ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو جان سے مار دوں گا اس کو ۔” زین کا ضبط جواب دے گیا تھا ۔ وہ مزید برداشت نہ کر سکا تو بیچ میں بول پڑا۔

” آپ لوگوں کو شرم نہی آتی ایک بے گناہ پر ایسا الزام لگاتے ہوئے ۔ کچھ تو خدا کا خوف کریں آپ کر گھروں میں بھی بہنیں بیٹیاں ہیں ۔” زین ان کو سمجھانے کی غرض سے بولا لیکن وہاں سمجھنا کون چاہتا تھا ۔

” دیکھو لڑکے یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے تم بیچ میں مت پڑو۔ ہمارے گھر کی عورتیں یوں کسی کے ساتھ بھی منہ اُٹھا کر نہ جاتی ہیں نہ آتی ہیں ۔” بھیڑ میں سے ایک اور شخص نے کہا۔

” چلو بھئی اب اس کا فیصلہ پنچایت ہی کرے گی۔ اب ان سے پنچایت میں ہی بات ہو گی۔ اظہار میاں اب اس لڑکے کو پنچایت میں لے کر آو ۔ ہم سب اب وہیں فیصلہ کریں گے۔” پہلے والے شخص نے کہا اور وہاں سے جانے لگے جبکہ اظہار صاحب کو لگا آج وہ سب ہار جائیں گے ۔

دروازے ک پیچھے کھڑی زینب بیگم جو یہ سب سُن رہیں تھیں ۔ ان کے قدم لڑکھڑائے اور وہ وہیں نیچے بیٹھتی چلی گئیں ۔