Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 15
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 15
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
گاڑی میں بیٹھ کر وہ بس خاموشی سے باہر دیکھ رہی تھی ۔ جب زین کی آواز پر چونکی ۔
” کس کو گھور رہی ہو ؟”
اس کو کافی دیر یونہی باہر دیکھتے رہنے پر زین نے زچ ہو کر کہا تھا ۔
” تم! یہاں کیا کر رہے ہو ؟”
اس کے پکارنے ہر ہانی نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تھا ۔ اس کے تو فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ جس شخص سے اس کا نکاح ہوا ہے وہ زین تھا ۔
” میں نے یہاں کیا کرنا ہے. بھئ میری گاڑی ہے تو میں تو یہی ہوں گا نا۔”
زین نے کندھے اچکا کر کہا ۔
اس کی بات ہر ہانی نے نا سمجھی سے زین کو دیکھا ۔
” ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ مجازی خدا ہوں اب تمہارا۔ کیا تم کسی اور کو ایکسپیکٹ کر رہی تھی ۔”
زین نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔ اس کے لہجے میں موجود طنز کو محسوس کر کے ہانی اپنے آنسو نہ روک سکی۔
“کتنا غلط سوچ رہا تھا وہ شخص اس کے بارے میں۔ ایک بار وہ اس سے پوچھ کر تو دیکھتا اس کی غلط فہمی دور ہو جاتی۔”
ہانی بس سوچ کر ہی رہ گئی اور اب وہ بس سوچ ہی سکتی تھی ۔ اس کے علاوہ اس کے بس میں کچھ تھا بھی تو نہیں ۔
” پلیز یہ رونا دھونا بند کرو مجھے یہ سب پسند نہیں ہے ۔”
وہ اس کی طرف دیکھے بغیر سخت لہجے میں بولا۔
ہانی نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا ۔ کتنا بے رحم تھا ۔آج اس سے سب کچھ چھن گیا تھا ۔ بجائے وہ اس کو تسلی دیتا الٹا باتیں سنا رہا تھا ۔
وہ اس کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن یہ سب کرنا اس کی مجبوری تھی ۔ اس کو ڈر تھا اگر وہ اس کی آنکھوں میں ایک بار اور جھانکا تو شاید اس کے سحر سے کبھی نکل نہ پائے۔
اسے بی جان سے کیا وعدہ بھی نبھانا تھا ۔ اس لیے وہ اب کسی اور کو اپنی زندگی میں جگہ نہیں دینا چاہتا تھا ۔
نین نے گاڑی گھر کے سامنے روکی۔ وہ بے چینی سے نیچے اترا۔ وہ بہت خوش تھا ۔
اسکی بہن بغیر کسی نقصان کے محفوظ تھی ۔ اپنی سائیڈ سے اتر کر وہ سمیرا کی طرف آیا اور اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا۔
” آؤ اندر چلو ۔ میرے گھر والے بہت اچھے ہیں وہ تمہیں قبول کر لیں گے۔ اور ہانی تو ویسے ہی تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہو گی۔”
دروازہ کھولنے پر سمیرا نے اسے سہمی ہوئی نگاہ سے دیکھا تھا ۔ اس کی پریشانی کی وجہ بھانپ کر نین نے اسے تسلی دی تھی ۔
اس کو لے کر وہ گیٹ کی طرف بڑھا۔ لیکن وہ پہلے سے ہی کھلا تھا اس لیے وہ سمیرا کو لیے سیدھا اندر کی طرف بڑھ گیا ۔
” ہانی ! رانیہ ! کہاں ہو دونوں ۔ دیکھو تو کون آیا ہے میرے ساتھ ۔”
وہ اندر داخل ہوتا ہوا اونچی آواز میں دونوں کو پکار رہا تھا ۔
” بھائی! آپ آ گئے ۔”
رانیہ اس کی آواز سن کر روتی ہوئی باہر آئی اور اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
اس نے نین کے ساتھ کھڑی سمیرا کو دیکھا ہی نہیں تھا ۔ جبکہ اس کے پیچھے آتے اظہار صاحب اور زینب بیگم اس کو دیکھ کر ٹھٹکے تھے ۔
” ارے کیا ہو گیا ہے پاگل۔ ایسے کیوں رو رہی ہو۔ دیکھو میری جان اب آپ کا بھائی آ گیا ہے نا ۔ اور وہ دوسری چڑیل کہاں ہے ۔”
نین کو اچانک خیال آیا کہ ہانی اب تک اس سے ملنے نہیں آئی تھی ۔
” بھائی آپ نے آنے میں بہت دیر کر دی ہے ۔ بھائی ہانی اب یہاں نہیں ہے ۔”
رانیہ نے سسکتے ہوئے اسےبتایا۔ اس کی بات سن کر نین کے لیے اپنی جگہ سے ہلنا مشکل ہو گیا تھا ۔
اس نے نگاہ اٹھا کر اپنے ماں باپ کی طرف دیکھا جیسے ان سے تصدیق چاہتا ہو کہ جو اس نے سنا وہ ٹھیک ہے ۔
” نین چلو اندر جا کر بات کرتے ہیں ۔”
اظہار صاحب نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔
” لیکن بابا ! آپ ایسے کیسے ہانی کو جانے دے سکتے ہیں ۔”
نین نے بے یقینی سے اپنے باپ کی طرف دیکھا ۔
” نین میں نے کہا نا اندر چل کے بات کرتے ہیں ۔ یہاں مزید تماشہ مت لگاؤ۔”
اب کی بار اظہار صاحب کا لہجہ کچھ سخت تھا ۔ اس لیے نین آگے سے کچھ بول ہی نہ پایا اور ان کے پیچھے چلتے ہوئے رانیہ کو سمیرا کو ساتھ لانے کا اشارہ کرتا اندر بڑھ گیا۔
شاہ آج پھر صبح صبح تیار ہو کر اس کے گھر آ پہنچا تھا۔ آج وہ کئی سالوں بعد اس کے ساتھ پھر سے وہیں جا رہی تھی ۔جہاں پہلی بار وہ اسے ملی تھی ۔
فرق صرف اتنا تھا تب وہ صرف اس کو اپنے ساتھ لے کر گیا تھا لیکن آج وہ اس کے ساتھ اپنے بیٹے کو بھی لے جا رہا تھا ۔
” ہو گئی پیکنگ؟”
وہ پیچھلے دو گھنٹوں سے اسے پیکنگ کرتے دیکھ کر جھنجھلایا تھا ۔
” بس بیٹا تھوڑی سی رہ گئی ہے ۔”
جواب اس کی بجائے رشیدہ خالہ کی طرف سے آیا تھا ۔ کیونکہ وہ تو اس کی بات سن کے بھی ان سنی کر رہی تھی جیسے وہ کسی اور سے مخاطب ہو ۔
شاہ کو غصہ تو بہت آیا اس کے یوں اس طرح سے اگنور کرنے پر لیکن وہ ضبط کر کے رہ گیا ۔
” ایک بار چلو تو سارے حساب برابر کرنے ہیں تم سے مسز شاہ! پھر میں دیکھوں گا کہ تم کیسے مجھے اگنور کرتی ہو ۔”
وہ اس کے قریب ہو کر ہلکی سی سرگوشی کرتا ہوا بولا۔ حمنہ تو اس کی بات پر حیران رہ گئی تھی ۔
وہ جو سمجھ رہی تھی کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہو گا اس سے معافی مانگے گا تو یہ صرف اس کی خام خیالی ہی تھی ۔
جبکہ یہ بات کہہ کر شاہ رکا نہیں تھا ۔ باہر نکلتا چلا گیا اور حمنہ بس غم اور غصے سے اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی ۔
گاڑی حویلی کے سامنے روک کر وہ نیچے اترا۔ لیکن سامنے لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر ٹھٹکا۔ آخر اتنے سارے لوگ اس وقت حویلی کے باہر کیا کر رہے تھے ۔
یہ سوچتے ہوۓ اس نے ہانی کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔
وہ چپ چاپ اس کی پیروی میں چلتی اندر داخل ہوئی۔ اندر کا منظر دیکھ کر زین کے قدم تھم گئے ۔
ہانی حیران پریشان سی سب کو دیکھنے لگی۔ لیکن جب نظر سامنے پڑی میت پر گئی تو اس کی سانس جیسے رک گئی ۔
” تو کیا سجاول مر گیا ؟ اب ! اب کیا ہو گا اس کے ساتھ ۔ وہ لوگ کیا سلوک کریں گے اس سے”
وہ ابھی انہی سب سوچوں میں گم تھی کہ نظر سامنے آتی لڑکی پر پڑی ۔ پہلی نظر میں ہی وہ لڑکی اسے اچھی نہیں لگی تھی ۔
حیران تو وہ تب ہوئی جب وہ لڑکی سیدھا زین کے گلے آ لگی۔
” زین ! دیکھو نا بی جان کو کیا ہو گیا ہے ۔وہ کیوں نہیں اٹھ رہیں ۔ام سے کہو نا مجھ سے بات کریں ۔ ایک بار اٹھ جائیں ۔”
وہ لڑکی زین کے سینے سے لگی روتے ہوئے اس سے کہہ رہی تھی ۔ ہانی کو یہ منظر ایک آنکھ نہ بھایا تھا ۔اس کو اس لڑکی سے جلن سی محسوس ہوئی۔
اس کا دل چاہا جا کر ایک جھٹکے سے اس لڑکی کو زین سے دور کر دے ۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ خود کو ڈپٹنے لگی ۔ دیر ہی کتنی ہوئی تھی ان کے رشتے کو قائم ہوۓ ۔۔۔۔
اور یہ رشتہ تھا بھی تو ان چاہا تو پھر کیوں صرف کچھ لمحوں میں اسے اس سب سے فرق پڑنے لگا تھا ۔
شاید نکاح کا رشتہ ہوتا ہی ایسا پاک ہے جو دو انجان لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے ۔ ایک کی تکلیف دوسرا بھی محسوس کرتا ہے ۔
جبکہ دوسری جانب نرمین کے منہ سے بی جان کا نام سن کے زین اپنی جگہ ساکت ہو گیا اسے لگا اب وہ کبھی اپنی جگہ سے ہل ہی نہیں پائے گا ۔ اس کے قدم لڑکھڑائے تھے ۔
اس کو نرمین کا یوں قریب آنا اچھا نہیں لگا تھا ۔
لیکن اس کے منہ سے اگلی بات سن کے وہ سب کچھ بھول ہی گیا۔ اسے بس یاد تھا تو یہ کہ آج اس کا آخری مان بھی َٹوٹ گیا۔ اسے لگا آج وہ سچ میں یتیم ہو گیا ہے ۔
وہ گنگ سا کھڑا بس سامنے پڑے وجود کو دیکھتا رہا ۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر آخری بار ان کا چہرہ دیکھ سکے۔
