Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 5
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 5
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
بی جان نے گویا زین کے سر پر دھماکہ کیا تھا ۔ جہاں یہ بات باقی سب کے لیے خوشی کا باعث بنی تھی وہیں زین کا منہ حیرت سے کُھلا رہ گیا
“کک۔۔۔۔کیا ! کیا کہا آپ نے ؟” زین نے خود کو تسلی دینے کے لیے پُوچھا کہ شاید اس سے سُننے میں غلطی ہوئ ہو۔
” تمہارا اور نرمین کا رشتہ طے کر دیا گیا ہے ۔ اس اتوار تم دونوں کی منگنی ہے اور نکاح حنین کے آنے کے بعد ہی کیا جائے گا اور رخصتی بھی ۔” بی جان نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا ۔ زین نے اپنے سامنے کھڑی نرمین کو بغور دیکھا ۔ جدید تراش خراش کے کپڑے پہنے ، شولڈر کٹنگ کیے اپنے انداز سے کہیں سے بھی وہ گاؤں کی لڑکی نہیں لگ رہی تھی ۔ زین کے ایسے دیکھنے پر نرمین نے ایک ادا سے اپنے بالوں کو ایک طرف جھٹکا اور ایک عجیب سی مُسکراہٹ اس کے چہرے کو پھیل گئی گویا کہہ رہی ہو کہ آج سے تم میری ملکیت ہو۔ زین کو اس وقت وہ ایک نظر نہ بھائ تھی لیکن وہ خاموش رہا کیونکہ یہ بی جان کی خواہش تھی اور وہ کبھی ان کی حکم عدولی نہیں کر سکتا تھا ۔
آج ان کے پیپرز ختم ہو چُکے تھے ۔ دونوں ہی واپس روم میں آ کر بیڈ پر ایسے گر گئیں گویا پہاڑ فتح کر کے لوٹی ہوں ۔
” ہانی!” سمیرا نے اسےلیٹے ہوۓ ہی آواز دی۔
” ہمم بولو” ہانی بھی تھکے تھکے انداز میں بولی۔
” کل ہم لوگ ایگزیبیشن میں جائیں گی اور پرسوں اپنے اپنے گھر۔ تم مجھے مِد کرو گی کیا؟” سمیرا اُداس ہوئے بولی۔
سمیرا کے ایسے اُداس ہونے پر ہانی بھی اُداس ہو گئی لیکن ماحول کو خوشگوار کرنے کے لیے شرارت سے بولی۔
” میرا کیا دماغ خراب ہے ؟ یا مجھے پاگل کُتے نے کاٹا ہے جو میں تمہیں یاد کروں ۔ ایک بار بس میں یہاں سے چلی جاؤں پھر دیکھنا پلٹ کر بھی نہیں دیکھوں گی ۔”
” ہانی تم مر جاؤ گی میرے ہاتھوں ۔ بہت فضول ہو تم۔” یہ کہتے ہی سمیرا نے تکیہ اُٹھا کر ہانی کو دے مارا اور بس پھر دونوں ایک دوسرے کو تکیے سے مارنا شروع ہو گئیں اور ساتھ ہستی جا رہی تھیں ۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ زندگی ان کے ساتھ کیا کرنے والی ہے شاید ان کی آخری ہسی تھی ۔
کبھی کبھی وقت قبولیت کا ہوتا ہے ۔ ہانی کو پتہ نہ تھا لیکن انجانے میں کی گئ بات شاید قبول ہو گئی تھی اور واقعی قسمت اسے پلٹ کر دیکھنے کا موقع نہیں دینے والی تھی ۔
وہ سڑکوں پر بے مقصد گاڑی بھگا رہا تھا ۔ آج دو دِن ہو گئے تھے اُسے کمال صاحب کو کام دیے ہوۓ۔ مزید اس کی برداشت نہ تھی اس بارے ميں سوچ سوچ کر اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا ۔ اسنے تنگ آ کر کمال صاحب کو کال ملا دی۔ بیل جانے کے تھوڑی دیر بعد کال اُٹھا لی گئی۔
” ارے بڑی لمبی عمر یے آپ کی ابھی میں آپ کو ہی کال کرنے والا تھا ۔” کمال صاحب نے فوراً سے کہا۔
” کمال صاحب کام ہوا کہ نہیں ؟” وہبے صبری سے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا ۔
” جی کام ہو گیا ہے ۔ اسی لیے آپ کو کال کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ آپ نے خود ہی کال کر دی۔” کمال صاحب نے اس کے جلدی دیکھ کر مُسکراتے ہوئے بتایا۔
” اچھا پھر جلدی سے ایڑریس بتائیں اور فیملی ڈیٹیل بھی ۔” وہ جلدی سے بولا۔
” ٹھیک ہے میں آپ کو ایڈریس اور باقی کی ڈیٹیل سینڈ کرتا ہوں ۔ اللّٰه حافظ۔” کمال صاحب نے کہا۔
” شکریہ کمال صاحب ۔ اللّٰه حافظ ۔” وہ ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کال کاٹ گیا ۔
کچھ دیر بعد اس کے نمبر پر ایک ایڈریس اور کچھ ڈیٹیلز آئ تھیں ۔ جنہیں دیکھ کر وہ مُسکرایا تھا تھا خود کلامی کرتے ہوئے بولا ۔
” we will met soon.”
” جلد مُلاقات ہو گی۔” اور گاڑی اپنے فلیٹ کی طرف موڑ لی۔
زین جب سے حویلی سے واپس آیا تھا اور شجاع کو جب سے اس کی منگنی کی پتہ چلا تھا اُس بیچارے کی شامت آئ ہوئ تھی۔
” تُو تو بڑا چُھپا رُستم نکلا ۔ بنا بتاۓ ہی لڑکی پسند کر لی اور تو اور منگنی کی ڈیٹ بھی فِکس کر آۓ۔ بندے میں کوئ لحاظ مُروت ہوتی ہے ۔ بندہ کسی دوست سے مشورہ کر لیتا ہے۔” شجاع مسلسل اسے چھیڑتے ہوئے بولا۔
” ہاں تم نے تو جیسے شادی سے پہلے مجھ سے اجازت لی تھی نا۔” زین چِڑ کر بولا۔
” اچھا تو ایسے بول کہ بدلہ لے رہا ہے ۔ خیر جو بھی ہے میں تو اسی میں خوش ہوں کہ تو بھی جلدی قید ہونے والا ہے قسم سے تیری آزادی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی ۔” شجاع زین کو تنگ کرتے ہوئے بولا۔
” یار بتایا تو ہے بی جان کا فیصلہ ہے اور میں اُن کے کسی فیصلے سے انکار نہیں کر سکتا ۔ اس لیے اب تنگ کرنا بند کر میں سے اپنی مرضی سے نہیں کیا یہ سب ۔” زین نے اُسے دس دفع بتائ ہوئ تفصیل ایک بار پھر سے بتاتے ہوئے کہا۔
” اچھا میری بنو بس اط شرما مت نہیں کرتا تنگ تجھے۔” شجاع نے پھر اسے تنگ کیا ۔ طس زین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا ایک زور دار مُکا شجاع کی کمر میں جَڑ دیا ۔ اس اچانک حملے پر شجاع درد دے بِلبلا اُٹھا۔ اور زین ہستے ہوۓ وہاں سے بھاگا کیونکہ وہ جانتا تھا شجاع اس دے بدلہ ضرور لے گا۔
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
” “بی جان ادا سائیں نے آخری وصیت یہ کی تھی کہ نرمین ان کی بہو بنے ۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ گھر کی بچی باہر جاۓ ۔ میں اب بھی اس بارے میں بات نہ کرتا لیکن نرمین کی ماں پچھلے کچھ دنوں سے بہت پریشان ہے اس کے رشتے کو لے کر کیونکہ میں ادا سائیں کی بات کا پاس رکھتے ہوئے اس کا کہیں اور رشتہ طے نہیں کر رہا۔” سجاول اپنی اور بی جان کے درمیان ہوئ باتوں کو سوچ کر مُسکرا رہا تھا۔ کتنی آسانی سے اُس نے بی جان کو بیوقوف بنایا تھا اور وہ مرے ہوۓ بیٹے کی محبت میں ان کی آخری خواہش پُوری کرنے چلی تھیں ۔ ابھی اور بھی بہت سے راز صرف سجاول کے سینے میں دفن تھے ۔ وہ ابھی انہی سب باتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اس کا فون بج اُٹھا جس سے اس کی سوچوں کا تسلسل ٹُوٹا۔
” ہاں ظفر بولو کیا بات ہے؟” سجاول نے اپنے خاص آدمی کا فون اُٹھا کر پوچھا ۔
” سائیں یہاں شہر میں کوئ فنکشن ہے کل اور وہ لوگ آپ کو یہاں بُلا رہے ہیں مہمانِ خصوصی کے طور پر ۔” ظفر نے مودبانہ انداز میں کہا۔
” تم جانتے ہو ظفر کل میری اکلوتی بیٹی کی منگنی ہے۔ میں ایسے موقع پر وہاں کیسے آ سکتا ہوں ؟” سجاول سائیں غصے سے بولے۔ جس سے ظفر تھوڑا ڈر گیا لیکن ایک آخری کوشش اس نے کرنا ضروری سمجھی۔
” سائیں صرف ایک دو گھنٹے کی بات ہے ۔ویسے بھی بی بی جی کی منگنی شام میں ہے اور فنکشن دن کا ہے۔” ظفر نے مودبانہ انداز میں کہا۔
” ٹھیک ہے میں کوشش کروں گا آنے کی۔” یہ کہتے ہی سجاول نے فون کاٹ دیا۔ اور پھر سے اپنی مکاری کے بارے میں سوچ کر خوش ہونے لگا ۔ لیکن وہ بھول گیا تھا کہ ہر شخص کا بُرا وقت آتا ہے اور اس کا بھی آۓ گا۔
زندگی معمول کی طرح چل رہی تھی ۔ وہ روز صبح آفس جاتی اور آفس سے واپس گھر ۔ پہلے دو دن تو بازار والے واقع کے بعد ڈری تھی لیکن پھر کوئ بھی کسی قسم کا ردعمل نہ دیکھ کر پُر سکون ہوئ تھی ۔ لیکن یہ صرف اُس کا وہم تھا کہ وہ بچ گئی ہے ۔ اصل میں تو اب صحیح معنوں میں اس کا چین اُڑنے والا تھا ۔ کوئ تھا جو گھر واپسی پر اُس کا انتظار کر رہا تھا جس کو دیکھ کر اس کے ہوش اُڑنے والے تھے۔
