Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 2
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 2
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
تین دن بعد آج ہانی ہاسٹل واپس آئ تھی ۔ سمیرا جو ہانی کی روم میٹ بھی تھی اور کلاس فیلو بھی اُسے دیکھ کر بہت خوش ہوئ تھی کیونکہ ان تین دنوں ميں اُس نے اپنے پیٹ میں باتیں کیسے رکھیں یہ صرف وہی جانتی تھی ۔ دونوں ایک دوسرے سے کوئ بات نہیں چھپاتی تھیں اور ادھر تو معاملہ سمیرا کی منگنی کا تھا تو بھلا یہ بات وہ کیسے نہ بتاتی ۔ ہانی کے آتے ہی سمیرا نے اپنے آنے والے رشتے کی روداد سنانا شروع کر دی ۔ ہانی سفر کی وجہ سے تھکی ہوئی تھی اس لیے سمیرا کی باتوں کی طرف توجہ نہیں دی ۔ سمیرا اپنی ہی دھن میں مگن تھی جب اسے احساس ہوا ک ہانی اس کی بات سُن ہی نہیں رہی تھی ۔
” تم نے سُنا میں نے ابھی کیا کہا؟”سمیرا نے آنکھیں سُکیڑتے ہوئے پوچھا ۔
“ہاں ہاں میں سُن رہی ہوں”ہانی نے جھٹ سے بولا۔
“اچھا ذرا مادام بتانا پسند کریں گی کہ ابھی ابھی اس ناچیز نے کیا کہا؟” سمیرا نے بھرپُور طنز کرتے ہوئے کہا ۔
“وہ. ۔۔ وہ ۔۔۔تم نے کہا کہ ۔۔۔ ایک منٹ”ہانی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب اُسے کیسے ٹالے کیونکہ اب سمیرا کے شکوے شروع ہونے والے تھے ۔
“دیکھا تم ہمیشہ میرے ساتھ ایسا ہی کرتی ہو ۔ میں تمھیں جب بھی کوئ بات بتاتی ہوں تم سُنی ان سُنی کر دیتی ہو۔” سمیرا ناراض ہو گئی تھی ۔
“اچھا سوری نا! آئندہ پکا والا وعدہ ایسا نہیں کروں گی ۔” ہانی نے اُسے مناتے ہوئے اس کے گلے میں بازو حائل کرتے ہوئے کہا۔
“تم ہر بار یہی وعدہ کرتی ہو اور پھر توڑ دیتی ہو ۔ جاؤ اب سے میں تمھیں کوئ بات نہیں بتاؤں گی ۔” سمیرا منہ بناتے ہوئے بولی۔
“ہاں پتہ ہے تم بھی ہر بار یہی کہتی ہو اور پھر بھی بتاتی ہو۔” ہانی نے آرام سے اُس کی دھمکی پر پانی پھیرتے ہوئے کہا ۔
“ہاں ! ہاں میری قسمت کہ تمہارے علاوہ میری کوئ دوست جو نہیں ہے ۔” سمیرا روہانسی ہوتے ہوئے بولی ۔
“اچھا یار اب بس بھی کر دو آج اتنے دنوں بعد ملی ہو اور یوں ناراض ہو گئی ہو ۔” ہانی نے اُسے مناتے ہوئے یوں کہا جیسے بیچاری صدیوں کی بچھڑی آج مل رہی ہوں ۔
“اچھا ٹھیک ہے لیکن یہ آخری بار تھی ۔اب ایسا کیا تو میں دوبارہ بات نہیں کروں گی ۔” یہ ان دونوں کا معمول تھا ہر بار بات ایسی دھمکیوں پر ختم ہوتی اور پھر سے وہ دونوں ٹھیک ہو جاتیں
موبائل کو واپس ڈیش بورڈ پر رکھ کر سیٹ کی پشت پر سر رکھ کے اُس نے آنکھیں موند لیں اور آج دِن کو ہونے والے واقع کے بارے میں سوچنے لگا ۔ یک دم کسی خیال کے تحت اُس نے آنکھیں کھولیں اور ہلکے سے مُسکرا دیا ۔ اب گاڑی اسٹارٹ کر کے اُس نے اپنے فلیٹ کی طرف موڑ لی اور کمال صاحب کی طرف جانے کا ارادہ کل پر ملتوی کر دیا فلیٹ پر پہنچ کر اُس نے دروازہ کھولا اور سامنے بنے چھوٹے سے لاؤنج میں پڑے صوفے پر گرنے کے سے انداز میں کیٹ گیا اور آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے لگا ۔
شجاع نے سب دوستوں کو اپنی شادی کی ٹریٹ دینے کے لیے اپنے فارم ہاؤس پہ بُلایا ہوا تھا ۔ پارٹی رات کو کافی دیر سے ختم ہوئ ۔ سب اپنے اپنے گھر واپس چلے گئے تو زین بھی شجاع سے اجازت لینے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا ۔
“چل یار اب اجازت دے پھر ہو گی ملاقات۔” زین نے شجاع سے اجازت لی لیکن انداز ایسا تھا گویا اطلاع دے رہا ہو ۔
“ہاں پوچھ تو ایسے رہا ہے جیسے میں روکوں گا اوا تُو رُک جائے گا ۔” شجاع نے اُس کے اطلاع دینے والے انداز پر سُلگ کر کہا جس کا زین نے کوئ اثر نہیں لیا اور قدم باہر کی جانب بڑھا دیے ۔ شجاع بس اُسے دیکھ کر رہ گیا ۔
رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے اگلے دن زین کی آنکھ کافی دیر سے کُھلی ۔ سامنے لگی وال کلاک پر ٹائم دیکھا تو دن کے ایک بج رہے تھے ۔وہ اُٹھ کے واش روم میں فریش ہونے چلا گیا ۔ نہا کر باہر آیا تو صوفے پر بیٹھ کے اپنے نوکر کو آواز دینے لگا ۔
“کرم دین! میرا ناشتہ روم میں ہی لے آؤ۔” اتنے بڑے گھر میں وہ اکیلا ہی رہتا تھا اس لیے جب دل کرتا تو کھانا کمرے میں کھاتا اور جب دل کرتا ڈائنگ ہال میں ۔ کرم دین کو ناشتے کا کہہ کر اُس نے موبائل اُٹھا کر دیکھا تو حویلی سے بارہ کالز آئ ہوئ تھیں۔ زین نے واپس حویلی کال کی اور سب ٹھیک ہونے کی دُعا کرنے لگا ۔ پہلی بیل جاتے ہی کال رسیو کر لی گئی ۔
“ہیلو! جی چچا سائیں سب خیریت تو ہے نا؟” زین نے چھوٹتے ہی پوچھا ۔ دوسری طرف کا جواب سُن کے وہ کافی پریشا پریشان ہو گیا ۔
“ٹھیک ہے میں ابھی نکل رہا ہوں آپ بس اُن کا خیال رکھیے گا ۔” یہ کہتے ہی زین نے بیڈ کے سائڈ ٹیبل پر پڑی چابیاں اُٹھائیں اور ناشتہ کیے بغیر باہر نکل گیا ۔
وہ رات کو کافی دیر سے سوئ تھی ۔ بازار سے واپس آنے کے بعد ہادی نے اُسے بہت تنگ کیا تھا ۔اس لیے آج اُس کی آنکھ تھوڑی دیر سے کُھلی تھی ۔ٹائم دیکھا تو آٹھ بج رہے تھے ۔
” اوہ! آٹھ بج گئے ۔” وہ خود کلامی کرتی ہوئی بیڈ سے نیچے اُتری اور فریش ہونے واش روم چلی گئی ۔ فریش ہو کے کر باہر آی تو آفس کے لیا تیار ہونے لگی۔ بالوں میں برش چلاتے ہوئے اُس کی نظر سوۓ ہوے ہادی پر پڑی ۔ اُسے دنیا جہان کی معصومیت ہادی کے چہرے پر دکھائ دی۔ کل وہ کتنا خوش تھا بازار جاتے ہوئے لیکن وہاں ہوۓ حادثے کی وجہ سے اس کا موڈ سارا وقت خراب رہا۔ وہ بے اختیار آگے بڑھی اور ہادی کا گال چوم لیا۔ جس سے وہ تھڑا کسمسایا تو وہ جلدی سے پیچھے ہٹی کہ کہیں وہ جاگ نہ جاۓ کیونکہ اگر وہ جاگ جاتا تو اسے آفس نہیں جانے دیتا۔ وہ ہادی کو سویا ہوا چھوڑ کر باہر آ گئی ۔
“ناشتہ تیار ہے ؟” اس نے رشیدہ خالہ سے پوچھا ۔
“جی بیٹا بس تیار ہے ابھی لائ دو منٹ۔” رشیدہ خالہ رسان سے بولیں اور ناشتے کی ٹرے سجانے لگیں ۔
رشیدہ خالہ اس کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔ جوانی میں ہی بیوہ ہو گئی تھیں۔ اولاد تھی نہیں اور سہارا دینے والا کوئی رشتدار بھی نہیں تھا ۔ لوگوں کے گھروں میں کام کر کے گزارا کرتی تھیں۔ جب چار سال پہلے وہ انہیں ملی اور اس کے بعد سے وہ اُسی کے ساتھ رہنے لگیں ۔
” ٹھیک ہے خالہ میں اب چلتی ہوں آفس۔ ہادی جاگ جاۓ تو اُسے بھی ناشتہ کروا دیجئیے گا ۔ اور جب تک میں واپس نہ آؤں دروازہ مت کھولیے گا اور نہ کسی کو اندر آنے دینا۔” وہ انہیں تاکید کرتی باہر کی جانب چل دی ۔
