Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 22
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 22
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
حنین کے بلانے پر اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
” جی آپ نے مجھے بلایا؟”
ہانی نے یہاں وہاں گردن گھما کر دیکھتے ہوئے کچھ دیر پلہے کے چہرے پر موجود تاثرات کو چھپاتے ہوئے بولی۔ جنہیں حنین اپنی دنیا میں مگن دیکھ نہیں پایا۔
” جی آپ کو یہاں کوئی اور بھی نظر آ رہا ہے؟”
اس نے آئبرو اچکا کر اس کو بغور دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا تھا ۔
” جی فرمائیں کیا کام ہے ؟”
ہانی کا موڈ سخت خراب تھا اس وقت اسی لیے وہ کافی روڈ ہو کر بولی تھی۔
” ارے یار آرام سے ایسے بول رہی ہو جیسے ابھی کچا چبا جاؤ گی۔”
حنین نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہیں بولا۔
جب کہ ہانی سے مزید برداشت نہ ہوا تو تپ کر بولی۔
” اگر مجھے کچھ دیر مزید پریشان کیا تو میں تمہارا سر پھوڑ دوں گی۔”
ہانی غصے میں کہتی پیر پٹختی وہاں سے نکل گئ جبکہ اپنے پیچھے حنین کو سوچوں میں گھرا چھوڑ گئی۔۔۔
” ہر وقت غصے میں ہی رہتی ہے جنگلی بلی۔۔۔”
حنین مسکراتا ہوا اسے ایک خطاب دے کر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
زین اپنے کمرے میں بیٹھا ابھی بھی ہانی کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔ جب دروازے پر دستک سے ہوش میں آیا۔۔۔
” کون ہے ؟ آ جائیں۔”
زین نے سیدھے یو کر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
” زین صاحب سکینہ بیگم بلا رہی ہیں آپ کو ۔”
ہاجرہ بی بی اس کے اجازت دینے پر دروازہ کھول کر اندر آتی گویا ہوئیں۔۔
” ٹھیک ہے آپ چلیں میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ۔”
زین نے بر زاری سے کہا تھا کیونکہ اس وقت سا کا موڈ کسی سے بھی بات کرنے کا بلکل نہیں تھا ۔
” جی صاحب!”
اس کے کہنے پر ہاجرہ بی بی سر ہلاتی واپس چلی گئیں تھیں ۔
تھوڑی دیر وہ مزید یونہی بیٹھا رہا پھر اٹھ کر واش روم میں فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔
باہر نکل کر اب وہ سیدھا سکینہ بیگم کے کمرے کی جانب چل دیا..
دروازے پر ناک کر کے وہ اندر سے اجازت آنے تک وہیں کھڑا ہو گیا۔
” آ جاؤ !”
سکینہ بیگم نے اجازت دی تو وہ فوراً اندر چلا گیا لیکن دروازہ کھلا چھوڑ دیا ۔۔۔
” آؤ آؤ زین بیٹا تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی ۔”
سکینہ بیگم کے چہرے پر زین کو دیکھتے ہی رونک آئی تھی ۔
” جی چچی سائیں حکم کریں کیوں یاد کیا ؟”
زین نے سیدھا مقصد کی بات کی تھی۔ جس سے سکینہ بیگم کے چہرے پر ناگواری کی شکن ابھری لیکن جلد ہی خود کو سنبھالتے ہوئے بولیں۔۔۔۔
” زین آج میں نے تم سے بہت خاص بات کرنی ہے اسی لیے بلایا ہے ۔”
سکینہ بیگم نے مسکراتے ہوئے اس کے چہرے کو بغور دیکھا تھا ۔
ہانی جو کچن میں چائے کا کہنے جا رہی تھی ہاجرہ بی بی کو گزرتے ہوئے نظر زین پر پڑی جو اس وقت سکینہ بیگم کے کمرے میں موجود تھا ۔۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی ہانی ان کی باتیں سننے کے لیے وہیں کھڑی ہو گئی بنا اس بات کی پرواہ کیے کہ اگر ان دونوں میں سے کسی نے اسے یہاں کھڑے دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے ۔۔۔۔
ہانی ایسی نہیں تھی لیکن نا جانے آج کل اسے کیا ہو گیا تھا کہ وہ یوں چھپ چھپ کر دوسروں کی باتیں سننے لگی تھی ۔ ۔۔۔
شاید اس کے پاس کرنے کو کوئی دوسرا کام نہ تھا ۔اسی لیے وہ یہ سب کرنے لگی تھی ۔۔۔۔
” جی کہیں میں سن رہا ہوں ۔”
زین نے فرمانبرداری سے کہا تھا ۔
” دیکھو بیٹا بی جان کو گزرے کئی ماہ ہو چکے ہیں ۔ تمہارے چچا سائیں بھی نا جانے کب ٹھیک ہوں میری خود کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔”
وہ تمہید باندھتے ہوئے بولیں ۔۔۔
” جی میں جانتا ہوں لیکن اس سب کو بتانے کی وجہ؟”
زین نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔
” میرے سر پر نرمین کی ذمہ داری ہے جسے میں جلد از جلد پورا کرنا چاہتی ہوں کیا پتہ کب میری بھی زندگی ختم ہو جائے ۔”
سکینہ بیگم نہایت مکاری سے جال بُن رہیں تھیں۔۔۔
” کیا مطلب میں سمجھا نہیں ۔”
شین شاید سمجھ چکا تھا لیکن سمجھنا نہیں چاہ رہا تھا ۔
” میں چاہتی ہوں اب تم اپنی ذمہ داری سنبھالو ۔میں جلد از جلد اس فرض سے سبکدوش ہونا چاہتی ہوں ۔ اگلے ہفتے میں تم دونوں کی شادی کروانا چاہتی ہوں ۔”
سکینہ بیگم نے اپنی بات مکمل کی ۔ زین ان کی بات سن گنگ رہ گیا ۔ وہ چاہ کر بھی کچھ بول نہ سکا۔
جبکہ ہانی کی حالت سے تو وہ ناواقف تھا ۔وہ بت بنی کھڑی سن رہی تھی اس کے سر پر تو جیسے دھماکہ ہوا تھا وہ تو بھول ہی گئی تھی ۔ کہ جس شخص سے وہ محبت کرنے لگی ہے وہ تو کبھی اس کا تھا ہی نہیں ۔۔۔
اس لگا وہ ایک قدم بھی چل نہیں پائے گی ۔ لیکن کبھی کبھی ایسی حالت میں بھی خود کو خود ہی سنبھالنا پڑتا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کوئی ہو جو ہمیں سنبھالے لیکن ہم اکیلے ہی ہوتے ہیں ۔۔۔
ہانی ب4اس وقت بلکل اکیلی تھی اسے خود کو خود ہی سنبھالنا تھا لیکن وہ پھر بھی ایک آس لیے زین کے جواب کو انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔
” ٹھیک ہے چچی سائیں ۔ جو آپ کا حکم۔”
زین نے اقرار کر دیا تھا ۔ اور یہی بات ہانی کے کیے ذیادہ تکلیف کا باعث بنی ۔ وہ خود کو بامشکل گھسیٹتے ہوئے بے جان قدموں سے واپس پلٹی ۔۔۔۔
اس کو واپس پلٹتا زین دیکھ چکا تھا ۔۔۔ اسے دکھ ہوا تھا یہ سب کہتے لیکن وہ چاہتا تھا ہانی خود اسے منع کرے شادی کے لیے ۔ تاکہ اس کے پاس ایک وجہ تو ہو انکار کی۔۔۔
سکینہ بیگم کو ہاں کہہ کر وہ بھی اٹھ کر اپنے روم میں آ گیا تھا ۔ اسے اس وقت ہانی پر شدید غصہ آ رہا تھا ۔۔۔۔
” کیوں ! آخر کیوں تم اتنی خاموشی سے پلٹ گئی ۔ ایک بار بھی تمہیں میری آنکھوں میں اپنی محبت دکھائی نہیں دی۔۔۔”
زین نے غصے سے دروازے پر لات مار کر کہا۔ لیکن اچانک وہ اپنے الفاظ پر چونکا تھا۔
” محبت! کیا محبت کہا میں نے ؟”
وہ خود ہی سے سوال کرتا ہوا جواب کا منتظر تھا۔ کہ شاید اسے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے ۔۔۔
لیکن اپنے اندر سے اٹھتی آواز کو زیادہ دیر نظر انداز نہ کر پایا ۔۔۔۔
اور یہی بات اسے مزید تیش دلا گئی تھی ۔۔۔
اپنا غصہ کم کرنے کے لیے وہ واشروم میں جا کر بیسن پر جھک گیا اور اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگا ۔۔۔۔۔
کتنی دیر وہ یونہی ہی صدمے میں بیٹھی سوچتی رہی کہ ایک بار پھر سے وہ خالی ہاتھ ہونے والی تھی ۔۔ ابھی تو اس نے اپنے رشتے کو پایا بھی نہیں تھا کہ کھونے والی تھی ۔۔۔۔
لیکن تھوڑی دیر بعد وہ اٹھی اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ ایک بار شین سے بات ضرور کرے گی ۔۔۔
یہ سوچتے ہی وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی۔ اب اس کے قدموں کا رخ زین کے کمرے کی جانب تھا ۔
دروازے پر ہاتھ رکھا تو وہ کھلا ہوا تھا ۔ہانی دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہو گئ ۔ کمرہ خالی تھا ۔ لیکن واشروم سے آواز آ رہی تھی پانی کی۔۔
وہ چلتی ہو ڈریسنگ ٹیبل کے قریب آئی اور اپنا عکس دیکھ کر جائزہ لینے لگی ۔ اچانک اس کی نظر زین کے قیمتی پرفیوم کی شیشیوں پر پڑی ۔۔۔
جھک کر ایک ایک شیشی کو اٹھا کر دیکھنے لگی۔ جب اچانک زین کی آواز سن کر گھبرا کر پلٹی ۔ اور ایک شیشی اس کے ساتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گری ۔
” کیا کر رہی ہو تم یہاں پر!”
زین جو ابھی اپنا غصہ کچھ کم کر کے نکلا تھا اسے اپنے ڈریسنگ کے پاس کھڑا دیکھ کر پھر سے غصے میں آیا تھا اور کرخت آواز میں اس سے پوچھا تھا ۔۔۔
وہ جو پرفیوم دیکھنے میں مصروف تھی اس کی آواز سے ڈری تھی ۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتا ہانی جلدی سے نیچے بیٹھ کر کانچ چننے لگی۔۔۔
زین کو غصہ اس پر پہلے سے تھا۔ اوپر سے اپنے فیورٹ پرفیوم کی شیشی نیچے ٹکڑوں میں دیکھ کر اس کا غصہ مزید بڑھا تھا ۔
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری چیزوں کو ہاتھ لگانے کی؟”
وہ غراتا ہوا اس کی جانب بڑھا اور ایک جھٹکے سے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا۔۔۔۔
ہانی جو کانچ چن رہی تھی اس کے زور سے جھٹکا دے کر کھڑا کرنے پر ایک کرچی اس کے ہاتھ میں چبھی تھی ۔جہاں سے اب خون نکل رہا تھا ۔۔۔
اس کی سخت گرفت ہانی کو اپنے ہاتھ میں چبھے کانچ سے زیادہ تکلیف دے رہی تھی ۔۔
لیکن وہ اپنے آنسوؤں پر ضبط کیے اس کی لال آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔ جہاں حد درجہ غصہ تھا ۔
وہ اس شخص کے سامنے رو کر اپنے آنسوؤں کی توہین نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ جسے اس کی تکلیف کی پرواہ تک نہ تھی ۔
” ” نکلو ابھی اسی وقت میرے کمرے سے ۔”
زین نے ایک بار پھر اس کی عزت نفس پر وار کیا تھا ۔ایک بار پھر اسے ذلیل کر کے کمرے سے باہر نکالا تھا۔
ہانی خوماشی سے سر جھکائے اپنے آنسو اندر ہی گراتے ہوئے وہاں سے تیزی سے نکلی تھی ۔۔۔
زین واپس کمرے میں پلٹا تو فرش پر خون دیکھ جر حیران ہوا اور پھر جب سمجھ آئی تو اپنی بو وقوفی پر خود کو کوسا۔۔۔
ہانی وہاں سے تو ضبط کر کے آ گئی تھی لیکن اپنے کمرے میں آتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔
کچھ دیر بعد اپنے آنسو صاف کرت اٹھی اور ہاتھ کو بینڈیج کرنے کی بجائے صرف خون بے دردی سے صاف کر دیا ۔۔۔۔
زین کو احساس ہوا کہ اس نے بہت غلط کیا لیکن وہ بھی مجبور تھا۔ کیونکہ ہانی نے اس مے روکا نہ تھا۔ ایسا زین سوچ رہا تھا ۔۔۔
اس بات سے انجان کہ وہ تو وہاں آئی اسے روکنے تھی ۔۔۔
زین نے خود کو کمپوز کیا اور فرسٹ ایڈ باکس لے کر ہانی کے روم کی طرف گیا ۔۔
نوک کر کے بنا انتظار کیے وہ اندر چلا گیا ۔
ہانی جو صوفے پر سر جھکائے بیٹھی تھی اسے دیکھ کر سیدھی ہو بیٹھی تھی ۔۔۔۔
” بندہ بتا تو دیتا ہے کہ ہاتھ میں چوٹ آئی ہے ۔”
وہ اس کے قریب بیٹھتا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
وہ ابھی دیکھ رہا تھا کہ چوٹ کہاں لگی ہے جب ہانی نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں سے کھینچا اور رخ موڑ لیا۔۔۔۔
” آپ جائیں پلیز یہاں سے ۔ مجھے اکیلا رہنا ہے ۔”
ہانی نے لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے کہا ۔ جیسے ابھی کچھ دیر پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔۔
جبکہ زین کو ہانی کا انداز بلکل اچھا نہیں لگا تھا۔ لیکن وہ سوچ کر آیا تھا کہ اب ہانی سے بات کر کے ہی جاۓ گا۔۔۔
اسی لیے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔۔۔
” میں شادی کر رہا ہوں ۔”
وہ اس کا ری ایکشن جاننے کے لیے خاموش ہوا۔۔ جبکہ ہانی یونہی رخ موڑے بیٹھی رہی۔۔۔
“تو!”
کچھ دیر بعد وہ پلٹی اور سپاٹ چہرے کے ساتھ پوچھا ۔ جیسے کہہ رہی ہو مجھے کیوں بتا رہے ہیں ۔۔۔
ہانی کا یہ انداز زین کو غصہ دلانے کے لیے کافی تھا ۔ اسی لیے اب کی بار وہ تھوڑے سخت لہجے میں بولا تھا ۔۔۔
” تو تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا؟”
زین نے پوچھا ۔۔۔۔
” میری بلا سے دوسری شادی کریں ۔۔ تیسری یا پھر چوتھی۔۔۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔”
ہانی نے اس کا سخت لہجہ کسی کھاتے میں ہی نہ لایا ۔اور اٹھ کر دروازہ کھول کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔
صاف اشارہ تھا کہ اب وہ یہاں سے جا سکتا ہے ۔۔۔۔ جبکہ اس کا یہ انداز زین کو تپا گیا تھا ۔۔۔ تبھی وہ غصے سے اٹھ کر دروازے تک گیا اور پھر رک کر دوبارہ بولا ۔۔۔۔
” کوئی تیاری کرنی ہو شادی کے لیے تو بتا دینا ۔ مک5شاپنگ کروا دوں گا۔”
چبھتے ہوئے لہجے میں کہتا وہ رکا نہیں تھا ۔ جبکہ ہانی بس منہ کھولے اسے جاتا دیکھتی رہ گئی تھی ۔۔۔۔
کیا تھا وہ شخص بجائے معافی مانگنے کے وہ الٹا اسے اپنی شادی کی دعوت دے رہا تھا ۔۔۔۔
زین کو ہانی کا یوں لاپرواہی دکھانا برا لگا تھا تبھی اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ نرمین سے شادی ضرور کرے گا۔۔۔۔
