Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 20
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 20
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
نین کو آج تین دن بعد ہاسپیٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا ۔اس دوران اظہار صاحب نے اپنے کچھ دوستوں کی مدد دے نئے گھر کا بندوبست کر لیا تھا اور اپنا پرانا گھر بھی بیچ دیا تھا ۔
بس اب نین کے گھر آنے کے بعد ان لوگوں کو سامان لے کر شفٹ ہونا تھا ۔۔۔
انکے شفٹ ہونے کی خبر سن کر سر پنچ کے بیٹے نے پھر سے شور مچایا لیکن اس بار اس کی کسی نے نہیں سنی۔ کیونکہ یہ ان سب کا مشترکہ فیصلہ تھا جو انہوں نے اظہار صاحب کے سامنے رکھا تھا ۔۔۔۔۔
کہ یا تو وہ رانیہ کی شادی اس سے کروا دیتے یا پھر یہ علاقہ چھوڑ کر جاتے ۔اظہار صاحب نے ان کا دوسرا فیصلہ قبول کر لیا تھا ۔ کیونکہ رانیہ کو وہ کبھی اس اوباش کے حوالے نہ کرتے۔
گاڑی تیار کھڑی تھی۔ سارا سامان ایک بڑی گاڑی میں لوڈ کروا دیا گیا تھا ۔ اب تو بس سب اس گھر کو الوداعی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
” اظہار ! اگر ہانی واپس آئی تو۔۔۔ اگر وہ ہم سے ملنے آئی۔۔”
زینب بیگم کو ہانی کی فکر ہوئی۔ جیسے بھی حالات میں وہ یہاں سے گئی تھی لیکن انہیں اس کے واپس آنے کی امید میں تھی۔
” زینب بیگم جب اس کا ہم سے ملنا قسمت میں ہو گا تو کہیں بھی مل جائے گی ہمیں ۔ فی الحال ہمیں بس یہاں سے جانا ہے ۔”
اظہار صاحب نے آنکھیں چراتے ہوئے کہا ۔۔
” لیکن ہم یہاں بھی تو کسی کو اہنا ایڈریس بتا کر جا سکتے ہیں نا تاکہ اگر ہانی آئے تو وہ اسے ہمارے بارے میں بتا سکے۔”
انہوں نے ایک آخری حل پیش کیا تھا ۔
” زینب بیگم یہاں کے لوگوں اور مزید رسوائی سے پچنے کے لئے ہی ہم لوگ یہاں سے جا رہے ہیں ۔ پھر ہم کسی کو کیسے بتائیں؟”
اظہار صاحب نے ان کی آخری امید بھی ختم کر دی تھی اور وہ بس چپ کر کے انہیں دیکھنے لگیں اور سوچنے لگیں
” کہ کاش وہ اتنا بڑا فیصلہ نہ کرتے تو آج ان کی ہانی ان کے پاس ہوتی۔”
لیکن اب سوچنے کے سوا وہ کر بھی کچھ نہیں سکتیں تھیں ۔
رانیہ جو کب سے کھڑی دونوں کی باتیں سن رہی تھی ۔ کندھے پر کسی کے ہاتھ کا دباؤ محسوس کر کے پلٹی ۔۔
” کیا سوچ رہی ہو گڑیا!”
نین نہت پیار سے اس سے پوچھا رہا تھا ۔ وہ گھر لاک کر رہا تھا جب اس نے رانیہ کو یوں اداس کھڑے دیکھا تو اس کے پاس چلا آیا۔۔۔
” بھائی کیا اب ہم ہانی سے دوبارہ کبھی نہیں مل سکیں گے؟”
رانیہ نے آنکھوں میں نمی لیے نین کو دیکھ کر سوال کیا۔
” کس نے کہا ہے تم سے پاگل ہو کیا؟ کیوں نہیں ملے گی ہانی ہمیں ؟”
نین نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دیتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
” بھائی ہم جا رہے ہیں یہاں سے ۔ ہانی کو ملے تک نہیں نہ اسے بتایا۔ وہ ہم سے کتنا ناراض ہو گی جب اسے پتہ چلے گا۔”
رانیہ نے نین کو دیکھتے ہوئے معصومیت سے پوچھا ۔ وہ نین کے لیے بلکل گڑیا جیسی تھی ۔ نازک سی۔ چھوٹی سی ۔
” گڑیا تم فکر مت کرو تمھارا بھائی ابھی زندہ ہے ۔ اور ہانی ہمیں ضرور ملے گی ۔ ہم یہاں سے جا ضرور رہے ہیں لیکن ہانی کو بھولیں گے نہیں ۔ ہانی کو میں ڈھونڈوں گا اور وہ ضرور ملے گی ہمیں ۔ “
نین نے ایک عزم سے کہا تھا ۔ اور رانیہ کا سر اپنے سینے سے لگا کر اس پر بوسہ دیا۔
اس کی آنکھوں میں ہانی کو ڈھونڈنے کی امید تھی ۔
“چلیں ماما بابا انتظار کر رہے ہیں باہر آپ دونوں کا۔”
وہ دونوں یونہی کھڑے تھے جب سمیرا نے انہیں آواز دی اور یاد دلایا کہ انہیں جانا ہے ۔
” ہاں چلو تم دونوں گاڑی میں بیٹھو ۔ میں گیٹ لاک کر کے آتا ہوں ۔”
نین نے دونوں کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں چُپ چاپ گاڑی کی طرف چل دیں۔ جبکہ نین نے حسرت سے آخری بار اس گھر کو دیکھا جس میں اس کا بچپن گزرا تھا ۔۔۔۔
اس کی یادیں وابستہ تھیں ۔ اور اب اسے اس گھر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جانا تھا ۔۔
ایک آخری نظر گھر پر ڈالتے وہ بھی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
سفر کی تھکان کی وجہ سے حنین صبح کا سویا شام کو اٹھا تھا ۔
حنین کی آنکھ کھلی تو شام کے پانچ بج رہے تھے ۔
” اوہ شٹ! میں اتنی دیر کیسے سوتا رہ گیا۔”
حنین حیران ہوتے ہوئے خود سے ہی مخاطب تھا ۔ کچھ دیر یونہی سستانے کے بعد وہ اُٹھ کر واشروم میں گھس گیا ۔۔۔۔
ہانی کل کے واقعے کے بعد سے روم سے ہی نہیں نکلی تھی ۔ ہاجرہ بی بی نے کئی بار اسے باہر آنے کو کہا کہ اس کا دل بہل جائے لیکن ہر بار اس نے منع کر دیا۔۔۔۔
کھانا بھی ہاجرہ بی بی اس کمرے میں ہی لا کر دے دیتیں۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ باہر نکلے اور اس کا سامنا پھر سے زین سے ہو۔۔
اب اندر بیٹھ بیٹھ کر بھی اکیلی تنگ آ گئی تو اٹھ کر حویلی کے پچھلی سائیڈ والے لان میں آ گئی ۔۔
سامنے والے لان میں جانے سے ہاجرہ بی بی نے اسے منع کیا تھا ۔ کیونکہ وہاں اکثر گاؤں کے لوگ آتے جاتے رہتے تھے اپنے مسائل لے کر۔ جنہیں حل تو کم کیا جاتا تھا البتہ ان کے لیے پریشانی مزید بڑھا دی جاتی تھی ۔۔۔۔
حنین فریش ہو کر نکلا تو یونہی گیلے بالوں میں ٹاول رگڑتا کھڑکی کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
جب اس کی نظر سامنے کھڑی لڑکی پر پڑی۔ اس لڑکی کی حنین کک طرف پشت تھی اس لیے نہ وہ حنین کو دیکھ پائی اور نہ حنین اس کا چہرہ دیکھ سکا۔۔۔
وہ لڑکی اپنی ہی رو میں چلتی پھولوں کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔ کبھی ایک پھول ہر جھک کر اس کی خوشبو اپنے اندر اتارتی تو کبھی دوسرے کی۔ وہ اس سب میں اتنا مگن تھی کہ اسے پتہ ہی جہ چلا۔۔۔
کب حنین اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔ حنین اسے کافی دیر یونہی دیکھتا رہا کہ شاید وہ پلٹے اور حنین اس کا چہرہ دیکھ پائے ۔۔۔۔
لیکن جب کافی وقت گزر گیا اور اس سے صبر نہ ہوا تو خود ہی لان میں آ گیا اور اب اس کے پیچھے کھڑا شرارت سے اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس کی آنکھوں کی چمک بڑھی تھی ۔ وہ یقیناً کوئی شرارت کرنے والا تھا ۔۔
” ہاؤؤؤؤ!”
ہانی جو پیچھے مڑنے ہی والی تھی کہ ایک دم حنین کے ڈرنے کے باعث اپنا توزان کھو بیٹھی اور سیدھی پاس بنی کیاری میں گری۔۔۔
ہانی کا دل ڈر کی وجہ سے زور سے دھڑک رہا تھا جبکہ اس کا چہرہ دیکھ کر حنین با مشکل اپنی ہنسی کنٹرول کرتا اس کی جانب بڑھا۔۔۔۔
اور اپنا ایک ہاتھ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے اس کی اٹھنے میں مدد کی غرض سے جھکا۔
ہانی جو پہلے ڈری تھی ۔ پھر خود کر گرا دیکھ کر شرمندہ ہوئی تھی تو اب سامنے والے کی ڈھٹائی دیکھ کر سلگ کے رہ گئی ۔۔۔
جبکہ حنین اب بھی مسکرا کر اس کے آگے ہاتھ کیے کھڑا تھا ۔ اور چاہ کر بھی اپنی مسکراہٹ روک نہیں پا رہا تھا ۔
ہانی نے غصے دے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹکا اور ہاتھ جھاڑتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔ اور غصے کی ایک گھوری سے نوازنہ نہ بھولی تھی ۔
جبکہ اب کی بار حنین اپنا قہقہ نہ روک سکا اور کھل کے ہس دیا۔۔۔۔۔
” ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔بہت مزہ آ رہا ہے کیا۔۔۔بدتمیز انسان۔۔”
ہانی نے غصے سے حنین کی نقل اتارتے ہوئے منہ بنایا۔۔۔۔
” ہو کون تم اور منہ پھاڑے ہنس کیوں رہے ہو۔ ایسے کسی کے گھر میں گھس کر دوسروں کو ڈرانا اچھی بات ہے کیا؟ کچھ مینرز ب ہیں تم میں ؟”
ہانی نان سٹاپ بول رہی تھی جب حنین نے اسے ٹوکا۔۔۔
” محترمہ ! بندہ نا چیز کو حنین عرف ( حنی) پیار سےکہتے ہیں ۔ “
حنین نے اہنا تعارف کرواتت ہوۓ کہا۔۔
” مجھے کیا تمہیں حنی کہتے ہیں یا حنی بی۔۔۔ مجھے یہ بتاؤ تم ہو کون اور اس گھر میں کر کیا رہے ہو؟”
ہانی نے اس کے نام کا مزاق بناتے ہوئے اور بعد میں تیوری چڑھائے اسے دیکھ کر پوچھا ۔
” یہ سوال تو میں بھی کر سکتا ہوں کہ آپ کون ہیں اور یہاں کیا کر رہی ہیں ؟”
حنین نے اسے آئبرو اچکا کر کہا۔ جبکہ ہانی کا ارادہ اب اسے یہ بتانے کا تھا کہ وہ اس گھر کے مالک زین کی بیوی ہے۔۔۔۔
اور یہ کہنے کے لیے اس نے منہ کھولا ہی تھا. کہ اچانک زین کی آواز سن کر اس نے منہ بند کر لیا ۔۔۔
” اس ڈائنوسار کو بھی ابھی آنا تھا کیا؟ تھوڑی دیر بعد آ جاتا تو کیا تھاکم سے کم میں اپنا تعارف تو ٹھیک سے کروا کر اس چوہے کا منہ بند کرتی ۔”
ہانی نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور ان دونوں کو ایک ایک نام سے بھی نوازا۔۔۔
” حنی تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟”
زین نے آگے آتے ہوۓ حنین سے پوچھا جبکہ ہانی کی وہاں موجودگی کو اس نے سرے سے ہی اگنور کر دیا ۔۔۔
جبکہ ہانی اس کے منہ سے حنین کا نام سن کر حیران رہ گئی ۔ شکر تھا کہ وہ کچھ بول ہی نہیں گئی تھی مطلب زین اسے شخص کو جانتا تھا ۔۔۔
” بھائی وہ میں تو بس ایسے ہی ٹہلتے ہوئے یہاں آ گیا تھا ۔”
حنین نے فوراً سے بہانہ بنایا ۔ جبکہ اس کے منہ سے بھائی سن کر ہی ہانی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ زین کا بھائی ہے۔۔۔۔
” ہیلو مس تو آپ کو پتہ چلا کہ میں کون ہوں اور یہاں کیا کر رہا ہوں ۔”
حنین نے زین سے بات کرنے کے بعد اب ہانی سے کہا تھا وجہ اس گھر میں اپنی حیثیت بتانے کی تھی ۔
” اور آپ!”
حنین نے ہانی سے اس کا تعارف چاہا۔ لیکن اس پہلے ہانی کچھ کہتی زین بول پڑا۔۔۔
” یہ میرے دوست کی بہن ہے۔ ان کی فیملی میں کچھ کرائسز ہو گئے تھے اس لیے یہ اب یہاں رہتی ہیں ۔”
زین نے جلدی سے وضاحت کرتے ہوئے بتایا ۔۔۔۔
جبکہ ہانی کو اپنا یہ تعارف بلکل پسند نہیں آیا تھا ۔لیکن وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو اتنی سی بات دل پر لگا کر روتے ہوئے وہاں سے بھاگ جاتی۔۔۔۔
” آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی مسٹر حنین عرف (حنی)..”
ہانی نے بہت خوشدلی سے حنین کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا ۔ مقصد زین کو واضح کرنا تھا کہ وہ بھی کوئی مری نہیں جا رہی اگر وہ اس کا تعارف ایسے کرا رہا ہے تو۔۔۔۔
حنین نے بھی فوراً اس کا ہاتھ تھاما تھا ۔ لیکن اس کے ساتھ کھڑے زین کی آنکھوں میں موجود جلن دیکھ کر ہانی کو سکون سا محسوس ہوا۔۔۔۔
” چلیں حنی اور بھی بہت سے کام ہیں کرنے کے لیے اگر مل لیا ہو ۔”
زین نے چڑتے ہوئے کہا تھا ۔حنین بھی جلدی سے سی یو اگین کہتا اس کے پیچھے ہو لیا۔ جبکہ ہانی مسکراتے ہوئے اپنے روم کی جانب چل دی۔۔۔۔۔۔۔
رات کے کھانے کے بعد شاہ ہادی کو اٹھائے باہر لان میں نکل گیا۔ جبکہ حمنہ روم میں چلی گئی ۔ کیوں کل وہ آرام کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
” بابا ماما آپ سے ناراض ہیں کیا؟”
ہادی کو نا جانے کیوں ایسا خیال آیا جو وہ پوچھ بیٹھا۔۔۔
” ہاں آپ کی ماما مجھ سے ناراض ہیں ۔”
شاہ نے بھی بغیر کوئی بہانہ بنائے بغیر اسے بتایا وہ اپنے دل کی باتیں کسی سے کرنا چاہتا تھا ۔ حمنہ تو اس بات کر نہیں رہی تھی تو اس نے ہادی سے ہی باتیں شیئر کرنے کا سوچا۔۔۔
” کیوں ؟”
ہادی نے دوبارہ پوچھا۔ شاہ اس کا اگلا سوال جانتا تھا اسی لیے خود کو پہلے ہی تیار کر لیا تھا ۔
” کچھ نہیں یار بس مس انڈر سٹینڈنگ ہو گئی تھی ۔ اور میں نے آپ کی ماما کو ہرٹ کر دیا تھا ۔”
شاہ نے اسے آدھی ادھوری بات بتائی ۔ پوری بات بتا بھی نہیں سکتا تھا ۔
” تو آپ نے سوری کی انہیں ؟”
ہادی نے معصومیت سے پوچھا ۔
” نہیں یار موقع ہی نہیں ملا اور سوچا بھی نہیں اس بارے میں ۔”
اس نے جواب دیتے ہوئے کہا اور واقعی اسنے معافی مانگنے کا سوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔
ہادی نے اس کی انگلی تھام رکھی تھی وہ دونوں لان میں واک کر رہے تھے ۔۔۔
” اوہو! بابا آپ کتنے بدھو ہیں ۔”
ہادی نے رک کر اسے دیکھتے ہوئے کہا جبکہ شاہ منہ کھولے اس کے خود کو بدھو کہنے پر اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” مطلب اپ کو سوری کرنی چاہیے تھی نا۔۔۔۔ ماما کہتی ہیں جب کچھ دلط( غلط) کرو تو سوری بولنا چاہیے ۔ “
ہادی نی سر ہلاتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔
” یہ تع میں نے سوچا ہی نہیں ۔”
شاہ نے اسے گود میں اٹھاتے ہوئے کہا۔۔
” ” تو اب سوچیں نا بابا!”
ہادی نے اس کی عقل پر ماتم کرنے والے انداز میں کہا۔
جبکہ اس کی بات سن کر شاہ کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ چھوٹا ہی سہی لیکن ہادی نے بہت کام کی بات کی تھی ۔۔
” ٹھیک ہے میں جلدی آپ کی ماما کو سوری بولوں گا۔”
اس نے ہادی کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔
” دیتس لائک آ دد بوائے ( ڈیٹس لائک آ گڈ بوائے) ۔”
ہادی جوش سے کہتا اس کے گلے لگ گیا۔شاہ بھی اسے اپنے ساتھ لگائے اب اندر کی جانب چل دیا۔۔۔۔۔۔۔
