229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 21

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

اظہار صاحب اور ان کی فیملی گھر شفٹ کرنے کے بعد کہاں گئے تھے کوئی نہیں جانتا تھا ۔ نہ ہی کبھی زین نے ان سے دوبارہ رابطہ کیا تھا ۔۔۔

زین حنین کو لے کر اسلام آباد چلا گیا تھا ۔ اپنا بزنس سنبھالنے کے لیے اور حنین کو بھی واپس جانے سے منع کر دیا تھا ۔۔۔

ہانی حویلی میں ہی رہ رہی تھی ۔ سارا دن اپنے کمرے میں بند رہتی۔ جب بہت بور ہو جاتی تو ہاجرہ بی بی کے پاس جا کر بیٹھ جاتی۔ ایک دو بار اس نے کچن کا کام کرنے کی کوشش کی تو سکینہ بیگم نے سختی سے یہ کہہ کر روک دیا۔۔۔۔

” کہ ہم ہر کسی کو یوں اپنے گھر کے معملات میں نہیں گھسنے دیتے ۔۔”

جس سے ہانی کی صحت پر تو کوئی اثر نہیں پڑا ۔البتہ اس نے کسی بھی کام کو مہ کرنے کی قسم ضرور کھا لی۔۔۔

زندگی یونہی معمول سے گزرنے لگی تھی ۔ جب پھر سے سکینہ بیگم نے نئی فرمائش کر دی۔۔۔

تین ماہ بعد۔۔۔۔۔۔۔۔

زین اپنے آفس میں بیٹھا تھا جب اسے سکینہ بیگم کی کال آئی تھی۔ ان تین ماہ میں اس نے واپس پلٹ کر نہ دیکھا تھا نہ ہی کبھی ہانی کی کوئی خبر لی تھی ۔۔۔۔

” ہیلو جی چچی سائیں کیسے یاد کیا آپ نے !”

زین نے بے دلی سے فون رسیو کرتے ہوئے کہا ۔ جب کہ سلام کرنے کی زحمت دونوں طرف سے نہیں کی گئی تھی ۔

” مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے زین۔”

سکینہ بیگم نے کال کرنے کا مقصد بیان کرنا چاہا۔ جبکہ ان کے کمرے کے قریب سے گزرتی ہانی کے قدم زین کانام سنکے رکے تھے ۔۔۔

اس کا دل زین کے نام پر عجیب انداز سے دھڑکا تھا۔ اپنی اس کیفیت کو وہ خود بھی نہیں سمجھ پائی۔

” جی کہیں میں سن رہا ہوں ۔”

زین نے جان چھڑانے کے انداز میں کہا۔۔

” بات فون پر کرنے کی نہیں ہے ۔ تم حویلی آ جاؤ آرام سے بیٹھ کر بات کریں گے ۔”

سکینہ بیگم نے وضاحت کی جبکہ نا جانے کیوں ہانی کا دل چاہا زین جلدی آ جائے۔ اور وہ اپنی ان خواہشوں پر خود بھی حیران رہ گئی تھی ۔۔۔

” لیکن چچی سائیں یہاں کام بہت زیادہ ہے۔ میں کیسے آ سکتا ہوں ۔”

زین نے خاہ مخواہ بہانہ گھڑا۔ یہ جانے بنا کہ کوئی شدت سے اس کے آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔

” دیکھو بات ضروری نہ ہوتی تو میں تمہیں کبھی نہ بلاتی ۔ اور ویسے بھی اگر میری جگہ بی جان تمہیں بلاتیں تب بھی تم آنے سے انکار کر دیتے؟”

انہوں نے بی جان کا حوالہ دے کر اسے بلیک میل کرنا چاہا اور یقیناً یہ حربہ کامیاب ہونا تھا ۔۔

زین کا آنے سے انکار سن کر ہانی کو دکھ ہوا وہ پلٹنے ہی والی تھی جب دوبارہ سکینہ بیگم کی آواز پر رکی۔۔

” ہاں تم کل ہی آ جاؤ اور حنی کو بھی ساتھ ہی لے آنا۔ تھوڑا گھوم پھر جائے گا بچہ وہاں کام کر کر کے تھک گیا ہو گا۔”

سکینہ بیگم نے جھوٹی محبت جتاتے ہوئے کہا تھا ۔

جبکہ ان کی بات سے ہانی نے اندازہ لگا لیا کہ وہ کل آنے والا ہے اور یہی سوچ کے ایک گہری سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر بکھر گئی ۔۔۔۔

سکینہ بیگم کے کمرے سے پلٹ کر وہ سیدھی اپنے کمرے میں آئی تھی ۔

” مجھے کیا ہو گیا ہے میں کیوں اس کھڑوس انسان کے آنے کا سن کر اس قدر خوش ہو رہی ہوں۔”

ہانی خود سے ہی مخاطب اپنی حالت سمجھنے سے قاصر تھی ۔

کافی دیر یونہی بیٹھے بیٹھے گزر گئی ۔ کتنی ہی دیر وہ زین کے بارے میں سوچتی رہی۔ پھر اچانک اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ کا احاطہ ہو گیا ۔۔۔

جیسے وہ کچھ سمجھ گئی تھی ۔

” سووووو! مس ہانی تمہیں آخر مسٹر زین سے پیار ہو گیا ہے ۔”

مسکراتے ہوئے اس نے اپنے سر پر چپت لگائی تھی ۔

” ہمممم اب اس شخص سے کل اپنے دل کی بات کروں گی ۔”

وہ خود سے عہد کر رہی تھی ۔ ہانی ان. لڑکیوں میں سے نہیں تھی کہ اگر محبت ہو گئی ہے تو جب تک سامنے والا خود بھی اس بات کا اعتراف نہیں کرتا وہ بھی خود سے کچھ نہیں کہے گی۔۔۔

اور وہ کوئی رسک بھی نہیں لینا چاہتی تھی ۔ چاہے جو بھی حالات تھے ان کی شادی کے وقت ۔ اب وہ شخص اس کا شوہر تھا اور اس کے دل پر قابض بھی ہو چکا تھا ۔ وہ اسے کسی سے بانٹ نہیں سکتی تھی ۔۔۔

زین اور نرمین کی منگنی کا اس کو پتہ تھا اور سکینہ بیگم کی بات سن کر اسے شک بھی ہونے لگا تھا ۔جبھی اسنے زین سے اپنے دل کء بات کہنے کا فیصلہ کیا ہے کہ بعد میں دیر نہ ہو جائے ۔۔۔

جب سے ہانی کو نرمین اور زین کی منگنی کا پتہ چلا تھا نرمین اسے زہر لگنے لگی تھی ۔ اچھی تو وہ اس کو پہلے بھی نہیں لگی تھی لیکن اب اسے وجہ مل گئی تھی ۔۔۔

یہی حال نرمین کا بھی تھا ۔ اگر نرمین ہانی کو زہر لگتی تھی تو ہانی بھی نرمین کو کوئی گڑ کی ڈلی نہیں لگتی تھی ۔۔۔۔۔

اسی لیے دونوں جب بھی کبھی ان تین ماہ میں غلطی سے ایک دوسرے کے سامنے آ جاتیں تو گھور کر اہنا حق ادا کرتیں۔۔۔۔۔۔

ہانی اٹھ کر اب الماری کے قرین کھڑی کل کے لیے ڈریس سلیکٹ کرنے لگی تھی ۔ وہ جانتی تھی کہ اسے اب کیا کرنا ہے ۔۔۔۔

لیکن قسمت کب کسی کو موقع دیتی ہے یہ اس نے نہیں سوچا تھا ۔۔

حنی زین کے ساتھ گھر واپس آیا تو زین نے اسے لاونج میں ہی روک لیا ۔

” حنی سنو !”

زین نے اس مخاطب کیا ۔۔۔

” جی بھائی سنائیں ۔۔۔۔”

حنی بھی اسی کی ٹون میں تنگ کرتے ہوئے بولا۔

” یار کبھی تو سیریس ہو کر بات سن لیا کرو۔”

زین اس کے انداز پر تپ کر بولا تھا ۔وہ ایسا ہی تھا کبھی کسی بات کو سیریس نہ لینے والا ۔ اور اس کی یہی بات زین کو بری لگتی تھی ۔۔۔۔

وہ اسے کئی بار سمجھا چکا تھا کہ وہ اپنی لائف میں سیریس ہو جائے لیکن حنی ہمیشہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا تھا ۔۔

” بھائی پلیز اب دوبارہ شروع مت ہو جائیے گا ۔ وہ بات کریں جس کے کیے روکا ہے ۔”

حنی نے زین کے تیور دیکھتے ہی فوراً سے دہائ دی تھی ۔اسے لیکچر سننے سے سخت کوفت تھی ۔۔۔

زین جو اسے سمجھانے کے لیے منہ کھول رہا تھا اس کی بات سن کر ایک نگاہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔

” چچی سائیں کا فون آیا تھا ۔بلایا ہے کل حویلی۔”

زین نے مقصد کی بات کی ۔جانتا تھا اب اسے سمجھانا فضول ہے اسی سیدھا مدعے کی بات پر آیا۔۔

” ہاں تو؟”

حمی نے لاپروہی سے آئبرو اچکا کر پوچھا ۔۔

” تو یہ کہ ہم کل جا رہے ہیں حویلی ۔اپنی تیاری کر لینا۔”

زین نے بات ختم کی۔

” اوہ رئیلی! “

حنی نے پر جوش انداز میں کہا۔

جبکہ زین سر نفی میں ہلاتا اندر بڑھ گیا وہ اس کی حرکتوں سے ویسے ہی بہت تنگ تھا۔

” آہا! اب مزہ آئے گا مس ہانی آپ سے باقاعدہ تعارف کروانے میں ۔”

حنی چہرے ہر شرارتی مسکراہٹ لیے خیالوں میں ہانی سے مخاطب ہوا۔ اور یہی وجہ تھی حویلی جانے کا سن کر اس کے پر جوش ہونے کی۔۔۔

زین اور حنی حویلی پہنچ چکے تھے ۔ ہانی صبح سے ہی تیار ہو رہی تھی۔ جانے کتی تیاری تھی جو ختم ہی نہیں ہونے میں آ رہی تھی ۔۔۔۔

ان کی آوازیں سن کر وہ جلدی سے ایک نظر خود کو آئینے میں دیکھتی جلدی سے باکر نکلی۔۔۔

زین جو حنی سے بات کر رہا تھا ۔ ہانی کو سامنے سے آتا دیکھ کر ٹھٹکا ۔۔۔

وہ آج پہلی بار اسے تیار ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔ زین کتنی ہی دیر بے خودی میں اسی کو دیکھتا رہا ۔ جب اس کو یوں گم دیکھ کر حنی نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا اور اس کے گم سم ہونے کی وجہ جانتے ہوۓ اسے ہوش کی دنیا میں واپس لایا۔۔۔

” بھائی شرم کرو کچھ ۔ منگنی شدہ ہو ۔اگر نرمین بھابھی نے دیکھ لیا نہ تو خیر نہیں آپ کی۔۔”

حنی شرارت سے بولتا اس کو یاد دلا رہا تھا ۔جبکہ اس کی بات پر زین نے نظریں ہانی پر سے ہٹا کر اسے دیکھا ۔۔۔

وہ کیسے بھول رہا تھا کہ نرمین بی جان کی خواہش ہے ۔ وہ یوں بھٹک نہیں سکتا تھا ۔نہ وہ خود کو کوئی جھٹا دلاسہ دینا چاہتا ہے اور نہ ہی ہانی کو امید دلانا چاہتا تھا ۔۔۔

اسی لیے سب یاد آتے ہی وہ غصے سے مٹھیاں بھینچتے ایک سخت نگاہ ہانی پر ڈالتے اپنی بے اختیاری چھپاتے ہوئے تیزی سے اپنے روم کی طرف چلا گیا ۔۔

جبکہ ہانی کو اس کا یہ انداز دکھی کر گیا۔تبھی وہ پلٹنے لگی تھی جب حنی کی آواز پر رک کر اسے دیکھا ۔۔۔۔