229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 17

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

ابھی وہ سب بیٹھے باتیں ہی کر رہے تھے جب باہر سے شور کی آوازیں آنے لگیں ۔۔۔۔

شور سن کر زینب بیگم اور رانیہ گھبرا گئیں تھیں جبکہ سمیرا سمجھنے کی کوشش کرنے لگی کہ آخر ہو کیا رہا ہے ۔

اظہار صاحب اور نین ان لوگوں کو حوصلہ دیتے ہوئے باہر نکل گئے ۔۔۔

گلی میں کافی بھیڑ اکھٹی ہو گئی تھی ۔ نین غصے میں ان لوگوں کی طرف بڑھا ۔

” یہ کیا بدتمیزی ہے؟ یوں کسی کے گھر کے سامنے تماشہ لگاتے ہوئے شرم نہیں آتی کیا آپ لوگوں کو ۔”

نین غصے میں دھاڑا تھا ۔۔

” ارے بھئی لگتا ہے ان لوگوں کو شرافت کی زبان سمجھ میں نہیں آتی ۔ ایک گھنٹے کا وقت دیا تھا لیکن اب تین گھنٹے گزر چکے ہیں ۔ انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔”

بھیڑ میں سے سر پنچ نے آگے آتے ہوئے کہا تھا ۔ وہ لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکانا چاہتا تھا اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہا تھا ۔ جبکہ اظہار صاحب حیرت سے ان کا منہ دیکھنے لگے کہ انہوں نے کب ان سے وعدہ کیا تھا ۔

“شرافت ؟ تم جیسے لوگوں کو پتہ بھی ہے کہ شرافت ہوتی کیا ہے !”

نین نے غصہ ضبط کرتے ہوئے اسے دوبدو جواب دیا تھا ۔

” اظہار اپنے بیٹے کو روک لو ورنہ ایسا نہ ہو کچھ بُرا ہو جائے ۔”

سر پنچ نے انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا ۔ نین انہیں جواب دینے ہی والا تھا جب تیزی سے اس کی جگہ اظہار صاحب سامنے آتے ہوئے بولے۔۔۔

” جس کے لئے تم لوگ یہاں آئے ہو وہ اب یہاں نہیں ہے ۔”

انہوں نے دھیمے لہجے میں ان لوگوں کو مخاطب کر کے کہا وہ بات کو زیادہ بڑھانا نہیں چاہتے تھے اسی لیے آرام سے بات کو ختم کرنا ضروری سمجھا ۔

کک کیا مطلب یہاں نہیں ہے ؟”

اب کی بار سر پنچ کا بیٹا سامنے آیا تھا ۔ اور پریشان ہوتے ہوئے استفسار کیا

” مطلب کہ میں نے اس کی شادی کر دی ہے ۔”

اظہار صاحب نے مطمئن انداز میں جواب دیا۔ ان کا جواب سامنے والے کو سلگا گیا تھا ۔۔۔

اس سب میں اسی کا تو ہاتھ تھا ۔ اس نے اظہار صاحب کو پریشانی میں گھر سے نکلتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور اپنا خاص آدمی ان کے پیچھے بھیج کر ساری معلومات اکھٹی کر کے سارا منصوبہ بنایا اور ہانی کے آتے ہی لوگوں کو بھڑکا کے ان کے گھر بھیجا تھا ۔۔۔۔

ورنہ یہ بات کون جانتا تھا کہ ہانی غائب ہے کیونکہ ان لوگوں نے خود سے کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا ۔ اب یوں ہانی کو اپنے ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا ۔ کیا سوچا تھا اس نے اور کیا ہو گیا تھا ۔

لیکن اس کے شیطانی دماغ میں اچانک سے کچھ آیا تھا اور وہ پر سکون سا آگے بڑھا ۔ اب کی بار بے سکون ہونے کی باری اظہار صاحب کی تھی ۔۔۔

” ٹھیک ہے تم نے اس کو تو بیاہ دیا ہے ۔ لیکن ایک گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کی بہن سے کون شادی کرے گا ۔ اس لیے ایک تو تم نے ہم سے وعدہ خلافی کی ہے اور دوسرا اگر تمہیں اس علاقے میں رہنا ہے تو اپنی چھوٹی بیٹی کی شادی مجھ سے کرنی ہو گیا”

شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ وہ اپنی بات ان سے کہہ کر لوگوں کی طرف پلٹا اور ان کی تائید چاہی اپنی بات کو منوانے کے لیے ۔اور ان سب لوگوں میں بھی جیسے خوفِخدا ختم ہو گیا تھا ۔ انہوں نے بھی اس کا ساتھ دینے کے کیے ہاں میں سر ہلانا شروع کر دیے۔

” کمینے !ذلیلل انسان ! تیری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کا نام بھی اپنی گندی زبان سے لینے کی ۔”

اس کی بات سن کر نین سے برداشت نہ ہوا اور غصے میں اس نے آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑا تھا ۔

” آہاں! سالے صاحب یہ کر کے تم اپنی بہن کے حق میں بلکل اچھا نہیں کر رہے کیونکہ اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا۔”

اس نے مکروہ انداز میں نین سے کہا۔ جبکہ اسکی بات سن کر نین سے مزید برداشت نہ ہوا اور اس نے ایک مکہ اس کے منہ پر جڑ دیا تھا ۔۔۔۔

نین کی اسحرکت کی دیر تھی کہ کئ لوگ آگے بڑھے اور نین کو دبوچ لیا جبکہ اظہار صاحب حواس باختہ سے ان لوگوں سے نین کو چھڑوانے لگے لیکن ان کے بوڑھے وجود میں اتنی طاقت نہیں رہی تھی کہ وہ نین کو ان لوگوں سے آزاد کروا پاتے۔۔۔۔

وہ لوگ بےدردی سے نین کو مار رہے تھے اور اظہار صاحب لوگوں کے آگے اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے ۔ان کا آگے ہاتھ جوڑ کر واسطے دے رہے تھے ۔ لیکن وہا موجود کسی شخص میں انسانیت باقی نہیں بچی تھی وہ لوگ بے حس بنے بوڈھے باپ کا تماشہ دیکھ رہے تھے ۔اور وہ مجبور باپ بس رو رو کر لوگوں سے فریاد کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

زین سکینہ بیگم کے کمرے کے سامنے رُکا اور ہلکے سے دروازے پر دستک دی۔

” آ جاؤ زین!”

وہ ایسے اعتماد سے بولیں جیسے انہیں یقین تھا کہ وہی ہو گا۔ وہ آہستہ سے ناب گھماتے ہوئے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔

اندر سکینہ بیگم اور نرمین پہلے سے موجود تھیں ۔زین نے دونوں کو ایک نظر دیکھا اور خاموشی سے صوفے پر جا کر بیٹھ گیا ۔

“آپ نے بلایا تھا کوئی ضروری کام تھا کیا ؟”

جب وہ کچھ دیر یونہی خاموش رہیں تو اس نے خود سے انہیں مخاطب کیا۔

وہ جو کب سے ہانی کو اس کے ساتھ دیکھ کر پریاشان تھیں کہ وہ آخر اس کے ساتھ واپس کیوں آئی ہے۔ کیونکہ وہ ہانی کو رات کو یہاں سے جاتا ہوا دیکھ چکی تھیں اور پھر صبح انہوں نے اپنے خاص ملازم سے رات والے واقع کی ساری معلومات لے لیں تھیں ۔ اس لیے انہیں پتہ تھا کہ انہیں کب کیا کرنا ہے ۔۔۔۔

” ہاں بیٹا میں پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ جو لڑکی دن کو تمہارے ساتھ آئی تھی کون ہے کیا تمہاری کوئی دوست ہے ؟”

انہوں نے زین سے اس انداز میں پوچھا کہ اسے شک نہ ہو وہ ہانی کو پہلے بھی دیکھ چکی ہیں۔

جبکہ ان کی بات پر زین سوچ میں پڑ گیا کہ وہ انہیں کیا جواب دے۔ کچھ سوچ کر اس نے سب سچ بتانے کا فیصلہ کیا۔

لیکن صرف آدھا سچ!

” چچی جان وہ میری بیوی ہے شادی کر لی ہے میں نے اس سے ۔”

زین نے گویا ان کے سر پر بم پھوڑا تھا ۔

“کیییا؟”

نرمین غصے اور شاک کی کیفیت میں چلائ تھی ۔ جبکہ سکینہ بیگم اب بھی ہر سکون بیٹھی تھیں ۔ وہ جانتی تھیں اب انہیں کیا کرنا ہے۔۔۔۔

” زین تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔ ابھی بی جان کو گئے ہوئے وقت ہی کتنا ہوا ہے اور تم اپنے وعدے سے مکر رہے ہو۔ تم نے کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کر لیا ہے ۔”

نرمین ہزیانی انداز میں چلا رہی تھی ۔ اس سے پہلے زین کچھ اور کہتا سکینہ بیگم نے اپنے حصے کی چال چلتے ہوئے کہا۔

” زین تم جانتے ہو بی جان کو کیا ہوا تھا ؟”

جبکہ زین حیرانی سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا۔۔

” بشیر نے بی جان کو بتا دیا تھا کہ سجاول ہسپتال میں ہیں اور ان کے سر میں گہری چوٹ آئی ہے یہ بات اس نے مجھے بھی بی جان کے سامنے ہی بتائی اور میں اسے منع نہیں کر پائی۔ “

سکینہ بیگم بہت مہارت سے جھوٹ بول رہی تھیں جبکہ نرمین حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی کہ اتنی بڑی بات انہوں نے اب تک اسے بتائی ہی نہیں ۔۔۔

زین اپنی چچی کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کتنا حوصلہ ہے ان کا جو اتنا سب ہونے کے بعد بھی اب تک خاموش رہی تھیں ۔۔

” بی جان سے یہ صدمہ برداشت نہ ہوا وہ سجاول کی ذرا سی بھی تکلیف برداشت نہیں کر سکیں اور ہارٹ اٹیک کی وجہ سے چل بسیں میں نے یہ بات تمہیں پہلے اس کیے نہیں بتائی کہ تم سجاول کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان تھے۔”

وہ آہستہ آہستہ اسے شیشے میں اتار رہیں تھیں ۔۔۔

” اور جہاں تک رہی اس لڑکی کی بات میں نہیں جانتی ایسی کیا وجہ تھی کہ تم نے نرمین کو چھوڑ کر اس سے شادی کی۔ نہ میں تم سے پوچھوں گی۔ بس تم اپنی زندگی میں خوش رہو۔”

وہ بول رہیں تھیں جبکہ زین غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا ۔ اس کی رگیں تن گئیں ۔

” میں نے نرمین کو نہیں چھوڑا ہے ۔ میں کل بھی اسی سے شادی کرنے والا تھا اور آج بھی ۔یہ شادی بس ایک مجبوری ہے جو میں بہت جلد ختم کر دوں گا۔”

زین غصے سے کہتا وہاں سے واک آؤٹ کر گیا جبکہ اس جانے کے بعد سکینہ بیگم فتح کی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اب نرمین کو سب بتا رہیں تھیں ۔۔۔

نین کی حالت بہت خراب ہو گئی تھی وہ تقریباً نیم بیہوشی کی حالت میں تھا جب سر پنچ کے بیٹے نے ان لوگوں کو روکا۔

“بس کرو اتنا کافی ہے ورنہ مر جائے گا ۔ میرے خیال میں یہ سبق تمہیں یاد رہے گا اور دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے ورنہ اگلی بار تمہارا بیٹا زندہ نہیں بچے گا سمجھے۔”

وہ پہلے ان لوگوں کو روکتا ہوا اور پھر اظہار صاحب کو دھمکی دیتے ہوئے بولا۔

جبکہ اس کی یہ بات باہر آتی زینب بیگم نے سن لی تھی ۔ کافی دیر تک جب اظہار صاحب اور نین واپس نہ آئے تو وہ پریشان ہو کر خود ہی انہیں دیکھنے کے لیے باہر آ رہی تھیں جب انہوں نے یہ بات سنی۔

زینب بیگم کا دل دہل کر رہ گیا ۔ وہ جلدی سے باہر نکلی جب کہ باہر کا منظر دیکھ کر ان کی دل خراش چیخ نکلی تھی ۔۔۔۔

” نین! میرا بچہ اٹھو کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔ دیکھو تمہاری ماں میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ تمہیں ایسے خاموش دیکھے اٹھو نا میرے لال ۔۔۔”

زینب بیگم نین کا سر گود میں رکھ کر دیوانہ وار چلا رہی تھیں جبکہ ان کی چیخ کی آواز سن کر رانیہ اور سمیرا بھی باہر بھاگتی آئیں۔ ۔۔۔

نین کا وجود زمین پر پڑا دیکھ کر ان دونوں کے ہی اوسان خطا ہوۓ تھے ۔ اس کے سر سے لگاتار خون بہہ رہا تھا اور چہرہ بھی چوٹوں سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔

” زینب بیگم صبر کریں ، حوصلہ رکھیں آپ کو اس حال میں دیکھ کر بچیاں بھی ہمت ہار جائیں گی ۔”

اظہار صاحب نے زینب بیگم کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا حالانکہ ان کا اپنا دل خون کے آنسو رو رہا تھا اپنے جوان بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر ۔

” نہیں کر سکتی میں حوصلہ ۔۔۔ کیسے کروں میں صبر ؟ میرا بچہ اس حال میں میرے سامنے ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ میں حوصلہ کروں۔”

زینب بیگم اپنے ہوش میں نہیں تھیں ۔ غصے میں اپنا ضبط کھو چکی تھیں ۔ اظہار صاحب نے کرب سے ان کو دیکھا ۔

” میں بتا رہی ہوں اظہار صاحب اگر میرے بچے کو کچھ ہوا تو میں کبھی آپ کو معاف نہیں کروں گی ۔”

زینب بیگم غصے سے پھنکاری تھیں ۔۔۔

” کچھ نہیں ہو گا ہمارے بیٹے کو ۔۔میں نے ایمبولینس کو کال کی ہے وہ لوگ تھوڑی دیر میں پہنچتے ہوں گے ۔”

زینب بیگم کی بات اظہار صاحب کے کلیجے کو کاٹ گئ ۔ وہ تڑپ کر بولے تھے ۔ جبکہ ایک طرف کھڑی رانیہ اور سمیرا ایک دوسرے کے گلے لگی تسلیاں دے رہی تھیں ۔