Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 19
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 19
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
ہانی خوف سے کھڑی کانپ رہی تھی ۔ اسے زین سے اس سب کی امید نہیں تھی ۔ بنا سوچے سمجھے اس نے ہانی پر اتنا بڑا الزام لگا دیا تھا۔
شور کی آواز سن کر ہاجرہ بی بی بھاگتی ہوئی زین کے کمرے کی طرف آئیں لیکن سامنے کا منظر دیکھ دکھ کی ایک لہر ان کے اندر سرائیت کر گئی۔
” نکل جاؤ ابھی اسی وقت یہاں سے۔ میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔”
زین ہانی کو بازو سے دبوچتے ہوۓ دروازے تک لایا تھا ۔اور دروازے میں ہی رک کر ہانی کو جھٹکے سے باہر پھینکا تھا ۔۔۔
ہاجرہ بی بی نے فوراً آگے بڑھ کر ہانی کو پکڑا تھا ۔ اگر وہ اسے نہ تھامتیں تو وہ یقیناً بہت بری طرح گرتی۔
” زین صاحب کیا کر رہے ہیں یہ آپ ۔ کیوں اس معصوم کے ساتھ اتنا برا سلوک کر رہے ہیں ۔”
ہاجرہ بی بی سے زین کا یہ رویہ برداشت نہ ہوا تو بول اٹھیں۔
” ہاجرہ بی بی پلیز آپ اس سب سے دور رہیں میں نہیں چاہتا غصے میں میں آپ سے کوئی بدتمیزی کر بیٹھوں۔”
زین نے ان سے بات کرتے ہوئے اپنا لہجہ نرم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔۔۔
جبکہ اس بار ہانی چیخی تھی ۔
” کیوں! کیوں کی تھی تم نے مجھ سے شادی! یہی سب کرنے کے لیے۔۔۔۔ تم سب مرد ایک جیسے ہوتے ہو ۔ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ شادی کرو مجھ سے۔ اپنی مرضی سے کی ہے تم نے”
ہانی غصے اور دکھ کی کیفیت میں کانپ رہی تھی ۔
” تمہارے باپ کی وجہ سے کی تھی ۔ ان کے جڑے ہاتھ دیکھ کر لیکن بہت بڑی غلطی ہو گئی مجھ سے ۔”
زین غصے میں وہ سب بول گیا تھا جو اظہار صاحب نے اسے ہانی کو بتانے سے منع کیا تھا ۔۔۔
اس کی بات سن کر ہانی جیسے پتھر کی ہو گئی تھی۔ وہ کیا کہتی اسے۔ اس کے پاس تو کہنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں تھا ۔
اس کے اپنے بابا نے اسے بے مول کر دیا تھا اس شخص کے آگے۔ تو وہ کس حق سے اس سے لڑتی۔ وہ بس آنکھیں پھاڑے اس سب پر یقین کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
زین نے دروازہ بند کر دیا تھا۔ اسے شدت سے اپنی تذلیل محسوس ہوئی تھی ۔ اس کی عزت نفس کو اس شخص نے بری طرح مجروح کر دیا تھا ۔۔۔۔
ہاجرہ بی بی اس کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئیں۔ اور اسے گیسٹ روم میں بٹھا دیا ۔ وہ اسے جانے کیا کیا کہتی رہیں ۔۔ کتنی تسلیاں دیں۔ اسے تو کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا ۔ اسے بس زین کی آواز بار بار اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی ۔۔۔
” تمہارے باپ کے جڑے ہاتھ دیکھ کر۔۔۔۔۔”
یہ الفاظ اسے تیر کی مانند لگ رہے تھے ۔ کیا وہ اتنی بے وقعت ہو گئی تھی کہ اس کے لیے اس کے باپ کو کسی کے آگے ہاتھ جوڑنے پڑے ۔۔۔۔
اکثر ہم ہمارے والدین کو بہت غلط سمجھتے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں وہ ہی ہمارا سب سے مضبوط سائبان ہوتے ہیں ۔ وہ کبھی اپنی اولاد کے لیے غلط فیصلہ نہیں کرتے۔۔۔۔
ایسی ہی کیفیت کا شکار اس وقت ہانی تھی ۔ وہ اپنے بابا کو غلط سمجھ رہی تھی ۔ لیکن اگر ایک بار وہ خود کو ان کی جگہ رکھ کر سوچتی تو اسے احساس ہوتا۔۔۔۔
حمنہ اندر آ کر کھڑی ہو گئی تھی ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب وہ کدھر جائے ۔ کیونکہ وہ تو پہلی بار یہاں آئی تھی ۔
“ا ہممم ہمممم۔”
اس کو ایسے کھڑا دیکھ کر پیچھے آتے شاہ نے اپنی جانب متوجہ کیا۔ اس کے کھانسنے پر حمنہ نے مڑ کر اس کو دیکھا ۔۔۔
” کیا بات ہے مسز شاہ ؟ یہاں کیوں کھڑی ہیں ۔”
شاہ نے اسے تنگ کرنے کے لیے جان بوجھ کر مسز شاہ بولا تھا ۔ وہ جانتا تھا۔ کہ حمنہ اس کی بات پر کتنا چڑ جاۓ گی اور یہی تو وہ چاہتا تھا اسے تنگ کرنا۔۔۔
جبکہ اس کے مسز شاہ کہنے پر حمنہ نے گھور کر اسے دیکھا ۔ لیکن پھر یہ سوچ کر کہ آخر وہ اس کے گھر میں کھڑی ہے ۔کچھ کہہ نہ پائی۔
” کوئی پریشانی ہے کیا؟”
حمنہ کو خاموش دیکھ کر شاہ کو فکر ہوئی۔۔
” ہاں! وہ مجھے روم نہیں پتہ کہاں جانا ہے ؟”
حمنہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن مرتا کیا نہ کرتا کہ مصادق اب جب وہ یہاں پر تھی اور پتہ بھی نہیں تھا کہ کہاں جانا ہے تو اس سے پوچھ ہی لیا۔۔۔
اس کی بات سن کر شاہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔
” رفیق ان کا سامان لے کر اوپر کمرے میں رکھوا دو۔”
شاہ اپنے نوکر کو حکم دیتا حمنہ کی طرف متوجہ ہوا۔۔
” چلو میں تمہیں روم دکھا دوں۔”
شاہ نے حمنہ کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ جبکہ ہادی کو ابھی بھی شاہ نے اٹھایا ہوا تھا ۔
” بابا یہ ہمارا دھر(گھر) ہے۔”
ہادی نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے ستائش بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے شاہ سے پوچھا ۔
” ہاں یہ ہمارا ہی گھر ہے۔”
شاہ نے اس کے گال چوم کر اسے جواب دیا اور حمنہ کے ساتھ روم میں آ کر رکا۔
” یہ تو آپ کا روم ہے۔”
حمنہ نے کمرے کو دیکھ کر کہا کیوں کہ وہاں موجود ہر چیز شاہ کی رہائش کا پتہ دے رہی تھی ۔
” ہمارا روم کہاں ہے ۔”
اس سے پہلے شاہ کچھ کہتا حمنہ دوبارہ بولی۔
” یہ ہمارا ہی روم ہے۔”
شاہ نے ہادی کو نیچے اتارتے ہوئے معنی خیزی سے حمنہ کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ جبکہ ہادی اس کی گود سے اترتے ہی بھاگ کر ڈریسنگ ٹیبل پی رکھی پرفیوم کی قیمتی شیشیوں کو اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگا۔۔
اس سے پہلے کہ حمنہ پھر کوئی جواب دیتی ۔ اچانک کانچ کے ٹوٹنے کی آواز آئی ۔۔
دونوں نے گھبرا کر اس طرف دیکھا جہاں سے آواز آئی تھی۔ جبکہ ہادی معصوم سی شکل بنائے کھڑا شاہ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس نے شاہ کے پرفیوم کی ایک شیشی توڑ دی تھی ۔ جبکہ ہانی اب ڈر گئی تھی کہ نا جانے شاہ اس سے کیا سلوک کرے گا۔ ماضی کی ایک یاد اس کے ذہن میں تازہ ہوئی تھی ۔۔۔
وہ ابھی اس کے ری ایکشن کا سوچ ہی رہی تھی جب شاہ کو دیکھ کر ٹھٹکی۔۔۔
جو نہایت آرام سے ہادی کو اٹھا کر چیئر پر بٹھا رہا تھا ۔۔
” ہاتھ دیکھاؤ کہیں لگی تو نہیں ۔۔۔”
شاہ بہت پیار سے اس کا ہاتھ تھامے فکرمندی سے پوچھ رہا تھا ۔۔
جبکہ اس کو ہادی کا ہاتھ پکڑے دیکھ کر بے اختیار حمنہ نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا اور کرب سے آنکھیں میچ لیں۔ بہت سے آنسو خاموشی سے اپنے اندر اتارتی وہ واش روم میں گُھس گئی اور یہ سوچ کر خود کو پر سکون کرنے لگی کہ ۔۔۔۔
کم از کم وہ ہادی کو بہت چاہتا ہے ۔ اور اسے کبھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ۔ یہی سوچ کر وہ پر سکون ہو گئی تھی ۔۔۔
زین صبح صبح ہی اسلام آباد ایئر پورٹ کے لیے نکل گیا تھا آج حنین کی صبح کی فلائیٹ تھی ۔۔
حنی نے اسے منع بھی کیا تھا کہ زین اسے لینے نہ آئے۔ لیکن زین نہیں چاہتا تھا کہ وہ اتنے عرصے بعد اکیلا گھر واپس آئے۔۔۔۔
ابھی حنین کی فلائیٹ لینڈ ہونے میں آدھا گھنٹہ باقی تھا ۔زین نے شجاع کو گھر بھیج دیا تھا ۔ کیونکہ اب سجاول سائیں نہ جانے کب تک ایسے رہتے اور شجاع دو دن سے وہاں تھا ۔اس لیے اس نے شجاع کو مزید مشکل میں نہ ڈالنے کی غرض سے اسے واپس بھیجا۔۔
زین کل ہانی سے ہوئی لڑائی کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ جب اسے اپنے کندھے ہر دباؤ محسوس ہوا۔
اس نے گردن گھما کر دیکھا تو حنین اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا ۔۔۔
” بھائی خیر تو ہے کہاں گم ہیں ۔ میں کب سے آپ کے پاس کھڑا ہوں لیکن آپ کو تو ہوش ہی نہیں ہے ۔”
حنی نے اسے گم سم سا دیکھا تو پریشانی سے بولا۔
” کچھ نہیں یار بس ایسے ہی۔”
زین نے بہانا بنایا۔۔۔
” کہیں آپ بی جان کی وجہ سے تو اپ سیٹ نہیں ۔”
حنی نے اندازہ لگایا۔۔۔
” ہمممم یار بس سوچا نہیں تھا کہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا ۔”
زین نے افسردگی سے کہا۔۔
” یار بھائی بات سنیں! ایسے منہ مت لٹکا کر بیٹھیں ۔ ورنہ وہ جو ہماری ڈول ہمیں خوش چھوڑ کر گئیں تھیں نا وہاں بہت پریشان ہو جائیں گی ۔”
حنی نے آسمان کی طرف اشارہ کر کے بی جان کے متعلق چلتے ہوئے کہا۔۔۔
وہ ایسا ہی تھا ۔ خود کتنا بھی دکھی یا پریشان کیوں نہ ہو لیکن دوسروں کا خیال اپنے سے پہلے رکھنے والا ۔ زین اس بات سے اچھی طرح واقف تھا اسی لیے اسے کچھ نہیں کہا۔ورنہ ایسی سیچوایشن میں وہ کسی کی ذرا سی بات نہ برداشت کرتا تھا ۔۔
باقی کا سارا راستہ خاموشی سے گزرا تھا ۔ گھر آتے ہی حنی پہلے بی جان کی قبر پر گیا ۔ پھر واپس آ کر سکینہ بیگم سے ملا۔ سفر کی وجہ سے کافی تھک گیا تھا ۔ ہاجرہ بی بی کو چائے کا بول کر اپنے روم میں فریش ہونے چلا گیا۔۔۔
جب فریش ہو کر باہر آیا تو چائے تیار تھی ۔ اسے پی کر وہ آرام کی غرض سے لیٹ گیا۔۔۔
ہانی کل کے واقعے کے بعد سے اپنے روم سے باہر نہیں آئی تھی ۔ اور زین نے بھی سب کو حنی کو ہانی کے بارے میں بتانے سے سختی سے منع کر رکھا تھا ۔۔۔۔
جس وجہ سے اس کی ملاقات اب تک ہانی سے نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔
