229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 25

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

حنین کا ہانی کی طرف بڑھتا غیر معمولی جھکاؤ نرمین اسلام آباد آنے کے بعد کئی دنوں سے محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

جب کبھی وہ سب ساتھ بیٹھتے تھے تو زین کا ہانی کو بے خود ہو کر دیکھتے جانا نرمین کو اندر تک سلگا دیتا تھا ۔۔۔اور اپنی یہ کیفیت وہ بہت مشکل سے چھپاتی تھی ۔۔۔۔

آج کافی دنوں حنی لان میں اکیلا بیٹھا شام کی چائے پی رہا تھا ۔زین کسی کام سے باہر گیا تھا ۔۔۔

اس کو اکیلا بیٹھا دیکھ کر ہی نرمین کچھ سوچ کر اس کی طرف آئی تھی ۔۔

” حنی تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو۔”

اچانک اپنے پاس نرمین کی آواز سن کر حنین چونکا تھا ۔ جبکہ اس کی نظریں نرمین کے بلانے سے پہلے جہاں جمی ہوئی تھیں نرمین نے اس سمت دیکھا۔

لیکن سامنے دیکھتے ہی ایک جلن کا احساس اسے ہوا تھا ۔۔۔ہانی بالکونی میں کھڑی آس پاس سے بے خبر آسمان کو گھورے جا رہی تھی ۔۔۔

نرمین سمجھ گئی تھی کہ حنی وہاں اکیلا کیوں بیٹھا ہوا تھا جبکہ حنین مسلسل یہاں وہاں دیکھ رہا تھا تاکہ اس کی چوری پکڑی نہ جائے۔۔۔

” اوہو دیور صاحب تو یہ معاملہ ہے ۔”

جانے نرمین کے دماغ میں کیا طل رہا تھا جو وہ اس قدر دوستانہ انداز میں بات کر رہی تھی اور وہ بھی ہانی کی متعلق ۔۔۔

” کک کیا! میں کچھ سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں ؟”

حنین ہکلایا لیکن جلد ہی خود کی حالت پر قابو پایا تاکہ چوری پکڑی نہ جائے ۔۔۔لیکن شاید نہیں جانتا تھا کہ نرمین اس ساری شطرنج کی وہ کھلاڑی بنی بیٹھی ہے جس نے سارا کھیل اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا ۔۔۔

اس بات سے انجان کہ ایک اور ذات بھی ہے جس کے ہاتھ میں ہر ایک کی زندگی کا کھیل ہے۔۔۔۔

” بنو مت حنی۔۔۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔ مانا میرا کوئ بھائی نہیں لیکن میں نے تمہیں ہمیشہ اپنا بھائی مانا ہے ۔۔۔”

بہت ہی چالاکی سے کہا گیا جو حنین کو اس کے لہجے میں چھپی نفرت نہیں دیکھا سکا۔۔۔۔

” بھابھی ایسی تو کوئی بات نہیں اور آپ کس بارے میں بات کر رہی ہیں ۔”

حنی پہلے خود ہی بات کر کے پھر ایک دم سے بات موڑ رہا تھا تاکہ نرمین سمجھ نا پائے۔۔

” میں نے دیکھا ہے تمہاری آنکھوں میں ہانی کے لیے محبت۔۔۔”

نرمین اسے اپنی باتوں میں الجھا رہی تھی ۔۔۔

” نہیں مجھے اس سے محبت نہیں ہے ۔۔۔۔ میں بس شاید اسے پسند کرتا ہوں ۔۔”

حنین نے واضح کرنا چاہا تھا ۔ وہ واقعی اس سے محبت نہیں کرتا تھا ۔۔ لیکن اسے ہانی اچھی ضرور لگنے لگی تھی ۔۔۔

” تو کوئی بات نہیں ابھی اچھی لگتی ہے شادی کے بعد محبت بھی ہو جائے گی۔۔۔”

نرمین تو جیسے ٹھان کے بیٹھی تھی کہ ہر حال میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر دم لے گی۔۔۔۔

” شاادی!”

حنین ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہا تھا ۔اس نے کبھی ایسا سوچا نہیں تھا۔ ۔۔

” ہاں کیوں ساری زندگی ایسے ہی چھپ چھپ کر دیکھنے کا ارادہ ہے ۔۔۔ یا اسے زندگی میں شامل بھی کرنا ہے ۔۔۔”

نرمین اس کے ذہن سے کھیل رہی تھی اور اپنی سوچ اس کے ذہن میں ڈال رہی تھی ۔۔۔

” نہیں ایسی بات نہیں ہے لیکن میں نے کبھی اس بارے میں سوچا نہیں ۔۔”

جنین اب تھوڑا بہت اس کی باتوں سے متاثر لگنے لگا تھا ۔۔۔

” پہلے نہیں سوچا تو اب سوچ لو۔۔ کوئی حرج تو نہیں اس میں ۔۔ اور اب میں بھی اپنے بھائی کا گھر بستے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔”

نرمین نے بہت آرام سے اسے اپنا نقطہ سمجھانا چاہا۔۔۔۔

” لیکن!”

اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گیا تھا ۔۔

” لیکن کیا!”

نرمین نے فوراً ٹوکا تھا ۔

” پتہ نہیں وہ مانے گی یا نہیں ۔”

حنی نے اہنا خدشہ بیان کیا تھا۔

” وہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔ اپنی بھائی کے لیے اتنا تو کر ہی سکتی ہوں۔۔”

نرمین نے ایک شاطر مسکراہٹ چہرے پر سجائی تھی ۔۔

” رئیلی بھابھی آپ بہت اچھی ہیں تھینک یو سو مچ۔۔۔”

حنی پر جوش ہوتے ہوئے بولا۔۔۔

” ہاں لیکن ایک مسئلہ ہے ۔”

نرمین نے اب اگلی چال چلی۔۔۔ جس سے حنی کے چہرے سے ایک دم خوشی غائب ہوئی تھی ۔۔۔

” اب کیا ہوا؟”

حنی نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔

” اپنی بھائی سے تم خود بات کرو گے اس بارے میں ۔”

نرمین نے اپنی سائیڈ کلئیر کرنی چاہی تاکہ بعد میں اس پر کوئی بات نہ آئے۔۔۔

” ڈونٹ وری بھابھی ! بھائی سے میں بات کر لوں گا۔۔ اور مجھے امید ہے وہ میری بات ضرور مانیں گے۔۔۔۔”

حنی نے پر امید لہجے میں کہتے ہوئے اس کی تسلی کروائی۔۔

” اچھا تم بیٹھو اب میں چلتی ہوں ۔ کال ہے تھوڑا۔”

یہ کہہ کر نرمین وہاں سے چلی گئی اور اب وہ وہاں رکتی بھی کیوں اپنا کام تو وہ کر چکی تھی ۔۔

اب بس نتیجے کا انتظار تھا۔

آج اتوار کا دن تھا ۔۔زین اور حنی دونوں گھر پر ہی تھے ۔۔

حنین صبح سے زین سے بات کرنا چاہ رہا تھا لیکن ہر بار جھجک جاتا۔۔۔ زین اس کی حرکتوں کو صبح سے ہی نوٹ کر رہا تھا ۔۔۔

زین اچھی طرح جانتا تھا کہ جب بھی اسے کوئی بات منوانی ہوتی تو وہ یونہی بے چین ہوتا رہتا ۔۔۔۔

نرمین شاپنگ کے لیے گئی ہوئی تھی ۔۔ ہانی بھی اپنے کمرے میں ہی تھی۔۔

” کیا بات ہی حنی کچھ کہنا ہے تمہیں کیا؟”

زین کب سے اس کی الٹی سیدھی حرکتیں دیکھ دیکھ کر تنگ آ گیا تھا اس کیے پوچھ بیٹھا۔۔۔ لیکن اس کا یہ پوچھنا اسی پر بھاری پڑنے والا تھا ۔

“آ ہاں! نہیں کچھ نہیں ۔”

حنی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ بات کیسے کرے۔۔۔

“ادھر آؤ اور مجھے بتاؤ کہ کیا بات میرے بھائی کو پریشان کر رہی ہے ۔۔۔”

زین نے اسے اپنے پاس بلایا تھا ۔۔

” بھائی وہ مجھے کہنا تھا ۔۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیسے کہوں۔”

حنین اس کے پاس اس کے قدموں میں بیٹھا بات کرنے کی جوشش کر رہا تھا ۔۔۔

” حنی یار اب کہہ بھی چکو۔۔ کیوں خواہ مخواہ ڈرامہ کریٹ کر رہے ہو ۔”

اب کی بار زین نے کچھ جھنجلا کر کہا تھا ۔۔۔

” وہ بھائی میں نے لڑکی پسند کر لی ہے ۔”

بہت مشکل کے بعد حنی صرف اتنا ہی کہہ سکا۔۔۔

” کیااا! کب ہوا یہ کون ہے وہ مجھے بھی بتاؤ ۔آخر کس کی قسمت پھوڑنے والے ہو۔”

زین نے خوش ہوتے ہوئے اسے چھیڑا تھا ۔۔

” فار گاڈ سیک بھائی ۔۔۔اب ایسی بھی بات نہیں ۔۔ ہاں مجھ سے شادی کر کے اس کی قسمت ضرور سنور جائے گی۔”

حنی کو زین کا مزاق بنانا اچھا نہیں لگا تھا ۔ لیکن اگلے ہی لمحے اپنا دفاع کرتے ہوئے اس نے فرضی کالر جھاڑتے ہوئے کہا ۔۔۔

” اچھا چلو اب بتاؤ شاباش کون ہے کہاں رہتی ہے نام کیا یے اس کا؟”

زین نے ایک ساتھ ہی کئی سوال کر ڈالے تھے ۔۔۔

” حوصلہ بھائی حوصلہ بتا رہا ہوں ۔۔۔”

حنی نے اس کے اتنے سارے سوالوں سے گھبرا کر کہا ۔۔۔ مبادہ اگر اس نے زین کو چپ نہ کروایا تو اور نہ جانے کتنے سوال پوچھ بیٹھے ۔۔۔۔

جبکہ اس بار زین خاموش ہی رہا تاکہ وہ اپنی بات پوری کر سکے۔۔۔۔

” ہانی! ہے وہ”

حنین نے ایک گہرا سانس بھر کے آخر کار نام بتا دیا۔۔۔۔ جبکہ اس کا نام سنتے ہی زین کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔ غصے سے اس کی رگیں تن گئیں تھیں ۔۔۔

وہ یکدم غصے سےکھڑا ہو تھا۔ اسے کھڑا ہوتے دیکھ حنی بھی فوراً کھڑا ہوا تھا ۔۔۔

” بھائی میں اسے پسند کرتا ہوں اور شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔”

حنی نے اس کے تاثرات کو نہ سمجھتے ہوئے مزید کہا تھا ۔۔۔

سامنے کھڑے حنین کی بات سن کے اس کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا ۔

” حنی!”

وہ غصے سے دھاڑا تھا۔ اور اپنا اٹھتا ہاتھ روکا تھا ۔

” میں آج پہلی اور آخری بار تمہارے منہ سے یہ بات سُن رہا ہوں ۔ آئندہ تمہارے منہ سے یہ بات نہ سنوں۔”

وہ غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا تھا ۔

حنین صدمے سے اپنے بڑے بھائی کو دیکھ رہا تھا ۔ جس بھائی نے آج تک اس سے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی آج وہ اس پر ہاتھ اٹھانے والا تھا ۔

” لیکن بھائی ۔۔”

حنین نے کچھ کہنا چاہا تھا ۔جب زین نے ہاتھ کے اشارے سے اسے کچھ بھی کہنے سے روکا تھا ۔

” تمہارے لئے اتنا جاننا ہی ضروری ہے کہ وہ میرے نکاح میں ہے۔”

وہ غصے میں کہتا اب اس کو ڈھونڈنے جا رہا تھا جو اس کے غصے کی اصل وجہ تھی ۔۔۔۔

جبکہ اپنے پیچھے کھڑے حنین کے سر پر گویا کوئی دھماکہ کر گیا ہو ۔

زین غصے میں سیڑھیاں چڑھتا اوپر کمرے میں آیا تھا ۔

” ہانی!”

اس نے چیختے ہوئے اسے پکارا۔ لیکن کوئی جواب نہ پا کر اس کا غصہ مزید بڑھا تھا ۔

وہ مڑنے ہی والا تھا جب اس کی نظر ٹیرس کے کھلے دروازے پر پڑی۔

” تمہیں میری آواز نہیں آتی کیا؟”

وہ غصے میں اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور گھور کے اسے دیکھا۔

وہ پر سکون سی واپس پلٹی۔ ان سب چیزوں کی اسے عادت ہو چکی تھی ۔

لیکن آج اس کی آنکھوں میں دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوئی تھی ۔ آج اس کی آنکھوں میں کچھ الگ ہی تھا جو وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔

” اندر چلو ۔”

وہ اسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے بیڈروم میں لایا۔ اندر آتے ہی اس نے جھٹکے سے ہانی کو دھکا دیا تھا ۔

ہانی اپنا توازن برقرار نہ رکھ پائی اور سامنے پڑے ٹیبل کے کونے سے اس کا سر ٹکرایا تھا ۔ خون کے چند قطرے اس کے ماتھے سے پھسل کر گال تک آ گئے تھے ۔۔۔۔

زین پھر سے اس کی جانب بڑھا اور بالوں سے پکڑ کر اسے فرش سے اٹھایا۔ وہ اس کی سخت پکڑ میں بلبلا کر رہ گئی ۔

” بہت شوق ہے نہ تمہیں مردوں کو اپنی جانب راغب کرنے کا۔ تو آج دیکھو میں تمہارا یہ شوق بھی پورا کرتا ہوں ۔”

وہ جنونی انداز میں چلایا تھا ۔

جبکہ اس کی بات سن کر ہانی کی آنکھیں خوف سے پھیلی تھیں ۔

زین نے اس کا دوپٹہ کھینچ کر دور پھینکا اور اسے زور سے بیڈ پر دھکا دیا ۔

” نن نہیں ! پلیز رک جاؤ ۔ خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو ۔ پلیز ۔۔۔۔۔”

وہ اس کی منتیں کر رہی تھی ۔

لیکن زین تو جیسے اس کی سن ہی نہیں رہا تھا ۔آنکھوں میں بے حد نفرت لیے وہ اس کی جانب بڑھا چلا جا رہا تھا ۔

وہ روئی گڑگڑائی مگر مقابل پر اس کی چیخ و پکار کا کچھ اثر نہ ہوا تھا ۔ اور وہ بس اس کی ذات کو روند گیا تھا ۔

ہوش میں آیا تو تنفر سے اسے دور ہوا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔۔۔۔

ہانی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ اس طرح اس کی ذات کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دے گا۔۔۔۔

اسے اس وقت زین سے شدید نفرت محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ خود کو بامشکل گھسیٹتے ہوئے بیڈ سے اتری اور واش روم میں جا کر دروازہ بند کر کے اپنے ساتھ ہوئے ظلم پر آنسو بہانے لگی۔۔۔۔۔

زین تیزی سے باہر نکلا تھا ۔ گاڑی سٹارٹ کر کے اپنے اندر کا انتشار کم کرنے کے لیے باہر نکل گیا۔۔۔۔

رات گیارہ بجے تک وہ ایک کیفے میں بیٹھا بس کسی طرح اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔۔۔

جب کیفے کے مالک نے اسے کیفے بند کرنے کا کہا تو وہ وہاں سے گھر جانے کے لیے اٹھا تھا۔ ۔۔۔ اور اب اسے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا ۔۔۔وہ غصے میں کچھ زیادہ ہی کر گیا تھا ۔۔۔۔

اس کا ارادہ اب گھر جا کر ہانی سے معافی مانگنے کا تھا۔ ۔۔