229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 18

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

زین سکینہ بیگم کے کمرے سے نکل کر غصے میں اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب اس کا موبائل فون بجا۔۔

اس نے فون پاکٹ سے نکال کر دیکھا تو شجاع اس کو کال کر رہا تھا ۔ شجاع کی کال دیکھ کر زین کو ایک دم سے یاد آیا کہ اتنا سب کچھ ہو گیا اور اتنی جلدی میں ہوا کہ زین اس اب تک کچھ بتا بھی نہیں پایا تھا ۔۔۔۔

اب اسے افسوس ہو رہا تھا کیونکہ جانتا تھا وہ بی جان کی خبر سن کر اس سے کتنا ناراض ہے گا۔ کیونکہ بی جان اسے بلکل زین اور جنین کی طرح ہی محبت کرتی تھیں ۔

انہوں نے کبھی بھی زین اور شجاع میں فرق نہیں کیا تھا ۔۔۔

” ہاں شجاع بولو ! کیا کہا ڈاکٹر نے ؟ چچا سائیں کو ہوش آیا ہے کہ نہیں ؟”

فون اٹھاتے ہی ایک بار میں اس نے کئی سوال پوچھ ڈالے۔۔

” وہی بتانے کے لیے فون کیا ہے ۔”

شجاع نے اس کے سوالوں کے جواب ميں دھیرے سے جواب دیا۔ جبکہ اس کے لہجے سے فکرمندی صاف جھلک رہی تھی ۔ جسے زین بخوبی محسوس کر پا رہا تھا ۔۔۔۔۔

” یار پلیز اب تو کوئی بری خبر مت سنانا ۔ اب اور ہمت نہیں ہے پہلے ہی اتنا سب کچھ ہو گیا ہے ۔”

زین نے پریشان ہوتے ہوئے شجاع سے کہا اب اس کا ارادہ شجاع کو آج جو سب کچھ ہو گیا تھا وہ بتانے کا تھا ۔جبکہ اس کی بات سن کر اب کی بار شجاع پریشان ہوا تھا ۔

” کیا ہوا ہے زین ؟ کیا گھر میں سب کو پتہ تو نہیں چل گیا انکل کے بارے میں ؟”

شجاع نے اندازاہ لگاتے ہوئے پوچھا تھا ۔

” یار وو وہ بی جان……”

زین کو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے کیسے بتائے ۔

” کیا ہوا بی جان کو؟”

شجاع جلدی سے زین کی بات کاٹ کر بولا تھا ۔

” یار بی جان اب نہیں رہیں ۔”

زین نے جلدی سے کہا جبکہ شجاع حیرتوں میں گھرا بس اتنا ہی کہہ پایا ۔

” کیییا!”

ہاں جب میں حویلی واپس آیا تو سب ختم ہو چکا تھا ۔ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ میں کسی کو کچھ بتا ہی نہ سکا ۔”

زین نے اسے تفصیل سے جواب دیا تھا ۔

” اس لڑکی کا کیا بنا ؟ اور حنی کو بتایا ہے کیا اس سب کے بارے میں ؟”

شجاع نے دوبارا پوچھا ۔۔۔

” ہاں حنی کو بتا دیا تھا وہ کل صبح واپس آ رہا ہے ۔۔”

زین نے اس کی آدھی بات کا جواب دیا جبکہ ہانی کے بارے میں وہ ٹال گیا۔۔

” تُو بتا کیوں فون کیا تھا ۔ سب خیریت تو ہے نا؟”

زین نے جلدی سے اس کا دھیان ہانی کی طرف سے ہٹایا اور اس کے کال کرنے کی وجہ پوچھی ۔

کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ابھی اگر اس کا دھیان نہ ہٹایا تو وہ ضرور دوبارہ ہانی کے بارے میں پوچھے گا۔ جبکہ اس کے یاد دلانے پر شجاع کو یاد آیا کہ اس نے کال کیا بتانے کے لیے کی تھی ۔

” ہاں ایک بری خبر ہے ۔”

شجاع نے دھیرے سے کہا جبکہ زین ایک سرد آہ بھر کے رہ گیا ۔ ایک اور خبر اس کا انتظار کر رہی تھی ۔۔ اس دوران وہ جو غصے میں اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا شجاع سے بات کرتے ہوئے اس بات کو بھول ہی چکا تھا ۔۔۔

” ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ انکل کوما میں چلے گئے ہیں ۔ ان کے سر میں چوٹ کافی گہری ہے جس وجہ سے ان کے دماغ کا پچھلہ حصہ ڈیمج ہو گیا ہے ۔ وہ کب ہوش میں آئیں گے کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن جب تک وہ ہوش میں نہیں آئیں گے انہیں ہاسپیٹل میں ہی انڈر آبزرویشن رکھا جائے گا ۔”

شجاع نے اسے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ جبکہ اس کی بات سن کر زین کا غصہ پھر سے عود کر آیا تھا۔ اسے ہر بات کی ذمہ دار صرف اور صرف ہانی ہی لگی تھی ۔ وہ غصے میں فون بند کرتا پھر سے اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا ۔

نین آئی سی یو میں تھا۔ اس کے بازو میں فریکچر آیا تھا ۔ سر پر بھی کافی چوٹیں آئیں تھیں ۔ اس کیو سانس لینے میں کافی مشکل ہو رہی تھی جس وجہ سے اسے آئی سی یو میں رکھا گیا تھا ۔

زینب بیگم کا رو رو کر برا حال تھا تو وہیں رانیہ اور سمیرا ایک سائیڈ پر چیرز پر بیٹھی ایک دوسرے کو گلے سے لگائے حوصلہ دے رہیں تھیں ۔ اظہار صاحب بھی بے چینی سے آئی سی یو کے باہر چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔

دو گھنٹے ہونے کو آئے تھے لیکن ابھی تک ڈاکٹرز کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں آیا تھا ۔

“زینب بیگم ! یوں رونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے آپ دعا کریں ہمارا بیٹا جلد از جلد ٹھیک ہو جائے۔”

اظہار صاحب کب دے ان کو روتا دیکھ اب ان کو تسلیاں دینے لگے تھے ۔

” اظہار صاحب اگر میرے بیٹے کو کچھ ہو گیا تو میں بھی زندہ نہیں رہ پاؤں گی۔”

زینب بیگم نے روتے ہوئے ان کے کاندھے پر سر رکھ کر کہا ۔

” اللّٰه نہ کرے۔ کیسی باتیں کر رہی ہیں ۔ کچھ نہیں ہو گا اسے ۔ آپ دیکھیے گا وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گا۔”

ان کی بات سن کر اظہار صاحب نے فوراً تڑپ کر کہا تھا ۔

کچھ دیر خاموشی کی نظر ہو گئی۔ جب ڈاکٹر باہر نکلا۔ انہیں دیکھ کر فوراً اظہار صاحب اُٹھ کر ان کے فریب گئے ۔ زینب بیگم بھی ان کو اٹھتا دیکھ کر ان کے پیچھے ہو لیں۔ جبکہ سمیرا اور رانیہ اپنی جگہ کھڑی ہو گئیں۔

” ڈاکٹر کیا ہوا ۔ کیسا ہے اب میرا بیٹا۔۔”

اظہار صاحب نے ڈاکٹر کو دیکھتے ہی بے چینی سے پوچھا تھا ۔

” پیشنٹ کی کنڈیشن اب بہتر ہے ۔ تھوڑی دیر میں ہم انہیں روم ميں شفٹ کر دیں گے تو آپ ان سے مل سکتے ہیں ۔”

ڈاکٹر نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا تھا ۔

” ہم گھر کب تک جا سکتے ہیں ؟”

اب کی بار زینب بیگم نے پوچھا تھا ۔

” ایک دو دن تک پیشنٹ کو انڈر آبزرویشن رکھا جائے گا اس کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیں گے پھر آپ انہیں گھر لے کر جا سکتے ہیں ۔”

ڈاکٹر نے ان سب کو مشترکہ طور پر جواب دیا تھا ۔۔۔

جبکہ ڈاکٹر کی بات سن کر زینب بیگم کو کچھ حوصلہ ہوا تو انہوں نے ایک فیصلہ کیااور اب وہ ان سب کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرنا چاہتی تھیں ۔ صرف نین کے روم میں شفٹ ہونے کا انتظار تھا ۔

کچھ دیر بعد جب نین کو روم میں لایا گیا تو وہ سب اس سے ملنے کے لئے اندر چلے گئے ۔

تھوڑی دیر بعد زینب بیگم نے ان سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

” مجھے آپ سب ضروری بات کرنی ہے ۔”

ان کا چہرہ سنجیدہ تھا ۔ اتنا کہہ کر وہ سب کے چہروں کا جائزہ لے رہی تھیں ۔ان کی بات سن کر سب متوجہ ہوئے تھے اور ان کے تاثرات دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ وہ جو بھی کہنے والی ہیں یقیناً سب کے لیے بڑی خبر ہو گیا

” نین جب ڈسچارج ہو جائے گا تو ہم وہ گھر چھوڑ دیں گے اور کہیں اور شفٹ ہو جائیں گے ۔ میں اب مزید وہاں نہیں رہ سکتی۔”

انہوں نے سرد لہجے میں بات مکمل کی ۔ جبکہ ان کی بات سن کر اظہار صاحب کتنی دیر تک تو شاک کی کیفیت میں رہے۔ لیکن جب ہوش آیا تو بولے ۔

” یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ۔ہم کیسے وہ گھر چھوڑ سکتے ہیں ۔ اس گھر میں میری ساری زندگی گزری ہے ۔ اس گھر کو چھوڑنا میرے لیے ممکن نہیں اور دوسری بات ہمارے پاس کوئی دوسرا ٹھکانا بھی نہیں ہے ۔”

اظہار صاحب فکرمندی سے بولے ۔

” میں کچھ نہیں جانتی میرے لیے میرے بچوں کی زندگی اس گھر سے زیادہ اہم ہے ۔ آج انہوں نے نین کو اس حال تک پہنچا دیا ۔ خدا ناخوستہ کل کو کچھ اور کر دیا تو ۔ میں مزید اس ڈر کے ساتھ یہاں نہیں رہ سکتی۔”

زینب بیگم کا لہجہ سرد تھا اور فیصلہ اٹل۔ کچھ دیر کے لیے اظہار صاحب بھی خاموش ہو گئے اود سوچنے لگے۔۔۔۔

ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھیں وہ ۔ ان لوگوں کی وجہ سے وہ زینی کو خود سے دور کر چکے تھے ۔ نین اس حالت تک پہنچ گیا تھا اور اب وہ لوگ رانیہ کے پیچھے پڑے تھے ۔ وہ جگہ اب واقعی ان کے کیے محفوظ نہیں رہی تھی ۔

” ٹھیک ہے نین ایک بار گھر چلا جائے پھر ہم اپنا بندوبست کہیں اور کر لیں گے ۔”

اظہار صاحب نے بھی کافی سوچنے کے بعد ہامی بھر لی۔نیننے خاموشی سے ان کا فیصلہ قبول کر لیا کیونکہ وہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ رانیہ کو کسی قسم کا نقصان ہو۔ان لوگوں سے الجھنے کا نتیجہ وہ دیکھ چکا تھا ۔ اس لیے وہ جگہ چھوڑنا ہی مناسب لگ رہا تھا ۔

شاہ نے گاڑی اپنے بنگلے کے سامنے روکی۔ حمنہ نے حیرت سے سامنے موجود بنگلے کو دیکھا ۔ یہ وہ جگہ نہیں تھی جہاں وہ پہلی بار آئی تھی ۔

” یہ تو آپ کا گھر نہیں ہے۔”

حمنہ نے شاہ کی طرف مڑ کر کہا۔

” اب سے یہی ہمارا گھر ہے ۔ میں تمہیں اس جگہ واپس نہیں لے کر جانا چاہتا ۔ کیونکہ وہاں ماضی کی بہت سی تلخ یادیں وابستہ ہیں ۔”

اس نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کرب سے کہا تھا ۔ جبکہ حمنہ نے ایک نظر اس کو دیکھ کر منک دوسری طرف موڑ لیا ۔ وہ اس وقت ماضی کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔

شاہ نے گاڑی پورچ میں پارک کی اور اپنی سائیڈ کا دروازہ کھول کر نیچے اترا۔ دوسری طرف سے جا کر اس نے حمنہ کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر اسے نیچے اترنے کو کہا۔

” چلو اندر چل کر تھوڑا آرام کر لو۔ سفر کی وجہ سے تھک گئی ہو گی ۔

شاہ نے فکرمندی سے کہا ۔ جبکہ حمنہ اس کی طرف دیکھے بغیر نیچے اتری اور قدم اندر کی جانب بڑھا دیے ۔

اس کےاندر کی طرف بڑھتے قدم ہادی کی آواز پر رکے۔

” دس از نات ( ناٹ) فیئر بابا ماما کو تو آپ نے خود دروازہ کھول کر دیا ۔ مجھے کون کھول کر دے دا( گا).”

ہادی نے ناراضگی دکھاتے ہوئے منک دوسری طرف موڑ لیا ۔جبکہ اس کی اس حرکت پر حمنہ اور شاہ دونوں ہی اپنا قہقہ نہ روک سکے ۔ کیونکہ اس کا. انداز ہی ایسا تھا ۔ اور لگ بھی بہت کیوٹ کو تھا ۔

” یار تمہیں تو میں خود اٹھا کر اندر لے کر جاؤں گا ۔ تم تو جان ہو نا بابا کی۔”

شاہ نے اسے ہیار سے گود میں اٹھاتے ہوئے کہا ۔ جب ہادی مزید بولا ۔

” لیکن بابا ماما کو کو آپ ایسے اندر نہیں لے کر دئے(گئے).”

اس کی بات پر جہاں حمنہ کا چہرہ سرخ ہوا تھا ۔وہیں شاہ کو بھی شرارت سوجھی تھی ۔ اس کو تو بس موقع چاہئے تھا حمنہ کو تنگ کرنے کا ۔

” میں تو تمہاری ماما کو بھی ایسے ہی لے جاؤں اندر لیکن دیکھ لو کہیں وہ غصہ نہ ہو جائیں ۔ تم پہلے اپنی ماما سے پوچھو انہیں تو کوئی اعتراض نہیں ۔”

شاہ نے پہلے ہادی کی طرف دیکھتے ہوئے اور پھر حمنہ کو دیکھ کر آنکھ دبائی۔ جبکہ اس کی بات سن کر حمنہ سر تا پاؤں سلگ کر رہ گئی۔

” ماما بانا آپ کو بھی ایسے اندر لے دائیں( جائیں) ۔”

ہادی نے معصومیت سے پوچھا ۔ جبکہ حمنہ پاؤں پٹختی اندر چلی گئی اور اپنے پیچھے آتے شاہ کے قہقے کو سن کر مزید تپی تھی ۔

شجاع کا فون بند ہوتے ہی زین غصے سے اپنے کمرے میں گیا اور اپنے پیچھے دروازہ کو بہت زور سے ٹھاہ کی آواز کے ساتھ بند کیا

ہانی جو ابھی ابھی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی ۔ اتنے زور سے دروازہ بند ہونے پر گھبرا کر دروازے کی پلٹی۔

جہاں زین سرخ انگارہ ہوتی آنکھیں لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔ زین کر آنکھوں میں اس قدر غصہ دیکھ کے ہانی اپنی جگہ سہمی تھی ۔

” تم تم ہو ذمیدار ہر چیز کی ۔ میری بی جان کی موت کی ذمیدار بھی تم ہو ۔ تم نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا ۔”

زین غصے سے آگے بڑھتا اس کو گردن سے دبوچ چکا تھا ۔ ہانی اس کی سخت پکڑ میں مچل رہی تھی ۔۔۔

اس کا دباؤ ہانی کے گلے پر تھا ۔ ہانی کی آنکھیں خوف اور اس کی مضبوط پکڑ کی وجہ سے باہر آنے کو تھیں ۔۔۔

اسے زین سے شدید خوف محسوس ہو رہا تھا۔ وہ نازک سی لڑکی ایسے رویوں کی عادی نہ تھی ۔ اس کی آنکھوں سے انسو تواتر سے بہنے لگے۔

زین کی گرفت اس کی گردن پر ڈھیلی ہوئی تھی ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ خود اس کیفیت سے نکال چکا تھا ۔

زین کے کمرے سے شور کی آوازیں سن کر نرمین اس جانب بڑھی لیکن سکینہ بیگم نے اسے روک دیا ان کا تیر نشانے پر لگا تھا ۔ اس لیے وہ نہیں چاہتی تھی کہ ان میں سے کوئ بھی وہاں جائے اور بنا بنایا کھیل بگڑے۔

ہانی حیرت اور دکھ سے اس شخص کو دیکھے گئ وہ مانتی تھی کہ ان کی شادی ایسے حالات میں نہیں ہوئی تھی کہ وہ کوئی خوش گمانیوں میں رہتی۔ لیکن ہر لڑکی کی طرح اس کے ب بھی کچھ احساسات تھے ۔۔۔

اس نے سوچا تھا کہ زین اسے حوصلہ دے گا۔ اس کا غم بانٹے گا۔ لیکن یہاں تو وہ شخص اسے مزید زخم دے رہا تھا ۔اس کے احساسات کو بےدردی سے کچل رہا تھا ۔