229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 16

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

زین ضبط سے کھڑا سرخ آنکھوں سے سامنے پڑے اس وجود کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے یقین کرنا چاہتا ہو کہ یہ سب صرف ایک بُرا خواب ہے ۔

” زین کچھ تو بولو بیٹا ! ایسے چپ مت رہو ۔”

زین ابھی بھی اسی پوزیشن میں کھڑا تھا جب سکینہ بیگم آہستہ سے چلتے ہوئے اس کے قریب آئیں اور اسے تسلی دیتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔

جب کہ چہرے پر چاہ کر بھی دکھ کے کوئی آثار نہ تھے ۔ جو زین نہ دیکھ سکا کیونکہ اس وقت اس کی حاکت ایسی نہیں تھی کہ وہ ان سب باتوں پر غور کرتا۔

نرمین ابھی تک زین کے گلے لگی کھڑی تھی ۔۔

” بس کر دو نرمین ! پلیز ان کی اتنی ہی زندگی تھی ۔ انہیں ہمیں چھوڑ کر جانا تھا ۔ سو وہ چلی گئیں ۔”

زین نے آہستہ سے اسے خود سے جدا کرتے ہوئے اس کے سر کو سہلاتے ہوۓ اسے حوصلہ دیا۔ حالانکہ یہ بات بولتے ہوئے اس نے خود کو کتنے جبر سے روکا ہوا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا ۔۔

نرمین نے آنسو صاف کرتے ہوئے سر کو ہاں میں ہلایا اور اسے تسلی دی کہ وہ اب بہتر ہے ۔

جبکہ ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہانی کو یہ منظر خاصا ناگوار گزرا تھا ۔ حالات ایسے نہ تھے کہ وہ ایسا سب سوچتی لیکن نہ جانے کیوں اسے اس لڑکی سے جلن سی محسوس ہوئی۔

نین حیرت سے کھڑا اظہار صاحب کی بات سن رہا تھا ۔ لیکن جیسے جیسے وہ سنتا جا رہا ہے ۔ اس کی رگیں تن گئ تھیں ۔ آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا ۔

” بابا ایک بار صرف ایک بار آپ نے مجھ سے تو بات کی ہوتی ۔ میرا انتظار کیا ہوتا۔”

نین ضبط کی انتہا پر لا چارگی سے بولا تھا ۔۔۔

اپنی جان سے پیاری بہن کو یوں کسی کے بھی حوالے کر دینا بنا اس شخص کے بارے میں جانے اسے شدید تکلیف دے رہا تھا ۔

” میں نے تم سے رابطے کی بہت کوشش کی تھی لیکن شاید قسمت بھی یہی سب چاہتی تھی ۔”

اظہار صاحب نم آنکھوں کے ساتھ ہارے ہوئے لہجے میں گویا ہوۓ ۔

خود کو اس وقت بے بسی کی انتہا پر محسوس کر رہے تھے ۔ چاہ کر بھی اپنی بیٹی کو اپنے پاس نہ رکھ سکے تھے ۔

اس سب کے دوران کسی کا دھیان سمیرا کی طرف نہیں گیا تھا جو ایک کونے میں خاموشی سے سر جھکائے مجرموں کی طرح بیٹھی تھی ۔

اچانک زینب بیگم کی نظر کب سے خاموش بیٹھی سمیرا پر گئی ۔ تو انہیں یاد آیا کہ ابھی تک انہوں نے اس کے متعلق تو پوچھا ہی نہیں ۔

” نین یہ لڑکی کون سے ؟”

زینب بیگم نے نین کو مخاطب کیا۔ جبکہ نین کو کافی شرمندگی ہوئی کہ اپنی باتوں میں وہ اسے تو بلکل بھول ہی گیا تھا جبکہ سمیرا خوفزدہ ہوئی تھی کہ سچ جان کر وہ لوگ نہ جانے کیا سلوک کرتے اس کے ساتھ ۔

” امی! بابا! وہ یہ۔۔۔۔۔۔”

نین کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کہے ان سے اسی لیے تمہید باندھ رہا تھا ۔ لیکن جب اسے کچھ سمجھ نہ آئی تو جلدی سے بولا ۔

” یی یہ سمیرا ہے ہانی کی دوست۔”

جبکہ اس کی بات پر زینب بیگم اور اظہار صاحب نے حیرانی سے اسے دیکھا اور سمیرا نے نارضگی سے ۔

” کیا تعارف کروا رہا تھا وہ اس کا۔”

سمیرا بس خفگی سے سوچتی رہ گئی ۔ جبکہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر نین مزید بولا ۔

” یہ بیوی ہے میری نکاح کر لیا ہے میری نے اس سے۔”

اور سب کے چہروں کا جائزہ لینے لگا جیسے سب کا ردِعمل جاننے کی کوشش کر رہا ہو۔ جبکہ وہ سب حیرت میں ڈوبے اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے انہوں نے کچھ غلط سُنا ہو۔

ان سب کے چہروں کے تاثرات دیکھ کر نین نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور ایک ایک کر کے ساری بات ان سب کو بتا دی ۔جسے سن کر زینب بیگم کو سمیرا سے بہت ہمدردی محسوس ہوئی وہ انہیں بلکل اپنی ہانی جیسی لگی۔

” آج سے اس گھر کو اپنا گھر سمجھو۔ اور ہمیں اپنا ماں باپ۔ اگر کبھی بھی کوئی بھی پریشانی ہو تو بلا جھجک مجھ سے کہنا ۔ مجھے تم بلکل ہانی اور رانیہ کی طرح عزیز ہو۔”

بہت ہی محبت اور شفقت سے وہ اس کے قریب بیٹھ کر اس کے ہاتھ تھامے اسے سمجھا رہی تھیں ۔ جبکہ سمیرا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں ۔

” کتنی شفقت تھی ان کے انداز میں ۔ کتنی آسانی سے انہوں نے اس رشتے کو قبول کر لیا تھا ۔”

یہ سوچ آتے ہی سمیرا ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی آخر کب سے اپنے آنسوؤں پر ضبط کیے جو بیٹھی تھی ۔ محبت کا سائبان ملتے ہی اپنے اندر کا غبار نکالنے لگی ۔

جبکہ زینب بیگم پیار سے اس کی پشت سہلانے لگیں۔

” یہ چیٹنگ ہے بھابی کے آتے ہی آپ مجھے بھول گئیں ہیں ۔ سارا پیار انہی پر لوٹا دیں گی تو میرے لیے کیا بچے گا۔”

ماحول کو مزید افسردہ ہوتے دیکھ کر رانیہ نے فوراً کہا تھا تاکہ ماحول پر چھائی افسردگی کم ہو سکے ۔ اس کی بات سن کر سب ہولے سے مسکرا دیے ۔ جانتے تھے وہ یہ سب کیوں کہہ رہی تھی ۔

نین نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔ اس کے گھر والوں نے سمیرا کو اپنا لیا تھا ۔ اس کی آدھی پریشانی ختم ہوئی تھی ۔ اب بس اسے صرف ہانی کو ڈھونڈنا تھا ۔

تدفین کا وقت قریب تھا جب زین کو حنین کا خیال آیا ۔ اس نے سکینہ بیگم کو اشارے سے اپنی طرف بلایا ۔

” چچی جان آپ نے حنین کو بتایا ؟”

سکینہ بیگم کو قریب آتے دیکھ کر اس نے سوال کیا ۔ کیونکہ حنین بی جان سے بہت اٹیچ تھا ۔

” ہاں میں نے بتا دیا تھا ۔ وہ کل کی پہلی فلائٹ سے واپس آ رہا ہے ۔ آج اسے فلائٹ نہیں ملی۔”

سکینہ بیگم نے اسے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا۔ زین خاموشی سے بوجھل قدموں سے واپس پلٹا۔ اسے اس وقت سہارے کی ضرورت تھی جس سے مل کر وہ اپنا غم بانٹ سکتا ۔ لیکن فیلحال اس کے پاس ایسا کوئی سہارا موجود نہ تھا ۔

شام کو تدفین کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں موجود تھے ۔ ہاجرہ بی بی ( نوکرانی) سے کہہ کر زین نے ہانی کو اپنے کمرے میں بھجوا دیا تھا ۔۔۔۔۔

شام کو قبرستان سے واپس آ کر وہ سست قدموں سے چلتا ہوا کمرے میں آیا۔ ہانی کھڑکی کے پاس کھڑی شام کو ڈھلتا دیکھ رہی تھی ۔ ۔

زین سرخ آنکھوں کے ساتھ بیڈ کے ساتھ نیچے کارپٹ پر ہی بیٹھ گیا تھا ۔ وہ رونا چاہتا تھا ۔ چیخنا چلانا چاہتا تھا ۔ اپنا درد بانٹنا چاہتا تھا ۔ لیکن اس کے پاس کوئی نہ تھا جس کو وہ اپنا حال بتاتا۔۔۔۔

جس کو وہ بتاتا کہ اس پر کیا بیت رہی ہے ۔۔۔ وہ بس خاموشی سے فرش کو گھورے جا رہا تھا ۔ ہانی پلٹی تو اسے نیچے بیٹھا دیکھ کر ٹھٹکی ۔

” وہ کب آیا تھا اسے کچھ خبر ہی نہ ہوئی تھی ۔ ہاجرہ کی زبانی وہ زین کے متعلق سب کچھ جان چکی تھی ۔ اسے دلی ہمدردی ہوئی زین سے۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اس کے قریب آ کر رک گئی ۔”

اس کے پاس ہی فرش پر بیٹھی وہ غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی جیسے اس کی اندر کی کیفیت کا اندازہ لگا رہی ہو ۔

سرخ آنکھیں ، بکھرے بال ،چہرے پر موجود تکلیف اور غم کے آثار اس کی حالت کا پتہ دے رہے تھے ۔۔۔

وہ الفاظ ڈھونڈنے لگی جن سے وہ اسے تسلی دے سکتی ۔ کچھ دیر یونہی مزید خاموشی کی نظر ہو گئی ۔ اس نے آہستہ سے زین کے ہاتھ پر اپنا نازک ہاتھ رکھا۔۔۔۔

زین نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔ اس کی آنکھوں میں موجود تکلیف کو دیکھ کر اسے واقعی دکھ ہوا تھا ۔

” دیکھیں ہر شخص کا ایک وقت ہوتا ہے اس دنیا سے جانے کا۔ ہم کسی جانے والے کو روک نہیں سکتے۔ جو اس دنیا میں آیا ہے اسے واپس بھی جانا ہوتا ہے ۔ یہی قدرت کا نظام ہے۔ میں آپ کے نقصان کا اندازہ نہیں لگا سکتی لیکن اتنا ضرور کہوں گی کہ اگر آپ ہمت ہار گئے تو آپ کے گھر والوں کو کون سنبھالے گا۔”

بہت نرمی سے وہ اسے سمجھا رہی تھی ۔وہ جو کب سے ضبط کیے بیٹھا تھا ۔ ہمدردی کے دو بول سن کے اس کا ضبط ٹوٹا تھا ۔ کب سے اسے ایک سہارا چاہئے تھا جس کے آگے وہ اپنا دکھ بیان کر سکتا اب اسے ایسا لگا تھا کہ وہ سہارا اس کے سامنے ہے۔۔۔۔

بے اختیار وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ ہانی کو زین سے اس حرکت کی امید نہیں تھی ۔ تبھی شاک کی کیفیت میں آنکھیں پھاڑے اپنے گلے لگے روتے ہوئے زین کو دیکھے گئی ۔۔۔۔

جبکہ زین تو اس وقت اپنے ہوش میں ہی نہیں تھا اسے تو بس اپنا دل ہلکا کرنے کو سہارا مل گیا تھا سو وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے لگا۔۔۔۔

” نہیں نہیں ہوتا مجھ سے صبر میں کیا کروں ۔ ان کے علاوہ میرا تھا ہی کون ؟ کیوں وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئیں ۔ ایک بار بھی انہیں میرا خیال نہیں آیا میں کیا کروں گا ان کے بغیر۔ وہ بھی سب کی طرح خود غرض نکلیں ۔ ماما بابا کی طرح وہ بھی مجھے تنہا چھوڑ گئی ہیں ۔ اب میں کس کے پاس جا کر اپنی پریشانی بتاؤں گا ۔ کون میرا انتظار کرے گا ؟”

زین دیوانہ وار اس کے ہاتھ تھامے روتے ہوئے بول رہا تھا ۔ اور وہ بس اس کی غیر ہوتی حالت کو دیکھ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔

اس سے اس شخص کی تکلیف برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔ جو کچھ دیر پہلے ہی اس کی زندگی میں شامل ہوا تھا ۔ شاید نکاح کے پاک رشتے کا اثر تھا جو وہ اس کی تکلیف خود بھی محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

جانے ایسے ہی بیٹھے کتنا وقت گزر گیا ۔زین کے رونے کی شدت میں بھی کمی آ گئی تھی ۔ اب وہ آہستہ آہستہ ہچکیاں لے رہا تھا ۔ اس نے ہانی کے ہاتھ اب بھی تھام رکھے تھے۔ جب دروازے پر دستک ہوئی تو وہ ہوش میں آیا اور جلدی سے اس کے ہاتھ چھوڑ کر دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔۔

ہاجرہ بی بی سکینہ بیگم کا پیغام لے کر آئیں تھیں ۔ جسے سنتے ہی وہ ان کے پیچھے سکینہ بیگم کے کمرے کی طرف چل پڑا جبکہ ہانی بس وہیں بیٹھی رہ گئی۔