229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 4

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

حمنہ شام کو گھر واپس آئ تو ہادی لان میں بیٹھا کھیل رہا تھا ۔ اُسے دیکھتے ہی ہادی فوراً اُس کی جانب لپکا اور اس کے ساتھ لِپٹ گیا۔

” ماما آپ آ گئیں. میں کب شے آپ کا ویت کر رہا تھا ۔( میں کب سے آپ کا ویٹ کر رہا تھا ۔) ۔” ہادی جو کافی دیر سے اکیلا بور ہو رہا تھا ۔ ماں کو دیکھتے ہی بولا۔ حمنہ نے ہادی کو گود میں اُٹھایا اور پیار سے اس کے گال سہلانے لگی جو اُس کی کُل کائنات تھا ۔

” لو اب آ گئ ہوں نا ماما کی جان ۔ یہ بتاؤ آج سارا دن کیا کیا؟ خالہ کو تنگ تو نہیں کیا نا؟ ” اس نے ہادی سے پیار سے پوچھا ۔

” نہیں ماما میں نے انہیں تند ( تنگ) نہیں کیا ۔ وہ خود مجھے تند ( تنگ) کرتی ہیں ۔” ہادی اپنی توتلی زبان میں معصومیت سے بولا ۔ اور وہ اس کی بات سُن کے مُسکرا دی ۔ کیونکہ وہ اس کی ماں تھی جانتی تھی کہ وہ کتنا شرارتی ہے ۔

” آج میرا بیٹا کیا کھاۓ گا ؟ کیا بناؤں اپنے شہزاے کے لیے ؟ ” حمنہ پیار سے ہادی کا گال چُومتے ہوۓ بولی۔

” میں آئستریم کھاؤں گا ۔” ہادی نے فوراً اپنی پسند بتاتے ہوئے کہا ۔ حمنہ کے چہرے پر ایک سایہ آ کر گزر گیا ۔ وہ ماضی کی کچھ تلخ یادوں میں کھو گئ۔ جہاں دماغ کے پردے میں ایک چہرہ اُبھرا اور ساتھ ہی ایک آواز بھی ۔

” ہاں چلو آئسکریم کھانے چلتے ہیں ۔ میری فیورٹ آئسکریم پارلر پر ۔” وہ شخص اُسے یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کسی سے کہہ رہا تھا ۔ وہ یاد کر کے تکخی سے مُسکرا دی۔

” ماما ! کدھر دائب ( غائب ) ہیں آپ؟ میں کب سے آپ کو بُلا رہا ہوں” ہادی نے اسے بازو سے ہلاتے ہوئے کہا جس سے وہ خیالوں کی دنیا سے باہر نکلی اور ہادی کو دیکھ کر بس خاموشی سے مُسکرا دی ۔

زین کے باہر جاتے ہی سجاول سائیں بی جان کے کمرے میں گئے اور ان کے ہاس بیٹھتے ہوئے بولے۔

” بی جان مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔”

” ارے تم کب سے بات کرنے کے لیے پوچھنے لگے؟ ” بی جان حیران ہوتی ہوئ بولیں ۔ کیونکہ آج سے پہلے وہ بی جان کے پاس زیادہ تو آتے ہی نہیں تھے اور اگر کبھی آ بھی جاتے تو بات کرنے کے لیے اجازت نہ لیتے تھے ۔

” کوئ ضروری بات ہے کیا؟” بی جان نے انہیں خاموش دیکھ کے پوچھا۔

” جی بی جان آپ تو جانتی ہیں کہ آج سے بیس سال پہلے جب ادا سائیں اور بھابی کا شہر میں ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو میں بھی شہر میں ہی تھا اور آخری بار ان سے ہسپتال میں بھی میں ہی ملا تھا ۔” وہ بہت آہستہ آہستہ بول رہے تھے ۔

” ہاں مجھے سب یاد ہے لیکن اس بات کو اب کیا ذکر؟ ” بی جان ان کے چہرے کو کھوجتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولیں ۔

“اصل میں اُس وقت ادا سائیں نے مجھے ایک وصیت کی تھی ۔جس کو بتانے کے لیے میں صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا اور اب مجھے لگتا ہے کہ وہ صحیح وقت آ گیا ہے۔” وہ بہت دھیرے سے اپنی بات ان کے گوش گزار کر چکے تھے اور اب ان کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے ۔

ٹھیک ہے ابھی تم جاؤ شام کے کھانے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا ۔وہ جو کہنے آۓ تھے کہہ چکے تھے اس لیے خاموشی سے اُٹھ کر چلے گئے ۔

وہ ادھر اُدھر بے صبری سے ٹہل رہا تھا جب کمال صاحب کی سیکرٹری باہر آئ وہ اسے دیکھ کر فوراً اس کی جانب لپکا۔

” کیا کہا کمال صاحب نے ؟” اس نے بیزاری سے گویا فارمیلٹی پوری کرنے کے لیے پوچھا۔

” سر نے آپ کو اندر بُلایا ہے ۔” اس نے خفت بھرے انداز سے کہا۔

” ارے آج تو بڑے بڑے کوگ آۓ ہیں ہمارے آفس ۔ ” کمال صاحب نے اسے دیکھتے ہی خوشگوار لہجے میں کہا۔

” بس کر دیں کمال صاحب اگر میں اتنا ہی خاص ہوتا تو یوں مجھے باہر انتظار نہ کرواتے۔” اس نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہوۓ واقع کی بابت کہا۔

“اچھا بیٹھو تو اور یہ بتاؤ کہ کیا لو گے کافی یا چاۓ؟” کمال صاحب نے اسے بیٹھنے کے لیے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

” کچھ نہیں لوں گا کمال صاحب ۔ بس ایک کام تھا آپ سے اسی کے لیے آیا ہوں ۔” اس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

” جانتا ہوں بنا کام کے تم نظر کہاں آتے ہو ۔ خیر چھوڑو یہ بتاؤ کیا کام ہے ؟” انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔

” بس کسی کا پتہ کروانا تھا رہائش اور نوکری اور اس کے ساتھ کون کون رہتا ہے ۔سب کچھ ۔” اس نے ان کے شکوے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔

“ٹھیک ہے نام وغیرہ کچھ پتہ ہے کیا؟” کمال صاحب نے اگلا سوال کیا ۔

” جی ہاں نام کے ساتھ تصویر بھی لایا ہوں تاکہ آپ کو آسانی رہے۔ ویسے یہ کام میں خود بھی کر سکتا تھا لیکن مجھے کچھ ضروری کام بھی نمٹانے ہیں اس لیے میرے پاس وقت نہیں ہے ۔” اس نے جواب دیتے ہوئے کہا۔

“تم فکر مت کرو جلد ہی پتہ کروا کہ بتاتا ہوں ۔” کمال صاحب نے مُسکرا کر کہا۔

” شکریہ کمال صاحب” اس نے اٹھتے ہوئے کہا۔

” ارے شکریہ کی کیا بات ہے کوئ اتنا بڑا کام نہیں ہے ۔ تم بے فکر ریو کام ہو جائے گا ۔” کمال صاحب نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

” چلیں پھر ملاقات ہو گی۔” یہ کہتے ہی اس نے جلدی سے قدم باہر کی جانب بڑھا ریے۔

شام کے کھانے کے بعد بی جان نے سب کو اپنے کمرے میں آنے کے لیے کہا ۔ سب جانتے تھے کہ کوئ ضروری بات ہو گی لیکن کوئ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ضروری بات کیا ہو گی اسے لیے سب اپنی اپنی جگہ پریشان تھے سواۓ سجاول سائیں کے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کیا ضروری بات تھیجو بی جان نے آج کرنی تھی ۔

ہانی اور سمیرا پیپرز کی تیاریوں میں مصروف تھیں۔ دن یونہی گزرتے جا رہے تھے ۔ پیپرز ختم ہونے میں صرف تین دن رہ کے تھے اس کے بعد وہ دونوں اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہونے والی تھیں ۔ آج بھی وہ پیپر کی تیاری کر رہی تھیں جب اچانک سمیرا نے ہانی کی اور اپنی کتابیں بند کر کے سائیڈ پر رکھیں ۔

” سمیرا یہ کیا بتمیزی ہے یار صبح پیپر ہے پڑھنے دو مجھے ۔” ہانی جو پہلے ہی پیپر کی ٹینشن میں تھی سمیرا کی اس حرکت سے چڑی تھی ۔

” اہ ہو! یار کبھی تو سیدھی طرح بات سُن لیا کرو۔” سمیرا ہانی کی بات سُن کر بیزاری کا بولی۔ ہانی بس اسے دیکھ کر رہ گئی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جب تک سمیرا اپنی بات پوری نہیں کرے گی چُپ نہیں کرے گی ۔

” بولو کیا ہے اب کون سی بات یاد آ گئی ہے تمہیں ؟” ہانی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

” یار اس دن بھی تمہیں ایگزیبیشن میں چلنے جا کہا تھا لیکن تم نے منع کر دیا ۔ پلیز وہاں چلتے ہیں ۔” سمیرا نے ہانی کی منت کی۔

” دیکھو میں نے اس دن بھی منع کیا تھا مجھے ایسی فضول جگہوں پر جانے کا کوئ شوق نہیں ہے۔” ہانی نے صاف منع کرتے ہوئے کہا ۔

” پلیز ہانی یہ ہم دونوں کا ساتھ میں آخری وزٹ ہو گا کسی جگہ کا پھر پتہ نہیں ہم کب ملیں ۔ پلیز میرے لیے مان جاؤ۔” سمیرا نے ہانی کو بلیک میل کرتے ہوئے منت کی

” اچھا ٹھیک ہے چلے جائیں گے ۔ اب موڈ صحیح کرو اپنا۔” ہانی کو سمیرا کی رونی صورت دیکھ کر ترس آ گیا ۔

” سچ ! ہانی تھینک یو سو مچ ۔ تم بہت اچھی ہو۔” سمیرا کے چہرے سے یکدم ساری مسکینیت ختم ہوئ تھی اور اس نے خوشی سے چیختے ہوئے اپنے بازو ہانی کے گلے کے گرد حمائل کیے۔

” بس زیادہ مکھن مت لگاؤ میسنی عورت۔” ہانی نے اس کے چہرے کی خوشی دیکھتے ہوئے ہس کر کہا۔ لیکن سمیرا نے کوئ جواب نہیں دیا وہ فی الحال اسی میں خوش تھی کہ ہانی جانے کے لیے مان گئی تھی ورنہ ایسا کہاں ہوتا کہ ہانی کچھ کہتی اور سمیرا جواب دیے بغیر رہتی۔

لیکن شاید وہ نہیں جانتی تھی کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ورنہ کبھی وہ ہانی کو کے جانے کی ضد نہ کرتی۔ مگر آنے والے وقت کے بارے میں کون جانتا ہے

سب لوگ بی جان کے کمرے میں موجود تھے ۔ سجاول سائیں ،اُن کی بیوی سکینہ بیگم اور ان کی اکلوتی بیٹی نرمین ۔ بس ایک انتظار تھا تو زین کا کہ وہ آۓ تو بات شروع کی جاۓ ۔ بی جان ملازمہ کے ہاتھوں کئ بار زین کو بُلوا چُکی تھیں اور اب تنگ آ کر دوبارا ملازمہ کو آواز دی ہی تھی کہ اتنے میں زین کمرے میں داخل ہوا۔

” آ گئے صاحبزادے ! مجھے تو لگا اوباما کو بھیجنا پڑے گس تمہیں بُلوانے کے لیے ۔” بی جان نے اس کے دیر سے آنے ہر چوڑ کی۔

” ارے ہمارے اتنے نصیب کہاں کہ اوباما ہمیں بُلانے آۓ اور ویسے کیا اس کے پاس کام کوئ نہیں ہے کیا جو وہ مجھے بُلاتا پھرے گا۔” وہ بھی اُنہی کا پوتا تھا فوراً سے حساب برابر کیا۔

” اچھا چھوڑو فضول باتوں کو میں نے تم سب کو ایک ضروری بات کرنے کے لیے بُلایا ہے ۔” بی جان نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

” جی ہی جان کہیں کیا بات ہے ؟”سجاول سائیں فوراً بولے۔

” میں نے ایک فیصلہ کیا ہے ۔ امید تم میں سے کسی کو کوئ اعتراض نہیں ہو گا” بی جان نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

” آپ کے فیصلے سے بھلا یہاں کسی کو کیا اعتراض ہو گا ۔آپ گھر کی بڑی ہیں جو فیصلہ کریں گی ہم سب کو منظور ہو گا” سجاول سائیں نے بڑی مہارت سے کسی کو انکار کے لائق نہ چھوڑا۔