Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 28 (Last Episode)
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 28 (Last Episode)
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
” ہانی!”
سمیرا نے خوشگوار حیرت سے اسے گلے لگایا تھا ۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کو اتنے عرصےبعد دیکھ کر بہت خوش ہوئیں تھیں۔۔۔ اس لیے آنکھوں میں آنسو بھی آ گئے ۔۔۔
جبکہ یہ سارامنظر ہادی کافی ناگواری سے دیکھ رہا تھا۔ اسے ان دونوں کے ایسے رونے سے الجھن ہو رہی تھی ۔۔۔
” ماما چلیں نا ؟ آئسکریم بھی کھانی ہے ۔”
تنگ آ کے ہادی نے اس کا دوپٹا کھینچتے ہوئے بولا تھا ۔۔
” ہانی یہ تمہارا بیٹا ہے ؟”
سمیرا نے پیار سے ہادی کے گال چھوتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔
” ہاں ! ہادی سلام کرو آنٹی کو.”
ہانی نے ایک وقت میں ہی سمیرا کو جواب دیتے ہوئے ہادی سے بھی کہا جو اس وقت خاصا ناراض لگ رہا تھا ۔۔ کیونکہ آئسکریم پارلر کے سامنے اسے آئسکریم کا ویٹ کروایا جا رہا تھا ۔۔اس لیے اس نے ہانی کی بات سرے سے نظر انداز کر دی تھی ۔۔
” ارے یہ تو بلکل تم پر نہیں گیا ہے ۔ کتنا کیوٹ ہے نا گولو مولو سا! اور ایک تم بکلک سوکھا تیلا۔۔”
ہانی اب ہادی کو گھور رہی تھی جب سمیرا نے اس کا دھیان ہادی سے ہٹانے کے لیے اسے چھیڑا تھا ۔۔۔
لیکن یہ سچ ہی تھا۔ ہادی زین کی کاپی تھا۔ اور اسی بات سے ہانی کو چڑ ہو گئی وہ ابھی کچھ بولنے ہی والی تھی ۔۔ جب نین نے سمیرا کو آواز دی تھی ۔۔
” طلع بھی سمیرا ۔۔ پری کب سے رو رہی ہے ۔”
نین نے اسے بلاتے ہوئے اپنی تین سالہ بیٹی کا ذکر کیا جو نین نقش میں بلکل ہانی کے جیسی تھی ۔ لیکن اس کی آنکھیں نین کی طرح گرین تھیں۔۔
ہانی نے پلٹ کے اس آواز کی طرف دیکھا تو حیران رہ گئی ۔ کیا ایک ہی دن میں اللّٰه نے اسے سب اپنے ملوانے تھے ۔
نین بھی ہانی کو سامنے دیکھ کر ششدر ہی رہ گیا تھا ۔ جب ہانی سے دماغ نے کام کیا۔۔
” کیا یہ سمیرا کو بلا رہا تھا ؟”
ہانی نے خود سے سوال کرتے ہوئے سمیرا کی جانب دیکھا جس نے اب پری کو نین سے لے کر خود اٹھا لیا تھا ۔۔۔
” ہانی ! کہاں چلی گئی تھی تم۔۔۔ پتہ ہے کتنا ڈھونڈا ہے میں نے تمہیں ۔”
نین ایک دم آگے بڑھا اور اس کو گلے سے لگا کر خود کو یقین دلانے لگا کہ انہیں ان کل ہانی مل گئی تھی ۔۔ وہ ےو امید ہی چھوڑ چکا تھا ۔۔۔
کافی دیر جب وہ دونوں یونہی کھڑے رہے تو سمیرا نے انہیں مخاطب کیا۔۔
” اہممم کیا بات ہے سارا دن بہن بھائی نے یونہی کھڑے رہنا ہے یا پھر ہانی کو گھر بھی لے کر چلنا ہے ۔”
سمیرا نے انہیں یاد دلایا کہ وہ اس وقت پبلک پلیس پر کھڑے تھے ۔۔۔
” ہاں کیوں نہیں چلو ہانی سب تم سے مل کر بہت خوش ہونگے۔۔۔”
نین اسے ساتھ لگائے گاڑی کی طرف بڑھا جبکہ ہادی اور پری کو ان سمیرا بیچاری اکیلے بامشکل گھسیٹتے ہوئے ساتھ لا رہی تھی ۔۔
” ویسے تم میرے بھائی کے ساتھ کیا کر رہی ہو ؟”
ہانی نے آئبرو اچکا کر سمیرا سے پوچھا ۔۔
” شوہر نامدار ہیں میرے اور میری ایک عدد بیٹی کے باپ بھی ۔۔”
سمیرا کہاں چپ رہنے والوں میں سے تھی فوراً جواب دیا تھا۔
” کیاااااا!”
ہانی اتنے زور سے چلائ تھی کہ سب کو اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنا پڑا تھا ۔۔۔
” ماما آپ کو مینرز نہیں ہیں کیا؟”
ہادی نے ماں کو دیکھتے ہوئے اس سے حساب برابر کیا تھا۔ وہ بھی تو ہر بات پر اسے مینرز سکھاتی رہتی تھی ۔۔۔
جبکہ ہانی نے اب اسے ایک گھوری دے نوازا تھا ۔۔ جو بہت مزے سے اپنی ماں کو سب کے سامنے بے عزت کر رہا تھا ۔۔۔
باقی کا راستہ سب نے خاموشی سے کاٹا تھا ۔۔۔
ہانی نے ڈرتے ہوئے قدم اندر رکھے تھے ۔ اس تمام عرصے میں اظہار صاحب دے اسے جو بھی گلے تھے وہ خود ہی ُتم ہو گئے تھے ۔۔۔
” ماما ! بابا! رانیہ دیکھو تو کون آیا ہے میرے ساتھ ۔”
اندر آتے ہی نین نے سب کو اونچی آواز میں پکارا تھا ۔۔۔ اس کی آواز سن کر سب باہر آ گئے تھے ۔۔
اپنی سامنے ہانی کو دیکھ کر سب ہی بس حیرت سے اپنی آنکھوں پر یقین کرنے لگے کہ کہیں وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہے ۔۔۔
لیکن وہ خواب نہیں حقیقت تھی ۔۔۔ زینب بیگم نے آگے بڑھ کو اسے گلے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔۔ کتنا ترسی تھیں۔۔ وہ اسے اپنے سامنے دیکھنے کے لیے۔۔۔ گلے لگانے کے لیے۔۔
” بس کر دو بیگم اب مجھے بھی میری بیٹی سے ملنے دو گی کہ ُود ہی قبضہ جمانے کا ارادہ ہے ۔۔”
اظہار صاحب جو کب سے اس سے ملنے کو بے تاب تھے لیکن ان کی بڑھتی محبت اور آنسوؤں کی رفتار دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ اتنی آسانی دے وہ دونوں الگ نہیں ہونے والی۔۔۔
” اوہ ماما ڈانٹ یو فیل بابا آپ سے جیلس ہو رہے ہیں ۔”
رانیہ بھی کہاں چپ رہنے والوں میں سے تھی اس لیے اس سب میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا تھا ۔۔۔
جبکہ ہادی کو اپنا یوں اگنور کیے جانا سخت برا لگا تھا ۔۔
” ماما کون ہیں یہ لوگ؟”
وہ منہ پھلائے حمنہ سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
” ہانی یہ تمہارا بیٹا ہے ؟”
زینب بیگم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے پوچھا اور اسے گلے سے لگا کر پیار دینے لگیں ۔۔۔
جب ہادی تنگ آ گیا۔۔
” میرا سارا منہ گندا کر دیا ہے آپ نے!”
ہادی اپنا گال صاف کرتے ہوئے بولا تھا جہاں ابھی زینب بیگم نے اسے پیار کیا تھا ۔۔
” بری بات ہادی!”
ہانی نے اسے غصے سے دیکھا جبکہ ہادی کی بات سن کر سب اب ہس رہے تھے ۔۔
” ہانی آپی آپ کے بیٹے کے نخرے بلکل آپ جیسے ہیں.”
رانیہ نے ہانی لر چوٹ کی۔۔
” رانیہ مت تنگ کرو بہن کو ۔”
اظہار صاحب ن رانیہ کو گھر کر چپ کروایا جبکہ رانیہ کا منہ بن گیا ۔۔
” ہانی بیٹا اپنے بابا کو معاف کر دینا۔۔۔ اس وقت میں نے جو بھی کیا تھا صرف تمہاری بہتری کے لیے کیا تھا ۔”
اظہار صاحب شرمندہ سے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کے بیٹھے تھے ۔۔۔
” بابا پلیز! گنہگار تو نہ کریں مجھے ۔۔۔ اور آپ کو معافی مانگنے کی ضرورت بلکل نہیں ہے ۔۔۔۔
جس کو ہے اس کی تو اکڑ ہی ختم نہیں ہوتی۔۔۔”
ہانی نے ان کے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا جبکہ آخری بات زیر لب بڑبڑائی جو کسی نے نہیں سنی تھی ۔۔۔
” ہانی بیٹا زیم کو بھی بلا لو آج تم لوگ ہماری طرف رکو گے۔”
اظہار صاحب نے کچھ سوچتے ہوۓ ہانی سے کہا تھا ۔ وہ زیم سے ملنے چاہتے تھے ۔۔۔
” جی بابا !”
ان کی بات سن کر ہانی کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا ۔۔۔ اس کے ہاس تو زین کا نمبر ہی نہیں تھا ۔۔۔
” میں ابھی انہیں کال کر کے آئی۔۔۔”
ہانی فوراً وہاں سے اٹھ کر باہر آئی تھی ۔۔ کافی دیر بعد سوچنے کے بعد جب کوئی سرا ہاتھ نا لگا تو یہاں وہاں ٹہلتے ہوئے گھر کا جائزہ لینے لگی تاکہ واپس جا کے کوئ اچھا سا بہانہ بنا سکے۔۔۔۔
” بابا وہ میری بات ہوئی وہ کہہ رہے ہیں کہ۔۔۔”
اگلی بات ہانی کے منہ میں ہی رہ گئی کیونکہ سامنے شاہ صاحب اس کے گھر والوں کے ساتھ براجمان خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔۔۔
” آپ کیا کہہ رہی تھیں؟”
ہانی کو چپ ہوتے دیکھ کر فوراً ہی شاہ نے اس کا جھوٹ پکڑا تھا اسی لیے اب سب کے سامنے پوچھ رہا تھا ۔۔
جبکہ ہانی بس کلس کر رہ گئی ۔۔
” یہ شخص مجھے زلیل کروانے کے ارادے میں لگتا ہے ۔ لیکن فکر نہ کرو آج تمہیں سبق ضرور سکھاؤں گی۔”
ہانی دل میں مصمم ارادے بناتی وہاں سے چلی گئی جبکہ اسے یوں غصے میں دیکھ کر زین مسکرا دیا تھا ۔
ہادی نے جامے دے پہلے ہی زین کو فون پر بتا دیا تھا کہ ہانی اسے باہر لے جانے کے لیے راضی ہع گئی تھی ۔۔۔
لیکن جب زین وہاں پہنچا تو اسے سمیرا اور نین کے ساتھ دیکھ کر ساۃیڈ پر ہو گیا تھا اور پھر ان کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ گیا تھا ۔۔
” سمیرا! رانیہ! کیا بنا رہی ہو تم لوگ؟”
ہانی نے کچن میں جھانک کر انہیں کوکنگ کرتے دیکھ کر پوچھا تھا ۔۔۔
” رات کے لیے کھانا بنا رہے ہیں ۔”
سمیرا نے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔۔
” اچھا سنو!”
ہانی نے اسے دوبارہ بلایا۔۔۔
” ہاں بولو۔۔”
سمیرا نے آئل پین میں ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔
” کھانے میں زرا مرچی تیز رکھنا۔۔۔ زین کو تیز مصالحہ پسند ہے ۔”
ہانی نے اپنی ہسی روکتے ہوئے کہا جانتی تھی وہ تیز مرچ برداشت نہیں کر سکتا اسی لیے بدلہ لینے کا یہ طریقہ سوچا تھا ۔۔۔
” شکر ہے تم نے بتا دیا ورنہ میں مرچ کم رکھتی۔۔”
سمیرا نے اس کی طرف دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔
” کوئی بات نہیں میں نے سوچا تمہیں بتا دوں تاکہ بعد میں مسئلہ نہ ہو۔”
ہانی مسکین سی شکل بناتی کچن سے نکل گئ۔۔
” اب مزہ آئے گا زین شاہ! تمہیں بھی تو پتا چلے کس سے پنگا لیا ہے تم نے”
ہانی چہرے پر شرارتی مسکراہٹ سجائے زینب بیگم کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھ گئ۔ جہاں باقی سب بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔۔۔
اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر زین کو گڑ بڑ کا احساس ہوا لیکن وہ کیا کرنے والی تھی یہ وہ نہیں جان پایا تھا ۔۔۔
رات کا کھانا لگ چکا تھا ۔۔۔ ہانی کی مسکراہٹ چہرے سے جدا ہی نہیں ہو رہی تھی ۔۔
” زین آپ یہ ڈش ضرور ٹرائی کریں ۔۔ بہت مزے کا بناتی ہے سمیرا۔۔”
ہانی زین کے سامنے ڈشز کرتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ زین تو اس کے انداز پر ہی حیران رہ گیا تھا ۔۔۔
” آخر ہوا کیا ہے اسے یہ کایا کیسے پلٹی۔۔”
زین حیرانی سے زیر لب بڑبڑاتا ہوا ایک لقمہ منہ میں رکھنے لگا۔۔ لیکن اگلے ہی پل اس کی ساری حیرت ختم ہوئی تھی ۔۔۔
” پپ پانی!”
زین بامشکل بول پایا تھا ۔۔۔
” کیا ہوا آپ کو؟”
ہانی آنکھیں پھیلائے اس سے پوچھ رہی تھی جیسے اسے زین کی بہت فکر ہو۔ لیکن دل میں وہ کتنی خوش تھی یہ صرف وہی جانتی تھی ۔۔۔
” پانی!”
زین بس اتنا ہی بول پایا تھا ۔۔
” ایک منٹ میں دیتی ہوں ۔”
ہانی نے جلدی سے گلاس میں پانی ڈال کر آگے کیا۔۔۔ لیکن جیسے ہی زین اسے پکڑنے لگا ہانی نے فوراً گلاس الٹا کر دیا اور سارا پانی زین پر گرا دیا تھا ۔۔۔
” اوہ ! ایکسکیوز می میں ابھی آیا۔۔”
تھوڑا سکون آیا تو زین فوراً اٹھ کر واش روم کی طرف چل دیا۔۔۔
” میں دیکھ کر آتی ہوں۔”
یہ کہہ کر ہانی بھی اس کے پیچھے ہی چل دی۔۔۔۔
” ہاہاہاہاہاہا ! کیسا لگ رہا ہے مسٹر زین۔۔۔”
وہ ٹشو سے کپڑے صاف کر رہا تھا جب اس کی آواز سن کر پلٹا تھا۔
” پتہ تھا مجھے تمہاری ہی حرکت ہو گی۔۔”
زین نے آگے بڑھ کر فوراً اسے بازوں سے پکڑا تھا ۔۔
جبکہ ہانی اس کے ایکدم یوں قریب آنے پر گھبرا گئی تھی ۔۔۔
” وو وہ مجھے کوئی کام یاد آ گیا ہے ۔”
ہانی کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا اسی لیے فوراً بہانہ بنایا۔۔۔
” ایسے کیسے اپنی حصے کی سزا بھی تو لے کر جاؤ۔”
زین نے ذومعنی انداز میں اسے اشارہ کیا۔ اس کی بات سن کر ہانی مزید گھبرا گئ تھی ۔۔
” پلیز آپ جو بھی کہیں گے میں کروں گی مجھے جانے دیں۔۔۔”
ہانی نے التجائہ کہا تھا ۔۔
” جو کہوں گا؟”
اب کی بار زین نے سنجیدگی سے پوچھا تھا ۔۔
” جج جی!”
ہانی نے مشکل سے الفاظ ادا کیے۔۔۔
” معافی !”
ہانی نے ایک دم سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا ۔۔
” معافی چاہئے مجھے تم سے اپنی ہر غلطی کی ۔۔۔ ہانی پلیز میں اپنی زندگی تمہارے اور ہادی کے ساتھ سے مکمل کرنا چاہتا ہوں ۔”
شاہ نے منت بھرے لہجے میں کہا تھا ۔۔ نمی اس کی آنکھوں میں تیر رہی تھی ۔۔۔ ہانی نے نظریں چرا لیں۔۔۔
” میں نے آپ کو معاف کیا۔۔۔”
مشکل سے یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے وہ اپنے آنسو روک پائی تھی ۔۔
” نہیں ہانی ! ایسے نہیں مجھے دل سے معافی چاہئے ایسے زبردستی نہیں اور میں اس کے لیے اپنی آخری سانس تک انتظار کروں گا۔”
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں تھا اور ہانی بس آنکھوں میں آنسو لیے اسے جاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
آج ہانی نے رانیہ کو اپنے گھر بلوایا ہوا تھا ۔۔۔ وہ اکیلی بور ہو رہی تھی تو رانیہ کو کمپنی دینے کے کیے بلوا لیا۔۔۔
ہانی کچن میں چائے بنانے گئی تھی ۔۔۔ جب لاؤنج میں کوئی چپکے سے چھپتے ہوئے داخل ہوا۔۔۔ لیکن ہائے رے قسمت رانیہ کی نظر پڑ گئی ۔۔
” کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہے ہو ؟ کہیں چوری کرنے تو نہیں آئے۔۔۔ ویسے حلیے سے لگ تو نہیں رہے چور لیکن لگتا ہے آج کل چوروں کا سٹینڈرڈ بھی ہائی ہو گیا ہے ۔۔۔ ویسے میرے ہوتے ہوئے تم ایک چیز کع بھی نہیں چھو سکتے۔۔۔۔”
رانیہ تع نا سٹاپ شروع ہو گئی تھی جبکہ سامنے کھڑا شخص حیرت سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو اسے اسی کے گھر میں چور کہہ کر بلا رہی تھی اوپر سے اس کی پٹر پٹر چلتی زبان ۔۔۔۔۔
” کیا ہوا رانیہ کون ہے کس سے باتیں کر رہی ہو؟”
اس کی آوازیّں سن کر ہانی کچن سے باہر آئی تھی لیکن سامنے حنین کو دیکھ کر خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات لیے اس کی طرف بڑھی۔۔۔
” حنی تم! وٹ آ سرپرائز۔۔۔ آنے سے پہلے بتا ہی دیتے ۔۔۔”
ہانی اس کے قریب آ کر بولی۔۔۔
” آپی آپ اس کو جانتی ہیں ؟”
رانیہ نے سن دونوں کو یوں بے تکلفی سے بات کرتے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
” رانیہ یپ حنین ہے زین کا چھوٹا بھائی۔۔۔ اور حنین یہ رانیہ ہے میری چھوٹی بہن۔۔۔”
ہانی نے دونوں کا تعارف کروایا۔۔۔
” رئیلی نائس ٹو میٹ یو۔۔۔”
حنی نے مسکراتے ہوئے ہاتھ رانیہ کی نظر بڑھایا تھا ۔۔۔ جسے رانیہ نے گھوری کے ساتھ تھاما تھا ۔۔
” ویسے بھابھی آپ کی بہن سنگل ہیں ۔۔”
حنک نے اچانک سو کیا تھا۔
” ہاں کیوں ؟”
ہانی نے حیرت سے پوچھا ۔
” نہیں میں سوچ رہا تھا اس بار یہاں رہنے کا کوئی پکا بندوبست کروں اور ایک وجہ ڈھونڈوں۔۔۔”
حنی نے ہامی کو جواب دیتے ہوئے رانیہ کو دیکھ کر انکھ دبائی۔۔۔ اور ہانی مسکرا دی وہ اس کا مطلب سمجھ گئ تھی ۔۔۔
” حنی تم یار بہت بری بات ہے بھائی سے پہلے بھابھی سے مل رہے ہو ۔۔”
زین جو ابھی آفس سے ایس تھا حنی کو دیکھتے ہوئے نارمل انداز میں کہا ۔۔۔
” آپ کو پتہ تھا کہ یہ آ رہا ہے ؟”
ہامی اس کے انداز پر سمجھ گئ تھی کہ وہ پہلے سے جانتا ہے ۔۔
جس پر دونوں بھائیوں نے کندھے اچکا دیے۔۔۔۔
” زین آپ فریش ہو جائیں میں آپ کے لیے چائے لاتی ہوں ۔”
ہانی زین کو حیرتوں کے سمندر میں غوطہ لگاتے چھوڑ کے کچن میں چلی گئی ۔۔۔
جبکہ وہ حیران سا کمرے میں چلا گیا۔۔۔
فریش ہو کر باہر نکلا تو ہانی اسی کے انتظار میں کھڑی تھی ۔ وہ کچھ نروس اور کنفیوز لگ رہی تھی ۔۔ چائے سامنے ٹیبل پر ہی پڑی تھی ۔۔۔
زین نے خاموشی سے چائے اٹھائی اور اللّٰه کا نام لے کر پینے کے لیے چا ئے منہ سے لگائی۔ کہ نا جانے اب کیا ملایا ہو اس نے۔۔۔
لیکن مشید حیرت تب ہوئی جب چائے بلکل ٹھیک تھی ۔۔
” ہانی تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا ۔”
زین چائے واپس رکھتا اس کے قریب آ کر اب اس کا ماتھا چھو کر دیکھ رہا تھا کہ کہیں اسے بخار تو نہیں ۔۔۔
” پلیز زین ایک تو میں پہلے اتنی نروس ہو رہی ہوں اوپر سے آپ میرا مزاو مت بنائیں۔”
ہانی نے جھنجلاتے ہوۓ اس کے ہاتھ پیچھے کیے۔۔۔۔
” اچھا تو کیوں نروس ہیں مس ہانی!”
زین سینے پر بازو باندھ کر کھڑا ہو گیا اور غور سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے آئبرو اچکا کر پوچھا ۔۔۔
” وہ میں آپ ۔۔نہیں مکرا مطلب آپ مجھ سے۔۔۔ اہووو مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں کیسے بولوں۔”
ہانی بے بسی سے اس دیکھ کر رہ گئی ۔۔۔
” کچھ بھی مت بولو ہانی! ہر بات کہنے کے لیے الفاظ ضروری نہیں ہوتے۔۔۔ کچھ باتوں کو آنکھوں سے پڑھ لینا چاہیے ۔۔۔ کچھ باتوں کو دل سے محسوس کرنا چاہیے۔۔۔”
آہستہ سے کہتا وہ اس کے قریب ہوا اور اسے اپنے بازؤں کے حصار میں لے چکا تھا ۔۔۔ اور آہستہ سے اس کے در پر اپنی مہر محبت ثبت کی تھی ۔۔
ہانی نے سر اد کے سینے پر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔ بے شک محبت کو الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔۔۔ ادے تو محسوس کیا جاتا ہے ۔۔۔ بنا بولے دوسرے کے دل کا حال جان لینا ہی محبت ہے۔۔۔
اور وہ ہمسفر ہی کیا جو اپنے ساتھی کے دل کی بات بنا سنے نہ جان پائے۔۔۔۔
اس حصار کو ہادی کی آواز نے توڑا تھا ۔۔۔
” ہاااااا! بابا کتنے بے سرم ( بے شرم) ہیں آپ لود ( لوگ)…”
ہادی نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔
” کیوں کیا ہوا ؟ اور کس نے یہ باتیں سکھائ آپ کو؟”
ہامی نے آگے بڑھ کے اس کا گال چھوتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
” وہ ابھی تی وی( ٹی وی) پر بھی دو لود ( لوگ ) ایسے ہی کھرے ( کھڑے ) تھے تو آنی نے کہا یہ بے سرمی ( بے شرمی ) ہے ایسی چیزیں مت دیکھا کرو۔۔ اور میں نے آپ کو بھی نہیں دیکھا ۔۔۔”
ہادی نے پوری بات بتاتے ہوئے آخر میں ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔۔۔
اس کے اس انداز پر ہانی کھلکھلا کر ہس دی جبکہ زین بھی مسکرا دیا ۔۔۔
اس کی فیملی آج مکمل ہو گئی تھی ۔۔۔ اسے اس کی ہمسفر کا ساتھ مل گیا تھا ۔۔۔
سکون سے اس نے اپنی آنکھیں موند لیں۔۔۔۔
نرمین کافی دنوں سے زین سے بات کرنا چاہتی تھی ۔ لیکن جب بھی وہ اسے کچھ بتانے کی کوشش کرتی سکینہ بیگم ہمیشہ زین کو ادھر ادھر کی باتوں میں لگا دیتیں۔۔۔۔ اور نرمین چاہ کر بھی اسے کچھ نہ بتا پاتی۔۔۔۔
نرمین کو گھر شفٹ ہوئے ایک ہفتہ گزر گیا تھا ۔۔۔ زین معمول کے مطابق آفس جاتا اور واپسی پر نرمین کا حال پوچھ کر اپنے روم میں چلا جاتا ۔۔۔
نرمین سکینہ بیگم کے ساتھ رہ رہی تھی کیونکہ اسکی دیکھ بھال کے لیے ہر وقت کوئ نہ کوئ اس کے ساتھ رہنا چاہیے تھا اور اب وہ چل بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔
نرمین کو اکثر عجیب سے دورے پڑنے لگے تھے وہ اپنے پاس سائیڈ ٹیبل سے چیزیں اٹھا کر پٹختی ۔۔۔
چیختی چلاتی۔۔۔ زین جب بھی اس بارے میں پوچھتا سکینہ بیگم اسے یہ کہہ کر ٹال دیتیں۔۔۔
” اس کی طبیعت ٹھیک نہیں اتنے بڑے حادثے کو قبول نہیں کر پا رہی۔۔۔۔”
اور زین بس چپ کر جاتا تھا ۔۔ ہانی کو اس نے بہت ڈھونڈا لیکن وہ اسے نہ ملی اور نہ شاید ملنا تھا۔
” سب کچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے آپ ہیں میری اس حالت کی ذمہ دار ۔”
آج پھر شاید نرمین کو دورا پڑا تھا ۔۔ جبھی چیزیں ٹوٹنے کی آواز سن کر زین بھاگتا ہوا ادھر آیا لیکن اندر سے آتی آواز نے اس کے قدم وہیں پر روک دیے تھے ۔۔۔
” بس کر دو نرمین اور کتنا ستاؤ گی ۔۔ میں نے یہ سب تمہاری بھلائی کے لیے کیا تھا ۔۔۔”
سکینہ بیگم کی بے بس سی آواز آئی۔۔۔
” بھلائی!”
نرمین نے طنزیہ اس لفظ کو دہرایا ۔۔۔۔
” ہو گئی بھلائی ۔۔۔ مل گیا سکون ۔۔ اب تو خوش ہیں نا آپ جو آپ کو چاہیے تھا سب ہے نا اب آپ کے پاس۔۔۔ تو یہ جھوٹے آنسو کیوں بہا رہی ہیں ۔۔۔ سب ختم کر دیا آپ نے ۔۔۔ ارے آپ نے تو کبھی یہ بھی نہ سوچا کہ جو کر رہی ہیں پلٹ کر آپ کی اولاد پر بھی آ سکتا ہے ۔۔۔۔
تباہ کر دی ہے آپ نے میری زندگی ۔۔۔ آپ جیسی ماں تو کسی دشمن کو بھی نہ ملے۔۔۔”
نرمین اپنا آپا کھوئے جانے اور بھی کیا کیا کہنے والی تھی ۔ جب زین سے مزید برداشت نہ ہوا اور جھٹکے سے دروازہ کھولتے ہوئے اندر آیا ۔۔
” نرمین!”
زین غصے سے دھاڑا تھا ۔۔۔ اس کی آواز سن کر جہاں نرمین حیران ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔ وہیں سکینہ بیگم کے چہرے کا رنگ اڑا کہ کہیں زین کو سب پتہ تو نہیں چل گیا۔۔۔
” یہ کیا طریقہ ہے اپنی ماں سے بات کرنے کا۔۔۔”
زین مء درشتگی سے سوال کیا تھا۔
” زین تم ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔۔۔ اس لیے ایسا کہہ رہے ہو یہ ۔۔ یہ سب ڈیزرو نہیں کرتیں۔۔”
نرمین اسے اپنی بات سمجھانا چاہ رہی تھی ۔۔ اب کی بار سکینہ بیگم نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔
وہ خود بھی تھک گئیں تھیں یہ جھوٹ کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر اب نرمین کی نفرت نہیں برداشت ہو رہی تھی ان سے۔۔۔
” بس کر دو نرمین میں کچھ جاننا بھی نہیں چاہتا ۔۔۔ تم ابھی چچی سے معافی مانگو۔۔۔ اور آئندہ میں تمہیں ان سے ایسے بات کرتے ہوئے نہ دیکھوں۔۔”
زین نے انگلی اٹھا کر وارنگ دینے والے انداز میں کہا تھا ۔۔
” لیکن زین۔۔۔۔”
نرمین نے کچھ کہنا چاہا جب زین نے اسے روک دیا۔۔
” بس ان اور نہیں مجھے تمہاری مزید کوئ فالتو بات نہیں سننی۔۔۔ لگتا ہے چوٹ تمہارے دماغ پر لگ گئی ہے ۔۔۔”
زین کہتے ہوئے پلٹنے لگا تھا۔
” یہ تمہارے ماں باپ کی قاتل ہیں ۔۔۔”
اس سے پہلے کو واپس چلا جاتا اور ہر بار کی طرح نرمین یہ بوجھ اپنے قندھوں پر اٹھائے رکھتی ۔۔ اسے روکنے کے لیے وہ چلائ تھی ۔۔
نرمین لی آواز سن کر زین کے بڑھتے قدم رکے تھے ۔۔ اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔وہبے خود سا اس کی طرف رخ کیے آنکھوں میں ڈھیروں سوال لیے کھڑا تھا ۔۔۔
” کک کیا کہا تم نے۔۔۔”
بہت دیر بعد جب وہ بولنے کے قابل ہوا تو اس کمرے میں موجود موت سے سناٹے کو توڑتا ہوا بولا۔۔۔
” میں سچ کہہ رہی ہوں زین۔۔۔ میں یہ بوجھ اپنے ساتھ لے کر نہیں مرنا چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اور پھر ایک ایک کر کے وہ اسے ساری حقیقت بتاتی چلی گئی ۔۔۔
زین ششدر سا کھڑا وہ سب سنتا گیا ۔۔۔ اسے لگا وہ اتنی بڑی سچائی سن کر اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائے گا ۔۔۔۔
لیکن ایسا کہاں ہوتا ہے ساری سچائیاں جان کر بھی انسان زندہ رہتا ہے ۔۔۔ وہ بھی زندہ تھا ۔ اب اس کے قدم نرمین کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔
ایک آواز سے کمرے کا سکوت ٹوٹا تھا ۔۔ نرمین اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے نظر جھکا گئی تھی ۔۔
اس کا احتجاج کرنا بنتا بھی نہیں تھا۔ اس کے ماں باپ نے ہمہشی اسے پیسے کی حوس سکھائی تھی ۔۔رشتوں کی اہمیت اور قدر کرنا تو اسے سکھایا ہی نہیں گیا تھا۔۔ نتیجہ آج سکینہ بیگم کے سامنے تھا۔
کچھ نہیں بچا تھا ان کے پاس جس بیٹی کے کیے ساری زندگی دوسروں کو روندتے آئیں تھیں وہ بیٹی آج خود موت کی دہلیز پر کھڑی بس بلاوے کو انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
” آپ نرمین کو لے کر آج ہی حویلی واپس چلی جائیں۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ آپ لوگوں کو دیکھ کر میں اپنے ہوش کھو بیٹھوں ۔۔۔ اور اپنے رشتوں کا لحاظ بھول جاؤں۔۔۔”
اپنا فیصلہ سنا کر وہ رکا نہیں تھا۔ سکینہ بیگم شرمندگی سے معافی تک نہ مانگ سکی تھیں ۔۔۔۔
نرمین نے کوئ احتجاج نہیں کیا تھا۔ اور خاموشی سے اپنے حصے کی سزا کاٹنے لگی۔۔۔
کچھ عرصے بعد زین کو نرمین کی ڈیتھ کی خبر ملی تھی وہ جیسی بھی تھی اس کی بیوی تھی اور زین کو دل سے نرمین کے جانے کا غم تھا۔ ۔۔۔
سکینہ بیگم اتنا بڑا صدمہ برداشت نہیں کر پائیں تھیں۔۔۔ ان شدید صہ پہنچا تھا اور وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھیں ۔۔۔
کئی بار وہ اپنے آس پاس موجود لوگوں کو نقصان پہنچا چکی تھیں ۔۔۔ اس لیے انہیں پاگل خانے بھیج دیا گیا تھا ۔۔۔
اس سب کے بعد زین کبھی پلٹ کر حویلی نہیں گیا تھا ۔۔۔ ہانی کا یوں چھوڑ جانا بہت تکلیف دہ تھا۔ اور حقیقت جاننے کے بعد تو اس تکلیف میں اور اضافہ ہو گیا تھا ۔۔۔
وہ بلکل اکیلا رہ گیا تھا اور اس میں آدھے سے زیادہ قصور اس کا اپنا تھا ۔۔۔
حنین نے کبھی پلٹ کر نہ دیکھا تھا ۔۔۔ اظہار صاحب اور ان کی فیملی کا بھی کسی کو کچھ پتہ نہ چلا تھا۔ ۔۔۔
ہانی ایک کمپنی میں جاب کرنے لگی تھی ۔۔ اپنے بیٹے کے ساتھ اپنی چھوٹی سی دنیا میں وہ بہت خوش تھی ۔۔ زین کے پاس سے آئے اس پانچ سال ہو چکے تھے ۔۔۔
زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی ۔۔ جب اس ایک دن اس کی زندگی میں پھر سے سب کچھ بدل گیا تھا ۔۔۔۔
” پانچ سال بعد “
ہانی آفس روٹین میں کافی بزی رہتی تھی ۔۔۔۔ آج وہ اپنے بیٹے کے ساتھ باہر آئی تھی تاکہ اسے گھما سکے اور شاپنگ کروا سکے۔۔۔۔
مال میں ایک جگہ سے اپنے بیٹے کے لیے کپڑے خرید رہی تھی جب وہ چپکے سے اس کی نظروں سے چھپتا دکان سے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔
تھوڑا ہی آگے گیا تھا جب اکیلا محسوس کر کے اپنی ماں کو ڈھونڈنے لگا ۔۔۔ اسے یاد نہ رہا تھا کہ وہ کہاں سےنکل کر آیا تھا ۔۔۔۔
اب جب ارد گرد ہانی کو نہ دیکھا تو رونے لگا ۔۔۔۔ جب اس کو روتے دیکھ ایک آدمی اس کے پاس آ گیا۔۔۔۔
” کیا ہوا بیٹا کیوں رو رہے ہو ۔۔”
اسشخص نے بہت پیار سے پوچھا تھا ۔۔
” میری ماما دم دئی ( گم گئی) ہیں ۔۔۔”
اس بچے نے بہت معصومیت سے روتے ہوئے سارا الزام اپنی ماں کے سر ڈال دیا جیسے وہ اسے چھوڑ کے کہیں چلی گئی ہو۔۔۔
” کیسے گم گئی آپ کی ماما؟”
اس بچے کی بات سن کر اس شخص کو وہ بہت اپنا اپنا سا لگا۔۔۔اس کا دل کیا وہ وہیں بیٹھ کر اس سے باتیں کرتا رہے۔۔۔ اور اب وہ ایسا ہی کر رہا تھا ۔۔۔
” پتہ نہیں میرے ساتھ آئیں تھیں ۔۔۔ لیکن میرا ہاتھ چھور ( چھوڑ) دیا اور دم ( گم ) گئیں ۔۔”
اس بچے نے جواب میں پھر قصوروار ماں کو ٹہرایا۔۔۔
” اوہو! مطلب آپ کی ماما بہت لاپروا ہیں ۔۔”
اب اس شخص کو اس کی باتیں سن کر مزہ آنے لگا ۔۔تب ہی مزید بولا۔۔۔۔
ہانی جیسے ہی پلٹی تو اس وہ کہیں نظر نہ آیا ۔۔۔۔اس کے تو ہاتھ پیر پھولنے لگے تھے ۔۔۔اس کی جینے کا وہ واحد سہارا تھا۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو!
اس سے آگے تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔ پریشانی میں یہاں سے وہاں وہ اسے ڈھونڈتی پھر رہی تھی ۔۔۔ راستے میں گزرتے کئی لوگوں سے اس نے اپنے بیٹے کا پوچھا لیکن ہر کوئ یہ کہہ کر گزر جاتا کہ انہیں نہیں پتہ۔۔۔
وہ اسی پریشانی میں اسے ڈھونڈے جا رہی تھی جب اسے وہ سامنے کسی سے باتیں بہارتے ہوۓ دکھائی دیا۔۔۔۔
اس کو دیکھ کر ہانی کو اپنی سانس بحال ہوتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔ لیکن پھر اس کا یوں اچانک دکان سے نکل کر یہاں آ جانا اسے غصہ دلا گیا تھا۔۔۔۔ وہ تیزی سے اس کی جانببڑھی تھی ۔۔۔
جبکہ سامنے بیٹھے انسان کی اس کہ طرف پیٹھ تھی تبھی وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی ۔۔۔
” ہادی تم چلو آج گھر میں تمہیں سیدھا کرتی ہوں ۔۔”
ہانی غصے سے اس کی جانب بڑھی تھی اور اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے چلنے لگی جب نظر سامنے بیٹھے شخص پر پڑی تو قدم اٹھنے سے انکاری ہو گئے۔۔۔
دونوں ہی ایک دوسرے کو حیرانی سے دیکھ رہے تھے جبکہ ہانی کا اتنی جلدی خوف کو ڈھونڈنے پر ہادی منہ کے زاویے بگاڑنے میں لگا ہوا تھا ۔۔۔
” ہانی!”
کچھ دیر بعد شاک سے نکلتے ہوۓ زین کے منہ سے صرف اس کا نام ہی ادا ہوا۔۔۔
جبکہ دوسری طرف اب ہانی بھی خود کو سنبھال چکی تھی ۔۔۔
” ہانی نہیں ! نہیں حمنہ!”
” حمنہ اظہار نام ہے میرا مسٹر زین شاہ۔۔۔”
ہانی نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
” ہانی تمہیں پتا ہے میں نے تمہیں ۔۔۔۔”
باقی کی بات زین کے منہ میں ہی رہ گئی تھی جب ہانی غصے سے چلا اٹھی تھی ۔۔۔۔
” مت لو میرا نام اپنی زبان سے۔۔۔ مر گئی ہے ہانی اب تمہارے سامنے صرف حمنہ کھڑی ہے ہادی کا ماں!”
اس کے منہ سے یہ الفاظ سن کر زین کو غصہ نہیں آیا تھا ۔۔۔ بلکہ اسے ایک خوشگوار حیرت ہوئی تھی یہ جان کر کہ ہادی اس کا بیٹا ہے ۔۔۔۔
” یہ ہمارا بیٹا ہے ؟”
زین خوشی سے پوچھ رہا تھا جبکہ غصے کی شدت سے ہانی کا وجود ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا ۔۔۔
اس سے قبل وہ کچھ اور کہہ پاتا ۔۔۔ ہانی کے چیخنے کی وجہ سے آہستہ لوگ ان کے گرد اکٹھے ہونے لگے تھے ۔۔۔
اس لیے ہانی ہادی کا ہاتھ پکڑے فوراً وہاں سے نکلی تھی جبکہ زین نے ابھی اس کا پیچھا نہیں کیا تھا۔
وجہ ایک تو لوگوں کا مشکوک انداز میں دیکھنا تھا۔ دوسرا اب جب اسے پتہ چل گیا تھا کہ ہانی اسی شہر میں رہتی ہے تو اس کے لیے ہانی کا پتہ نکلوانا کوئ مشکل کام نہ تھا ۔۔۔
اور ایسا ہی ہوا تھا ۔۔ دو دن بعد وہاس کے گھر میں موجود تھا ۔۔۔
اور اس کو اپنے ساتھ واپس آنے پر مجبور کر چکا تھا ۔۔ بس اباگر وہ اسےمعاف کر دیتی تو اس کی زندگی مکمل ہو جاتی۔۔۔۔۔
ہانی کو یہاں آئے کافی دن ہو گئے تھے ۔۔۔ جس دن سے اس نے شاہ کو معافی مانگنے کے باوجود معاف نہیں کیا تھا۔ تب سے شاہ نے اس کے سامنے آنا کم کر دیا تھا۔
اور اسی بات سے ہانی کو مزید غصہ آنے لگا تھا۔ اس کے خیال میں کم سے کم ایک بار اور تو اسے معافی مانگنی چاہئے تھی ۔۔۔لیکن یہ شاید اس کی خوش فہمیاں تھیں ۔۔۔
ابھی وہ یہی سب سوچ رہی تھی جب ہادی منہ بنائے اس کے پاس آیا۔۔
” ماما! ماما”
وہ کب سے اسے بلا رہا تھا لیکن وہ اور ہی خیالوں میں گم تھی جب ہادی نے اس کا بازو زور زور سے ہلانے لگا۔۔۔
” افف کیا ہے ہادی کیوں تنگ کر رہے ہو!”
ہانی نے تنگ آ کر اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔ ایک تو پہلے اسے شاہ پر غصہ آیا ہوا تھا ایسے میں اس وقت ہادی کا یوں تنگ کرنا اسے مزید جنھجھلاہٹ ہونے لگی تھی ۔۔۔
” ماما کب سے آپ نے مجھے آئسکریم نہیں کھلائی۔۔۔ “
ہادی منہ بسورتے ہوئے اپنی شکایت بتا رہا تھا ۔۔۔
” اپنے پیارے بابا سے کیوں نہیں کہتے وہ لے جائیں نا تمہیں ۔۔۔”
ہانی نے تپے ہوئے انداز میں کہا تھا ۔۔ اسے ہادی کا زین سے زیادہ اٹیچ ہونا اچھا نہیں لگا تھا۔ اسی لیے اسے ڈانٹ دیا تھا ۔۔۔
” آپ بہت بری ہیں ۔۔۔ بابا اچھے ہیں ۔۔ میں آپ سے بات نہیں کروں گا۔۔”
ہادی نے روتے ہوئے منہ موڑ لیا تھا ۔۔ اس کے رونے سے ہانی کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔ وہ جلدی سے اسے گود میں لیتے ہوئے بولی۔۔۔
” اچھا سوری ! ہم آج ہی آئسکریم کھانے جائیں گے ۔۔”
ہانی نے اسے پیار کرتے ہوئے بولا تھا ۔۔
” سچی!”
ہادی نے خوش ہوتے ہوئے ہاتھ آگے کیا تھا۔ تاکہ وہ وعدہ کرے اور اپنی بات سے مکر نہ جائے۔۔۔
” بلکل سچ!”
ہانی نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے وعدہ کیا اور اس کا گال چوم لیا۔۔۔۔
” ماما!”
ہادی نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔
” ہممم!”
ہانی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
” ماما ہم بابا کو بھی ساتھ لے جائیں ؟”
ہادی نے اس سے زین کو ساتھ لے جانے کی اجازت چاہی۔ جانتا تھا وہ زین سے چڑ کھاتی ہے اس لیے ڈرتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔ اور نتیجہ حسبِ توقع آیا تھا ۔۔۔
” بکل بھی نہیں صرف تم اور میں ! بس ہم دونوں جائیں گے ۔”
ہانی نے ایک دم غصے سے کہا تھا ۔۔
” اوکے!”
ہادی نے فوراً کہا تھا ۔۔ جبکہ ہانی حیران تھی کہ وہ اتنی آسانی سے کیسےمان گیا تھا ۔۔۔
” ٹھیک ہے میں چینج کر کے آتی ہوں پھر چلتے ہیں ۔”
ہانی اسے صوفے پر بٹھاتی خود روم میں چلی گئی ۔۔۔
جبکہ اب ہادی پیچھے کسی کو فون کرنے میں ۔صروف ہو گیا ۔۔۔
ہانی آئسکریم پارلر میں جانے ہی لگی تھی ۔ جب کسی سے اس کی ٹکر ہوئی تھی ۔۔۔
” آؤچ! “
ہانی نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جو سامنے والے کے سر سے ٹکرایا تھا ۔
لیکن سامنے نظر پڑتے ہی ایک خوشگوار حیرت نے اسے آن گھیرا اور ساتھ ہی نمی تیزی سے اس کی آنکھوں میں پھیلنے لگی تھی ۔۔۔
” ہانی تم!”
سامنے موجود لڑکی نے خوشگوار حیرت کے ساتھ اسے گلے لگایا تھا ۔۔۔
