Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 7
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 7
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
ہانی کی آنکھ کُھلی تو ہر طرف اندھیرا تھا ۔ باہر سے ہلکی ہلکی روشنی دروازے میں سے اندھیرے کو چیرتی ہوئی اندر آ رہی تھی ۔ آہستہ آہستہ جب دماغ بیدار ہوا تو اسے دن والا واقع یاد آیا اور پھر جب وہ گاڑی سامنے رُکی اس کے بعد کیا ہوا اسے کچھ یاد نہیں تھا اور اب جب آنکھ کُھلی تو وہ کہاں موجود تھی اسے معلوم نہ تھا ۔ وہ تیزی سے اُٹھ کے اندھیرے میں چیزوں سے ٹکراتی ہوئی دروازے کی جانب بڑھی جہاں سے روشنی اندر آ رہی تھی ۔ اس نے دروازہ کھولنے کی بہت کوششیں کی لیکن بے سود کیونکہ دروازہ باہر سے بند تھا ۔ ایک دم اسے کچھ غلط ہونےکا احساس ہوا وہ کہاں تھی یہ تو نہیں جانتی تھی لیکن کیوں تھی یہ وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی ۔
” سمم۔۔۔سمیرا ! ” ہانی نے ڈرتے ہوۓ سمیرا کو آواز دی لیکن کوئی جواب نہ پا کر وہ مزید ڈر گئی کیونکہ سمیرا وہاں موجود نہ تھی ۔ بے شک اندھیرے میں اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا سواۓ روشنی کی اس لکیر کے لیکن وہ سمجھ گئی تھی کہ اس کے سوا اس کمرے میں اور کوئی نہیں تھا ۔ اب صحیح معنوں میں اسے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا ۔ اس نے اپنی مدد کے لیے چیخنا شروع کر دیا ۔
” کوئی ہے ؟ پلیز مجھے یہاں سے باہر نکالو ۔ تمہیں اللّٰه کا واسطہ ہے مجھے جانے دو ۔ پلیز میرے گھر والے بہت پریشان ہوں گے ۔” وہ دہائیاں دیتے ہوئے دروازہ پیٹ رہی تھی لیکن وہاں اس کی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا ۔ باہر سے شور شرابے اور تیز میوزک کی آواز آ رہی تھی گویا وہاں کوئی فنکشن ہو رہا تھا ۔ یہ ہانی کا اندازہ تھا اور اس کا اندازہ درست تھا کیونکہ باہر زین اور نرمین کی منگنی کی تقریب چل رہی تھی۔ اس کو حویلی کی پچھلی جانب موجود کوٹھڑی میں بند کیا گیا تھا جہاں وہ تو باہر کا شور سُن سکتی تھی لیکن اس کی دہائیاں سننے والا کوئی نہیں تھا ۔
سمیرا کی آنکھ کُھلی تو خود کو ہاسپیٹل میں پایا ۔ ادھر اُدھر نظریں دوڑا کر دیکھنا چاہا کہ اس وقت وہ کہاں جب ایک نوجوان مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا ۔
” اب کیسی طبیعت ہے آپ کی؟” بہت شائستگی سے پوچھا گیا ۔ سمیرا نے ذہن پر زور ڈالا کہ وہ یہاں تک کیسے پہنچی اود نا سمجھی سے سامنے والے کی طرف دیکھنے لگی۔
” آپ مجھے سڑک ہر بیہوش ملی تھیں اور میں ہی آپ کو ہاسپیٹل لایا تھا ۔” اس نے سمیرا کی پریشانی بھانپتے ہوئے بتایا۔ سمیرا کے ذہن میں جھماکہ ہوا اور اسے صبح جو کچھ ہوا ایک ایک کر کے یاد آنے لگا ۔ لیکن یہ کیا اس لڑکے کو اس نے پہلے کہیں دیکھا تھا ۔ کہاں یہ اسے یاد نہیں آ رہا تھا ۔ اور جیسے ہی یاد آیا خوف سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں ۔
” ایسے کیا دیکھ رہی ہیں ؟ انسان ہی ہوں کوئ جن بھوت نہیں ۔” سامنے والے نے اس کی حالت سے محضوض ہوتے ہوئے چوٹ کی۔
” اگر میں نے تمہیں سب بتا دیا تو تھوڑی دیر میں تم واقعی انسان نہیں کوئ جن ہی بن جاؤ گے۔” وہ بس یہ سوچ کے رہ گئی کیونکہ کہنے کی اس کی ہمت نہیں تھی ۔وہ بس میں سوچنے لگ گئی کہ بات کیسے شروع کرے اور کیا بتاۓ اسے جبکہ سامنے والا اس کو خاموش دیکھ کر واپس صوفے پر جا کے بیٹھ گیا
حمنہ صدمے سے سامنے کھڑے شاہ کو دیکھتے ہوئے بولی۔
” میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم ایسا کرو گے ۔میرے ہی بیٹے کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ” جبکہ شاہ خاموشی سے ہادی کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ ماں کی کاپی ہے کوئی بات پیٹ میں ٹھرتی نہیں ۔
” میں جا رہا ہوں فی الحال کل صبح آؤں گا تب تک جو ضروری سامان رکھنا ہے اپنے ساتھ رکھ لو بعد میں مت کہنا ۔” یہ کہتے ہی ایک جھٹکے سے اس نے حمنہ کا ہاتھ چھوڑا اور باہر کی طرف قدم بڑھا دیے جب حمنہ نے پیچھے سے چیختے ہوئے کہا۔
” سوچنا بھی مت مسٹر شاہ کہ میں تم جیسے شخص کے ساتھ کہیں جاؤں گی ۔ میں مرنا پسند کر لوں گی لیکن تمہارے ساتھ رہنا نہیں ۔”
شاہ کو اس کی بات پہ غصہ تو بہت آیا لیکن ضبط کرتے ہوئے پیچھے مڑا اور اس کے مقابل آ کھڑا ہوا ۔
” مسز حمنہ شاہ! ” شاہ نے پھر سے اس کا نام دہرایا ۔ جانتا تھا کہ اس سے وہ چڑے گی ۔ حمنہ نے غصے سے سر جھٹکا۔
” میں تم سے پوچھ نہیں رہا کہ تم میرے ساتھ رہنا پسند کرو گی یا نہیں ۔ صرف بتا رہا ہوں کہ تمہیں میرے ساتھ رہنا پڑے گا پھر چاہے اس میں تمہاری مرضی ہو یا نہیں ۔اچھی طرح سمجھ لو تو اچھا ہے ورنہ مجھے سمجھانے کے اور طریقے بھی آتے ہیں یہ بات تم اچھے سے جانتی ہو ۔” وہ سرد لہجے میں کہتا باہر نکل گیا ۔ جبکہ سانس روکے کھڑی حمنہ نے گہرا سانس لیا اور کسی کا نمبر ملانے لگی بیل جاتے ہی کال ریسیو کر کی گئی جیسے وہ اسی انتظار میں بیٹھا تھا کہ وہ اسے کال کرے۔
” ہیل۔۔۔۔ ہیلوو! وو۔۔۔وہ یہاں آیا تھا.” وہ ہکلاتے ہوئے بس اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ کسی نے اس کے ہاتھ سے موبائل کھینچ کر دیوار پر دے مارا۔ اس نے گھبرا کر سامنے دیکھا تو شاہ کو دیکھ کر اس کی سانس ہی اٹک گئی ۔
” لگتا ہے میری ایک بار کی بات تمہیں سمجھ نہیں آتی ۔ مجھے دوسرا طریقہ اپنا نے پر مجبور مت کرو ورنہ شاہ کو جو چیز چاہئیے ہوتی وہ اسے حاصل کرنا اچھی طرح سے جانتا ہے ۔” وہ درشتگی سے کہتا واپس پلٹا ۔
” میں کوئی چیز نہیں ہوں مسٹر شاہ کہ جب آپ کا دل چاہا ساتھ رکھ لیا اور جب دل چاہا دور کر دیا۔ ایک جیتی جاگتی انسان ہوں مجھے بھی تکلیف ہوتی وہ ۔” وہ آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ بولی جبکہ شاہ نے اس کی بات سن کے بھی نظر انداز کر دی اور چلا گیا ۔ حمنہ بھی غصے سے پیر پٹختی کمرے میں چلی گئی جبکہ ہادی بس یہی کھڑا سوچتا رہا کہ وہ دونوں لڑ کیوں رہے تھے ۔
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
�
“میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ” سمیرا نے آخر ہمت کرتے ہوئے اسے سب بتانے کا فیصلہ کر لیا۔
” شکر ہے آپ نے بھی کچھ کہنا کا ارادہ کر ہی لیا ورنہ میں تو سمجھا تھا کہ مجھے ایسے ہی سارا دن بیٹھ کر آپ کے بولنے کا انتظار کرنا پڑے گا ۔” وہ شخص شرارت سے کہتا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔ سمیرا کو اس سیچویشن میں اس کا مزاق کرنا سخت بُرا لگا تھا لیکن اپنے تاثرات کو نارمل رکھتے ہوئے اس نے بات شروع کی جسے سن کر سامنے والے کے تاثرات ضرور بدل رہے تھے اب اس کے چہرے پر شرارت کی بجائے غصہ تھا اور آنکھیں ضبط کی شدت سے سُرخ ہو چُکی تھیں ۔ اسکا غصہ دیکھ کر کچھ لمحے تو سمیرا سانس لینا تک بھول گئی۔
جب شور کر کر کے تھک گئی تو وہیں دیوار کے ساتھ ٹیگ لگا کر بیٹھ گئی اور اپنے رب سے شکوے کرنے لگی۔
” کیوں اللّٰه جی میں ہی کیوں ۔؟آپ نے میرے ساتھ ہی ایسا کیوں کیا۔ آپ تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں اپنے بندے سے پھر میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں ؟” بہت سے شکوے تھے جو ختم نہیں ہو رہے تھے ۔ بہت سے کیوں کے جواب ادھورے تھے ۔ وہ کس سے پوچھتی اپنے ان “کیوں” کا جواب۔
انسان بھی کتبا عجیب ہے نا! جب اللّٰه اسے ہر چیز بنا کسی صلے کی امید کے نوازتا ہے تو یہی انسان اس رب کو یاد تک نہیں کرتا کبھی اس کا شکر گزار نہیں ہوتا۔ اللّٰه کو ہم سے بھلا کیا صلہ چاہئیے اس کی عبادت کے لیے فرشتے کم تو نہ تھے لیکن ہم انسان یہ سب سوچتے ہی کب ہیں۔ ہمیں تو بس یہی پتہ ہوتا ہے جو ہمیں مل رہا ہے وہ ہمارا حق ہے اور جہاں کہیں ہم پر زرا سی آزمائش پڑتی ہے تو ہم شکوے شکایتیں شروع کر دیتے ہیں بنا یہ سوچے کہ اللّٰه کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے جو انسان سے پوشیدہ ہوتی ہے ۔وہ رب تو تم سے ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتا تو تمہاری طاقت سے زیادہ تم پر بوجھ نہیں ڈالے گا ۔ ہمارے ایمان کمزور پڑ چُکے ہیں ہمیں یقین ہی نہیں رہا کہ جو ذات ہمیں امتحان میں ڈال رہی ہے اس نے اس امتحان میں سے نکلنے کا راستی بھی بنا رکھا ہو گا بس بات یقین کی ہے اس ذات پر۔ اگر یقین پختہ ہو تو ہر امتحان ہر آزمائش آسان ہو جاتی ہے ۔
