Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 1
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 1
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
وہ پھولتی سانسوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوئ اور اندر آتے ہی دروازہ بند کر دیا اور وہیں بیٹھ گئ جبکہ اس کے ساتھ موجود ننھا ہادی بس منہ بسور رہا تھا کیونکہ وہ اُسے اُس کی پسند کی چیزیں دلانے لے کر گئی تھی لیکن ایسے ہی واپس آ گئی تھی۔
“ماما آپ نے مجھے کھلونے کیوں نہیں لے کر دیے ؟آپ نے پڑامس (پرامس) کیا تھا لیکن پھر بھی نہیں لے کر دیے ۔ وہ انکل کون تھے ماما؟” ہادی کو بس اپنے کھلونوں کی فکر تھی لیکن ساتھ ہی وہ اُس سے وہ سوال بھی کر گیا جس سے وہ خود بھاگ رہی تھی ۔
اُس نے ہادی کی جانب دیکھا او ر ایک سرد آہ بھر کے رہ گئی ۔
“میں آپ کو دوبارہ لے جاوں گی بیٹا ابھی تنگ نہیں کرو ماما کو” اُس نے ہادی کو ٹالنا چاہا۔ لیکن ہادی کی سُوئ وہیں اٹکی ہوئی تھی ۔ وہ پہلے ہی کافی پریشان تھی ۔اس لیے اُس کا دھیان بٹانے کی کوشش کرنے لگی ۔”
“وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاوں کا عالم رہا جدائ نہ تھی ۔۔”
اُس نے گاڑی چلاتے ہوئے ریڈیو آن کیا جہاں یہ گانا لگا ہوا تھا۔ ماضی کے کئ لمحے اُس کے سامنے سے گزرنے لگے تب ہی اُس نے گھبرا کر بریک پر پاؤں رکھا ۔ ٹائروں کی آواز کے ساتھ گاڑی رُک گئی ۔اُس نے ڈیش بورڈ پہ پڑا موبائل اُٹھایا اور کوئ نمبر ملانے لگا ۔ بیل جاتے ہی کال ریسیو کر لی گئی ۔”
“ہیلو! جی کمال صاحب ایک ضروری کام تھا آپ سے۔”
دوسری جانب سے کچھ پوچھا گیا اور فوراً اُس نے جواب دیا” جی آج یا کل تک میں آپ کے آفس آ کر ساری تفصیل بتاتا ہوں. ” اور فون بند کر دیا ۔
صبح کے دس بج چکے تھے لیکن وہ ابھی تک نہیں اُٹھی تھی ۔ زینب بیگم کئ بار اُسے جگا چکی تھیں لیکن وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی ۔ اب کی بار زینب بیگم نے پانی سے بھرا گلاس اُس کے اوپر اُنڈیل دیا جس سے وہ فوراً ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھی۔
“کیا ہے اماں! سکون سے سونے بھی نہیں دیتی ۔ مہینے میں تین دن کی تو چُھٹی آتی ہوں گھر اُس میں بھی سکون نصیب نہیں ۔”اُس نے بیزاریت سے مُنہ بناتے ہوئے آتی ہوی جمائ کو روک کر کہا۔
“تو کون سا ہم پر احسان کر رہی ہو اپنا ہی شوق پُورا کر رہی ہو۔” زینب بیگم چڑتے ہوئے بولیں۔
ارے کیا صبح صبح شور مچا رکھا ہے بھئ ۔ کیوں اِس بیچاری کے پیچھے پڑ گئی ہو۔ اتنے عرصے بعد تو آتی ہے میری بیٹی۔” اظہار صاحب دونوں کی بحث کی آواز سُن کر اندر داخل ہوتے ہوئے بولے ۔
زینب بیگم کے تو جیسے سر پہ لگی اور پاؤں پہ بُجھی۔ وہ غصے میں بولیں ۔”ہاں بس ایک آپ اور آپ کی بیٹی ہی صحیح ہے باقی سب تو جیسے دُشمن ہوں۔” اور پیر پٹختی باہر چکی گئیں ۔
“کیوں تنگ کرتی ہو ماں کو ؟” زینب بیگم کے جاتے ہی اظہار صاحب نے اُس سے پوچھا۔ جس پر وہ منہ بنا کر بولی ۔
” میں کہاں تنگ کرتی ہو بابا !وہ تو خود ہی تنگ ہو جاتی ہیں” اور ساتھ میں ایک شرارتی مُسکراہٹ اُن کی طرف اُچھالتی ہوئ واش روم میں گُھس گئی ۔ اظہار صاحب بھی مُسکرا کر اُٹھ گئے ۔ اُن کے جاتے ہی رانیہ اندر داخل ہوئ۔
“ہانی آپی جلدی باہر آئیں اماں بُلا رہی ہیں ۔”اور واپس باہر چلی گئی ۔
“میں نہیں آؤں گی کہہ دو اماں کو .” ہانی نے ماں کو چِڑانے کے لیے کہا ” لیکن رانیہ نے سُنا ہی نہیں کیونکہ وہ جا چُکی تھی ۔
اظہار صاحب اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے ۔ اُن کی شادی اپنی خالہ ذاد زینب بیگم سے ہوئ تھی ۔جو اخلاق کی بہت اچھی تھیں مگر غُصےکی ذرا تیز تھیں ۔لیکن پھر بھی اُن کی زندگی بہت خوشگوار گُزر دہی تھی ۔ اظہار صاحب اور زینب بیگم کے تین بچے تھے ۔ سب سے بڑا بیٹا ذولقرنین تھا جو کہ ایم۔ بی ۔اے کر کے اب فارغ ہوا تھا ۔ اُس سے چھوٹی ہانی تھی جو بی۔ایس کر رہی تھی اور سب سے چھوٹی رانیہ تھی جو ابھی ایف۔ایس۔سی میں تھی ۔ ہانی اسلام آباد میں یونیورسٹی میں ہڑھتی تھی اور ہاسٹل میں رہتی تھی ۔ اظہار صاحب کا تعلق ایک گاؤں سے تھا جہاں لوگوں کی توجہ پڑھنے لکھنے کی طرف کم تھی۔ پھر بھی ایسے ماحول کے باوجود انہوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوای۔
یار تم ہم دوستوں میں ہمیشہ سب سے لیٹ ہوتے ہو ۔مانا کہ تمہارا جو بیک گراؤنڈ ہے اُس میں تمہیں لوگوں کو اپنے آگے پیچھے گھمانے کی عادت ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اب دوستوں کے ساتھ بھی تم یہی سب کرتے پھرو ۔” زین کے آتے ہی شجاع کے ہمیشہ کی طرح شکوے شکایتیں شروع ہو چکے تھے جن کو ختم کرنا ناممکن تھا ۔
زین کا تعلق وڈیروں کے خاندان سے تھا۔ زین کے والدین کا انتقال اُس کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ زین سے دو سال چھوٹا حنین تھا ۔ دونوں کو ان کی دادی نے پالا تھا جن کو وہ بی جان کہتے تھے ۔ حنین اپنی سٹڈی کے لیے لندن چلا گیا تھا جبکہ زین نے اپنی سٹڈی ختم ہوتے ہی اپنا بزنس سنبھل لیا تھا ۔
