229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 27

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

” کک کیا ہوا نرمین چچا سائیں کو؟”

نرمین کا گھبرایا چہرہ دیکھ کر ایک منٹ لگا تھا زین کو سمجھنے کہ ضرور کچھ ہوا ہے ۔۔۔

” زز زین وو وہ بابا ! وہ کہہ رہے ہیں کہ۔۔۔بابا نن نہیں زین میرے بابا کو کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔”

نرمین روتے ہوئے نیچے بیٹھتی جا رہی تھی ۔۔۔

” نرمین حوصلہ رکھو پلیز۔۔۔”

زین اس کی آدھی ادھوری بات سمجھ چکا تھا ۔۔۔

” حوصلہ ! کیسے کروں حوصلہ ۔۔۔ زین وہ لوگ کہہ رہے ہیں میرے بابا اب نہیں رہے اور تم کہہ رہے ہو کہ میں حوصلہ کروں ۔۔”

نرمین کی حالت بگڑ رہی تھی ۔۔ وہ ہزیانی سی چیخے جا رہی تھی ۔ صدمہ ایسا تھا کہ وہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔

” نرمین پلیز خود کو سنبھالو اگر تم ایسا کرو گی تو چچی کو کون سنھالے گا۔۔۔”

زین اسے حوصلہ دیتے ہوئے سمجھانا چاہ رہا تھا ۔۔ جب اچانک سے نرمین اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔

” امی! امی نن نہیں انہیں سنبھالنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ انہیں فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔ یہ سب انہی کا کیا دھرا ہے ۔۔ انہوں نے مارا ہے میرے بابا کو۔۔۔ وو وہ قاتل ہیں ۔۔”

جانے نرمین کو کیا ہوا تھا ۔۔ کہ آج وہ شاید اپنا ہر گناہ قبول کرنا چاہتی تھی ۔۔

” کیا کہہ رہی ہو نرمین ہوش کرو۔۔۔”

زین کو اس کی باتیں سمجھ نہیں آ رہیں تھیں ۔۔ تبھی وہ اس ہوش میں لانا چاہ رہا تھا ۔ جب نرمین نے زور سے اس کے ہاتھ جھٹکے ۔۔۔

اور اٹھ کر وہاں سے جانے لگی۔۔۔ وہ زور زور سے اپنا سر نفی میں ہلا رہی تھی ۔۔ اس کی حالت دیکھ کر زین کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا۔۔

” نن نہیں نہیں زین میرے بابا کو کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ وہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں ۔۔ “

نرمین آہستہ آہستہ قدم پیچھے کی جانب کرنے لگی۔۔ لیکن اس کا سر اس قدر بھاری ہو رہا تھا کہ اسے اپنے قدموں پر کھڑے رہنا مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔

سر میں شدید درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں ۔۔وہ اپنا سر تھامتی پیچھے ہو رہی تھی لیکن درد اتنا شدید تھا کہ وہ برداشت نہ کر سکی اور وہیں گر گئی تھی ۔۔۔

” نرمین !”

زین گھبرایا ہوا اس کی جانب بڑھا۔۔۔

جبکہ حنی اس کی حالت دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ کیا یہ اس کا کوئی نیا ڈرامہ ہے ۔۔۔ ہانی کو اس وقت نرمین سے شدید ہمدردی محسوس ہو رہی تھی ۔۔

وہ جیسی بھی تھی ۔۔لیکن ایک انسان تھی اور اس وقت قابلِ رحم حالت میں تھی ۔۔ ہانی اس کا دکھ سمجھ سکتی تھی ۔۔ اس نے بھی اپنے اپنوں کو ہمیشہ کے لیے کھویا تھا ۔ اپنوں کے بچھڑنے کا دکھ وہ سمجھتی تھی ۔۔

زین نے جلدی سے نرمین کو اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور اس کا چہرہ تھپتھپانے لگا۔۔۔

” حنی تم اس کا خیال رکھنا ۔۔ جیسے ہوش میں آئے اسے کے کر حویلی پہنچا ۔۔ میں ڈیڈ باڈی لے کر سیدھا حویلی کی طرف نکل آؤں گا۔۔۔۔”

یہ کہہ کر وہ فون پر کوئ نمبر ملاتے ہوئے باہر کی جانب چلا گیا ۔۔ اس وقت اسے اکیلے سب کچھ سنبھالنا تھا ۔۔ اس شجاع کی کمی بہت محسوس ہوئی۔۔۔

وہ چاہ کر بھی اسے نہیں بلا سکتا تھا کیونکہ کہ کچھ عرصہ پہلے اچانک شجاع اپنی فیملی کے ساتھ بنا بتائے باہر شفٹ ہو گیا تھا ۔۔

حنی ہانی کو نرمین کو دیکھنے کا کہہ کر اپنے روم میں چلا گیا تھا تاکہ چینج کر کے حویلی جانے کی تیاری کرے۔۔۔

ابھی حنی کو گئے کچھ پل گزرے تھے جب نرمین ایک دم چیختے ہوئے ہوش میں آئی تھی ۔۔

” بابا!”

نرمین نے خوفزدہ چہرے سے اٹھ کر آس پاس کو جائزہ لیا۔۔ اس کو اٹھتا دیکھ کر ہانی فوراً اس کے پاس آئی تھی ۔۔۔

” نرمین !”

ہانی نے نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پکارا۔۔

” زین کہاں ہے؟”

نرمین نے بنا کوئی بات کیے سیدھا زین کا پوچھا تھا ۔۔

” وہ ہاسپیٹل گئے ہیں ۔”

ہانی نے بنا کوئی مزید بات کیے اسے بتایا ۔۔۔

” کیا! وہ کیسے مجھے یہاں چھوڑ کر خود جا سکتا ہے ۔۔۔وہ میرے بابا ہیں ۔۔ “

نرمین کی طبیعت پھر سے بگڑنے لگی تھی ۔ وہ چیختی ہوئی بیڈ سے نیچے اتری اور دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔۔ جب ہانی بھی اس کے پیچھے لپکی ۔۔۔

” ککاں جا رہی ہو نرمین ؟”

ہانی تقریباً اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی وہ بنا جوتے پہنے باہر نکل کر گاڑی کی طرف جا رہی تھی جب ہانک نے اس روکتے ہوئے پوچھا ۔۔

” ہاسپیٹل اپنے بابا کے پاس ۔۔”

مختصر جواب دیتے ہوئے وہ رُکی نہیں اور گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی اور گاڑی فوراً گیٹ سے باہر لے گئ۔۔

اس کا ذہن اس وقت ڈسٹرب تھا ۔ ہانی بھاگتی ہوئی اندر حنی کو بتانے جا رہی تھی ۔ جب گاڑی کی آواز سن کر وہ بھی باہر آ چکا تھا ۔۔۔

” گاڑی لے کر کون گیا ہے ؟”

اس سے پہلے ہانی کچھ بتاتی حنی نے خود ہی جلدی میں پوچھا ۔۔

” نرمین !”

ہانی نے در جھکائے جواب دیا۔۔

” کیا آپ نے اسے جانے کیوں دیا جانتی بھی ہیں کہ اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اس کو اکیلا جانے دیا جائے ۔”

جلدی سے کہتا وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔ اور بنا اس کے جواب کا انتظار کیے باہر نکل گیا۔۔۔

نرمین رش ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہاسپیٹل جا رہی تھی ۔ لیکن اچانک پھر سے اس کے سر میں درد کی ٹیسیں اٹھنی شروع ہو گئی تھی ۔ ۔۔

جنہیں وہ حد درجہ نظر انداز کرتے ہوئے جلد از جلد ہاسپیٹل پہنچنا چاہتی تھی ۔۔۔ لیک. درد تھا کہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔۔۔

اپنے ایک ہاتھ سے سر کو تھامے دوسرے ہاتھ سے ڈرائیو کر رہی تھی ۔۔

لیکن اب درد اس کی برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا ۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھام لیا ۔۔۔۔ اس بات سے انجان کہ گاڑی اب خود اپنا راستہ طے کر رہی تھی ۔۔۔۔

اس نے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھام رکھا تھا ۔ گاڑی فل سپیڈ میں بے قابو ہو چکی تھی ۔ اس کو خود ہوش نہ تھا۔

آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔۔ جب اچانک گاڑی کسی بڑی گاڑی سے جا ٹکرائی۔۔۔

اب سر کے ساتھ ساتھ اسے اپنے جسم میں جا بجا کچھ گڑھتا ہوا محسوس ہو رہا تھا شاہد کانچ۔۔۔

وہ چیخ بھی نہیں پا رہی تھی ۔۔ آنکھیں کھولنا چاہتی تھی لیکن وہ اس کی مخالفت کرتی بند ہوتی جا رہی تھیں ۔۔۔

آخری چیز جو اس کے کانوں نے سنی تھی وہ یہ تھی ۔۔۔

” لگتا ہے نہیں بچے گی ۔۔۔ بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔۔۔”

اس کے بعد کیا ہے اسے کچھ معلوم نہ ہو سکا ۔۔۔ وہ ہوش و خورد سے بیگانہ ہو چکی تھی ۔۔۔۔

آج ایک ہفتہ ہو گیا تھا لیکن نرمین کو ہوش نہ آیا تھا ۔۔ اس کو وجود مشینوں میں جکڑا ہوا تھا ۔۔۔

کیسی سزا ملی تھی اسے کہ اپنے باپ کا آخری دیدار تک نہ کر پائی تھی ۔۔۔

سکینہ بیگم رو رو کے پاگل ہوۓ جا رہی تھیں ۔۔ ایک شوہر کے جانے کا غم اوپر سے اکلوتی اولاد زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی ۔۔۔ اب بس دیکھنا تھا کہ کب ان دونوں میں سے کوئی ایک جیتتا ہے ۔۔۔۔

اس سب کے دوران اچانک سے ہانی کہاں غائب ہو گئی تھی کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔۔سوائے حنین کے۔۔۔

زین نے اسے نہت ڈھونڈا تھا ۔ لیکن وہ اسے کہیں نہیں ملی۔۔۔۔

” بھائی!”

حنی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے اسے پکارا۔۔۔ وہ جو سر نیچے کیے دونوں ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا ۔۔ سرخ آنکھیں لیے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔۔

” بھائی اب مجھے بھی اجازت دیں ۔۔ میں واپس جا رہا ہوں ۔ایک گھنٹے بعد کی فلائٹ ہے۔۔۔”

حنی نے اسے دکھ سے دیکھتے ہوئے اجازت مانگی۔۔۔ وہ اب مزید یہاں نہیں رہنا چاہتا تھا ۔۔۔ جہاں سے اسے صرف بے اعتباری ہی ملی تھی ۔۔۔۔۔

” تم بھی مجھے چھوڑ کر جا رہے ہو ۔”

زین نے آس بھرا شکوہ کیا تھا ۔۔۔کہ شاید ہی وہ رک جائے ۔۔۔

” بھائی پلیز ۔۔۔ مجھے مجبور مت کریں ۔”

حنی نے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔ زین نے اسے گلے لگا کے اجازت دے دی۔۔۔

وہ خاموشی سے واپس پلٹ گیا۔۔۔

جس رات نرمین کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا ۔ ہانی نے حنین سے مدد مانگی تھی ۔۔ کہ یہاں سے جانے میں وہ اس کی مدد کرے۔۔۔

پہلے تو حنی نے منع کر دیا تھا لیکن پھر اس کے ساتھ ہوئے سلوک کا سوچ کر اس نے حامی بھر لی۔۔۔

صبح سجاول کا جنازہ ادا کر کے وہ واپس اسلام آباد آ گیا تھا ۔۔ سب اس قدر دکھ میں تھے اس لیے اس کو فوتگی کا گھر یوں چھوڑ کر واپس جانا کسی نے نوٹ نہیں کیا تھا ۔۔۔

زین بھی سکینہ بیگم کو لے کر سیدھا ہاسپیٹل ہی چلا گیا تھا ۔

حنین ہانی کے بتائے ایڈریس پر اسے چھوڑنے گیا تو پتہ چلا کہ وہ لوگ تو عرصہ پہلے مکان چھوڑ کر جا چکے تھے ۔۔۔

ہانی کدی صورت واپس نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔ اسی لیے حنین نے اسے ٹکٹ کروا کر کراچی بھیج دیا ۔۔۔ اور اپنے ایک دوست کی مدد سے اس کی رہائش کا انتظام بھی کروا دیا۔۔۔۔

وہاں جا کر ہانی نے مزید حنی کا احسان لینے کی بجائے اپنے کیے جاب ڈھونڈنا شروع کر دی تھی ۔۔۔

حنی کو گئے تین دن ہو چکے تھے ۔ زین بلکل اکیلا رہ گیا تھا ۔۔۔

اس وقت بھی وہ نرمین کے قریب پڑے صوفہ پر بیٹھا تھا ۔۔۔جب اچانک اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔۔

زین اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گیا تھا ۔۔ ڈاکٹرز کو بلانے کے لیے باہر بھاگا تھا ۔۔۔

تھوڑی دیر میں اسے ہوش آ گیا تھا ۔ لیک اس کی کنڈیشن اتنی سیریس تھی کہ اسے ابھی بھی آئی سی یو میں ہی رکھا گیا تھا ۔۔۔

” زین!”

ہوش میں آتے ہی نرمین نے سب سے پہلے اسے ہی پکارا تھا ۔۔۔

” کیا ہوا ۔۔۔ میں یہیں ہوں۔۔”

زین اس کے قریب آیا تھا ۔۔۔ سکینہ بیگم ایک کونے میں کھڑی خاموشی سے آنسو بہا رہی تھیں ۔۔ ان کی زندگی اجڑ چکی تھی ۔۔۔ جس بیٹی کے لیے ساری زندگی دوسروں کی زندگیاں چھینتی رہی تھیں آج وہ خود نوت کی دہلیز پر کھڑی تھی ۔۔۔

نرمین نے اٹھنا چاہا لیکن وہ ایک انچ پاؤں نہیں ہلا پائی۔۔۔

” زین زین میرے پاؤں کیوں نہیں ہل رہے۔۔۔؟ “

وہ ہزیانی سی اس سے پوچھ رہی تھی ۔۔

” کچھ نہیں نرمین شاید کمزوری ہو گئی ہے اس لیے۔۔”

زین نے بیٹھنے میں اس کی مدد کرتے ہوئے نظرکں چرائی تھی ۔۔

سکینہ بیگم نے منہ دکھ سے پھیر لیا وہ اد کی حالت نہیں دیکھ سکتی تھیں ۔۔۔

” نن نہیں !”

سامنے نظر پڑتے ہی نرمین کے منہ سے چیخ نکلی تھی ۔۔۔ سکینہ بیگم نے دکھ سے انکھیں میچ لیں وہ اس کو تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھیں ۔۔۔۔

” نرمین !

نرمین پلیز سنبھالو خود کو ۔۔۔ “

زین نے آگے بڑھ کر اسے خود سے لگا کر سنبھالنا چاہا۔۔۔

” زین میرے پاؤں ! وہ زین ۔۔۔۔”

نرمین پاگلوں کی طرح چیخے جا رہی تھی ۔ زین کے لیے اسے سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔

” بس!”

سکینہ بیگم دے مزید برداشت نہ ہوا جب وہ چیختے ہوئے اسے چپ کروانے لگیں۔۔۔ نرمین بس منک کھولے مان کو دیکھنے لگی۔۔۔

” بس کر دو نرمین ۔۔۔ سمجھ لو یہ حقیقت اب تم کبھی اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی ۔۔صرف یہ ہی نہیں تمہیں برین ٹیومر بھی ہے لاسٹ سٹیج۔۔۔”

وہ گویا اس کے کانوں میں دھماکے کیے جا رہی تھیں ۔۔۔ نرمین سُن ہوتے ذہن کے ساتھ ان کے کیے انکشاف کو سن رہی تھی ۔۔۔

سکینہ بیگم خود بھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں ۔۔۔ لیک اب نرمین کے آنسو خشک ہو چکے تھے ۔۔۔ وہ بس ساکت ہوئی ان باتوں پر یقین کرنا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔

تصدیق کے لیے اس نے شین کی جانب دیکھا تو وہ بھی نظریں چراتا منہ موڑ گیا تھا ۔۔۔۔

اب شک کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی تھی ۔۔۔اسےالنے حواس سلب ہوتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔