Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode

نمرہ بیگم انہیں کمرے سے نکلتا دیکھ کر انکی جانب بڑھی پہلے اویس صاحب اور حسن صاحب نے انکو گلے لگایا اور انہیں بتا کر مسجد کی طرف بڑھے
ان سب نے جاگ کر صبح کا انتظار کیا تھا اور اسکے ہوش میں آتے ہی اندر کی طرف بڑھے مگر اندر جانے کی سب کو اجازت نہیں تھی ایک ایک کرکہ جانا تھا سب سے پہلے نمرہ بیگم گئی تھی
انہوں نے حسن صاحب سے کہا تھا کہ وہ چلے جائیں مگر انہوں نے منع کردیا تھا وہ ماں تھی انکا حق تھا اتنا کہ وہ جاکر اس سے پہلے مل لیں اور ویسے بھی اب وہ ٹھیک تھی اگر وہ دوسری باری میں ملتے تب بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا
نمرہ بیگم اندر گئی تو وہ پٹیوں میں لپٹی پڑی تھی اسکے سر اور کندھے پر پٹی بندھی ہوئی تھی نمرہ بیگم کو دیکھ کر وہ ہلکا سہ مسکرائی
نمرہ بیگم نے اسے گلے لگایا اور رونا شروع کردیا کتنے گھنٹوں بعد وہ اسے دیکھ رہی تھی عجیب سے حالت تھی انکی
آئیم سوری وری انہوں نے روتے ہوئے اس سے معافی مانگی
اوہو ماما معافی نہ مانگیں میں ٹھیک ہوں آپ سب کی دعائو کی وجہ سے ور نے بہت آہستہ سے کہا
وہ کچھ دیر وہاں رک کر باہر آگئی تھی پھر حسن صاحب اندر آئے
انہوں نے کچھ بھی نہیں کہا تھا بس خاموشی سے بیٹھ گئے تھے اسکے بیڈ کے پاس چیئر گھسیٹ کر وہ اسکی طرف نہیں دیکھ رہے تھے جیسے جانتے ہو اسکو پٹیون میں لپٹا دیکھ کر انہیں تکلیف ہوگی بہت
بابا کیا آُ مجھ سے ناراض ہیں وری نے افسردگی سے پوچھا
حسن صاحب نے آنکھ میں آنے والا آنسو صاف کیا اور اسکے سیدھا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس پر بوسہ دیا اور محبت سے کہا
میں تم سے ناراض ہوسکتا ہوں کیا
وری نے نفی میں گردن ہلائی
میں ڈر گیا تھا وری میں اپنی اتنی پیاری بیٹی کو نہیں کھو سکتا تمہیں پتا ہے مینے تمہاری پیدائش سے پہلے دعا کی تھی کہ مجھے بیٹی چاہیئے مجھے محبت تھی بیٹیوں سے ہماری ایک ہی بہن ہیں اور وہ میری لاڈلی رہی ہے ہمیشہ سے اسی وجہ سے شاید تم بھی اسکی لاڈلی ہو
ایسا نہیں ہے کہ مجھے بیٹے نہیں پسند اولاد تو اولاد ہوتی ہے بیٹے ہوں یا بیٹیاں لیکن بس اللہ نے میرے دل میں زیادہ محبت بیٹیوں کیلئے ڈالی ہے جانتی ہو کیوں
وری نے ایک دفع پھر نفی میں سر ہلایا
وہ بہت معصوم نرم دل کی ہوتی ہیں ان سے جتنی محبت کی جائے وہ اس سے زیادہ ڈبل محبت آپکو دیں گی جس سانچے میں ڈھالوگے اس سانچے میں ڈھل جائے گی
اور تم تو میری بہت پیاری بیٹی ہو وری جس نے کبھی اپنے باپ کا سر نیچے نہیں ہونے دیا جس نے کبھی اپنی حدود کو نہیں پھلانگا
بابا اسکی بھی ایک وجہ آپ تھے آپ نے کبھی اپنے اور میرے درمیان فاصلوں کو نہیں آنے دیا کبھی محبت میں کمی نہیں آنے دی
اور جب اولاد کو اپنے گھر سے اتنی محبت مل رہی ہو تو وہ کیوں باہر محبتیں تلاش کرے گی
انہوں نے وری کی بات سن کر اثبات میں سر ہلایا اور کہا
ہاں ہمارے معاشرے ک بہت سے ایسے والد ہیں جنہوں نے اپنے اور اپنی اولاد کے درمیان بہت سے فاصلے پیدا کردیتے ہیں تاکہ وہ انکے روب میں رہیں
حناکہ یہ فاصلے آپکا روب تو ڈال دیتے ہیں مگر ان کے دل میں آپ کے لئے محبتیں نہیں ڈالتی یا تو پھر بیٹیاں مردوں سے نفرت کرنے لگ جاتی ہیں یا باہر کے مردوں میں نفرت تلاشنے لگ جاتی ہیں اور ویسے بھی بیٹیوں کو تو زیادہ پیار سے رکھنا چاہیئے بھائیوں کو بھی اور والدین کو بھی کیونکہ وہ تو اگلے گھر چلی جاتی ہیں
وری نے انکی بات سن کر مسکراہٹ دبائی اور کہا
اس لئے ان سے کھانا پکوانا اور جھاڑو پوچھا نہیں کروانا چاہیئے پچاریاں اگلے گھر چلی جاتی ہیں وہاں بھی یہ سارے کام کرنے پڑتے ہیں انہیں اسکی بات سن کر حسن صاحب کھل کر مسکرائے
یہ بات تم اپنی ماں کہ سامنے کرنا تو وہ زیادہ اچھا جواب دیں گی تمہیں وری نے انکی بات سن کر نفی میں سر ہلایا
توبہ کریں انکے سامنے بولو انکے سامنے بولنا ہوتا تو آُ سے کیوں بولتی پاغل تھوڑی نہ ہو جو بولو آبیل مجھے مار
حسن صاحب اسکی بات سن کر دل سے ہنسے تھے
ویسے وری میرے لئے کیا کیا چھوڑ سکتی ہو تم اسکا سانس لینا باتیں کرنا حسن صاحب کو زندگی کی طرف لے آیا تھا اور اب انہیں مزاق سوج رہا تھا
سب کچھ دنیا چھوڑ سکتی ہوں بلکہ سیب کھانا بھی چھوڑ سکتی
کیا کاشان احمد کو چھوڑ سکتی ہو انہوں نے مسکراہٹ دبا کر کہا
اب ایسا مزاق نہ کریں اسکو تو مینے مصیبت کے وقت گدا بنایا ہے اس سے شادی کر کہ میں آپکے قریب رہ سکوں گی نہ
اسکی بات سن کر انہوں نے دل سے قہقہ مارا
میرے سامنے میرے بیٹے کو گدا بول رہی ہو انکی بات سن کر وری آئیبرو اچکائی
واہ بیٹی نے شوہر بنایا نہیں اور اپنے پہلے ہی بیٹا بنا لیا واہ تالیاں ہیں حسن صاحب آپکے لئے وری نے بھی انکے انداز میں کہا
اور وہ جو کب سے قہقہ روکے بیٹھے تھے اب کی بار اس تکلف میں نہیں پڑے اور زور دار قہقہ لگایا
تم بہت زیادہ بےشرم ہوتی جارہی ہو وری انہوں ہنستے ہوئے کہا تو وری نے بھی چمک دار آنکھوں کے ساتھ کہا
برا نہ منائی گا حسن صاحب پر یہ آپکی صحبت کا اثر ہے وری نے آنکھیں معصومیت سے جھپکا کر کہا
اگر ابھی تم بستر پر نہ پڑی ہوتی تو میں ایک ضرور لگاتا تمہیں
اسی لئے اس حالت میں بولا ہے
اکثر بیٹیاں اپنی مائوں سے اتنا فری ہوتی ہیں مگر یہاں الگ حساب تھا وہ نمرہ بیگم سے ایسے مزاق نہیں کرتی تھی یہ مزاق صرف ان باپ بیٹی کے درمیان رہتا تھا
ہوتا ہے ہر گھر میں اگر والد اسٹرکٹ ہو تو والدہ اتنی نہیں ہوتی اور اگر والدہ سخت ہوں تو والد نرم مزاج کے ہوتے ہیں حسن صاحب کافی دیر اس سے بات چیت کر کہ گئے تھے
اسکے بعد باری باری سب ہی اس سے ملے تھے سب سے لاسٹ میں ہمارے کاشان صاحب تشریف لائے تھے
اسنے وہ اس سے کوئی بات نہیں کررہا تھا جیسے ابھی تک اس فیلنگز سے باہر نہیں آپایا ہو
تم ٹھیک ہو کاشی اسکے کاشی سے پوچھنے پر کاشی نے حیرت بھری نظروں سے اسے دیکھا اور آہستہ سے بولا
یہ سوال مجھے پوچھنا چاہیئے تھا
ہاں تو کوئی بات نہیں اگر مینے پوچھ لیا وری نے نرمی سے کہا
کیا تمہیں درد ہورہا ہے ہاتھ میں کاشی نے آہستہ سے پوچھا
نہیں اب درد نہیں ہے
اسکے بعد پھر دونوں خاموش ہوگئے تھے
کاشی تمہارے پاس فون ہے وری نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں ہے کشی نے اثبات میں سر ہلا کر کہا
کیا اس میں موبائل ڈیٹا چل رہا ہے وری نے ایک بار پھر معصومیت سے پوچھا
ہاں لیکن نہیں سیریسلی تمہیں بستر پر بھی سکون نہیں ہے ابھی بھی تم میں ہمت ہے کہ تم سب کو ایف بی پر ٹیگ کرو گی کہ تم ٹھیک ہو
مگر ہاتھ میں درد گولی لگنے کا درد ہے سو پلیز میرے لئے دعائیں کریں کاشی نے چڑ کر کہا
ہاں تو تمہٰں کیا مسئلہ نہیں نہیں میں سمجھ گئی تم تو جلو گے نہ جب لوگ کمنٹس کر کہ میری طبیعت کا پوچھے گا یا اپنی محبت کا اظہار کریں گے مجھ سے
وری نے منہ بنا کر اسے گھور کر کہا
تم نہیں سدھر سکتی کبھی بھی کاشان نے اسے اپنی نظروں کے حصار میں رکھتے ہوئے کہا
میں سدھرنا چاہتی بھی نہیں ہو اور اب تم نکل جائو میرے روم سے شرم تو آئی نہیں ہے خالی ہاتھ منہ اٹھا کر آ گئے ہو وری نے بھی بدلہ لیا اس سے موبائل نہ دینے پر
تمہارا روم نہیں ہے جو نکل جائو ہسپتال والوں کا ہے جس دن تمہارا ہوگا تو آئو گا بھی نہیں کاشی نے اسے چڑانے والے انداز میں کہا
یاد رکھنا اپنی بات اور یہ بھی کہ تم نے مجھے اپنا فون نہیں دیا تھا سارے بدلے لونگی میں تم سے بہت جلد وری نے اپنی ہری آنکھیں اسکی برائون چمکتی آنکھوں میں ڈال کر کہا
وہ نہیں جانتی تھی کہ ان آنکھوں میں چمک ہی اسکی وجہ سے تھی کچھ دیر پہلے وہ آنکھیں بہت ویران تھی وہ لب خاموش تھے
اور اسکو ٹھیک دیکھ کر وہ لب بار بار مسکررا رہے تھے اور وہ آنکھیں چاند سے زیادہ روشن لگ رہی تھی
ہاں لے لینا کیونکہ اب بہت جلد میں تمہیں اپنے نام کروانے والا ہوں کاشی نے محبت سے اسکو دیکھتے ہوئے کہا
میں تو جیسے تیار بیٹھی ہوں نہ کوئی نہیں ہونے والی تمہاری وری نے منہ بنا کر کہا
وہ وقت بتائے گا وریشہ حسن کاشان نے اسی دلکش انداز میں کہا
وقت ضرور بتائے گا ابھی تم نکلو میرے کمرے سے تاکہ میں باقی لوگوں سے مل لو ور واقعی بہت زندہ دل کی تھی جو اس بیماری میں بھی اتنی زبان چلا رہی تھی
کاشان نے نم آنکھوں اور دلکش مسکراہٹ سے اسے دیکھا
اسکی آںکھوں میں ایسی چمک اور لبوں پر ایسی مسکراہٹ تھی جس نے وری کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔
ختم شد 😭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *