Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28
زندگی میں پہلی بار کوئی کام کرتے ہوئے اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے اور بم اسٹارٹ ہوتا دیکھ کر اب وہ پوری کی پوری کانپ رہی تھی
کوئی مسئلہ نہیں ہے بس ویسے کریں جیسے میں کہہ رہا ہوں اس شخص نے اسے تسلی دی
اوکے وری نے اثبات میں سر ہلایا
اب نیلی تار کاٹیں اسکے کہنے پر وری نے نیلی تار ڈھونڈی اور اسے کاٹا مگر اب بھی بم چل رہا تھا
اب سفید کاٹیں اس شخص نے اگلی تار کاٹنے کا کہا
وری نے سفید تار بھی کاٹ دی اب آخری تار کاٹنی تھی ان سات تاروں میں سے
ٹائم بم پر اب آخری گنتی چل رہی تھی
دس
نو
آٹھ
سات
چھ
پانچ
چار
ہری تار کاٹیں جلدی سے
اسکے کہتے ہی وری نے ہری تار پکڑی اور
تین
دو
اور وری تار کاٹ چکی تھی بم ڈفیوز ہوگیا تھا
ان سب لوگوں نے گہری سانس لی کب سے جو انکی سانسیں اٹکی یوئی تھی اب جا کر سکون میں آئی تھی وری نے نم آنکھوں سے ان بچوں کو دیکھا جو ڈرو خوف میں تھے
بلال میجر احمد کو انفارم کرچکا تھا
وری وہاں سے اٹھ کر ایک بچے کی طرف بڑھی تھی جب اسے اس گھر کے سامنے والے گھر کی دیوار میں ایک آدمی رائفل لئے کھڑا نظر آیا
نیچے جھکو آپ سب سر جھکائو اپنا بلال تم دو بندے اپنے ساتھ رکھو دو کو میں لے کر جارہی ہو بچوں کے پاس سے زرا بھی نہیں ہلنا چاہے کچھ بھی ہوجائے
ان بچوں پر ایک خراش بھی بردوشت نہیں کرونگی وری نے یہ کہتے ساتھ دو بندوں کو ساتھ لیا اور اس گھر سے نکل گئی اس سے پہلے وری اسکا نشانہ لیتی اس شخص کی اس پر نظر پڑ گئی تھی اسنے وہی سے دوڑ لگائی
اب وہ آگے اور وری اپنی گن لیئے اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی
وہ گھروں کے اوپر سے پھلانگتے ہوئے جا رہے تھے ایک دو جگہ سے وری کے ہاتھ چھل گئے تھے مگر اتنی معمولی چوٹ سے اسکو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سر مس نور بم ڈفیوز کر چکی ہیں بچے سیف ہیں اب اور ہم انہیں پروٹیکٹ کر رہے ہیں بلال نے اسے مطلع کیا
وہ جو افسردگی اور بہت برداشت سے وہاں کھڑآ تھا اسکے چہرے پر فخریہ مسکراہت ابھری اور اسنے اپنی گن جو نیچے کی ہوئی تھی اوپر اٹھائی اور اس دہشت گرد کے دل پر دو گولیاں ماری باقی فوجی بھی اسکو گولیاں چلاتے دیکھ کر
شروع ہو چکے تھے اور اب اندھا دھن ان پر فائرنگ کر رہے تھے وہاں کے تقریبا سب ہی دہشت گرد مارے جا چکے تھے
جب کاشی نے وری کو لائن پر لینا چاہا مگر وری میڈم کو خیال ہوتا میجر صاحب کا تو وہ کال لیتی اسکی وہ تو اس شخس کے پیچھے بھاگے جا رہی تھی جو اسے پتا نہیں کہا لیکر جارہا تھا
اسکے لائن پر نہ آنے پر کاشی نے بلال کو لاہن پر لیا
بلال وریشہ کہاں ہے لائن پر کیوں نہیں ہے کاشی کی آواز میں تشویش تھی
سر ایک آدمی ہم پر نشانہ تانیں بیٹھا تھا وہ اسکے پیچھے گئی ہیں بلال نے معزرت خوانہ انداز میں کہا
اکیلی گئی ہے کیا کاشی نے پوچھتے سے ساتھ دوسری سائیڈ پر دوڑ لگائی جہاں اسکے اندازے کے مطابق وہ گئی ہوگی
نہیں دو فوجی ہیں انکے ساتھ بلال نے ایک بار پھر کہا
سیدھی ڈائریکشن میں بھاگی تھی وہ کاشی نے پوچھا
جی بلال نے اثبات میں سر ہلایا
اوکے ان بچوں کا خیال رکھو کچھ دیر میں بلٹ پروف جیپ ہمارے پاس ہوگی
تب تک انکا خیال رکھو انکو بھی ان بچوں کے پاس لے جائو مگر خیال سے ویسے تو علاقہ صاف ہو گیا ان دہشت گردوں سے مگر پھر بھی خیال رکھو
کاشی نے ہدایت دیتے ساتھ اور تیز دوڑ لگائی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وری کچھ آگے جاکر اس شخص کو پکڑ چکی تھی وہ شخص بھاگا اس لئے تھا کیونکہ اسکی رائفل میں گولیاں ختم ہو چکی تھی
مگر وری جہاں کھڑی تھی وہاں سے دو لوگ اسکو اپنی گن کے نشانے میں لئے کھڑے تھے مگر وہ وری سے کافی دور کسی چھت پر تھے اس لئے وری اس بات سے انجان تھی اسکے دو فوجی پیچھے دو دہشت گردوں سے لڑ رہے تھے
وری نے ایک ہی باری میں اسکی ایک ٹانگ پر گولی ماری اور دوسری اسکے دل پر
بزدل آدمی اتنا خوف ہے تم لوگوں کو اپنی موت کا کہ موت کو سامنے دیکھ کر بھاگ رہے ہو مگر تم زلیل لوگ اس موت سے بچ نہیں سکتے ہماری نسلیں برباد کر کہ تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ ہم تمہیں چھوڑ دیں گے تو یہ تمہاری بھول ہے
وری نے اس شخص کے منہ پر تھوکا اور سامنے کی طرف مڑی وہ کسی گھر کی چھت پر کھڑی تھی اسکی نظر پڑ گئی تھی ان میں سے ایک دہشت گرد پر وری نے بنا کوئی موقع ضایع کیئے بغیر
اسکے سر گولی ماری تھی
اور اس سے پہلے وہ بھاگتی ایک گولی اسکا کندھے میں آکر لگی تھی وہ توازن برقرار نہیں رکھ سکی تھی اور الٹے منہ گری تھی مگر گرنے سے پہلے دوسری گولی اسکا بایاں بازو چھو کر گزری تھی
پہلی گولی کاشاں احمد نے اسکو ماری تھی اور دوسی گولی اس دہشت گرد نے اسکے گولی مارتے ہی کاشی نے اس دہشت گرد کو بھی اپنی گولی سے اڑا دیا تھا
اور اب وہ وری کیلئے بھاگ رہا تھا اوپر اسنے نیچے کھڑے ہو کر اسکو گولی ماری تھی کیونکہ ان دونوں کے درمیان کافی فاصلہ تھا اگر وہ اسکو گولی نہ مارتا تو
اس دہشت گرد کی گولی اسکے سینے میں یا سر میں لگتی اور شاید اس وقت وہ آخری سانس لیتی اسی لئے اسنے اسکے کندھے میں گولی ماری تھی اس میں اسک ابھی قصور نہیں تھا وہ گولی اسکے لئے رکھی گئی تھی وہ اسکے نصیب میں تھی
وہ تکلیف سے دھری ہوتی وہاں زمین پر پڑی تھی اسے لگ رہا تھا کسی نے اسکے کندھے میں جلتا ہوا کوئلہ ڈال دیا ہے وہ تکلیف نا قابل برداشت تھی
اسکا خون کسی بیکار خون کی طرح بہہ جارہا تھا مگر وہ خون بیکار نہیں تھا وہ آرمی کی لڑکی کا خون تھا وہ اس قوم کی بیٹی اس ملک کی جان کا خون تھا وہ بیکار کیسے ہوسکتا تھا
وری آنکھیں مت بند کرنا سانس لو لمبی لمبی پلیز وری آنکھیں کھول کر رکھنے کی کوشش کرو کاشان نے اسکا سر اپنی گود میں رکھا اور اسکو گہری سانس لینے کا کہا
مگر تکلیف سے تڑپ رہی تھی اس سے سانس نہیں لی جارہی تھی اس تکلیف کی وجہ سے اسکی آنکھوں سے اشک بہہ رہا تھا
یہ بھی بڑی بات تھی کہ وہ اس تکلیف میں دھاڑی مار مار کر رو نہیں ری تھی بس آنسو بہہ رہے تھے جو اسکے اختیار میں نہیں تھے ورنہ وہ انہیں بھی روک لیتی
کاشان نے اپنے کان میں لگے آلے سے بریگڈیئر اویس کو لائن پر لیا
سر ہمیں ہیلی کاپٹر کی ضرورت ہے پلیز کچھ بھی کریں ہیلی کاپٹر یہاں بھیجیں کاشی کی آواز درد سے پھٹ رہی تھی
خود موت کے آگے کھڑے ہو جانا آسان ہے مگر اپنے کسی جان سے پیارے کو موت کی حالت میں دیکھنا بہت ازیت کا کام ہے اور
اس وقت تو ازیت بھی ڈبل ہو جاتی ہے جب اسکو وہ تکلیف آپکے ہاتھوں سےملی ہو انسان عجیب سی کیفیت میں ہو جاتا ہے اور کاشان کی بھی اس وقت ایسی ہی حالت تھی اسکو بچانے کے چکر میں وہ اسے تکلیف میں مبطلا کر گیا تھا
کیا ہوا ہے میجر ابھی تو ایک ہیلی کاپٹر واپس آیا ہے کچھ بچوں کو لیکر سر اویس نے تشویش سے پوچھا
سر وری کو گولی لگی ہیں کاشان نے درد سے پھٹی آواز میں کہا جیسے گولی وری کو لگی ہے اور اسکی تکلیف اسے ہو رہی ہو
کتنی گولیاں لگی ہیں سر اویس نے ایک ہاتھ اوپریٹر کو جنرل سے رابطے کا کہا اور اس سے بھی دریافت کیا
دو گولیاں لگی ہیں خون بہت زیادہ بہتا جا رہا ہے سر وہ بہت تکلیف میں ہے پلیز جلدی کریں کاشان نے چیخ کر کہا کیونکہ وری آنسوئو میں روانی آگئی تھی جیسے تکلیف کی شدت بڑھ گئی ہو
سر ہماری ایک آرمی آفیسر کو گولی لگی ہے ہیلی کاپٹر کی فورا ضرورت ہے پلیز فورا سے انہیں بھجوائیں اسے میڈیکل ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے سر اویس خود بھی پریشان تھے وہ بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتے تھے انکا کہاں گزارا تھا اسکے بغیر
ان سب سے بات چیت کر کہ ایک ہیلی کاپٹر وہاں بھیج دیا گیا تھا
کاشان اسے گود میں لے کر اس ہیلی کاپٹر میں چڑھا تھا اسکے چہرے سے لگ رہا تھا وہ بہت ضبط سے بیٹھا ہے ورنہ اسکا دل چارہا ہے ابھی رونا شروع کردے اسکا بس نہیں چل رہا تھا وری کی تکلیف خود لے لے
آپ سوچیں کبھی کوئی چلتا پھرتا مستی مزاق کرتا وجود ایک دم سے خاموش پڑا آپکو ملے تو آپکی کیا حالت ہوگی ویسی ہی حالت اس وقت کاشان احمد کی تھی
اسے پنجاب کہ پرائیویٹ ہسپتال میں لے جایا گیا تھا
وریشہ نور کے علاوہ انکے دو بندے اور بھی زخمی تھے
انہیں بھی اسی ہسپتال میں لے آیا گیا تھا انکو گولی نہیں لگی تھی بس چوٹیں آئی تھی جسکی ٹریٹمنٹ انہیں دی جارہی تھی
ابھی تک یہ بات میڈیا میں نہیں پھیلی تھی لیکن جیسے ہی یہ بات میڈیا میں پھلیلتی سب سے پہلے وریشہ نور کا زکر آنا تھا
کاشی جب سے اسکو لیکر یہاں آیا تھا تب سے اسی حالت میں بیٹھا تھا نہ وہ کسی سے بات کر رہا تھا نہ کچھ اور وہ ویسے ہی گم سم سہ بیٹھا تھا
اسے ایسا لگ رہا تھا وہ گولی وری کو نہیں اسکے سینے میں لگی ہے اسکا دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا جیسے انتظار میں ہو اسکے کچھ ہو جانے کی کبر آئے اور اسکی بھی روح نکال لی جائے اسکا بھی دل دھٹکنا بند ہوجائے اسنے اپنی زندگی میں اپنے بہت سے دوست کھوئے تھے
جو بہت عزیز تھے اسکے لئے مگر وریشہ نور ان سب میں خاص تھی اس وجہ سے نہیں کہ وہ آرمی میں تھی یا اسکی کزن تھی یا پھر وہ اس سے محبت کرتا تھا خود سے بھی زیادہ بلکہ وہ اسلئے اس کے لئے خاص تھی
کیونکہ وہ سب کو اپنا بنانا جانتی تھی اگر وہ اس سے محبت نہ بھی کرتا اور وہ اسکی کزن نہ ہوتی تب بھی وہ جانتا تھا وہ اس کے لئے بہت خاص ہوتی جیسے وہاں بیٹھے باقی لوگوں کیلئے تھی
کاشی کہ علاوہ اسد صائم بلال حارث اور کچھ اور آفیسر وہاں موجود تھے وہ اپنی نیند اور تھکن کی پرواہ کیئے بغیر وہاں بیٹھے تھے
اسکی خیریت جاننے کیلئے اسکے لئے دعائیں کرنے کیلئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ بات میڈیا کہ بھی ہاتھ لگ گئی تھی اور اب ہر جگہ ہر نیوز پر آرمی کی شان میں قصیدے پڑ رہے تھے کچھ انہیں محبت پیش کر رہے تھے اور کچھ وریشہ نور کیلئے دعائیں کر رہے تھے
اسکی بہادری کے بارے میں بتا رہے تھے
مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ انکی یہ باتیں کسی کو مارنے کا کام کر رہی ہیں یہ خبر سب سے پہلے احسن ولا میں حسن صاحب نے دیکھی تھی
اور یہ سنتے ہی کہ وریشہ حسن کو دو گولیاں لگی ہیں اور اسکی حالت بہت سیریس ہے انکا بی پی شوٹ کر گیا تھا
جاگنگ سے واپس آئے میرو کی جب نظر ان پر پڑی تو وہ دورتا ہوا انکی طرف بڑھا اور باقی لوگوں کو آواز دی اسکے شور سے سارے لوگ ہی نکل آئے تھے اپنے اپنے کمروں سے
اور ٹی وی پر موجود خبر سن کر ان سب نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا میرو نے آفان کی مدد سے انہیں اٹھایا اور خان بابا کو گاڑی نکالنے کا کہا
پیچھے احسن صاحب ان سب کو سنبھال رہے تھے سب زیادہ بری حالت نمرہ بیگم کی ہورہی تھی انہیں تو دو دو غم مار رہے تھے ایک تو بیٹی کا دوسرا شوہر کا دونوں ہی انہیں جان سے زیادہ عزیز تھے
حسن صاحب کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا انہیں زندگی میں پہلی بار انکا بی پی شوٹ کیا تھا
انکو فورا ہسپتال پہچانے سے انکی طبیعت سنبھل گئی تھی ابھی انہیں انجیکشن دیا تھا آدھے گھنٹے میں انہیں ہوش آنا تھا
میرو اسد اور کاشی کو فون بھی کر رہا تھا کاشی کو فون بند تھا اور اسد کا اینگیج جا رہا تھا
آفان نے اپنے ٹکٹ کروالیئے تھے ارجنٹ فلائٹ کے مگر اب جانے کا مسئلہ تھا کہ نمرہ بیگم بھی جانے کی ضد کر رہی تھی ایک دم سے ان سب کی زندگی میں طوفان آ گیا تھا
ایک ساتھ دو دو لوگوں کو سنبھالنا مشکل تھا جو وہ لوگ کر رہے تھے
اسد کا نمبر مل گیا تھا۔۔
