Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04

“جانے کیا مجھ سے یہ زمانہ چاہتا ہے
میرا دل توڑ کر مجھے ہنسانا چاہتا ہے
جانے کیا بات جھلتی ہے میرےچہرے سے
کہ ہر شخص مجھے ہی آزمانہ چاہتا ہے”
وہ لڑکی کچن کہ اسٹول پر بیٹھی مٹر چھیل رہی تھی ایک ہفتہ ہو گیا تھا اسے
اس گھر میں اور ایک ہفتے سے وہ اپنوں سے دور تھی وہ لڑکی جو کبھی گھر سے اکیلی نہیں نکلی کبھی کسی کہ گھر اکیلی نہیں رکی آج کسی اور کہ گھر پر اکیلی بلکل تنہا تھی وہ کافی حد ست سنبھل گئی تھی جس میں سب سے بڑھا ہاتھ اس خاتوں
کا تھا جس نے اسے بلکل ایک ماں کی طرح سنبھالا تھا
مگر اب بھی وہ کئی بار بیٹھے بیٹھے رونا شروع کر دیتی تھی کئی با ڈروخوف
کی وجہ سے نیند سے جاگ جاتی اور اس خاتون کو بھی ساتھ جگا لیتی اور پھر ساری رات وہ اسکے اوپا دپ کرتی رہتی اسے پیار اور محبت سے تھپکی رہتی پھر جاکر وہ تھوڑی بہت نارمل ہوتی مگر تب بھی انکا ہاتھ پکڑکر ایسے بیٹھی رہتی
جیسے وہ کسی میلے میں گھوم رہے ہو اور اس بچے کو خدشہ ہو اپنی ماں کہ اس سے دور ہوجانے کا اس کہ ڈر اور خوف کا ایک ہی حا تھا اسکو مصروف کر دیا جاتا تاکہ وہ پیچھلی باتین نہ یاد کر سکے اس لئے وہ اس سے کھانا بنوا لیتی یہ اپنے ساتھ کسی قریبی پارک میں لے جاتی مگر وہ وہاں بھی ڈڑوخوف کہ ساتھ بیٹھتی تھی
وہ مٹر چھیلتے ہوئے کوشش کر رہی تھی کہ پیچھلی باتوں کو نہ یاد کر ے مگر وہ خود بہ خود یاد آجاتی تھی اسے تکلیف دینے کے لئے
ابھی بھی اسکو اپنے باپ کی اور اپنی انکے ساتھ ہونے والی کئی مہینوں پہلے کی باتیں یاد آرہی تھی
وہ اسکا ہاتھ پکڑے بیٹھے نرمی سے کہہ رہے تھے میرا بیٹا ایک بات ہمیشہ یاد
رکھنا مینے تم دونوں بہنوں میں اور تمہارے بھائیوں میں کبھی کوئی فرق نہیں کیا تم
چاروں مجھے عزیز ہو لیکن تم میری خاندان کی پہلی لڑکی ہو جو یونی جائے گی تمہاری بہن نے بھی پرائیویٹ بی اے کیا ہے اس لئے یاد رکھنا یونی میں کبھی کوئی ایسا کام نہ کرنا کہ مجھے تمہارے بیٹی ہونے پر افسوس ہو یہ میں تمہیں پیدا کرنے پر شرمندہ ہوجائو وعدہ کرو کبھی اپنے باپ کا سے نیچے نہیں ہونے دو گی وعدہ کرو اپنے باپ کا بھروسہ و اعتبار کبھی نہیں توڑو گی وہ اس سے وعدہ لے رہے تھے مگر یہ سب اسکے ہاتھ میں تو تھا ہی نہیں یہ تو اللہ کہ ہاتھ میں تھا
میں وعدہ کرتی ہوں بابا میں کوئی ایسا کام نہیں کرو گی جس سے آپکو شرمندگی ہو
یہ آپ پر انگلیاں اٹھائی جائیں ــ اسنے بہت نرمی سے باپ کہ ہاتھ پر بوسہ دیا اور وہاں سے اٹھ گئی
اور اب اسکے آنسو بہہ رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ثیخنا شروع ہو گئی تھی
مینے کچھ نہیں کیا بابا مینے کچھ نہیں کیا آپ نے تو کہا تھا آپکو مجھ پر اعتبار ہے تو کہا گیا وہ اعتبار کہا گئی وہ محبت جو مجھ سے تھی کیا آپکو اپنی تربیت پر اعتبار نہیں تھا کیا آپکو نہیں پتا میں ایسا کوئی کام نہیں کر سکتی جس سے میرا اللہ مجھ سے ناراض ہو جائے بابا مینے تو کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا پھر کیو آپ نے میرا اعتبار نہیں کیا
وہ لڑکی ہزیانی امداز میں چیخ رہی تھی اسکی آواز اتنی بلند تھی کہ باہر لان میں بیٹھی وہ کاتون بھی ڈر کر اسکے پاس آئی تھی اور اسکو زمین پر بیٹھا دیکھ کر اسکے قریب آئی
بس میرا بیٹا چپ ہو جائو کچھ نہیں ہو ا ہمیں پتا ہے آپ نے کچھ نہیں کیا ہم سب کو یقین ہے آپ پر وہ عورت پیار سے اسکے بال سہلا رہی تھی
نہیں آپ جھوٹ بول رہی ہیں نہیں ہے آپکو مجھ پر یقین کسی کو بھی نہیں ہے جب میرے باپ کو یقین نہیں تو آپ کو کیسے ہوگا وہ بلند آواز مین چیخی تھی
مجھے یقین ہے آپ پر اگر نہ ہوتا تو اپنے گھر پر رکھتی آپکو اس عورت کہ اتنا کہنے پر وہ خاموش ہو گئی
آپ ٹھیک کہ رہی ہیں اگر آپکو یقین نہیں ہوتا تو آپ بھی مجھے گھر سے نکال دیتی میرے باپ کی طرح وہ عجیب کھوئے کھوئے لہجے میں بول رہی تھی
اس خاتون نے کچن کہ کیبنیٹ سے اسکی دوئی نکالی اور آرام سے اسکے منہ کھول کر منہ میں ایک گولی رکھی اور پانی اسکے لبوں سے لگایا اسنے بھی خاموشی سے پانی پیا اور انکا ہاتھ پکڑ کر اپنے اور انکے مشترکہ کمرے میں داخل ہو کر خاموشی سے بیڈ پر جاکر لیٹ گئی وہ خاتون بھی پیار اور نرمی سے اسکے بال سہہ لانے کہ ساتھ ساتھ سورۃ فاتحہ کا دم بھی کر رہی تھی جس سے وہ سکوں میں آجاتی تھی
___________
بے درد زمانہ کیا جانے
درد کی حسرت کیا ہوتی ہے
دل دے کر پتا چلتا ہے
محبت کیا ہوتی ہے
آج آفان اور ثناء کی مہندی ہے اور عالیہ بیگم ثناء کی امی (آفان کی ساس ) اور انکے شوہر کی رضامندی میں احسن ولا کہ لان میں مہندی منعقد کی گئی سارا لان دلہنوں کی طرح سجا ہوا تھا لان کہ بیچ میں سٹیج بنایا ہوا تھا اور داخلی دروازے کہ
خالی فوارے میں آج بانی کی آبشار بہہ رہی تھی ہال میں ہی بڑوں کہ لئے کرسیوں
اور چھوٹوں کہ لئے زمین پر کارپٹ بیچھا کر گول دائرے کی شکل میں کشن رکھے ہوئے تھے دو ٹیموں کی طرح یعنی اس بار کمال کا مقابلہ ہونے والا تھا
احسن ولا میں مہمانوں کی فوھ جمع ہو گئی تھی دور دور سے آنے والے قریب کہ مہمان آچکے تھے اور اب سب اپنی تیاریوں میں گم شور کر رہے تھے
ماما میرا ڈوبٹہ کہا ہے ابھی تک استری نہیں کیا یہ وری کی کزن تھی مہرو جو کافی نخرے اور ایٹیٹیوڈ والی ہے
آنٹی آپ یہاں کیا کر رہی ہے دولہے کی ماں ہیں آپ چلے جلدی تیار ہونے
یہ بشراء تھی سحر بیگم کی بھائی کی بیٹی جو انہیں جلدی کرنے کا کہہ رہی تھی
5 بج گئے تھے اور رات 8 بجے فنکشن اسٹارٹ ہونا تھا
ان سب کی مصروفیت میں ایک بندی تھی جو سکون سے باہر لان میں ٹھنڈی ہوا میں ٹہلتے ہوئے سیب کھا رہی تھی جیسے اسے کوئی فکر ہی نہ ہو دنیا و مافیا سے بے نیاز وہ اپنی سوچ میں گم تھی جو کاشہی اور میرو کہ گرد گھوم رہی تھی آج تیسرا دن تھا اور وہ ان دونوں سے بات نہیں کر رہی تھی وہ اسکے پاس آکر بیٹھتے اور وہ اٹھ کر چلی جاتی وہ کوئی بات کرتے تو منہ پہیر لیتی انکے سامنے سے
میرو تو میرو کاشی بھی جھنجلایا ہوا تھا وہ ساری زندگی اتنا بے چن کبھیی نہیں ہوا تھا جتنا ان دو دنوں میں ہوگیا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا اپنے ہاتھ جوڑ لے یا وری کہ کان پکڑ کر سوری بول لے پر وری اس سے نارمل انداز میں بات چیت کر لے جیسے پہلے کرتی تھی
کاشی لان سے گزرتا ہوا اندر میرو کہ پاس جا رہا تھا کہ اسکو سامنے وہ دشمن جاں نظر آگئی تھی جو مزے سے سیب کھاتی کوئی گڑیا لگ رہی تھی اورنج اور نرائون کہ کنٹراسٹ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا اتنا کہ اسکہ بالوں میں سے اٹھتی شیمپو کی خوشبو اسکے نتھنوں میں جارہی تھی اسنے آہستہ سے اسے ڈرایا
بہہو وہ اسکے آہستہ سے ڈرانے پر بھی اچھل گئی تھی اور اگلے ہی لمحے اسنے ڈرانے والے کہ منہ پر مکہ مارنا چاہا مگر درمیان میں ہی اس شخص نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
کیا ہو گیا ہے وری یعنی اب میں بات بھی کرنے آئو گا تو تم مجھے مکے مارا کرو گی کاشی نےاب بھی اسکا ہاتھ پکڑا ہوا تھا
اگر تمیز کے دائرے میں رہ کر آیا کرو گے تو باخوشی ویلکم کرا گی وری نے دانت پیس کر کہا اور اپنا ہاتھ شھڑوانا چاہا مگر آج مقابل اسکے لئے تیار نہیں تھا
سچ کہہ رہیہو مطلب اب تم اتنا حسین نقشہ کھینچ رہی ہو کہ کیا بتائو مجھے کتنی اچھی فلنگز آرہی ہیں کاشی مزہ آرہا تھا اسکو چڑانے میں
او او شکل دیکھی ہے میں نقشہ کھینچ رہی ہو وہ بھی حسین ہاہاہاہا مسٹر کاشان فیصل اپنی نظروں اور زہن کا علاج کر وائیے زیادہ بہتر رہے گا اور اب مجھ سے بات مت کیجیئے گا وری اتنا کہہ کر جانے لگی تھی مگر اسکا ہاتھ کاشی کہ ہاتھ میں تھا کاشی نے ایک جھٹکے اسکو واپس کھینچا
وری اسکی اس حرکت کی وجہ سے اسکے سیے سے ٹکرائی کاشی نے اسکا دایاں ہاتھ پکڑا ہو تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں اب بھی پٹی بندھی ہوئی تھی سیب پتا نہیں کاشی کہ ڈرانے پر کہا جاکر گرا مگر اب وہ مکمل کاشی کی گرفت میں تھی
کاشی کی آنچ دیتی نظرے اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی کچھ کہتی کوئی داستان سناتی ڈارک برئون آنکھیں جو سب کچھ کہہ دینے پر اکسا رہی تھی مگر وہ شخص اپنے نفس پر قابو رکھنا جانتا تھا اس لئے آہستہ سے کویا ہوا
وری مینے تو کچھ بھی نہیں کہامیں تو تمہیں الزام بھی نہیں دے رہا یار پھر کیوں مجھ سے ناراض ہو میں تو تمہیں ایپریشیٹ کرنے آیا تھا اور اگر غصہ تھا بھی تو وہ اس لڑکی اور لڑکے پر تھا اور ایک بات پر افسوس بھی تھا کہ اسنے تمہیں منہ پر مارا بھی کیسے اور اس لڑکی کو کیوں نہیں مار کر آئی کاشی بے حد نرم آواز میں اس سے کہہ رہا تھا
اور وری اسکے آواز اسکی نرمی اور اسکے دلکش انداز پر کھوسی گئی تھی بگھل تو وہ گئی تھی وہ اتنا ناراض ہو ہی نہٰں سکتی تھی ناراض ہوکر اسے خود ہی چین نہیں آتا تھا اسکا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ اس شخص سے خود ہی معافی مانگ لے چاہے جس کی بھی غلطی ہو بس وہ بات کرلے اس سے
میرو جو کاشی کا انتظار کر کر کہ تھک گیا تھا خود ہی نیچے آگیا اور سامنے لان کہ کونے میں ان دونوں کو ساتھ کھڑا ایک دوسرے کی آنکھو میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا دیکھ وہ بھی آگے آیا کہ وہ جانتا تاھ اب وہ راضی ہو جائے گی
وری یار مجھے بھی معاف کردو مجھے نہیں پتا تھا اس لڑکی نے یہ بکواس کی تھی ورنہ میں تمہیں روکنے کہ بجائے خود اسے بھی مارنا شروع کر دیتا
وہ دونو جو ایک دوسے کہ سحر میں کھوئے ہوئے تھے سنبھل کر کھڑے ہوئے کاشی نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا وری کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا
وری نے ان دونو کی طرف دیکھا تو وہ دونوں اسکو آس بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے
وری نے ایک گہری نظر ان دونوں پر ڈالی اور اندر کی طرف بھاگتے ہوئے کہا ٹھیک ہے شام میں کامبیٹین جیت کر دکھائو تو میں مان جائو گی اور اندر چلی گئی
میرو اور کاشی نے ایک دوسرے کو دیکھا ایک گہری سانس خارج کی اور پھر مسکرائے کیونکہ آج کی شام وریشہ حسن کہ نام تھی
وہ آج کا دن بہترین بنانے والے تھے اور وری جو اسنکے اتنی سی منتوں پر بھی راضی تھی نہیں جانتی
تھی کہ آج واقعی وہ دن فل مستی والا ہونا تھا اسے ہمیشہ یاد رہنے والا تھا یہ دن
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“خشک آنسو سے بھری اک رات تھی
وہ رات نہیں اک عزاب تھی “
کھولو دروازہ کھولو ہمیں چھوڑ دو خدا کا واسطہ ہے ہمیں جانے دو پلیز وہ لڑکی کافی دیر سے وہاں کھڑی چیخ رہی تھی اس کمرے کا دروازہ پیٹ رہی تھی مگر اس
گھر میں کوئی زرو روخ نہیں تھی اسکی فریاد سننے کے لئے اور وہ اگلے آدھے گھنٹے تک چیختی رہی اس سے پہلے وہ اور آدھا گھنٹہ چیختی یا دروازہ پیٹتی ایک جھٹکے کے ساتھ دروازہ کھلا اور ایک فل کالے کپڑے والے آدمی نے اسکے ساتھ موجود لڑکی کو بازئوں سے پکڑ کر بے دردی سے گھسیٹتا ہوا لیکیر گیا اور اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا
اس لڑکی نے بھاگ کر کمرے میں موجود ایک کھڑکی کھولی جو ساتھ والے کمرے میں کھلتی تھی اور وہاں کھڑے ہو کر دیکھنے لگی
دو منٹ بعد اس کمرے میں اس لڑکی کو ایک شخص کے سامنے اس کے قدموں میں پھینک کر وہ دوسرا آدمی کمرے سے نکل گیا تھا
اور اب وہ شخص اندر موجود اس لڑکی کے ساتھ جو کر رہا تھا اس سے اسکی روح فنا ہو رہی تھی وہ اس لڑکی کو بچانا چاہتی تھی مگر اسکی آواز نہیں نکل رہی تھی اسے ایسے لگ رہا تھا وہ ابھی گر جائے گی
اس کمرے سے اس لڑکی کی چیخوں کی خوف سے بھری آوازیں آرہی تھی وہ اس شخص سے فریاد کر رہی تھی اسکو چھوڑ دینے کا ؛؛؛؛؛؛؛؛؛
ایک جھٹکے سے اس لڑکی کی آنکھ کھلی اسکا تنفس بہت تیز چل رہا تھا اسنے پاس پڑے جگ سے پانی گلاس میں ڈال کر پیا اور گہرے گہرے ساںس لینے لگی جب حالت کچھ بہتر ہوئی تو پھر سے لیٹ گئی ایک ہفتے سے اسکو ایسے ہی خواب آرہے تھے
مگر ان خوابوں سے چھٹکارا نہیں حاصل ہو رہا تھا اسنے سائیڈ دراز سے دو نیند کی گولیا نکالی اور بنا پانی کہ نگل گئی 10 منٹ بعد وہ پھر سے نیند کی وادی میں تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“ہنسی کو مھبت میں فنا کون کرے گا
یہ فرض زمانے میں ادا کون کرے گا
ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ زرا نجومی
یہ دیکھ میرے ساتھ وفا کون کرے گا “
احسن ولا میں تیاریاں مکمل تھی لڑکے سب تیار ہو چکے تھے اوراب ساری تیاریاں چیک کر رہے تھے لڑکی والے بھی نکلنے والے تھے احسن ولا آنے کے لئے وہاں بھی ساری تیاریاں کمپلیٹ ہو چکی تھی سوائے احسن ولا کی لڑکیوں کے جن کے کہنے کہ مطابق انکی تیاریاں ابھی سٹارٹ ہوئی تھی یہ بات سچ بھی تھی کیونکہ اوپر ایسا ہی کچھ چل رہا تھا
وہ لڑکی ہاتھ میں سیب پکڑے چیخ رہی تھی تم لوگ نکلو میرے کمرے سے تاکہ میں بھی تیار ہوں پیچھلے ایک گھنٹے سے گھسی پتا نہیں کیا کر رہی ہو
وری یار پلیز 20 منٹ انتظار کرو پھرہم چلے جائیں گے نیچے تو تم آرام سے تیار ہو جانا یہ آواز مہرو کی تھی جس پر وہاں موجود ساری لڑکیاں اثبات میں سر ہلا کر یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی
تم بغیرتوں نے پیچھلے آدھے گھنٹے سے یہ ہی کہا ہو ہے بس اب نکل جائو اس سے پہلے میں کچھ کردو وری نے بھی بنا لحاظ کہ جھاڑ پلا دی تھی
لیکن وہ بھی اسکی ہی کزنیں تھی ڈھیٹ ایک نمبر کی فٹاخ سے بولی
وری پلیز ہمیں تیار ہونے دو خود تو ہوتی نہیں ہو اس لئے تمہین کیا پتا کتنا ٹائم لگتا ہے تیار ہونے میں یہ بولنے والی بشرا تھی
بلکل مجھے شوق نہیں ہے اپنا بھوتا گندا کرنے کی اتنی پیاری شکلیں اللہ نے دی ہیں اور اس پر اتنا سارا میکپ لگا لو اور ویسے بھی لگانا ہے تو تھوڑا سہ لگا لو لب اسٹک کاجل لائینر بس تیار تم لوگوں کی طرح نہیں کہ پتا ہی نہ چل رہا ہو کہ بندے نے چہرے پہ میکپ کیا ہے یا میکپ پہ چہرہ کیا ہے وری نے بھی حساب پورا کیا
بس کرو ہم تو اپنا چہرہ خراب کرتے ہیں تمہاری طرح تو نہیں دوسروں کا چہرہ خراب کرے بشرا ابھی کہہ ہی رہی تھی کہ مہرو نے جملہ پورا کردیا وہ بھی زبردستی
انکی بات سن کر ایک جھٹکے اسکے زہن میں ماضی کی ایک یاد آئی تھی اور اسکے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ بچی کچھ دیر پہلے اسکول سے واپس آئی تھی آج اسکے اسکول میں فنکشن تھا اس لئے وہ جلدی آگئی تھی اور اب اپنی ماما کہ پاس بیٹھی میکپ کی کڈ مانگ رہی تھی
ماما مجھے میکپ چاہیئے
کیوں بیٹا آپ کیا کرو گے میکپ کا اسکی ماما نے پیار سے پوچھا
میں میکپ کرو گی اپنے آپ کو آج شیزہ بھی خود تیار ہو کر آئی تھی اور اتنے نخرے دکھا رہی تھی اب میں بھی میکپ کرو گی تاکہ اسکو جلائو وہ اپنی دوست کا حوالہ دے رہی تھی جو میکپ کی بہت شوقین تھی اور اس وجہ سے سب کو جلاتی تھی کہ وہ میکپ کر سکتی ہے اور کوئی بھی نہیں اس لئے اب وہ بچی بھی میکپ کرنا چاہتی تھی
بچے میکپ کرتے ہیں تو انکی سکن خراب ہوجاتی ہے ابھی آپ 6 سال کی ہو جب 7 یا 8 کی ہو جائو گی تب کر لینا اسکی ماما نے اسے بہلانا چاہا مگر وہ آج کے دور کی بچی تھی بے حد زہین اور چلاک وری اسوقت تو خاموش ہو گئی مگر شام میں اس خاموشی کے نتائج بھی پتا چل گئے تھے
وری ـــ
میرو مینے تمہیں میکپ کرنا ہے وری نے رازداری سے کہا
میرو
کیوں تم اپنے آپ کو کرو میں تو لڑکا ہون لڑکے میکپ نہیں کرتے میرو نے اپنے تئیس اسکو بہت اہم بات بتائی تھی
وری نے دادیوں کے سٹئل میں ماتھا پیٹا اسکو رازداری میں بتانے لگی
میرو ماما نے کہا ہے میں جب تک 7 سال کی نہیں ہو جاتی میں میکپ نہیں کر سکتی میری سکن خراب ہو جائے گی اس لئے میں تمہیں کر رہی ہوں اور پکا لڑکوں والا میکپ کرو گی بس تم ادھر بیٹھ جائو
مگر وری تم میکپ کرنا کیوں چاہتی ہو میرو کہ پوچھنے پر وری نے معصومیت سے آنکھیں جھپکا کر شیزہ کی باتیں بتا کر اسکو قائل کر لیا اور اب وہ اسکو ایک صوفے پر سے بیٹھا کر اسکا سر صوفے کی پشت سے لگا کر اسکا میکپ کر رہی تھی
پہلے اسنے میرو کو وائٹنسس کریم لگائی پھر فیس پوڈر پھر ٹیڑھا میڑھا لائنر پھر سرما کیونکہ کاجل اس سے لگ نہیں رہا تھا پھر بلا شونڈ لگا کر اسکو لپ اسٹک لگائی جو ہونٹ کے بجائے تھوڑی پر ناک اور ہونٹ کے بیچ میں لگی ہوئی تھی اسکو تیا کر کہ وری نے اسکے ساتھ 3 4 سیلفی لی اسکی آنکھیں بند کروا کر اور پہلے وہ ماما بابا تایا تائی فیصل پھپا اور پھپو کو بھجی وہ سب بچوں کو گھر پر 10 سالہ آفان اور میڈ کہی نگرانی میں چھوڑ کر اپنے بہترین دوست کی شادی میں گئے ہوئے تھے
پھر اپنی کزن مہرو اور بشرا کو بھیج کر میرو کی آنکھیں کھلوا کر اسکو شیشہ دکھایا اور میرو بیچارا شیشہ دیکھ کر خود کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ آیا وہ خود ہی ہے یا شیشہ کوئی مزاق کر رہا ہے مگر افسوس وہ خود ہی کوئی ڈائن لگ رہا تھا اب اسنے وری کو غصے بھری نظروں سے دیکھا جو اسے معصومیت سے دیکھ رہی تھی
کچھ پل وہ ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھتے رہے پھر وری نظریں جھکا کر بولی
آئیم سوری میرو آئندہ میں کسی کو میکپ نہیں کرو گی وری کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو جمع ہو رہے تھے میرو نے ایک دفع پھر اسکو دیکھ کر خود کو شیشے میں دیکھا اور دیوانہ وار ہنسنے لگا
وری نے اسکو ہنستے ہوئے دیکھا تو وہ خود بھی اسکے پاس صوفے پر چڑھ کر ہنسنے لگی تھی کاشی اور آفی جو ابھی لائونچ میں داخل ہوئے تھے انہیں دیونہ وار ہنستے دیکھ رہے تھے ان دونو کی انکی طرف پشت تھی جیسے ہی کاشی اور آفان کی نظر میرو پر پڑھی وہ بھی دیونہ وار ہنسنے لگے تھے
اور وہاں شادی میں ان سب نے پکچر دیکھتے ہی کھانا چھوڑا اور گھر کے لئے نکلے سب سے زیادہ غصہ
نمرہ بیگم کو آرہا تھا وری پر جسنے اس پکچر کے نیچے بیسٹ میکپ آرٹسٹ وریشہ لکھا ہوا تھا
گھر پہنچتے ہی ان دونوں کی حاظری ہوئی اور تایا کہ پوچھنے پر اسنے سچ بتا دیا تھا کہ ماما نے کہا تھا 7 سال کی عمر میں میکپ کرنا اس لئے اسنے
میرو کو کر دیا تاکہ وہ ناراض نہ ہو تایا ابو نے سمجھا کر اسکو بھیج دیا تھا مگر پیچھے وہ سب بھی اب قہقے لگا رہے تھے اس تصویر کو دیکھ کر ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *