Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24
نمرہ بیگم کھانا بنا رہی تھی جب باہر بیل ہوئی انہوں نے جاکر اندر لائونچ کا دروازہ کھولا
تو سامنے فریحہ اظہر کھڑی تھی وہ حیرت سے اسکو دیکھ رہی تھی کیونکہ اس سے پہلے کبھی وہ اپنی ماما کہ بغیر یہاں نہیں آئی تھی
اسلام وعلیکم آنٹی کیسی ہیں آپ اندر آجائو میں فری نے انکو دروازے میں حیرت سے کھڑا دیکھ کر کہا
وعلیکم اسلام آئو بیٹا آئو وہ اسے لیکر اندر ڈرائنگ روم میں لے آئی اس وقت گھر پر انکے علاوہ کوئی نہیں تھا
سحر بیگم اور ثمینہ بیگم ثناء کو اسکے میکے چھوڑنے گئی ہوئی تھی ڈرائیور کے ساتھ وہ امید سے تھی اور اس بات کو آفان سب سے پہلے وری کو ہی بتانا چاہتا تھا کیونکہ سب سے زیادہ انتظار بھی اسکو تھا اپنے بھانجے بھانجی کا
مگر ثناء کی اچانک طبیعت خرابی نے یہ بات سب میں پھیلا دی تھی اور اب وہ جانتا تھا وری اس بات پر ناراض ہونے والی ہے بہت لیکن وہ یہ بات نہیں جانتا تھا کہ وہ ہی نہیں بہت سے اور لوگ وری سے بھی ناراض ہونے والے تھے اس کے واپس آنے پر
گھر کے مرد اپنے اپنے آفس گئے ہوئے تھے اور فہد فٹبال کھیلنے اپنے دوستوں کے ساتھ گیا ہوا تھا اور نمرہ بیگم نہیں جانتی تھی کہ فری اس بات کا کتنا فائدہ اٹھانے والی تھی
نمرہ بیگم عام مائوں جیسی تھی جو اپنی اولاد کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں سن سکتی تھی جیسے اگر کوئی انکی اولاد کی شکایت لایا تو کیوں لایا وہ نہیں چاہتی تھی کبھی انکی تربیت پر حرف آئے
اور شاید یہ ہی وجہ ہوتی ہے جو ان مائوں کو کچھ زیادہ جزباتی بنا دیتی ہیں
اگر کبھی کوئی دور کا رشتہ دار نمرہ بیگم اور وری کو ایک ساتھ دیکھ لیتا تو یقین ہی نہیں کرتا کہ یہ نمرہ بیگم کی بیٹی ہی ہے
کیونکہ نمرہ بیگم اپنی جوانی میں بہت خاموش طبیعت کی تھی معصوم سی اپنے کام سے کام رکھنے والی اور وری وہ انکے بلکل الٹ تھی جیسے جب تک وہ اگلے کے معاملات میں گھس نہ جائے یا اگلے کو تنگ نہ کردے اپنی باتوں سے اسے سکوں نہیں آتا تھا
اسی وجہ سے سب ان دونوں کو الگ بولتے تھے اور یہ بات اسی پرسنٹ ٹھیک تھی کیونکہ وری اگلے کی شکل دیکھ کر ہی اسکی فطرت بتا سکتی تھی یا اگلے کو جان لیتی تھی آخر آرمی میں جو تھی
مگر نمرہ بیگم اب تک لوگوں کے رویوں کو نہیں پہچان پائی تھی شاید اس وجہ سے بھی کہ انہوں نے نہ کبھی اپنے گھر میں ایسی چالاکیاں دیکھی تھی اور نہ ہی اپنے سسرال میں اور شاید یہ ہی وجہ تھی کہ وہ کبھی چالاک نہیں ہوسکی
نمرہ بیگم اسکے لئے ایپل جوس لائی اور اسے جوس دیتے ہوئے انہیں وری شدت سے یاد آئی تھی جو ایپل جوس دیکھ کر اکثر پورا جگ لیکر رفوچکر ہوجاتی تھی یہ کہہ کر
کہ یہ میرے لئے بنایا ہے میری ماما نے باقی جس نے پینا ہے وہ خود بنائے ماں سے کام نہیں کروانا چاہیئے چلو فہد تم اپنے لئے اور میرو کیلئے بنائو جاکر اور ہوسکے تو اس میں میرے لئے بھی ایک گلاس رکھ لینا
اسکی اسی بات پر فہد سے لڑائی ہوتی تھی کہ یہ کیوں ہر چیز لے لیتی ہے اور ان دونوں کی لڑائی میں بچارے میرو کی شامت آتی تھی اور وہ ہی جوس بناتا تھا
فری نے انکے ہاتھ سے لے کر گلاس پکڑا اور چھوٹے چھوٹے دو سپ لیئے
بیٹا آپ نہیں گئی ٹرپ پر یونی والوں کے ساتھ وہاں خاموشی محسوس کر کہ نمرہ بیگم نے اس سے پوچھا
گئی تھی آنٹی کل صبح واپس آئی ہوں کام تھا مجھے کچھ اس وجہ سے فری نے احتیاط سے جواب دیا
اچھا ماما کیسی ہے آپکی اور باقی گھر والے نمرہ بیگم نے پیار سے پوچھا
سب ٹھیک ہیں آپ کیسی ہیں فری آہستہ آہستہ ان سے سوال کر رہی تھی سوچ سوچ کر
میں بھی ٹھیک ہوں بیٹا نمرہ بیگم یہ کہہ کر خاموش ہو گئی تھی
اچھا آنٹی مجھے وری سے کام تھا وہ گھر پر ہے یا کہی گئی ہوئی ہے فری نے اپنا جال پھینکا
بیٹا وہ تو ٹرپ پر ہی ہے ابھی تک واپس نہیں آئی آپکو نہیں پتا کل واپس آنا ہے اسنے نمرہ بیگم نے معصومیت سے کہا
فری نہیں جانتی تھی وہ آج ایک ماں کا بھرم اعتبار اور دل توڑ رہی ہے
نہیں آنٹی وہ تو دوسرے دن ہی واپس چلی گئی تھی وہاں سے اسی لئے میں آپکے گھر آئی ہوں ورنہ میں اسکو وہی پر مل لیتی فری نے اپنی بتا مکمل کر کہ انکے چہرے کہ تاثرات دیکھے
کیا آپکو نہیں پتا مجھے تو علماء نے بتایا ہے اگر آپکو یقین نہیں تو میں ابھی آپکے سامنے علماء سے پوچھلیتی ہوں کیا پتا اسنے مزاق کیا ہو فری بہت معصومیت سے کہہ رہی تھی جیسے واقعی میں ایسا ہو اسے پتا ہی نہ ہو
نمرہ بیگم نے اسکی اگلی بات سن کر اثبات میں سر ہلایا جیسے وہ یقین نہیں کرنا چاہتی تھی اس کی بات پر بنا ثبوت کے
فری نے ہینڈ بیگ سے فون نکالا اور علماء کو کال ملائی
تیسری بیل پر کال اٹھائی گئی
ہائے علماء کیسی ہو فری نے اسپیکر آن کیا ہوا تھا
میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں اور چلی کیوں گئی ابھی دو دن باقی تھے ٹرپ ختم ہونے میں
میں بھی ٹھیک ہوں اور یار کام تھا مجھے ضروری اس وجہ سے
اوہ ہ ہ اچھا اور مجھے کیسے یاد کیا آپ نے علماء نے معصومی سے پوچھا
یار مجھے وری سے کام تھا وہ ابھی تک واپس نہیں آئی ٹرپ سے تو چلی گئی تھی دوسرے دن فری نے جال پھینک دیا تھا علماء کی جانب
آپکو بتایا تو تھا اور وہ ہمارے ساتھ ہی واپس آئے گی اسکی ماما کو نہیں پتا نہ یہ بات اس وجہ سے سب سے چھپائی ہے یہ بات ہم نے آپ بھی مت بتائیے گا انہیں علماء نے اپنے تئیس اسکو منع کیا تھا مگر وہ تو آئی ہی انکے گھر اس لئے تھی کہ یہ بات انکو پتا چلے
فری نے ادھر ادھر کی دو تین باتیں کر کہ فون بند کر دیا تھا
نمرہ بیگم کی آنکھو میں آنسو ہچکولے لے رہے تھے جنہیں وہ مضبوطی سے روکیں بیٹھی تھی
بیٹا آپ کل دوپہر میں آسکتی ہیں میں آپکے سامنے سارا معاملہ ڈسکس کرنا چاہتی ہوں نمرہ بیگم نے اپنے آنسوئو پر ضبط کر کہ کہا
اوکے آنٹی میں آجائو گی اور سوری میرا ارداہ آپکو ڈس ہرٹ کرنے کا نہیں تھا اگر آپکو برا لگا تو پلیز میں تہہ دل سے معفی مانگتی ہوں فری نے محبت سے انکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
نہییں بیٹا قصور آپکا نہیں ہے مجھے آپکی بات سے کوئی فرق نہیں پڑھا ہے میں ٹھیک ہوں آپ کھانا کھائیں گی نمرہ بیگم نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے کہا
نہیں آنٹی مجھے کام ہے ایک اور بس وری سے کام تھا اب چلتی ہوں فری یہ کہتے ساتھ اٹھ گئی تھی
اللہ حافظ آنٹی اسنے اپنا گال انکے گال سے مس کیا
فری اپنی حسد اور انا میں کسی کا کیا کچھ توڑ گئی ہے اسکا اسے اندازہ نہیں تھا اور نمرہ بیگم کل وری کو کتنا توڑنے والی تھی اسکا اندازہ وری کوبھی نہیں تھا
اور علماء جو اپنا سامان پیک کر رہی تھی کل واپس لے جانے والا وہ یہ نہیں جانتی تھی میرو کہ یہ بات نہ بتا کر کہ وہ فری سے اب بات کرتی ہے کتنا غلط کر رہی ہے اگر وہ جان جاتی کہ فری نے کیوں اسکو یہ بات باقیوں کو بتانے سے منع کیا ہے اور ابھی کس مقصد کیلئے کال کی ہے تو وہ فری کو پچھلے زمانے کی توپ سے اڑا دیتی مگر اب وہ سب ہو چکا تھا اور آگے جو ہونے والا تھا اسکا ان سب کو اندازہ نہیں تھا
فری کے جانے کے بعد نمرہ بیگم نے کب سے رکے آنسوئو کو بہنے دیا انہیں اب بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ وری جھوٹ بول کر گھرسے گئی ہے اور آخر گئی کہاں ہے
کیا کسی لڑکے کے چکر میں گئی ہے کیا وہ کسی کو پسند کرتی ہے کہاں گئی ہے وہ بہت سے سوال انکے زہن میں گردش کر رہے تھے
وہ ماں تھی اور اگر کسی کی بھی بیٹی جھوٹ بول کر گھر سے نکلے تو سب سے پہلے یہ ہی خیال انکے زہن میں آسکتا تھا اور یہ ہی نہیں اور بھی بہت کچھ انکے زہن میں آرہا تھا
تبھی میرو کو جب بھی کاک کر کہ میں کہتی تھی کہ وری سے بات کردو تو وہ مجھے ٹال دیتا تھا اور وری بھی بیچ میں دو دن سے کال نہیں اٹھا رہی آج بھی فجر کے وقت نہیں اٹھایا کہی وہ کھو نہ گئی ہو حسن صاحب کو کیا جواب دوں گی ڈھیر ساری غلط فہمیاں ڈر خوف انکے زہن میں تھے
اگر ایک مرد گھر سے بھاگ جائے تو معشرہ اسے قبول کرلیتا ہے وہ کسی کہ سامنے جواب دہ نہیں ہوتا لیکن اگر ایک عورت گھر سے غائب ہوجائے تو سب سے پہلے اسکی ماں جوابدہ ہے اپنی بیٹی کے بارے میں کہ وہ کہاں ہے مگر ضروری نہیں ہر بار ایک بیٹی گھر سے ہی بھاگی ہو ہمارے معاشرے نے
ہمارے والدین کو اتنا ڈرا دیا ہے کہ اب اگر انکی بیٹی یا بیٹا ٹائم سے پانچ منٹ اوپر ہوجائے اور وہ گھر نہ پہنچا ہو تو وہ فکر مند ہوجاتے ہیں مائیں گھر سے نکل جاتی ہیں انکے پیچھے اور اس چیز پر ہم اولاد جو چڑ رہی ہوتی ہے کہ وہ ہم پر شک کرتے ہیں تو ایسا نہیں ہے وہ بھری دھوپ میں اپنی اولاد کیلئے رحم کی دعائیں کرتی ان پر شک نہیں کر رہی ہوتی یہ تو اس کی محبت ہوتی ہے
یا وہ اگر تمہیں بس اسٹاپ یا کالحج چھوڑنے جاتی ہیں تو اس لئے نہیں کہ تم پر شک کرتی بلکہ تمہاری حفاظت کیلئے وہ ایسا کرتی ہیں اس لئے اس سوچ کو پینڈو یا مڈل کلاس نہ کہا جائے یہ تو ان مائوں کی اپنی اولاد کیلئے ایک حفاظتی تدبیر ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وری میٹنگ سے اٹھتے ہی گھر کیلئے نکلی کاشی اسکے ساتھ تھا اسد اس سے مل کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا تھا آج کا دن تھا انکے پاس اپنے والدین بہن بھائیوں کے ساتھ گزارنے کا کیونکہ اسکے بعد انکو موقع نہ ملتا شاید ایسے ساتھ وقت گزارنے کا
وری ابھی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی جب اسکی جیب میں پڑا موبائل بج اٹھا وری نے چیک کیا تو سامنے میرو کا نمبر تھا
اسلام وعلیکم پہنچ گئے ہو تم وری نے سلام کر کہ اسکے پہنچنے کا پوچھا
نہیں ابھی پلین میں ہو ں آدھے گھنٹے سے کھڑا ہوں میں یہاں کب آئو گی میرو نے تپ کر کہا
اچھا میں آرہی ہوں تمہیں لینے وری نے فورا سے اپنی سروس پیش کی
تمہاری ضرورت نہیں ہے اب میں ارسلان کے ساتھ آرہا ہوں تم گھر کی اسٹریٹس شروع ہونے سے پہلے وہاں رک جانا پھر وہاں سے ساتھ چلیں گے میرو نے بتایا
اچھا ٹھیک ہے جلدی آنا ورنہ میں گھر چلی جوئو گی تمہیں چھوڑ کہ وری نے اسکو چھیڑا
ہاں پتا ہے اور گھر جاکر بولو گی میرو کو اسکی کوئی دوست مل گئی تھی اس لئے اسنے تمہیں ٹیکسی میں آنے کا کہا میرو نے اسکی نقل اتاری
ہاہاہاہاہاہا میں ایسے نہیں بولتی اور پھر کہہ رہی ہوں فورا پہنچو اپنی محبوبہ کو سی آف کرنے میں ٹائم لگایا تو پھر خیر نہیں تمہاری وری نے روب جما کر کال کٹ کی تو کاشی کسی کال اٹھانے والا تھا اپنے فون میں
وری نے اشارے سے پوچھا
کون ہے
میرے سسر کاشی نے تپ کر کہا مگر انجانے میں اسکے منہ سے وہ سچ نکل چکا تھا جو وہ اندر بولنا چاہتا تھا اسکی ڈیٹ والی بات پر
وری نے حیرت سے اسکو دیکھا اور آگے بڑھ کر اسکا موبائل پکڑا جس پر ماموں کالنگ لکھا آرہا تھا
وری نے کاشی کو تگڑی گھوری سے نوازا اور کال پک کی
اسلام وعلیکم وری نے سلام کیا
وعلیکم اسلام میرا بیٹا آج اتنے دنوں بعد تمہاری فریش آواز سن کر میں بھی فریش ہوگیا ہوں
میں بھی بابا اتنے دنوں سے آپکے سالے صاحب نے مجھے پاغل بنایا ہوا تھا مجھ سے اتنا ایکسٹرا کام کروایا ہے اور آپکی بہن کا بیٹا بھی مجھ پر روب جمانے کی کوشش کر رہا ہے وری نے انکی آواز سنتے ساتھ اپنی شکایتیں انہیں سنائی
میں ان سب کو دیکھ لوں گا ابھی اہم مسئلہ کچھ اور ہے حسن ساحب اسے اہم مسئلے کی طرف لائے
اب کون سا مسئلہ آگیا پتا نہیں میری زندگی میں کب سکوں آئے گا وری دہائی دی
فری گھر پر آئی ہوئی ہے اور تمہاری ماما بھی کل سے غصے میں ہیں جیسے وہ بہت زیادہ پریشان ہے باربار دروازے کو دیکھ رہی ہیں مجھے لگتا ہے کہ انہیں پتا ہے تم نے آرمی جوئن کرلی ہے حسن صاحب نے اسے خبردار کیا
بابا ایک تو یہ لڑکی میری زندگی میں عزاب بن کر نازل ہوئی ہے یہ چاہتی ہی نہیں ہے کہ میں سکوں سے جی لوں اسکو تو آپ گھر سے نکالیں پھر میں ماما سے بھی بات کر لونگی وری نے غصے سے تپتے ہوئے کہا
میں نہیں نکال سکتا چندا اور آج تو وہ تمہاری ماما کہ ساتھ ساتھ گھوم رہی ہے حسن صاحب نے اسے گرما گرم حالات سے آگاہ کیا
ایک منٹ یہ ٹرپ سے واپسی کب آئی ہے افففف میرو کے بچے نے بتایا کیوں نہیں اب کیا ہوگا بابا ایسے تو وہ بات بھی نہیں سنے گی وری نے پریشانی سے کہا ایک ماں ہی تو تھی اسکی جس سے وہ دبتی تھی
کچھ نہیں ہوگا میں ہوں نہ میں سنبھال لوں گا انہوں نے اسے یقین دلایا
بابا میں بتارہی ہوں ماما نے مجھے کچھ کہا تو میں آپ سے بات نہیں کرونگی کبھی کیونکہ ساری مستی آپکی ہے مینے کہا تھا انہیں بتا دیں آپ ہی نہیں مانےتھے اسنے حسن صاحب کو دھمکایا
آپ گھر تو آئے جو ہوگا دیکھا جائے گا بس اگر وہ باتیں سنائیں تو خاموش سے سن لیجیئے گا
ہاں جیسے میری بڑی زبان چلتی ہے انکے سامنے وری نے معصوم بن کر کہا
میں آپکو جیسے جانتا نہیں ہوں کہ آپکی کتنی زباں چلتتی ہے حسن صاحب نے اسے چھیڑا
چلیں گھر آئیں پھر بات ہوگی لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ آج کی تاریخ میں وہ اس سے بات نہیں کر سکیں گے ۔
Episode 24
احسن ولا میں سب لوگ ان تینوں کا شدت سے انتطار کر رہے تھے ان کے جانے کے بعد اب انکی قدر آرہی تھی اور سب سے زیادہ ان سب کو وری یاد آرہی تھی
اسکا پٹر پٹر بولنا سب کے مستیاں لینا دوسروں کو چھیڑنا اور اب وہ سب انتظار میں تھے کہ وہ آئے اور اپنی آواز سنائے جہاں سب خوش تھے اسکے آنے پر
وہی نمرہ بیگم بےچین تھی وہ صرف اس سے سننا چاہتی تھی کہ وہ ٹرپ پر تھی یا کہی اور اگر کہی اور تھی تو کیوں تھی کس سے پوچھ کر گئی تھی اب دو دنوں میں فری ان کے زہن میں اتنی نیگیٹو باتیں ڈال چکی تھی کہ انہیں رہ رہ کر وری پر غصہ آرہا تھا
حسن صاحب بھی انسے کہی بار پوچھ چکے تھے انکی بےچینی کی وجہ
مگر وہ ہر بار انہیں ٹال رہی تھی اور جبب فری گھر آئی تو سب ہی حیرت زدہ تھے سوائے نمرہ بیگم کے وہ کسی سے بات بھی نہیں کر رہی تھی کل سے وہ خاموش تھی اور انکی خاموشی سب نے محسوس کی تھی
سب یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ وری کی وجہ سے اداس ہیں اور اب اس سے ملنے کیلئے بےچین ہیں لیکن اگر انہیں زرہ سہ بھی خیال ہوتا کہ انکے زہن میں کیا کچھ پک رہا ہے تو پہلے ہی حسن صاحب انہیں ہر چیز کلیئر کر دیتے
وہ لوگ کوچ کرا کر گئے تھے اور اسی کوچ میں انہوں نے واپس آنا تھا آفان نے انہیں آفر کی تھی لینے آنے کی
مگر کاشی نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ بھی آج واپس آرہا ہے اور ان دونوں کو لیتے ہوئے واپس آئے گا
گاڑی وری ڈرائیو کر رہی تھی ویسے بھی وہ ٹینشن میں زیادہ اچھی ڈرائیو کرتی تھی اسکے ساتھ اگلی سیٹ پر کاشی اور پچھلی سیٹ پر میرو کے بیٹھنے کی جگہ تھی
وری نےضد کر کہ گاڑی کی چابی لے لی تھی وہ گاڑی خود چلانا چاہتی تھی
کاشی نے اس لئے بھی اسکو گاڑی چلانے دی تھی کیونکہ وہ اسک ساتھ یہ سفر انجوائے کرنا چاہتا تھا اور اگر وہ گاڑی خود ڈرائیو کرتا تو وہ خود پیچھے جاکر بیٹھ جاتی اور میرو کو آگے بٹھا دیتی اور وہ اسکے ساتھ بیٹھنا چاہتا تھا کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکے بعد انہیں موقع ملے گا ساتھ کبھی بیٹھنے کا یا نہیں
وری نے ایک گلی میں گاڑی موڑ کر سڑک پر لائی وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی جب کاشی نے اسے پکارا
کیا ہوا کس کے بارے میں سوچ رہی ہو
زیادہ خوش نہ ہو تمہارے بارے میں نہیں سوچ رہی وری نے تپ کر کہا
ہاں تو مینے کب کہا میرے بارے میں کہہ رہی ہو کاشی نے بھی اسکے انداز میں کہا
وری نے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا
کیا ہوا ہے یار مزاق کر رہا ہوں یہ آج مس نور کہ منہ پر بارہ کیوں بجے ہیں کاشی نے ایک بار پھر اسے چھیڑا
یار کاشی سوچو اگر آج مسز حسن کے ہاتھوں میں شہید ہو گئی تو میرے آنے والے پوتے پوتیوں کا کیا ہوگا وری نے ڈرامائی انداز میں کہا
اسکی بات کے جواب میں کاشی نے زوردار قہقہ مارا
واہ تالیاں ہیں تمہارے لئے ابھی تک شادی تو ہوئی نہیں ہے اور تمہیں پوتے پوتیوں کی فکر ہو گئی ہے کاشی نے ہنستے ہوئے کہا
ہاں تو شادی بھی ہوجائے گی کوئی مشکل کام تھوڑی نہ ہے ویسے بھی بہت لوگوں نے مجھے پروپوز کیا ہے وری نے اپنی بات مکمل کرتے ساتھ پلکوں کی جھری سے کاشی کے چہرے کو دیکھا
جہاں سے منٹوں میں ہنسی غائب ہوگئی تھی بلکہ وہ اب سنجیدگی سے اس سے پوچھ رہا تھا
کس نے پروپوز کیا ہے تمہیں اسکے لہجے میں سختی تھی جو وری کو اندر ہی اندر گد گدا رہی تھی
تھا ایک بڑا پیارا سہ اسکی آنکھیں بھی اتنی پیاری تھی چمکتی ہوئی دانت بھی صاف سفید چاند کی طرح بال بھی اتنے سلکی تھے بس ڈرپوک تھا تھوڑا سہ اس وجہ سے مینے اسے ریجیکٹ کردیا ہے وری نے ایک بار پھر اسکے تاثرات دیکھے
کاشی کا چہرہ لال سرخ ہورہا تھا اور دل میں بیچ وتاب کھا رہا تھا وری کے اتنا بہترین نقشہ کھنچنے پر اس شخص سے اسے حسد ہورہا تھا اور غصہ بھی آرہا تھا اس پر
ویسے اسکی آنکھیں اور بال سب سے زیادہ پسند تھے مجھے آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ کیا بال تھے سلکی سے وری نے آنکھیں بند کر کہ کہا جیسے تصور میں اسے ہی سوچ رہی ہو
آنکھیں کھول کر گاڑی چلائو میری نہیں گاڑی ہے برباد کر دینی ہے تم نے کاشی نے اسے سختی سے کہا تاکہ وہ خاموش ہو جائے
اس سے تو اچھا تھا میں خود گاڑی ڈرائیو کر لیتا اچھا بھلے موڈ کا بیڑاغرق کردیا ہے اس نے کاشی نے منہ میں بڑبڑا کر کہا
ویسے میرے پاس اسکی پکچر بھی ہے وری نے ایک بار پھر اسے تپایا
وری اب اگر تم نے اس لڑکے کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو میں تمہیں گاڑی سے باہر پھینک دوں گا اور اس لڑکے کو شوٹ کردوں گا کاشی نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا
کاشی میں اسکے بارے میں ایک لفظ غلط برداشت نہیں کرونگی وری نے تھوڑا غصہ دکھایا
اچھا اس نے رشتہ کیوں نہیں مانگا تمہارا اگر اتنا ہی پسند تھا تمہیں اور اسے تم کشی نے تپانے والی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا
کہہ تو رہی ہوں تھوڑا سہ ڈرپوک تھا ورنہ محبت بہت کرتا ہے مجھ سے بلکہ جان چھڑکتا ہے مجھ پر کبھی ملوائو گی تمہیں بھی وری نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر کہا
ہنہ تم ہی ملو ایسے ڈرپوک آدمی سے میں تو نہیں ملنا چاہتا ایسے بغیرت شخص سے کاشی نے غصے سے لال ہوتے ہوئے کہا اسے بہت غصہ آرہا تھا اسکی منہ سے کسی غیر مرد کی تعریف سن کر
کاشی میں نے ابھی کیا کہا ہے اسکے بارے میں ایک لفظ غلط نہیں سن سکتی میں اب اگر اسکے بارے میں کچھ کہا تو اچھا نہیں ہوگا
کیوں نہ کہو کچھ میں تو بولوں گا محبت کرلی ڈرپوک بے شرم نے مگر رشتہ نہیں لاسکا میں تو کہتا ہوں تم بھی اس سے دور رہو اور آئندہ اس سے بات مت کرنا میں تو تمہیں بہت سمجھدار سمجھتا تھا کاشی نے اس شخص کو دو تین گالیاں دل میں دینے کے بعد وری کو سمجھانے والے انداز میں کہا
کاشی میں اسکو نہیں چھوڑ سکتی وری نے بیچارگی سے کہا
کیوں کونسا شہزادہ ہے وہ تمہیں اس سے اچھے لڑکے مل جائیں گے مجھے تو وہ لڑکا ٹھیک بھی نہیں لگ رہا اور تم اتنی بہادر لڑکی ایسے ڈرپوک شخص کے ساتھ کیسے رہوگی کاشی ہر حال میں اسے اس نامعلوم شخص سے دور کرنا چاہتا تھا
وری نے ہنستے ہوئے اپنی اسٹریٹ سے ایک اسٹریٹ پیچھے گاڑی موڑ کر اپنے موبائل میں اسکی پکچر کھول کر کاشی کو دکھائی اور ہلکے سے کہا
بس آج کے بعد میں اس شخص کو دیکھو گی بھی نہیں پہلے میں شادی کا ارادہ رکھتی تھی پر اب میں جان گئی ہو یہ شخص بغیرت ہے یہ بات اسنے اپنے منہ سے کہہ دی ہے تھینک یو کاشی میری آنکھیں کھولنے کیلئے
اور بچارا کاشی ہونقوں کی طرح اسکے فون میں اپنے تصویر دیکھ رہا تھا اسکے آرمی کہ پہلے دن کی جس میں وہ کلین شیف میں اپنی بڑی بڑی برائوں آئیز کو پورا کھولے پائوچ بنائے وہ اور وری سیلفی لے رہے تھے کاشی نے اسکے فون پر انگلی سے پکچر سلائیڈ کی تو آگے ایک اور پکچر تھی جس میں وہ وری اور میرو کھڑے آنکھیں اور کان کھینچ کر بھوت بنے ہوئے تھے جس کو کھینچ کر جب انہوں نے دیکھی تو وری اور میرو ہنستے ہننستے زمیں پر
گر گئے تھے کیونکہ کاشی نے عجیب طریقے سے منہ کو کھولا ہوا تھا
وری نے اب بھی ہنستے ہوئے گاڑی ایک سائیڈ پر روکی اگر گاڑی کے شیشے کھلے ہوتے تو لوگ رک کر اس گاڑی چلاتی لڑکی کو ایک بار ضرور دیکھتے جو ہنس ہنس کے دہری ہورہی تھی
میرو کے پاس گاڑی رکنے پر کاشی نے اپنا سر اٹھایا اور فون گاڑی کے ایش بورڈ پر رکھا وہ ابھی تک حیرت زدہ تھا کہ وری نے اسے الو بنایا ہے وری نے میرو کے بیٹھتے وقت اپنی ہنسی روک لی تھی جو ایک مشکل کام تھا
لیکن جیسے ہی گاڑی اسٹارٹ کرتے ساتھ کاشی نے اسکے چہرے کی طرف تاسف سے دیکھا وری نے ایک بار پھر ہنسنا شروع کردیا تھا
وہ اگر جان لیتی اتنا ہنسنے کے بعد ابھی اسے رونا بھی ہے تو شاید وہ کبھی اتنا نہ ہنستی
وری نے اپنے گھر کے باہر ہارن بجایا
رحمت بابا نے دروازہ کھول کر سلام کیا وری نے سلام کا جواب دیتے ساتھ گاڑی اندر لا کر کھڑی کی اور اتر کر وہ تینوں اندر کی جانب بڑھے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ان تینوں اندر آکر سب کو سلام کیا کاشی کا موڈ بھی اچھا ہو چکا تھا اسکو واقعی توقع نہیں تھی کہ وری ایسے اپنی محبت کا اظہار کرے گی لیکن اگر وہ تمیز سے اظہار کرتی تو شاید وہ شوق سے ہی مر جاتا کہ یہ اتنی تمیز میں کب آئی ہے
وری نمرہ بیگم کی جانب بڑھی انسے گلے ملنے کیلئے تو انہوں نے ہاتھ سے اسکو اپنی طرف آنے سے روک دیا
وری نے حیرت سے انکی طرف دیکھا لیکن کہا کچھ نہیں تقریبا سب ہی لوگ انکی طرف متوجہ تھے حسن صاحب اور احسن صاحب بھی ایک ساتھ بیٹھے تھے ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف نظروں کا تبادلہ کیا
لیکن دونوں کی ہی آنکھوں سے لاعلمی جھلک رہی تھی سحر بیگم نے انسے استفسار کیا
ہوا نمرہ کیوں اسکو اپنے پاس آنے سے روک رہی ہو تم کل تک تو بڑی ایکسائیٹڈ تھی تم
بھابھی ایسی اولاد انسان کی ایکسائیٹمنڈ ختم کر دیتی ہے پوچھے اس سے کہا تھی یہ نمرہ بیگم کی بات سن کر سحر بیگم نے حیرت سے وری کی طرف دیکھا
وری نے انہیں نظرانداز کر کہ نمرہ بیگم کی طرف بڑھی ماما میں ایکسپلین کر سکتی ہوں آپ میری بات سن لیں ایک بار پہلے وری نے انہیں آرام سے کہا
میں کیوں سنو تمہاری بات ہاں تم نے کیوں جھوٹ بولا مجھ سے کیا مینے کبھی تمہیں کسی چیز سے روکا ہے پھر کیوں تم نے میرا اعتبار توڑا نمرہ بیگم چیخ رہی تھی جب حسن صاحب نے انہیں ٹوکنا چاہا
نمرہ بیگم آپ اسکی بات تو سن لیں ایک بار وہ کیا کہنا چاہتی ہے انہوں نے انہیں سمجھانا چاہا
میں کیوں سنو کچھ میں کچھ نہیں سننا چاہتی بس اتنا بادو مجھ کہ
تم میرو کہ ساتھ ٹرپ پر تھی یا نہیں نمرہ بیگم ایک بار پھر غصے سے چلائی
میری بات سنے ماما میں آپکو سب بتاتی ہوں وری نے انکو سمجھانا چاہا
مجھے نہیں سننا کچھ بھی بس اتنا بتادو تم میرو کہ ساتھ تھی یا نہیں نمرہ بیگم اسکی کوئی بات سننا ہی نہیں چاہتی تھی
نہیں تھی میں میرو کے ساتھ وری نے مجرمانہ انداز میں کہا
نمرہ بیگم اسکی بات سن کر کچھ پل تو اسکو بے یقینی سے دیکھتی رہی اور پھر بے اختیار انکا ہاتھ اٹھا
اور وری کے گال پر اپنا نشاں چھوڑ گیا
فری کی بکواس نے ان دونوں ماں بیٹی کو پل میں دور کردیا تھا
وری نے حیرت سے انکی طرف دیکھا اسنے کبھی زندگی میں ان سے مار نہیں کھائی تھی اور آج اپنی جونی میں اتنے سارے لوگوں کے درمیان انہوں نے اسکو تھپڑ مارا تھا
وہ بےیقینی دکھ اور پتا نہیں کیا کیا جزبات اسکی آنکھوں میں ہچکولے لے رہے تھے ایک آنسو اسکی آنکھ سے نکل کر اسکے گال پر پھسلتا ہوا اسکے قدموں میں گرا
وہ بڑے ہونے کے بعد کبھی انکے سامنے نہیں روئی تھی بلکہ وہ اپنے والد آفان اور میرو کے علاوہ کسی کہ سامنے نہیں روئی تھی سب لوگ حیرت سے انکو دیکھ رہے تھے جب حسن صاحب غصے سے دھاڑے
آپکی ہمت کیسے ہوئی اسکو تھپڑ مارنے کی میں جانتا تھا میری بیٹی کہاں ہے مجھے ہر چیز کا علم تھا وہ کب کہاں ہے کس کے ساتھ ہے کب سے وہ کہہ رہی ہے اسکی سن لیں مگر آپ اسکی سن ہی نہیں رہی
وہ آرمی جوائن کرچکی تھی دوبارہ سے وہ بھی میری اجازت سے آپکو اس لئے نہیں بتایا کیونکہ آپ اسکو اجازت نہ دیتی کیا آپکو اتنی بےیقینی تھی کہ اسکی بات بھی نہیں سنی اور اسکو تھپڑ مار دیا انکی چیخ پکار سب سن رہے تھے وری نے ہاتھ میں پکڑی گاڑی کی چابی پر گرفت مظبوط کی اور باہر کی طرف مڑی اس سے پہلے وہ وہاں سے باہر نکل جاتی
فہد اسکو بازوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اپنے کمرے میں لایا یہ مشکل کام تھا لیکن شاید اس وقت اسے ایک کندھے کی ضرورت تھی
اور ایک بھائی سے زیادہ کون ہوسکتا تھا جو اس کو یہ بہترین کندھا میسر کرتا وہ بھائی جو اس سے ہر وقت لڑتا رہتا تھا آج اسکے غم میں اسکو اپنی بانہوں کے حصار میں لیئے کھڑا تھا وہ مچل رہی تھی اس کے حصار میں مگر وہ اسے نہیں نکلنے دے رہا تھا اگر عام حالات ہوتے تو وہ اسکو ایک دھکے میں ہی اپنے سے دور کردیتی مگر ابھی وہ خود دکھ میں تھی
وری کچھ دیر کوشش کرتی رہی اسکی گرفت سے نکلنے کی مگر پھر تھک ہار کر اسکے سینے سے لگی آنسوئو سے رونا شروع ہو گئی تھی اسے دکھ ہوا تھا بہت زیادہ بچپن کی مار انسان کو بھول جاتی ہے مگر جوانی مار ساری زندگی یاد رہتی اور بلاوجہ مارا گیا تھپڑ تو اور تکلیف دیتا ہے
مجھ سے محبت ہی نہیں ہے انہیں مجھے لگتا تھا نہیں مجھ سے محبت نہیں مگر آج یقین ہو گیا ہے میں لڑکی ہوں نہ اس لئے انہون نے مجھے مارا ہے وہ صرف تم سے محبت کرتی ہے اسے صرف اپنی ماں کہ تھپڑ مارنے کا دکھ نہیں تھا
اس دن جو رویہ صفیہ کے باپ بھائی کا دیکھا تھا وہ اسے اتنا نیگیٹیو کر رہا تھا کیونکہ ماحول اثر کرتا ہے وہ جو چیزیں وہاں دیکھ کر آئی تھی اسے اس نے دکھی کردیا تھا اور باقی کی قصر آج نمرہ بیگم کے تھپڑ نے پوری کردی تھی
ایسا نہیں ہے آپی وہ آپ سے بہت محبت کرتی ہیں یہ سارا قصور فریحہ اظہر کا ہے اسکو تو میں چھوڑو گا ہی نہیں فہد غصے سے بولتے ہوئے اسکو پیچھے ہٹا کر باہر جانے لگا
نہیں فہد آجائو اسکو میں خود دیکھ لوں گی ابھی باہر مت جائو وری نے اپنے بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا آنسو تو فہد کے بھی گر رہے تھے اسے خوشی تھی اسکی بہن آرمی میں ہے مگر اب وہ بھی نمرہ بیگم سے ناراض ہونے کا سوچ رہا تھا دل ہی دل میں
فہد نے اسکا دیھان ہٹانے کیلئے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو اپنے بیڈ کے پاس نیچے زمیں پر بٹھایا اور خود اپنی الماری کی طرف بڑھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نیچے حسن صاحب نمرہ بیگم کو سنا کر فریحہ اظہر کی طرف بڑھے
وہ بےحد غصے میں تھے آج سے پہلے انہیں کبھی کسی نے اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا فری بھی ڈر رہی تھی انکو اس طرح سے غصے سے اپنی طرف آتا دیکھ کر
آج کے بعد تم یا تمہارے گھر کا ایک بھی فرد ہمارے گھر کے یا اس گھر کے کسی بھی فرد کے آس پاس نظر آیا تو یقین جانو اس دن میں جس طرح پیش آئو کو دن تم سب کو کبھی نہیں بھولے گا بات سمجھ میں آئی یا نہیں حسن صاحب کے لہجے میں جلال تھا بہت
فری سر ہلاتے ساتھ اپنا پرس اٹھا کر باہر نکل گئی تھی باقی سب نے بھی افسوس سے نمرہ بیگم کو دیکھا سب سے زیادہ آفان دکھی تھا وہ تو اسکو سرپرائز دینے والا تھا
مگر آج کا دن اسکی زندگی کا سب سے برا دن بن گیا تھا وہ آہستہ سے اوپر فہد کے کمرے کی طرف بڑھا جب حسن صاحب نے اسکو آواز دے کر روکا
آفان ابھی اسے چھوڑ دو اکیلا رات کے کھانے پر بات کر لینا تم اس سے ابھی وہ نہیں سنے گی کسی کی بھی حسن صاحب یہ کہتے ساتھ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے انہیں ایسی بےوقوفی کی امید نہیں تھی نمرہ بیگم سے
اور نمرہ بیگم انکے جانے کے بعد پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی کاشی نے آگے بڑھ کر انکو سنبھالا
مامی حوصلہ کریں کوئی بات نہیں آپ اس سے بات کیجیئے گا وہ مان جائے گی آپکو پتا تو ہے وہ زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتی کسی سے بھی
نمرہ بیگم نے اثبات میں سر ہلایا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی وہ جانتی تھی حسن صاحب بھی اس سے ناراض ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اور فہد بیڈ سے ٹیک لگائے زمیں پر بیٹھے چاکلیٹ کھا رہے تھے وہ اس وقت سے کمرے میں بند تھے انہیں رات کے کھانے پر بھی بلوایا گیا تھا مگر وہ دونوں منع کرچکے تھے
نیچے سب کھانے سے ہاتھ روکے انکا انتظار کر رہ تھے فہد کے کمرے میں سیب کی باسکٹ رکھی ہوئی تھی جو اسنے صبح ہی اپنے کمرے میں رکھی تھی تاکہ وری کو ایک بھی سیب نہ مل سکے
مگر اب وہ خود ہی اسکے ساتھ بیٹھ کر سیب اور چاکلیٹس کھا رہا تھا وری چار سیب کھا چکی تھی اور اب چاکلیٹ سے انصاف کرتی ہوئی فری کی برائی کرتے ہوئے اور اسکا مزاق اڑاتے ہوئے دونوں پاغلوں کی طرح ہنس رہے تھے جب اسکے دروازے پر دستک ہوئی
وری دروازہ کھولو ضروری کام ہے سر اویس کا کاشی نے باہر سے ہی آواز دے کر اپنے آنے کی وجہ بتائی وہ ابھی ڈائینگ ٹیبل سے اٹھ کر آیا تھا
کیا کہا ہے سر اویس نے فہد کی آواز کمرے سے گونجی جو یقینا وری کے کہنے پر آئی تھی
وری سر اویس کو کال بیک کرلو انکا آڈر ہے کل کی جگہ ہمیں آج ہی گلگت کیلئے نکلنا ہوگا
کاشی کی بات سن کر فہد نے وری کی طرف دیکھا جو اپن اموبائل اٹھا رہی تھی بیڈ سے جہاں سر اویس کی کافی ساری مس کالز تھی
آج ہی تو وہ آئی تھی اور آج ہی وہ بچھڑ رہے تھے کبھی کبھار قسمت بھی انسان کو کتنا دور کر دیتی ہے ایک دوسرے سے
اور اس بار وہ سب کاشی اور اسد کے ساتھ وری کیلئے بھی دعا گو ہونے والے تھے کیونکہ وہ بھی اپنا فرض ادا کرنے جانے والی تھی
اس بار وہ چھپ کر نہیں سرے عام ان سب کو بتا کر جانے والی تھی اپنے مشن پر اس ملک کیلئے اپنی قوم کے لوگوں کیلئے ان مائوں کیلئے جنہیں آرمی پر فخر ہے اور ان بچوں کیلئے جو انکے انتظار میں ہیں ۔
