Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR

احسن ولا کے سب افراد کسی نہ کسی کام میں مصروف تھے مرد حضرات آفس گئے ہوئے تھے اور خواتین میں ثمرہ بیگم اور نمرہ بیگم ملازموں کے ساتھ مل کر گھر کی صفائی کروا رہی تھی اور سحربیگم (میرو) کی ممی کچن میں کھانا بنا رہی تھی
آفان بھائی آپ اپنے ہنی مون پر کہا جائے گے ــ
وہ سب لائونچ میں بیٹھے آفان کی شادی ڈسکس کر رہے تھے جب وری نے سنجیدگی سے سوال کیا ـ
سب نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا مگر اسکے تعصورات میں کوئی فرق نہیں پڑھا ـ
میرا ارادہ نادرن ایریازپر وزیٹ کرنے کا ہے مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو ــ آفان نے نرمی سے پوچھا ـ
مجھے بھی تو پیکنگ کرنی پڑھے گی نہ وری نے سکون سے بتایا
کہاجانے کے لئے پیکنگ کرنی پڑے گی ـوہ سب ہونقوں کی طرح اسکو دیکھ رہے تھے جب آفان نے اس سے پوچھا
آپ کے ساتھ جانے کے لئے ــ جواب پھر اسی معصومیت سے آیا تھا
میں تمہیں اپنے ساتھ کیوں لیکر جائو گا ــ اس بار کاشان نے کچھ غصے سے پوچھا
کیونکہ میں ساتھ جانا چاہتی ہوں ــ اسنے اسی اطمینان سے کہا
لیکن میں تمہیں اپنے ساتھ ہر گز نہیں لے کر جائو گا ــ آفان نے دو ٹوک انداز میں کہا اور کھڑآ ہو گیا
وہ تو دیکھی جائے گی ـ آپ خود مجھے ساتھ چلنے کا کہیں گے دیکھ لیجیئے گا وری نے اتنا کہا تو آفان اسکو زبان چڑھا کر اوپر کی طرف چلا گیا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ اسے نہیں لیکر جائے گا ــ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ خود اسکی منتیں کرے گا ساتھ چلنے گی کبھی کبار قسمت وہ چیز ہمارے سامنے لاکر کھڑی کر دیتی جس سے ہم انکار کر رہے ہوتے ہیں اور اور کبھی وہ کام ہمارے سامنے آجاتے ہیں جو ہم نہیں کرنا چاہتے
آفان کہ اوپر جانے کہ بعد میرو اپنی جگہ سے اٹھ کر وری کہ پاس آکر بیٹھ گیا تھا
وری کو لگا وہ اسکو تسلی یہ کوئی مشورہ دینے آیا ہے مگر وہ اسکے زخموں پہ نمک چھڑکنے آیا تھا جس کا اندازہ اسکو میرو کی ہنسی دیکھ کر ہی ہو گیا تھا
اوہ وری تمہیں تو آفان بھائی لیکر ہی نہیں جارہے اب کیا کرو گی انداز صاف چڑانے والا تھا وری کو پتا تھا وہ اسکے زخموں پر نمک چھڑک رہا تھا بیٹھ کہ
تم دیکھ لینا وہ خود کہیے گے مجھے ساتھ جانے کا اور زیادہ دانت نہ نکالو توڑ دونگی ــ وری نے غصے سے کہا
اوہو کسی کو بہت غصہ آرہا ہے اور دیکھ لینا تمہیں کوئی نہیں لیکر جائے گا میرو نے اسے اور تپایا
لیکن اب وہ اسکے ہر جملے پر اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں ساتھ ملا کر اور آنگھوٹا نیچے کر کے انکوپھر ساتھ ملاتی جیسے بتانا چاہ رہی ہو کہ وہ بکواس کر رہا ہے
یہ ساری لڑائی دیکھ کر سب سے زیادہ کاشی محفوظ ہو رہا تھا وہ 3 سال بعد انکو اس طرح لڑتے دیکھ رہا تھا اس لئے اسے مزہ آرہا تھا
وری جو کب سے اسکی بکواس سن رہی تھی اب اسکی برداشت سے باہر ہو رہا تھا میرو اس لئے اسنے چیخنا شروع کردا ــ لڑکیوں کا پسندیدہ وار اگر انکی نہ سنی جا ری ہو تو وہ دو کام کرتی ہیں یہ تو چیخنا شروع کر دیتی ہیں یہ رونا اور یہ دونوں چیزیں کارآمد ثابت ہوتی ہیں انکے لئے
تائی امی میرو کو دیکھے کب سے لڑکیوں کو بے وقوف اور نکمی کہہ رہا ہے ـ وری زوروشور سے تائی امی کو آوازیں دے رہی تھی
وری مینے صرف تمہیں بے وقوف کہا ہے اس میں ساری لڑکیاں کہا سے آگئی اور مینے نکمی یکا لفظ تو یوز بھی نہیں کیا ــ میرو بے یقینی سے کہہ رہا تھا کیونکہ اس سے پہلے اسنے کبھی ایسا جھوٹ نہیں بولا تھا
تمہارے پاس 10 سیکنڈ ہے بھاگنا چاہتے ہو تو بھاگ لو ورنہ آج تمہیں ٹھیک کرواتی ہوں تائی امی سے وری بنا شرمندہ ہوئے کہہ رہی تھی
اور ابھی وہ صرف بھاگ ہی سکتا تھا کیونکہ اگر سحر بیگم وہاں آجاتی تو اسکی خیر نہ ہوتی وہ وری کی سننے کہ بات کسی کی نہیں سنتی تھی وہ تو پھر انکا لے پالک تھا یہ بات بھی اسکی اپنی کہی ہوئی تھی ــ ورنہ ایسا نہیں تھا لیکن وری آج انکی محبت کا فائدہ اٹھا رہی تھی
لیکن میرو سحر بیگم کہ وہاں آنے سے پہلے بھاگ گیا تھا جس پر سب سے بڑا قہقہ وری نے لگایا تاھ اسے ڈرپوک کہتے ہوئے
رات گہری ہو رہی تھی آسمان سارا بادلوں سے بھرا ہوا تھا روز کی طرح آج آسمان
پر ایک بھی ستارا نہیں تھا جیسے وہ بھی ناراض ہوں سب سے جس طرح وہ لڑ کی
تھی اسے اس جگہ پر 2 دن ہو گئے تھے جس دن وہ وہاں آئی تھی بہت بری حالت
میں تھی مگر آج وہ بہتر تھی جسکی وجہ وہ عظیم عورت تھی جو دو دن سے اس لڑکی کا خیال رکھ رہی تھی مگر وہ اس دن سے خاموش تھی وہ عورت دو دن سے اس سے پوچھنے کی کوشش کر رہی تھی
مگر جواب میں صرف خاموشی ملتی وہ لڑکی آج بھی اس کمرے کی کھڑکی کھولے آسمان کو دیکھ رہی تھی مگر آج وہ بجلی کڑکنے یا بادل کہ گرجنے سے ڈر کر اپنی امی یا گھر میں موجود کسی اور ہنستی کہ پاس نہیں جا سکتی تھی کیونکہ آج اسکے پاس کوئی تھا ہی نہیں
بلکہ آج تو اسے کوئی خوف محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا وہ چاہتی تھی کہ شور ہو تاکہ اسکے اندر کی آوازیں آنا بند ہو جائے جیسے وہ اس رات کا ہر پل اپنی آنکھوں سے نکالنا چاہتی ہو ـ وہ ان آوازوں سے پیچھا چھڑانا چاہتی تھی جو پچھلے 4 دنوں سے اسے سونے نہیں دے رہے تھے اسے عجیب سی گھن آرہی تھی اپنے وجود سے-- اسے صرف خود سے نہیں ہر شخص سے خوف آرہا تھا ہر کسی سے ایک ہفتہ پہلے وہ بلکل ٹھیک تھی اور آج ایک ہفتہ بعد اگر اسکو اسکے رشتہ دار یا
کوئی جاننے والا اس حالت میں دیکھ لے تو پہچان ہی نہیں پائے گا کہ یہ وہ ہی لڑکی ہے جو ہر وقت ہنستی مسکراتی تھی زندگی بھی کبھی کبھی انسان کو ایسی جگہ لے جاتی ہے جہا کا اسنے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو بلکہ یہ کہا جائے کہ اسکے بارے میں تو کبھی ہم سوچے بھی نہ اپنے لئے اسکے ساتھ بھی یہ ہی ہوا تھا اور وہ سوچنے پر مجبور تھی کہ آخر اسنے ایسا کیا گناہ کیا تھا کہ اللہ نے اس کو اتنی بڑی سزا دی مگر ضروری نہیں وہ آپکے لئے سزا ہو کیا پتا اللہ نے آپکو کسی آزمائش میں ڈال دیا ہو مگر انسان اللہ کہ فیصلے سمجھنے سے قاصر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *