Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13
وہ لڑکی باہر لان میں بیٹھی دھوپ کو دیکھ رہی تھی جب ایک ہاتھ کپ سمیت اسکی جانب بڑھا اسنے حیرت سے پہلے کپ اور پھر دینے والے کو دیکھا تو سامنے مسز اویس کھڑی تھی
آنٹی آپ کیوں لائی میں خود لے لیتی صفیہ شرمندہ ہوگئی تھی انکے چائے لانے پر
اٹس اوکے بیٹا آپ یہ کپ پکڑے اور بتائیں قرآن دوبارہ سے پڑھ کر کیسا محسوس کررہی ہیں آپ انہوں نے نرمی سے پوچھتے ہوئے چائے کا ایک گھونٹ بھرا
اسنے چائے زمیں پر رکھی اور ایک گہری سانس لیکر کہا
سچ بتائو تو میں بےحد ہلکی پھولکی ہوگئی ہوں پھر سے اللہ پاک سے دوستی کرکہ اس نے جزبات سے پر انداز میں کہا
اسکے چہرے پر بےحد سکوں تھا اور لہجے میں عجیب سہ ٹہرائو تھا
دیٹس گڈ یہ بہت اچھی بات ہے ویسے آپ نے کچھ پڑھائی وڑائی کی ہے کہ نہیں انہوں ہلکےپھلکے انداز میں پوچھا
جی میں میڈیکل کے سیکنڈ سیمیسٹر کی اسٹوڈنٹ ہوں اسنے انکی بات کے جواب میں جھینپ کر کہا
اوہ یعنی آپ ڈاکٹر ہیں مسز اویس نے شریر لیجے میں کہا
آپ یہاں اکیلی رہتی ہیں آئی مین آپکے ہزبینڈ اور بچے وغیرہ صفیہ بات بیچ میں چھوڑ دی تھی
نہیں میرے دو بچے ہیں ایک بیٹی شادی شدہ ہیں وہ انگلینڈ میں ہوتی ہیں اور ایک بیٹا ہے اسنے ابھی انٹر کیا ہے وہ باقی پڑھائی کیلئے لندن گیا ہوا ہے
اوہ تبھی اتنے دنووں میں مینے کسی کو بھی یہاں نہیں دیکھا اور آپکے ہزبینڈ
اسنے اپنی حیرت دکھاتے ہوئے انسے انکے ہزبینڈ کا پوچھا
وہ اسی شہر میں ہوتے ہیں مسز اویس نے گہری سانس لیکر کہا
تو وہ آپکے ساتھ کیوں نہیں رہتے صفیہ نے حیرت سے پوچھا
وہ آرمی میں ہوتے ہیں ابھی بھی کسی کیس کی وجہ سے گھر نہیں آرہے مسز اویس نے ٹھنڈے لیجے میں کہا
اوہ تو کیا وہ میرے بارے میں جانتے ہیں صفیہ نے الرٹ انداز میں پوچھا
نہیں انکا نہ کوئی فون آیا ہے نہ کوئی بات ہوئی ہے اور ویسے بھی تمہیں یہاں رکھنے سے وہ کچھ نہیں کہیں گیں اب تم بتائو اس رات تم وہاں سڑک پر بھاگ کر میری گاڑی کے سامنے کیوں آئی تھی کیا ہوا تھا آپ کے ساتھ انہوں نے نرمی سے اسکا ہاتھ دبا کر پوچھا
آپ وعدہ کریں کسی کو نہیں بتائیں گی میرے بارے میں ایک دو دن میں یہاں سے کہیں اور جانے کا انتظام کرلونگی اسنے بے حد آس سے انسے کہا
لیکن آپ کیوں نہیں چاہتی کہ آپکے بارے میں کسی کو پتا چلے انہوں نے بےحد حیرانگی سے اس سے پوچھا
کیونکہ شاید میرے بارے میں جان کر آپ مجھے اپنے پاس نہ رکھنا چاہیئے اسنے ایک بار پھر انہیں الجھایا
بیٹا میں آپکی بات نہیں سمجھ پارہی آپ پلیز سہی سے بتائو اپنے بارے میں میں کسی کو نہیں بتائو گئ آپکے بارے میں انہوں نے اسکو یوین دلایا
صفیہ نے انہیں ایک بار غور سے دیکھا جیسے انکے چہرے سے جاننا چاہتی ہو کہ وہ سچ کہہ رہی ہیں کہ نہیں لیکن انکے چہرے پر سچے جزبات تھے اور ویسے بھی ان پر یقین کرنے کے علاوہ اسکے پاس کوئی راستہ نہیں تھا اسنے ایک بار گہری سانس لی اور اپنے بارے میں بتانا شروع کیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نور آہستہ آہستہ اسکو سوپ پلا رہی تھی جب اس لڑکی نے چبھتے ہوئے انداز میں کہا
آپکو مجھ سے گھن آتی ہوگی نہ کھانا کھلاتے ہوئے ایک گندی غلاظت بھری لڑکی کو کھانا کھلانا پڑھتا ہے جس کو پتا نہیں کتنے لوگوں نے اینے گندے ہاتھوں سے گندہ کیا ہے
نور نے حیرت سے اسکو دیکھا جیسے یقین ہی نہیں آرہا ہو کہ اس لڑکی نے اس سے بات کی ہے اسے اس چیز سے فرق نہیں پڑھ رہا تھا کہ ابھی وہ کیا کہہ رہی ہے بس خوشی اس بات کی تھی کہ اسنے خود سے اس سے بات کی ہے نور نے خوشی سے اسکی طرف دیکھا مگر وہ اسے چبھتی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی
نور نے گہری ٹھنڈی سانس لیکر کہا
تم ایسا کیوں سوچتی ہو مجھے تم سے کیوں گھن آئے گی تم نےتو کچھ نہیں کیا جو میں تم سے گھن کہائو گی نور نے افسوس سے اسکو دیکھتے ہوئے کہا
تم جھوٹ بول رہی ہو نہ تمہارا دل چاہتا ہے مجھے ماردو تاکہ اس گھر سے گندگی ختم ہوجائے مریم جنونی انداز میں بولے جا رہی تھی
نور حیرت زدہ تھی کہ وہ اس کمرے میں پڑی اتنی زیادہ منفی سوچیں اپنے دماغ میں بھرتی رہی ہے
مریم تم ایسے کیوں بول رہی ہو کیا مینے تمہیں کبھی ترس بھری یا نفرت یا ہمدردی بھری نظروں سے دیکھا ہے میں تو تم سے ایک دوست کی طرح ملنے آتی ہوں اور تم ایسا سوچتی ہو میرے باری میں نور اسے ایموشنلی بلیک میل کر رہی تھی کہ اصل میں اسکے دل میں کیا ہے اسکے لئے
یہ ہی تو میں جاننا چاہتی ہوں تم مجھے کیوں دوست سمجھتی ہو میں تو تمہاری دوست نہیں ہو تمہں مجھ سے نفرت کیوں نہیں ہے تمہیں مجھ پر ترس بھی نہیں آتا کیوں نہیں آتا
نور نے بے قابو ہوتی مریم کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بیڈ پر واپس لٹایا اور آہستہ سے اسکے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
ہاں نہیں ہے مجھے تم سے نفرت نہیں آتا تم پر ترس میں کیوں کھائو تم پر ترس مریم تم تو پھر بھی بچ گئی ہو ہاں تمہارے ساتھ بہت غلط ہوا ہے لیکن یہاں اس کمرے میں پڑے رہنے سے وہ سب ٹھیک تو نہیں ہوجائے گا یا اگر میں تم سے گھن کھائو گی تو تمہاری تکلیف کم ہوجائے گی
اس سب سے کچھ بھی نہیں ہوگا مریم اور میں خود کون سی پاک صاف ہوں میں بھی تو گناہ گار ہوں ہر انسان نے کوئی نہ کوئی گناہ کیا ہے تو کیا ہم سب سے گھن کھانا شروع کردیں ویسے بھی کسی نے کہا ہے اگر کوئی گناہ کا کام کرتا ہے تو اس شخص سے گھن نہ کھائو بلکہ اس کے اس گناہ سے گھن کھائو اور اس گناہ سے بچنے کی کوشش کرو
پھر میں تم سے نفرت کیسے کرو تم نے تو کچھ کیا ہی نہیں ہے نفرت تو ان لوگوں سے ہو رہی ہے جنہوں نے ہماری قوم کے مستقبل کو خراب کیا ہے اور مریم میرا دل چاہتا ہے کہ تمہیں اس کمرے سے باہر نکالو تم کیوں اس کمرے میں دنیا سے کٹ کر جی رہی ہو ــ مریم جو سحر زدہ سی اسکی باتیں سن رہی تھی اسکی آخری بات سن کر چیخ اٹھی
یہ سب کیوں ہوا میرے ساتھ اللہ نے کیوں نہیں بچایا مجھے آپ کہہ رہی ہیں کہ میں یہاں دنیا سے کٹ کر لیٹی غلط کر رہی ہوں تو آپ بتائیں میں کیا کروں
میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے میں پل پل مری ہوں کسی کو احساس ہوا کوئی آیا مجھے بچانے جب تب آپ لوگ نہیں آئے تو اب کیوں آئے ہیں جائیں چلی جائیں یہاں سے وہ چیخ رہی تھی تڑپ رہی تھی جب نور نے اسکا ہاتھ پکڑ کر سہلایا جیسے اسے تسلی دے رہی ہو اسکا غم کم کرنا چاہ رہی ہو
مینے کب کہا کہ تم پل پل نہیں مری ہو میں جانتی ہوں تم تکلیف میں ہو تم تڑپ رہی ہو تم اندر ہی اندر مر رہی ہولیکن کیا تمہاری تکلیف تمہاری تڑپ سے ان کتوں کو کوئی فرق پڑے گا
نہں مریم انکو کوئی فرق نہیں پڑے گا انہوں نے صرف تمہارے ساتھ یہ سب نہیں کیا ہزاروں لڑکیوں اور بچوں کو بے مول کردیا ہماری قوم کہ بہت سے پھولوں کو کچل دیا ہے بہت سی مائوں کی گود کو اجاڑا ہے لیکن مریم تم کہہ رہی ہو نہ کہ میں کیا کروں تو تم ایک کام کر سکتی ہو
یہاں بستر پر پڑے رہنے سے اچھا اس ملک کیلئے کچھ کرو ہاں ہم تمہیں نہیں بچانے آئے مریم لیکن ہم تو بچا بھی نہیں سکتے تمہیں ہماری نہیں اللہ کی مدد کی ضرورت تھی تم اس سے رجوع کرتی لیکن اب بھی تمہارے پاس موقع ہے یہاں پڑے رہنے سے بہتر ہے ہماری مدد کرو اور ان بچوں کو اور ان لڑکیوں کو بچانے کیلئے جو کچھ کر سکتی ہو وہ کرو آخر تم بھی تو اس قوم کی بیٹی ہو کیا تم نہیں چاہتی اس قوم کیلئے کچھ کرنا
نور نے بےحد نرمی سے آہستہ آہستہ اسکا ہاتھ سہلاتے ہوئے اسکے لئے سوچ کے نئے در کھول رہی تھی ایک چیز تو اسنے جان لی تھی کہ وہ لڑکی اسکی عادی ہو گئی ہے اور وہ اسکی باتوں سے زیر بھی ہوگئی ہے باقی کا کام اسکے دل نے کرنا ہے کہ اس کے دل میں کتنا جزبہ ہے اپنے ملک کیلئے
مریم میں تمہیں فورس نہیں کرونگی تم اپنی مرضی سے مجھے بتا سکتی ہو تین دن ہیں تمہارے پاس آرام سے سوچ لو اور یہ مت سوچو تم سے کوئی محبت نہیں کرتا یا اب سب کو تم سے نفرت ہو گئی ہے نہیں مریم ایک بات جان لو تمہارے بابا اور ہماری پاک فوج جس میں خاص طور پر میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں
مریم نے اسکی بات پر ہولے سے اپنا سر اٹھایا اور اسکی آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھ کر وہ ایک دم سے اسکے گلے لگی اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہوگئی تھی
وہ اتنے دنوں میں آج پہلی بار ایسے کھل کر روئی تھی اور نور نے اسکو رونے دیا تھا وہ چاہتتی تھی وہ اپنے دل کا غبار نکال لے نور نے اسکی آنکھوں میں نیم رضامندی دیکھ لی تھی لیکن ابھی وہ اسکو فورس نہیں کر سکتی تھی ورنہ وہ اپنے دل میں یہ بات ڈال لیتی کہ وہ صرف اپنے مقصد کی وجہ سے اس سے ملنے آتی رہی ہے اس لئے نور نے اسکو تین دن کاٹائم دیا تھا تاکہ وہ دماغی طور پر بلکل تیار ہو جائے اس کیس کیلئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نور اسکو سوپ پلا کر اور دوائی کھلا کر باہر نکلی تو سامنے نواز صاحب (مریم کے ابو ) کھڑے تھے جو اسے نرمی اور محبت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے
آپکا بہت شکریہ بیٹا آپکے آنے کی وجہ سے وہ کھانا کھانے لگی ہے اور آج آپ نے جس طرح سے اسکو ہینڈل کیا ہے میں آپکا بہت زیادہ مشکور ہوں اور بیٹا اسکی بدتمیزی دل پر مت لینا میں اسکی طرف سے آپسے معزرت کرتا ہوں
نواز صاحب نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر اسکے سامنے کیئے
ارے انکل یہ کیا کر رہے ہیں ایسے نہ کریں یہ میرا فرض تھا آپ تو میری نیکیاں ضایع کر رہے ہیں کیا اتنی بری ہوں میں نور نے انکے ہاتھ کھول کر مزاحیہ انداز میں کہا وہ اتنے زیادہ سیریس ماحول میں نہیں رہ سکتی تھی
نہیں بیٹا آپ تو بہت اچھے ہو مگر پتا نہیں میری بیٹی سے کیا غلطی ہوئی ہے جسکی اسے اتنی بڑی سزا ملی ہے نواز صاحب نے دکھ بھرے انداز میں کہا انکے لہجے اور آنکھوں سے دکھ ہی دکھ تھا
انکل مایوسی کی باتیں نہ کریں ہاں اسکے ساتھ برا ہوا ہے مگر آپ ان بچوں کا بھی تو سوچیں جو چھوٹی ایج میں ان درندوں کی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں جن کی صرف روح ہی نہیں جسم پر بھی آپکو بےشمار نشان ملیں گے اس لئے ایسے نہ کہیں صبر کریں انشاءاللہ ہم کوشش کر رہے ہیں ان درندوں کو زندہ نہیں چھوڑیں گیں نور پریقین انداز میں کہا
انشاءاللہ اللہ تم سب کو کامیاب کرے آمین سر نواز نے اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر کر دعا دی
چلیں انکل اب میں بھی چلتی ہوں کچھ ایک اور کام بھی ہے مجھے نور نے انسے اجازت چاہی
ٹھیک ہے بیٹا اللہ حافظ
اللہ حافظ انکل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ سب ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب آفی نے وری کو مخاطب کیا
وری ہمارا ناران کاغان جانے کا ارادہ ہے وہاں سے مری وغیرہ جائیں گے اب تم بتائو اور کہا جانا چاہتی ہو آفی نے بریڈ پر جیم لگاتے ہوئے اس سے پوچھا
آفی بھائی طبیعت ٹھیک ہے نہ بخار وخار تو نہیں ہو گیا مجھے اپنے ساتھ لیکر جانے کی بات کر رہے ہیں نور نے حیرت سے کہا
کیوں مینے کہا تو تھا تمہیں بھی ساتھ لیکر جائو گا اور بخار کیوں ہونہ ہے فرسٹ ٹائم تھوڑی نہ لیکے جارہا ہو میں تمہیں آفی نے بنا کسی کی طرف دیکھے کہا
بھائی آپ کیوں مجھے اپنے پوتے پوتیاں دیکھنے سے پہلے اوپر پہنچانا چاہتے ہیں نور نے آہستہ آواز میں کہا لیکن ٹیبل پر بیٹھے تمام افراد اسکی بات سن چکے تھے وہاں مکمل خاموشی ہونے کی وجہ سے
آفی نے حیرت سے اسکو دیکھا اور پھر آنکھ کے اشارے سے پوچھا کہ یہ کیوں بول رہی ہو
ایک دفع میری حسین ماں کو دیکھ لیں جو مجھے ایسے دیکھ رہی ہیں جیسے کہہ رہی ہوں بیٹا ان سب کو جانے دو پھردیکھنا تمہاری ساتھ میں کرتی کیا ہوں وری کی بات سن کر آفی نے پہلے نمرہ چاچی کو اور پھر ٹیبل کے گرد چیئر پر بیٹھے باقی لوگوں کو دیکھا تو سب اسے ہی دیکھ رہے تھے
کیا ہوگیا ہے بھئی مینے پہلے ہی کہا تھا کہ وری کو لیکر جائو گا اپنے ساتھ آفان کی بات سن کر سب سے پہلے وری نے اپنی زباں کھولی
لیکن آفی بھائی میں آپکے ساتھ نہیں جاسکتی وری نے بے چارگی سے کہا
کیوں نہیں جاسکتی آفی نے سوالیہ نظروں سے اسکو دیکھا
میرے پیپر ہونے والے ہیں 5 دن بعد پہلا پیپر ہے نہ بھائی بتایا تو تھا آپکو وری نے اسکے بھول جانے پر اسکو گھورا
ہاں تو میں کونسا ابھی جارہا ہوں ویسے بھی ابھی تو ہماری دعوتیں چل رہی ہیں اسکے بعد ہی جائیں گیں آفان نے اسکو مسئلے کا حل بتایا
نہیں آفی بھائی آپ ابھی چلیں جائیں کیونکہ میں اپنے یونی ٹرپ کے ساتھ جائونگی پیپر کے بعد لاسٹ سیمسٹر ہے تو ہماری یونی جائے گی مری وغیرہ کی سائیڈ اس لئے آپ لوگ چلے جائیں ویسے بھی بار بار موقع نہیں ملتا اکیلے جانے کا وری نے بڑوں والے انداز میں اسکوسمجھانا چاہا
آفی نے کچھ پل ناشتے سے ہاتھ روک کر اسکو جانچنے والے انداز میں گھورا اور پھر زرا سخت لہجے میں پوچھا
یہ تم یونی کیوں جارہی ہو اتنی پابندی سے حناکہ تمہارے تو پیپر ہونے والے ہیں نہ تو یونی میں تو کوئی نہیں آتا ہوگا زیادہ میرو بھی تو نہیں جارہا
اوپس مر گئی آج تو وری نے پہلے میرو کو تیز کھاجانے والی نظروں سے گھورا اور پھر مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے بولی
آفی بھائی آپکو پتا ہے مجھ سے گھر میں پڑھائی نہیں ہوتی اور میرو کو مینے کہا تھا کہ وہ بھی ساتھ چل لے مگر اسکا کہنا ہے وہ گھر میں زیادہ اچھا پڑھ سکتی ہے سو اس لئے میں اکیلی جارہی ہوں
اوکے کل سے میں تمہیں یونی چھوڑو گا اور واپسی بھی میں ہی لینے آئو گا آفی نے دوٹوک انداز میں کہا مگر وہ وری ہی کیا جو بنا بھینس کہ کوئی بات مان لیں
بھائی آپکی ابھی شادی ہوئی آپ اپنی لائف انجوائے کریں میں کل سے اس میرو کے بچے کو ساتھ لے جائو گی اور اسکے ساتھ ہی واپس آئو گی آپ چھوڑیں یہ سب چیزٰیں اور اگلے ہفتے تک گھومنے جانے کا پلین کریں کیونکہ پھر آپ نے بھی تو بزنس سنبالنا ہوتا ہے اتنی چھٹیاں تو نہیں کر سکتے
اللہ پاک پلیز بچالیں کیوں یہ سب میرے لئے مشکلات کھڑی کرتے ہیں سکوں سے جیتی ہوئی ان کو زہر لگتی ہوں شاید وری دل میں اللہ سے مخاطب ہوئی خود بچ جانے کی دعائیں مانگ رہی تھی کیونکہ ایک وہی زات ہے جو انسان کو ہر مشکل سے نکال سکتی ہے
آفی نے ایک نظر اسکو دیکھا جو پرسکوں نظر آنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اندر سے بڑی ڈری ہوئی تھی کہ اگر روز انکے ساتھ آنا جانا پڑھ گیا تو
اوکے لیکن تم اکیلی کہیں نہیں جائو گی اور میرو اگر تمنے اسکو اکیلے کہیں جانے دیا تو تمہاری خیر نہں ہے آفی نے ان دونوں کو تنبیھہ کی
بھائی میں کیا اسکا گارڈ ہوں جو اکیلی یہ جائے اور سزا مجھے ملے یہ کہا کا انصاف ہے میرو اپنی دہائیاں دے رہا تھا جب وری نے اپنے جوگر والا پیراسکے پائوں پہ مار کر اسکی بولتی بند کروائی
کوئی مسئلہ نہں ہے بھائی نہ اسکو نہ مجھے ہے نہ میرو وری آس اور پیار بھری نظروں سے دیکھا جیسے وہ بڑی معصوم اور پیاری ہے
جی بھائی مجھے کوئی مسئلہ نہیں میرو نے بہت مشکل سے ان الفاظ کو بولا تھا کیونکہ نیچے وری نے ایک کانٹا اسکی ٹانگ پر رکھا ہوا تھا کہ اگر کوئی غلط بات کی تو گھسا دونگی ٹانگ میں اور میرو کو اپنی ٹانگ بہت عزیز تھی اس لئے اسنے یہ زہر پی لیا تھا بنا چوع چرا کیے ۔
