Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15
وہ دونوں لڑکیاں ابھی تک اس کمرے میں موجود تھی دن کی روشنی شام کا اجالا دونوں رواں ہوچکے تھے
ہر طرف رات کی چاندنی اتر چکی تھی آسمان ستارو سے جگمگا رہا تھا لیکن وہ دونوں لڑکیاں اس سماں کو دیکھنے
سے قاصر تھی کیونکہ اس کمرے میں نہ کوئی کھڑکی تھی جہاں سے وہ یہ سماں دیکھ سکتی نہ کوئی فرنیچر وہ
زمیں پر بیٹھی تھی اور ان سے کچھ فاصلے پر پلاسٹک کی ایک ٹرے پڑھی تھی جس میں اک پانی کی بوتل ایک
روٹی اور تھوڑی سی دال ویسی کی ویسی پڑی تھی
ان دونوں میں سے کسی نے بھی اس کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا تھا وہ جس ازیت میں تھی وہاں کھانے کا ہوش کس کو ہوسکتا تھا
صفیہ اب بھی رو رہی تھی لیکن مریم خاموش تھی اسکے زہن میں بہت سارے خیال گردش کر رہے تھے
جیسے وہ یہاں کیوں لائی گئی ہے بابا کا کیا حال ہوگا اگر ان لوگوں نے اس کو یہاں سے جانے نہیں دیا تو اگر اسکے ساتھ
کچھ کردیا گیا تو اسکے زہن میں بہت ساری چیزیں تھی لیکن وہ ان ساری باتوں کے ساتھ بھی اس ازیت کو فراموش نہیں کرپارہی تھی
کہ وہ گھر سے باہر ایک ایسی جگہ پر ہے جہاں اسکے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے
مریم ایک بار پھر اٹھی اور وہ دروازہ بجایا لیکن باہر سے کوئی ردعمل نہیں ظاہر کیا گیا اگر کوئی کرتا بھی تو کیسے وہاں
کوئی ہوتا تو ردعمل ظاہر کرتا تھک ہار کر وہ بھی صفیہ کے پاس آکر بیٹھ گئی تھی باہر رات بھی آہستہ آہستہ ڈھلنا
شروع ہوچکی تھی
انکی قسمت کا فیصلہ کل ہی ہونا تھا انکویہاں سے جانے دیا جائے گا یہاں سے جانے دیا جائے گا یا اس یا سے آگے سوچنا بہت تکلیف دہ عمل تھا یا اور یہاں آکر اسکی ساری ہمت جواب دے رہی تھی اس یا سے
*************************
نور فون ہاتھ میں پکڑے بریگڈیئر اویس کا نمبر ملا رہی تھی جب آفیسر علی کا نمبر اسکے فون کی اسکرین پر روشن ہوا
نور نے گہری سانس لیکر کال پک کی اور اسکو کوئی موقع دیئے بغیر بولنا شروع ہوگئی
ساری انفارمیشن ابھی تمہیں سینڈ کرتی ہوں اس لڑکی کی گفتگو بھی سب کچھ مکلمل ہوگیا ہے بس بھیجنا بھول گئی تھی پلیز زرہ سہ صبر کرلو نور نان اسٹاپ بولے جارہی تھی جب بیچ میں علی نے اسے ٹوکنا چاہا
نور تم ابھی اسفند بچے سے ملنے مت جانا وہاں علی اسکو کچھ بتانا چاہ رہا تھا لیکن نور سن ہی نہیں رہی تھی
اچھا علی مجھے سر کو بھی کال کرنی ہے بعد میں بات کرتے ہیں نور نے عجلت میں اسکا فون کاٹ دیا
علی ہیلو ہیلو کرتا رہ گیا مگر نور فون کاٹ کر سر اویس کا نمبر ملا چکی تھی
ایسا آج پہلی بار ہوا تھا کہ نور نے بنا اسکی بات سنے کال کاٹ دی ہو اور وہ نہیں جانتی تھی کہ پہلی بار کی غلطی ہی اسکو پھنسا دے گی ورنہ وہ کبھی اسکی بات سنے بغیر فون نہ بند کرتی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سر اویس اپنی گاڑی میں بیٹھے کہیں جا رہے تھے جب انکے فون پر نور کی کال آئی انہوں نے گاڑی رکوا کر ڈرائیور کو باہر ویٹ کرنے کا کہا اور اسکی کال پک کی
اسلام وعلیکم نور کس سلسلے میں کال کی سر اویس نے کال اٹینڈ کرتے ساتھ اس سے موضوع کا پوچھا
نور بنا برا منائے انکو جواب دیا کیونکہ وہ کیس کہ دوران فضول باتوں کو برداشت نہیں کرتے تھے
وعلیکم اسلام سر مینے اس لڑکی سے ساری انفارمیشن لے لی ہے لیکن اسکو کچھ بھ اتنا خاص نہیں پتا اس نے اس لڑکی کا نام اور پتا بتا دیا ہے اور اسکا ایک اسکیچ بھی بنوا لیا ہے اس لڑکی کا اور ایک لڑکے کو اسکے گھر پر بھی بھیج دیا ہے اس لڑکی کا پتا کرنے کے لئے اس کے علاوہ میں آپکو وہ اسکیچ بھی بھیج رہی ہوں دیکھ لیں اور آپ سے کچھ اور بھی ڈسکس کرنا ہے نور نے ایک ساتھ انکو ساری بات بتائی
اوکے ابھی تو میں گھر جارہا ہوں تم مجھے اسکیچ کی پکچر بھیجو اس لڑکی کا پتا چلے تو مجھے انفارم کرو اور مجھ سے رات سات بجے ملاقات کرو میرے آفس میں سر اویس نے اپنی گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا جس میں ابھی دوپہر کے چار بج رہے تھے
اوکے سر میں پہنچ جائو گی اللہ حافظ نور نے انکو یقین دلاتے ہوئے کہا
یہ جانے بغیر کہ آج وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے ملاقات نہیں کر سکے گیں
٭٭٭___________
آج ان سب کا آخری پیپر تھا اس لئے وہ سب کینٹین میں ایک ساتھ بیٹھے تھے
تمہارا پیپر کیسا ہوا وری علماء نے اپنے سے ایک سیٹھ کے فاصلے پر بیٹھی وری سے استفسار کیا کیوونکہ بیچ میں میرو بیٹھا ہوا تھا
وری نے ایک آئیبرو اوپر اٹھا کر معصوم شکل بنا کر کہا
علماء فکر نہ کرو میں پاس ہوجائو گی ہاں اگر تم اس لئے پوچھ رہی ہو کہ میں تم سے آگے نہ نکل جائو تو بھول جائو مینے صرف پیپر کلیئر کرنے ہیں اسکے علاوہ مجھے کوئی امید نہیں کہ اچھی جی پی بھی بنے گی کہ نہیں نور نے مزاحیہ انداز میں کہا
وہ سب جانتے تھے کہ وہ پڑھنے میں اچھی ہے اگر وہ صرف پڑھائی پر دیھان دے تو لیکن وری بی بی کے پاس پڑھائی سے زیادہ مشکل اور مزےدار کام تھے جن کا انہیں جنون تھا اور ویسے بھی انکا کہنا ہے
یار اتنا زیادہ پڑھ کے یا پوزیشن لے کر میڈلز کے ڈھیر لگا کر کیا کرونگی جب قابل ہی نہیں ہونگی ویسے بھی میں قابل ہوں اگر اچھی جی پی نہ بھی بنی تو میں نے اپنے بابا کا بزنس سنبھال لینا ہے لیکن اسکی ضرورت نہیں پڑھے گی وری کے اتنا بولنے پر فٹاک سے علماء نے پوچھا
کیوں ضرورت نہیں پڑھے گی علماء کے پوچھنے پر میرو نے مسکراتے ہوئے وری کو دیکھا وری نے بھی اسکی طرف دیکھے ہوئے بائیں آنکھ دبائی اور کہا
کیونکہ میری شادی ہوجائے گی تو جاب تو میرا کیوٹ شوہر کرے گا نہ میرا کام تو گھر کی ماسی بننے کا ہوگا تو میں اتنی انرجی کیوں ضایع کروعلماء تم بتائو وری نے ہونٹوں پہ مسکراہٹ روکتے ہوئے پوچھا
علماء نے تاسف سے اسکو دیکھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وری مزاق کر رہی ہے اسکے شادی کے علاوہ بہت بڑے بڑے خواب اور ایکٹیویٹیز ہیں اس وجہ سے وہ لوگ اس سے آگے رہتے ہیں پڑھائی میں کیونکہ وہ اتنا ٹائم نہیں دے پاتی تھی جتنا وہ سب دیتے تھے پڑھائی کو
اچھا چھوڑو ان باتوں کو یہ بتائو چل رہے ہو نہ تین دن بعد یونی والوں کہ ساتھ ٹرپ پر ارشاء نے ایکسائیٹڈ انداز میں کہا کیونکہ وہ کافی ٹائم سے انتظار کر رہی تھی فرینڈز کے ساتھ دور کسی ٹرپ پر جانے کیلئے
ہاں بلکل جائیں گے سب سے پہلے وری کی آواز آئی تھی میرو نے حیرت سے اسکو دیکھا اور پھر اپنے زہن پر زور دے کر اسکے جانے کا مقصد تلاش کیا اور پھر اسکے جانے کا مقصد سوچ کر خود ازیتی سے مسکرایا اسکو اپنی اس چلبلی دوست بہن کزن سے واقعی بہت لگائو تھا
وہ دونوں ایک دوسرے کی ہر چیز سے واقف تھے یہاں تک کے اس بات سے بھی کہ اس مہینے اسنے کتنے پیسے کھائے ہیں اور خود اسنے کتنے یا اس مہینے اسنے کونسی شرٹ لی ہے یا وری کون کون سی چیزیں سپر مارکیٹ سے لائی ہے اپنے کھانے کیلئے اور کہاں چھپائی ہے
جب وری جائے گی تو ہم سب بھی جائیں گے ظاہر سی بات ہے ہماری لیڈر جارہی ہے ارسلان نے ہاں کرتے ہوئے کہا
ارسی لیڈر نہ کہا کرو مجھے بڑی اچھی فیلنگز آتی ہیں جیسے میں بڑی خاص ہو وری نے ایکسائیٹڈ انداز میں کہا
اسکی ایک عادت بہت اچھی تھی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں اپنی خوشیوں کا اظہار کرتی تھی اور ایک عادت بہت بری تھی سب کی نظروں میں کہ وری لوگوں کی غلط باتیں برداشت نہیں کرتی تھی گنے چنے لوگ تھے جن کی وہ ہر بات برداشت کرلیتی تھی ورنہ اوروں کی نہیں
ہاں یہ بھی ہے اب ہم کسی ماسی کو لیڈر کہیں گے تو اسے تو خاص والی ہی فیلنگز آئیں گی نہ ارسلان نے اسکا مزاق اڑاتے ہوئے کہا
ہاں جیسے ارشاء تم بھنگی کو ساتھ لیکر چلتی ہے تو تمہارے دل میں گدگدی ہورہی ہوتی ہے کہ یار میں بھنگی ہوں اور وہ حور وری نے بھی حساب برا بر کرتے ہوئے کہا
اوہ خوش فہمی تو دیکھو حور کی چڑیل بولتی تو بات تھی وری مگر تم نے جملہ اچھا نہیں بولا ارسلان نے ارشاء کو دیکھتے ہوئے کہا
کیا مطلب ہے تمہارا کون چڑیل ہے ارشاء نے ناخن دکھاتے ہوئے پوچھا
یار وری ہے تمہیں میں بول سکتا ہوں جان من ارسلان نے شوخ لہجے میں کہا
یہ جان وان بولا تو تایا ابو کو بتا دونگی زیادہ فری نہ ہو ارشاء نے اسکو سب کے سامنے جان بولنے پر جھڑک دیا تھا
یار ایک تو تم کسی حال میں خوش نہیں ہو جان بولو تو مسئلہ ہے چڑیل بولو تو اب بندہ جائے تو کدھر جائے تمہارے ساتھ ارسلان ابھی اسکو اور کچھ بولتا کہ وری نے ان دونوں کے پائوں پر اپنے جوگرز مار کر انکی توجہ علماء اور میرو پر کروائی
جو ایک دوسرے سے آنکھوں ہی آنکھوں میں بات کر رہے تھے ہر چیز سے بےنیاز ہوکر پہلے تو وہ تینوں ان دونوں کو دیکھتے رہے لیکن جیسے ہی وری کی نظر میرو کے ہاتھوں پر پڑی تو اسکا قہقہ نکل گیا
میرو علماء کو ایک چیٹ پکڑانے کی کوشش کر رہا تھا جو وہ لے ہی نہیں رہی تھی اور آنکھوں ہی آنکھوں میں التجا چل رہی تھی
وری نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے چیٹ کھینچی اور سیٹ چھوڑ کر آگے بھاگی
میرو اس سب کیلئے تیار نہیں تھا اس لئے اسکے چیٹ کھینچنے پر بھوکلا گیا اسکو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ اسکے ساتھ ہوا کیا ہے اور جب سمجھ آیا جب تک وہ بھاگ چکی تھی
اور اسکے پیچھے پیچھے ارشاء اور ارسلان بھی نکل چکے تھے لیکن اب اگر وہ انکے پیچھے جاتا تب بھی فائدہ نہیں تھا کیونکہ اب تک تو وہ سب کو یہ بات بتا بھی چکی ہوگی
کب سے بکواس کر رہا تھا لے لو لے لو اب مزہ آیا دیکھنا اب وہ کیا کرتی ہے اس چیٹ کا
میرو نے آگے ہو کر علماء کو گھورا اور تھوڑے سخت لہجے میں کہا
تم نے اس میں لکھا کیا تھا علماء نے اسکی باتیں نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا
جب وہ فیس بک پر تمہیں ٹیگ کرے گی تب پڑھ لینا میرو اسکو گھورتے ہوئے کھڑا ہوا اور باہر انکی طرف بڑھا جو پتا نہیں ان لفظوں کو پڑھ کہ اسکا کتنا ریکارڈ لگا چکے ہونگے
علماء بھی اسکے پیچھے کھڑی ہوئی اور اسکے ساتھ چلتے ہوئے بڑبڑایٹ کے انداز میں بولی
ایک تو غلطی خود کی ہے اور غصہ مجھ پہ کر رہے ہیں کس نے کہا تھا سب کہ سامنے ٹیبل کہ نیچے سے پرچی دیں علماء کی بڑبڑایٹ وہ باآسانی سن چکا تھا اس لئے رکا اور اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا
کچھ کہا ہے تم نے علماء اسکے بیچ راستے میں رک کر پوچھنے پر ہڑبڑا گئی
نہیں کچھ نہیں کہا مینے میں کیا کہو گی چلو جلدی اس سے پہلے وہ باقیوں کو بھی بتاتی پھرے
میرو نے ایک گہری نظر سے اس پر ڈالی اور کینٹین سے نکل گیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وری اسکی چیٹ اپنے گروپ کے لوگوں کو سنا رہی تھی
علماء میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ اس سفر پر میری شریک حیات بن کر جائو اگر تم راضی ہوتو چاہے ابھی صرف نکاح کروا لو کیونکہ میں تمہیں اپنے نام کے ساتھ منسوب کرنا چاہتا ہوں تاکہ کوئی بھی تمہارے میرے ساتھ گھومنے پر انگلیاں نہ اٹھا سکے میں نہیں چاہتا کوئی ہمارے کردار پر بات کرے باقی تمہاری مرضی ہے میں انتطار کیلئے بھی تیار ہوں
وری نے تین سے چار لائینوں کی یہ تحریر گرائونڈ میں کھڑے اپنے گروپ کے لوگوں کو سنائی وہ جس رومینٹک انداز میں سنا رہی تھی وہ سب کو مزہ دلا رہا تھا اسکے اینڈ کرتے ہی بھرپور تالیاں بجا کر میرو کو داد دی گئی کیونکہ وری کے پیچھے تھوڑا فاصلے پر وہ دونوں کھڑے تھے علماء تو باقاعدہ شرما رہی تھی
یار میرو کے لئے ایک بار پھر تالیاں بجا دو اتنے جدید دور میں یہ اسے چیٹ لکھ کر اپنے دل کی بات بتا رہا ہے وری نے ایک بینچ پر چڑھ کر اپنے ہاتھ کو مائک بنا کر کہا
اسکی بات پر ایک بار پھر تالیاں بجائی گئی
اب جواب بھی دے دو علماء میرے کان ترس گئے ہیں تمہارا جواب سننے کیلئے میرو نے اپنے ساتھ کھڑی علماء کی طرف تھوڑا سہ جھک کر سرگوشی نما انداز میں کہا
ابھی نہیں میرو اس ٹرپ سے واپس آکر اپنے پیرنٹس کو بھیجنا میرے گھر علماء نے بھی سرگوشی نما انداز میں شرماتے ہوئے کہا
میرو نے مسکراتے ہوئے گہری نظروں سے پہلے علماء کو دیکھا اور پھر باقیوں کو دیکھ کر بولا
لڑکی مان گئی ہے اس ٹرپ کے بعد تم سب کو میرے ولیمے کی دعوت کا انویٹیشن کارڈ مل جائے گا میرو نے جوش سے کہا
جب لڑکی راضی ہے تو ابھی ہی نہ اسکو تمہارے نام کردیں یہ نہ ہو کل کو انکار کردے وری نے بیچ میں مصنوعی آگ لگوانے کی کوشش کی
علماء اور میرودونوں نے اسکو گھورا
وری فکر نہ کرو اسی لئے کہہ رہا ہے کہ اس ٹرپ سے آتے ہی ہفتے بعد شادی کرلے گا کیوں میرو صیح کہا نہ ارسلان نے بیچ میں اسکا ساتھ دیتے ہوئے کہا
ان سب کی باتوں کے درمیان میں ہی ارشاء اور علماء وہاں سے چلی گئی تھی علماء کو شرم ہی اتنی آرہی تھی ان سب کے درمیان
بلکل اور میں منگنی نہیں ڈاریکٹ شادی کرونگا کیونکہ مینے ارسلان سے بہت کچھ سیکھ لیا ہے اس لئے ایسی غلطیاں نہیں کرونگا جو اسنے کی ہیں وہ بہت جوش میں تھا اپنی شادی کی باتیں کر کہ اور اس ٹرپ سے واپس آکر علماء کا رشتہ لینے کیلئے یہ جانے بغیر کے اس ٹرپ کی واپسی پر کیا کچھ ہونے والا ہے کتنے لوگوں کا دل دکھنے والا ہے اور کون جانے والا ہے یہاں سے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نور کافی دیر سے اس سیف ہائوس میں بیٹھی اس بچے کا انتظار کررہی تھی جو پتا نہیں اندر کمرے میں کر کیا رہا تھا نور نے آخری بار اس آنٹی سے کہا
آنٹی پلیز آپ آخری بار اس بچے کے پاس چلی جائیں اسکے بعد میں خود جائو گی نور نے التجایا انداز میں کہا
آنٹی اسکو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ گئی اس بچے کو بلوانے کیلئے دس منٹ بعد انکی واپسی ہوئی تھی جو کہہ رہی تھی بیٹا وہ نہیں آرہا اور اب میں نہیں جائے گا کیونکہ ہم جانتا ہے وہ تم سے نہیں ملنا چاہتا وہ ڈرتا ہے ہم اسکی ماں ہے پہ ہم کو پتا ہے وہ صرف سر اویس سے ملتا ہے اور ایک آفیسر سے اس کے علاوہ کسی سے نہیں ملتا اس خاتوں کے آفیسر بولنے پر بھی نور کو زحمت نہیں ہوئی کہ یہ ہی پوچھ لے کونسا آفیسر یا وہ کب آتا ہے آج نور ہر وہ غلطی کر رہی تھی جو اسنے زندگی میں کبھی نہیں کی تھی
یہ آرمی کا سیف ہائوس تھا یہاں پر جو لوگ کام کرتے ہیں انہیں نہ یہاں سے باہر جانے کی پرمیشن ہے نہ کسی سے بات چیت کی سوائے اپنے بندوں کے ویسے تو یہ سیف ہائوس خالی ہی تھا کیونکہ یہاں پر آنے والے سارے آفیسر خود ہی کھانا بناتے اور کھاتے لیکن اب یہ اس بچے کیلئے بھی رکھا ہوا تھا اور اس کے علاوہ ان بچوں کے لئے بھی جو انہیں کیس کے دوران ملنے تھے انکے لئے اور اس وجہ سے یہاں کا کھانا وغیرہ جس کمرے میں وہ رہتے ہیں اسکی صاف صفائی اس بچے کی ماں اور باپ مل کر کرتے تھے
نور نے ایک گہری سانس لی اور اٹھ کر اس کمرے کی طرف چل دی جہاں پر وہ بچہ تھا نور نے اس کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر جھانکا
جہاں ایک بیڈ ایک چھوٹی سی الماری اور ٹیبل رکھا ہوا تھا ایک سائیڈ پر اٹیچ واشروم تھا اور اس کے علاوہ اس کمرے میں کچھ بھی نہیں تھا
وہ بچہ اس بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے نیچے زمیں پر اپنے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بیٹھا تھا ایسے کے اسکا ایک ہاتھ ظاہر ہورہا تھا اور ایک ہاتھ اپنی گود میں رکھا ہوا تھا
نور اندر آئی اور اس بچے کے ساتھ آکر نیچے زمین پر دوزانو ہو کر بیٹھی اور دوستوں والے انداز میں بولی
ابے یار کب سے باہر بیٹھی تمہارا انتظار کر رہی ہون اور تم یہاں پر ہو اس دن دوستی کی تھی تمہارے ساتھ اور آج تم ملنا ہی نہیں چاہتے مجھ سے نور کی آواز سن کر اس بچے نے ایک جھٹکے سے اسکی طرف دیکھا
تم آیا تھا ہم کو لگا کوئی باہر کی بندی آئی ہے اور وہ ہمیں اور ہمارے ماں باپ کو مارنے آیا ہے تم نے بتایا کیوں نہیں اماں کو کہ تم ہمارا دوست آیا ہے ہم نے ویسے ہی اپنے دوسرے دوست کو پریشان کردیا وہ ابھی ادھر آرہا ہے اسنے بولا تھا کوئی غیر آئے تو مجھے فورا بتانے کا ہے
وہ بچہ اپنی ہی دھن میں بولے جارہا تھا جب نور نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکا منہ بند کروایا
بےوقوف اس سیف ہائوس میں کوئی نہیں آسکتا یہاں اتنی سیکیورٹی ہے اور تم نے اپنے کس دوست کو بلوایا ہے یہا ابھی اسکی بات منہ میں ہی تھی جب ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور ایک اس بچے کی ماں اور ایک لڑکا چھ فٹ تین انچ کی مظبوت جسامت فوجیوں کی طرح کسرتی بازو چہرے کے کھڑے نقوش بلیک پینٹ اور بلیو ٹی شرٹ م ملبوس ہاتھ میں پسٹل پکڑے نور پہ گن فوکس کرے کھڑا تھا
نور اور اسفند نے ایک جھٹکے سے پیچھے مڑ کر دیکھا
اسفند کی ماں نے بھاگتے ہوئے اپنے بیٹے کو پکڑا اور کمرے سے لیکر نکل گئی اسفند کہہ رہا تھا ان سے رکنے کا مگر وہ روتی ہوئی اسکو باہر لے گئی اور پیچھے وہ دونوں ایک دوسے کو بنا پلک جھپکائے ایک دوسرے کو دیکھے جارہے تھے
اس پل وری کا شدت سے خواہش کر رہا تھا کہ کاش یہ انڈیا کا کوئی ڈرامہ ہوتا کہ اسکے یہاں آنے سے پہلے وہ کہیں غائب ہوجاتی یا وہ اسکو دیکھ کر بھی دیکھ نہ پاتا یا کچھ پل یلئے اسکی یاداشت چلی جاتی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا
وہ کوئی انڈیا کا ڈرامہ نہیں ہے یہ اصل زندگی تھی جس میں جو بات چھپانی ہوتی تھی وہ ہی سب سے پہلے سب کو پتا چل جاتی تھی وہ بھی اس شخص کو جس سے آپ چھپا رہے ہوتے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ سب یونی والوں کے ساتھ ٹرپ پر گئے ہوئے تھے جب پندرہ دن کا ٹرپ تھا ان سب کا جس میں سے تین دن گزر گئے تھے اور اب صرف بارہ دن رہ گئے تھے
وری کافی دیر سے فون پر سر کھپا کر ان سب کے پاس آئی اسکے چہرے سے صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ پریشان ہے ان سب نے حیرت سے اسکو دیکھا اور شاہ میر نے اس سے پوچھا
کیا ہوا ہے وری کس کا فون تھا
وری نےایک نظر اسکو دیکھا اور پھر بولی
ماموں کا فون تھا وری نے مختصر کہا
کیا کہا انہوں نے اس بار ارشاء نے پوچھا
یار تم لوگ جانتے ہو ماما اور انکی ناراضگی چل رہی ہے وہ بھی میری وجہ سے اس لئے میں ان سے نہیں مل پاتی ابھی وہ آئے ہوئے ہیں ہریپور اور ان کا ارادہ ہے پنجاب گھومنے کا اس لئے وہ چاہتے ہیں کے باقی کی چھٹیاں میں انکے ساتھ گزارو اور جس دن تم لوگوں کی واپسی ہوگی اس دن وہ بھی مجھے بھیچ دیں گے تاکہ میں تم لوگوں کے ساتھ ہی واپس چلی جائو اور کسی کو پتا نہ چلے نور نے ساری بات بتاتے ہوئے ان سب کے ریکشن دیکھنے چاہے لیکن وہ سب نارمل تھے
اوکے کوئی مسئلہ نہیں ہے تم چلی جائو ویسے بھی ابھی آخری سیمیسٹر رہتا ہے اسکے بعد ہم چلے جائیں گے دوبارہ سے ان سے ملنا زیادہ ضروری ہے ارشاء نے سمجھداری سے کہا تو باقی سب نے بھی اثبات میں سر ہلایا
اوکے تھینکس یار تم سب کا تم لوگ واقعی میں بہترین دوست ہو وری نے محبت سے ان سب کو دیکھتے ہوئے کہا
چلو اب زیادہ تعریفیں نہ کرو یہ بتائو کب جانا ہے اس بار علماء نے مداخلت کی بیچ میں
آج شام چار بجے جائو گی انکا ڈرائیور لینے آئے گا وری نے ان سب کو بتاتے ہوئے میرو کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اسکے دیکھنے پر ہلکا سہ مسکرایا اور کھڑا ہوگیا
چلو پھر تم اپنی پیکنگ کرلو شام میں ملاقات کریں گے میرو یہ کہتا ہوا وہاں سے چلاگیا تھا
اسکو دیکھتے ہوئے وری بھی کھڑی ہوگئی تھی اسکے پیچھے جانے کیلئے کیونکہ وہ دیکھ چکی تھی کہ وہ پریشاب ہے اسکے لئے
باقی سب حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھےجو اتنی سی جدائی پر بھی افسردہ تھے ۔
