Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01

ڈاٰٰئیننگ ٹیبل پر بیٹھے افراد ناشتہ کرنے کےساتھ دوھفتوں بعد ہونےوالی آفان کی شادی ڈیسکس کر
رہےتھےکے لائونچ سے نسوانی چیخوں کی آواژ آئی
تایا ابو بچائے آپکی بھتیجی کی پیچھے پاگل لگ گیا ہے بابا آپکی اکلوتی بیٹی کو مارنے کی دھمکی دی جاری ہے وہ چیٖختی ہوئی ڈائیننگ ڈیبل کی طرف بھاگ ری تھی اور پیچھے بھاگتا وجود اسکو دھمکیا دے رھا تھا رک جانے کی
وری شرافت سے بتا دو میری گھٖڑی کہا ہے ورنہ اگر تم میرےہاتھ لگ گئی تواچھا نہیں ہوگا وہ شدید غصے میں تھا کیونکہ یہ گھڑی اسکا دوست باہر ملک سے اس کے لئیے لےکر آیا تھا کل اوریہ بات اسنے صرف وری کو بتائی تھی
اچھا کیا کرو گے میرے ساتھ اسنے تپانے والے انداز میں کہا
وری میں تمھارا قتل کردوں گا وہ واقعی میں تپ گیا تھا
میرو کیوں میرے شوہر کو شادی سےپہلے رنڈوا کرنے پہ تلے ہو اسنے انتہائی معصومیت سے کہا اور جا کر تایا ابو اور آفان کے بیچ میں رکھی چیئر پر بیٹھ گئی کیونکہ اب وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا
شاہ میر بھی لائونچ میں آگیا تھا اور اب نہایت غصے میں اسکی شکایت چاچوسے کر رہا تھا کیونکہ اسکو لگتا تھا اس سے صرف چاچو ہی پیار کرتے ھیں وہ اور وری ان دونوں کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ ھمارے ماں باپ exchange ہوگئے ہیں ھمارےاصلئی ماں باپ کا پتا لگایا جائے
کیا ہوا ہے میرو ؛؛ چاچو اسنے میری گھڑی لی ہے اس سے کہیں واپس کردے وہ کل ہی میرے دوست نے مجھے گفٹ کی ہے
تایا ابو مجھے کچھ نہیں یاد کل کے بارے مین وہ بولنے کے ساتھ ساتھ کھا بھی رہی تھی
وری پلیز دے دو اس کے بدلے تم جو بولو گی میں وہ کرو گا وہ عاجز آگیا تھا اب
پہلے وعدہ کرو اسنے نہایت معصومیت سےوعدہ منگا ہاں میں ان سب کے سامنے وعدہ کرتا ہوں بس اب خوش وہ جانتا تھا وعدے کے بغیر یہ گھڑی نہیں دےگی
ہاں اب یونی چلو لیٹ ہورے ہیں وہ جلدی سے کھڑی ہو گئی تھی جانے کےلئیے
اواو پہلے میری گھٹی کا بتائو میرو نے جلدی سے روکا اسے
مینے نہیں لی گھڑی اپنی الماری کے لوکر مین دیکھ لیناپتا چل جائیے گا کہ میں سچ بول رہی ہوں ابھی چلو یونی دیر ہوری ہے
صبرکر جائو خودنے تو ناشتہ کرلیاہے مجھے بھی کرنےدو وری بھی جانتی تھی اب ناشتہ کیئے بغیر نہیں اٹھے گا اس لئیے خود بھی چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گئی
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
شامیر اور وریشہ ابھی کلاس لے کر نکلے تھے اس سے پہلے وہ کینٹین جاتے وریشہ کا موبائل بج اٹھا اسنے جیسے ہی موبائل کی اسکرین سامنے کی اسکا اور ساتھ کھڑے میرو کا منہ بن گیا
میرو میں روز سوچتی ہوں جیسے ہی میرے یا تمھارے موبائل پر گھر والوں کا فون آئے وہ خود بہ خود بول دے آپکا مطلوبہ نمبر اس وقت مر چکا ہے برائے مہربانی کل کال کیجئیے گا میرو نے اس کی بات پر اٰؐثبات میں سر ہلایا اور فون اٹھانے کا اشارہ کیا
وری تم اور میرو اگر فارغ ہوگئے ہو تو گھر آجائو
کس خوشی میں پھپو وری نے منہ بنا کر کہا
اس خوشی میں کے آپ میرے ساتھ مارکیٹ جائیے گی اور میرو بھابھی لوگوں کو کسی مہمان کے گھر دعوت دینےلےکر جائے گا پھپھو کے انداز سے لگ رہا تھا کے وہ جلدی میں ہیں
پھپھو آپ میرو کو لے جائیے میں ماما لوگوں کو لے جائو گی اسنے جلدی سےکہا کیونکہ پھپو کے ساتھ مارکیٹ جانے کے لئیےبڑے دل گردے کی ظرورت تھی
نہیں وری اچھا نہیں لگتاکہ لڑکی گاڑی لےکر ماں اورتائی کو لے کر جائے کسی مرد کا ساتھ ہوناضروری ہوتا ہے ورنہ لوگ باتیں کرتے ھیں اور ویسے بھی میروکا لڑکیوں کی شاپنگ میں کیا کام پھپو نے اتنا کہا اور ٹھک کر کے فون بند کر دیا کہ وہ کوئی اور بات نہ شروع کر دے
چلو میرو گھر دفع ہونا ہے ڈرائیور کی ضرورت پڑ گئی یے اب تو مجھے یقین ھو گیا ہے کہ میں ان کی سگی اولاد نیہں ہوں وری نے منہ بنا کر کہا
مجھے بھی وری شادی آفان بھائی کی ہے اور گھن چکر ھم بنے ہوئے ہیں ، وری نے بھی اس کی بات پر اثبات میں سر ہلایا
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
ائیرپورٹ پر بیٹھا شخص اپنی فلائٹ آنے کا انتظار کر رھا تھا کہ جب اسکے جیب میں پڑا فون تھرتھرا اٹھا جیب سے فون نکال کر چیک کیا تو نام پڑتے ھی اسکے خوبصورت ہونٹوں پردلکش مسکراہٹ رینگ گئی
اسلام وعلیکم ماما کیسی ہیں آپ اسکے لہجے میں بہت نرمی تھی اپنی ماں کےلئیے
میں ٹھیک ہوں آپ کیسےہو میری جان
میں بھی فٹ یوں آپکےلئیے ساپرائز ہے ماما اسنے سسپینس کریئٹ کیا
اچھا اور وہ کیا ہے
آپ گیس کریں میں بتا دوں گا تو کیا مزہ اسنے مصنوعی ناراضگی سے کہا
میں کیا گیس کروں آپ ھی بتا دیں کیونکہ جو سپرایز میں چاہتی ہوں وہ تو آپ دے نہیں رے انہوں نے بھی آپنی ناراضگی ظاہر کی
بس سمجھ لیں آپکی ناراظگی ختم کیونکہ میں کل واپس آ رھا ہوں
آپ سچ کہہ رہے ہیں نہ
بلکل ماما کل جب دیکھہں گی تو خود یقین آجائے گا
اوکےاپنا خیال رکھیں کل ملاقات ہوگی میں بھی کام کرلوں آپکو پتا ہے نہ دو ھفتوں بعد آفان کی شادی ہے
جی یاد ہے اللہ حافظ
اللہ حا فظ
”””””””””””””””””””””””””
پچھلے دو گھنٹوں سے وری ثمینہ بیگم کے ساتھ مال کی ہر دکان چھان چکی تھی اور اب وہ تنگ ہوگئی اس لئیے انہیں کھینچتی ہوئی باھر لائی
وری ؛؛
بس کر دے پھپو کچھ خریدنا ہے تو خریدے ورنہ گھر چلیں میں صبح کی تھکی ہوئی ہوں زرا رحم کرے میری حالت پر پھپو
پھپو؛؛
بس کرو وری ابھی اگر ےتم اپنی دونتوں کے ساتھ آئی ہوتی تو کبھی نہ تھکتی
وری؛؛
ظاھرسی بات ہے وہ آپکی طرح دو گھنٹے نہیں لگاتی مال میں جو خریدنا ہوتا ہے صرف اس دکان میں جاتی ہیں آپکی طرح نہیں سارا مال چھان مارے اور خریدے صرف دو چیزیں وہ مزے سے انکا مزاق اڑا ری تھی کہ پھپو تپ گئی
پھپو ؛؛
وری منہ بند کر کے چلو اب اگر کوئی بکواس کی تو مینے جوتا مارنا ہے بنا لحاظ کے
وری ؛؛
لو جی سچ تو کوئی سن نئیں سکتا وری نے اتنا کہا اور آگے کی ظرف دوڈ لگائی کےیہ نہ ہو واقعی میں پھپو جوتا ماردے لوگوں کا لحاظ کیئے بغیر
”””””””””””””””””””””””””’
وہ شخص گھر پہنچ گیا تھا مگر گھر میں کسی کو نہ پا کر وہ شدید مایوسی کا شکار تھا جن کی وجہ سے وہ آج کی ارجنٹ فلائٹ سے آیا تھا کہ ان کو سرپرائز دےگا وہ خود غائب ھیں اسنے ٹائم دیکھا شام کے 5 بج رہے تھے بھوک بھی لگی ہوئی تھی مگر پہلے ہونے چلا گیا کہ تب تک شاید وہ بھی آجائے فریش ہوکر نیچے آیا تو 40؛5 ہو رے تھے مگر ان کے آنے کہ کوئی امکان نظر نہیں آرے تھے اسلئیے خودہی کچن میں چلا گیا کھاناکھانے
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
وری اور پھپو مال سے نکل کر گاڑی میں بیٹھے وری ڈرائیونگ کررہی تھی گاڑی گھر کے قریب تھی کے پھپوکو سبزی یادآگئی وری نے انہیں وہی اتارا کیونکہ مارکیٹ گھر سے بہت قریب تھی پھپو نے بھی اسکی تھکن کی وجہ سے اسے جانے دیا اسنے گاڑی پارک کر کے اندر داخل ہوئی شاپنگ بیگ صوفے پر پھینکے اور پانی پینے کچن میں دیخؒل ہوئی جیسےہئ ورئ نے کچن مئ قدم رکھا اندر موجود لڑکے سےبرئ طرح ٹکراہی اس سے پہلے وہ زمئن بوس ہوتئ اس لڑکے نے اسے مظبو طئ سے تہام لئا مگر ورئ شاک تھئ پھپو کے گھر مئں کوہی مرد کیسے ہو سکتا ہے سب سے پہلا خیال چور کا آیا تھا اور اس کے آتے ہئ اس نے جھڈکےسے خود کو اس کی گرفت سے نکالااور اس لڑکے کے منہ پر اپنے ھاتھ کا مکا بنا کر مارا اس سے پہلے وہ لڑکا سنبھلتا اس نے اپنا گھٹنا اس کے پیٹ پہ مارا جیسے ہی لڑکا پیٹ کے بل جھکا وری نے اسے گردن سے پکڑلیا کون ھو تم اس سے پھلے وری اسے اور پیٹتی وہ لڑکا جھٹکے سے ا لگ ھوا اور وری کو گردن سے پکڑ کے کچن کے دروازے کے ساتھ لگایا اور اسکے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کی تم آج بھی ویسی ھی ھو جاہل اور بد تمیز 3سال بعد میں پاکستان آیا ھوں اور تم نے کیسا شاندار استقبال کیا ہے کاشان وہ اسے نہیں سن رہی تھی بس یک ٹک اسے دیکھے جاری تھی
____________
احسن صاحب اور حسن صاحب دو بھائی اور ایک بہن ہیں احسن صاحب کے دو بیٹے ہیں آفان (بڑا بیٹا) اور شاہ میر چھوٹا جبکہ حسن صاحب کی ایک بیٹی وریشہ اور چھوٹا بیٹا فہد تھا احسن صآحب کے والد ثمینہ بیگم (احسن صاحب کی اکلوتی بہن)کی شادی کے تین ماہ بعد وفات ہوگئی تھی اور والدہ 7 سال پہلے کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئی تھی ثمینہ بیگم کی شادی اپنے چچا زاد سے ہوئی تھی کام کے سلسلے میں انہیں اکثر باہر ممالک جانا پڑتا تھا ثمینہ بیگم کبھی اکیلے گھر میں نہیں رہی تھی اس وجہ سے فیصل صاحب نے انہیں احسن ولا کے ساتھ والا بنگلہ خرید کر وہاں شفٹ ہوگئے تھے تاکہ ملک سے باہر رہنے پر ثمینہ بیگم کو پریشانی نہ ہو اس وجہ سے اس گھر کے سب افراد ان کےساتھ بہت فری تھے خاص کر وری وہ ویسے ہی گھر بھر کی لاڈلی تھی اکلوتی لڑکی ہونے کی وجہ سے اور اوپر سے اسکی باتیں اور لوگوں کو اٹریکٹ کرتی تھی گھر میں پہلی شادی ہونے کی وجہ سب بےحد مصروف تھے آفان کی شادی تھی لیکن مجال ہے جو وہ کسی کام کو ہاتھ لگائے اوپر سے آفس سے چھٹیاں بھی کرنے کو تیار نہیں تھا اس وجہ سے سارا کام وری اور میرو کر رہے تھے لیکن آج صبح ہی پھپو نے بتایا تھا کہ کاشان اگلے ھفتے تک واپس آرہا ہے اس بات کی سب سے زیادہ خوشی اسی کو تھی کہ اب ہر کام پھپو کا فرما ںبردار بیٹا کرے گا
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
کچن میں روشنی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اسے پہچان نہیں پائی تھی لیکن جب کاشان نے اسے گردن سے پکڑ کر کچن کے دروازے کے ساتھ لگایا اور وہ لفظ ادا کیئے تو وہ بے اختیار اسے دیکھے گئی تھی لائونچ کی روشنی سیدھا اسکے منہ پر آرہی تھی جس کی وجہ سے کاشی کی برائون آئیز چمک رہی تھی اسکے یک ٹک دیکھنے پر وہ جھنجلا گیا تھا کاشی نے بھی اسکی آنکھوں میں جھانکا تو کئی لمحے مبہوت سہ رہ گیا اسنے کبھی اسکی آنکھیں غور سے نہیں دیکھی تھی اس نے اسکی آنکھوں کی بہت تعریف سنی تھی مگر کبھی توجہ نہیں دی لیکن آج وہ یہ بات ماننے پر مجبور ہو گیا تھا کہ اسکی ہری آنکھیں کسی کا بھی ایمان ڈگمگا سکتی ہیں وہ آنکیں اسے عجیب ہیپنوٹائیز کر رہی تھی کہ وہ چاہ کر بھی اپنی آنکھیں اسکی آنکھوں سے نہیں ہٹا پہ رہا تھا وہ اسکی آنکھوں اور چہرے میں اس قدر کھویا یوا تھا کہ یہ بھی محسوس نہیں کر سکا کہ وہ اسکی آنکھون یہ چہرے کو نہیں بلکہ اسکی ناک کو گھور رہی تھی اور اگلے ہی پل وری نے زور دار چیخ ماری کہ کاشان ہڑبڑا کہ رہ گیا کاشی کو لگا وہ اسکو یہاں اچانک دیکھ کر بےیقینی اور صدمے میں یے مگر ایسا نہیں تھا وری نے اگلے ہی لمحے اسکی خوش فہمی غلط ثابط کر دی تھی
ہائے کاشی مینے کتنا کمال کا پنج مارا ہے تمہیں اپنی ناک تو دیکھو زرا کیسی پکوڑے جیسی لگ رہی ہے
اگر وہ یہ سمجھ ریا تھا کہ وہ شرمندہ ہوگی تو وہ بلکل غلط تھا وہ اسکے سامنے اپنی غلطی اتنی مشکلوں سے مانتی تھی یہ تو پھر اسکی غلطی نہیں تھی
تمہیں زرا بھی شرمند گی نہیں ھے کہ تم نے مجھے مارا ہے کچھ لمحے پہلے کا سارا فسوں غائب ہوچکا تھا
شرمندگی کس بات کی تم خود چوروں کی طرح گھر میں گھسے ہو بتا کر آتے تو مکے نہ کھانے پڑتے
یعنی تم واقعی میں شرمندہ نہیں ہو اسے لگا شاید وہ شرمندہ ہو جائے مگر نہیں اگر وہ شرمندہ ہو جاتی تو وری نہ کہلاتی
بلکل بھی نہیں ہوں اب پلیز دبارہ نہ بولنا میں لکھ کر نہیں دے سکتی کہ میں شرمندہ نہیں ہوں
وہ جو اسکو کچھ کہنے کے لئیے ابھی منہ کھول رہا تھا وری کہ بولنے پر خاموش ہوگیا
اور یہ تم نے بدتمیز اور جاہل کس کو کہا ماسٹرز کی اسڈوڈنٹ ہوں میں وری نے نہایت تیکھے لہجے میں کہا
پڑھ تم رہی ہو مگر تمیز تم میں زرا نہیں ہے کاشی نے بھی اسی انداز میں کہا
تم میں بہت ہے نہ جیسے موٹی ناک والے وری نے بھی حساب برابر کیا
اس سے پہلے وہ آپس میں اور لڑتے باہر ہونے والی آواز نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا جہاں پھپو وری کو آوازیں دے رہی تھی
وری کہا ہو کیا کچن میں ہو
وری نے جواب دینے کے بجائے کاشی کو ایک گھوری دیکر لائونچ کی طرف روانہ ہوئ کاشان بھی پیچھے آیا
وری میرا خیال یے سامان لیکر تمہارے یہاں ھی چلتے ہیں کیونکہ رات کا ڈنر وہی؛؛؛؛؛؛
پھپو کی بات پوری نہیں ہو سکی کیونکہ وری کے پیچھے آتے کاشان پر اب انکی نظر پڑی تھی
کاشی میری جان آپ کب آئے پھپو دوڑتی ہوئی آئی اور کاشی کا ماتھا چومتے ہوئے بھرائے لہجے میں بولی
میں 5 بجے کا آیا ہوا ہوں کاشی نے بھی ان سے پیار وصول کرتے ہوئے کہا
وری جو وہاں کھڑی یہ سارا سین دیکھ رہی تھی فورا باہر کی راہ لیتے ہوئے بولی پھپو آپ آرام سے کاشان صاحب سے ملیں میں رات کے ڈنر پر آپ سے ملاقات کرتی ہوں یتنا کہہ کر وہ گیٹ کھول کر نکل گئی پھپو آوازیں دیتی رہ گئی مگر وہ انسنی کر گئی
پھپو تو پھپو کاشی بھی حیران رہ گیا کہ اسکو کیا ہو گیا مگر یہ حیرانگی بھی کچھ دیر کی تھی
جب ثمینہ بیگم نے اس سے ناک پر سوجن کی وجہ پوچھی تو وہ سمجھ گیا تھا وہ خود کو بچانے کے لئیے وہاں سے بھاگی تھی اسکی اس بات پرنہ اسکو غصہ آیا نہ ناگواری بلکہ ایک دلکش مسکراہٹ اسے چہرے پر بکھر گئی تھی
کچھ نہیں بس لگ گئی آپ بتئیں تیاری کیسی چل رہی ہے
پھپو نے حیرت سے اسکو دیکھا جو فالتو میں مسکرا رہا تھا مگر اپنا سر جھٹک کر بتانے لگی شادی کی تیاریوں کے بارے میں
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
وہ شخص کافی دیر سے اپنے کمرے میں فون ھاتھ میں لئیے بیٹھا تھا اسکے چہرے سے لگ رہا تھا وہ کسی کے فون کا انتظار کر رہا ہے بیٹھے بیٹھے جب وہ شخص تھک گیا تو کمرے میں چکر لگانے لگا اسکے چہرے پر عجیب بے چینی تھی وہ 5 منٹ اور انتظار کرنے لگا کے شاید اب کال آجائے
اور اس بار اسکو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا کیونکہ اسکا موبائل فون بج اٹھا تھا
انہوں نے فورا موبائل اٹھا کر نمبر دیکھا تو اسکی کالی سیاہ آنکھوں میں صاف چمک ظاہر تھی
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
ناول پڑھ کر بھاگ جانے والوں کمنٹ بھی کر دیا کرو انسان اتنی محنت سے لکھتا ہے کچھ تو وصولی ہو آپ لوگوں کے کمنٹ سے ہی پتا چلتا ہے کہ ہم نے کیسا ناول لکھا ہے مگر آپ میں سے بہت سے لوگ ناول پڑھ کر ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے کیا کہوں خیر مہربانی کر کے کمنٹ بھی کر دیا کرے
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
وہ سب کھانا کھانے کے بعد اب لائونچ میں بیٹھے کافی پینے کے ساتھ کاشی کی طرف بھی متوجہ تھے جو یپنے بیگ سے گفٹ نکال کر سب کو دے رہا تھا بڑوں کے لئے امپورٹڈ پرفیوم ـ میرو کے لئے برینڈڈ گھڑی ـ فہد کے لئے ٹیبلٹ وہ نھی فہد کی خواہش تھی کے اسکو ٹیبلٹ لا دیں اس وجہ وہ اسکے لئے گفٹ کے طور پر ٹیبلٹ لے آیا فہد کو گفٹ دینے کے بعد اب وہ اپنا بیگ بند کر رہا تھا _ اور پاس کھڑی وری جو اپنی باری کا ویٹ کر رہی تھی منہ بنا گئی
کاشی میں بھی ہوں میرے لئے کیا لائے ہو وری نے منہ بنا کر کہا
تمہارے لئے بھی کچھ لانا تھا کاشی نے معصومیت سے کہا
کیا مطلب تم میرے لئے کچھ بھی نہیں لائے وری نے بے یقینی سے کہا
ہاں میرے دیھان میں نہیں رہا کاشی پھر اسی معصومیت سے کہا
اچھا اور جو یہ بیگ میں چپس چاکلیٹ اور ٹافیز بھر کر لائے ہو یہ کیا اپنی ساس کے لئے لائے ہو وری نے بنا سوچے سمجھے جو منہ میں آیا بول دیا اسکو تو یہ صدمہ ہو رہا تھا کہ وہ اسکو بھول گیا
کاشی گڑبڑا گیا اسکے یہ جملہ بولنے پر اوپر سے اسکے اپنے بابا سمیت تینوں مردوں کا قہقہ لائونچ میں گونجا تھا
نہیں یہ میں اپنے لئے لایا ہوں کاشی زرا تحمل سے کہا
کاشی تمہیں شرم نہیں آئی تم اپنی پیاری سی کیوٹ سی معصوم سی کزن کے لئے کچھ نہیں لائے جس تمہارے یہاں نہ ہونے پر تمہارے ماما بابا کا کتنا خیال رکھا تاکہ انہیں تمہاری کمی نہ محسوس ہو اور تم نے کیا کیا ؛؛؛؛؛ وری نے پورے ڈرامائی انداز میں کہا ؛؛ جس پر میرو کا دل کیا اسکو آسکر دےدے
تھینکس وری تم نے ماما بابا کا خیال رکھا اب اس احسان کا بدلہ تو نہیں مانگو گی نہ آخر تم معصوم جو ہو ؛؛ کاشی نے بھی آج اسکو تنگ کرن کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا تھا
حناکہ اسکا کوئی ایسا ارادہ نہیں تھا مگ4ر عجیب سہ لطف آرہا تھا اسکو تنگ کرنے میں کچھ دیر پہلے جو کاشی کو ان دونوں پر غصہ آرہا تھا اسکا اب شبہ تک نہیں تھا اسکے چہرے پر ؛؛
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ وری اسکو اس سے زیادہ جانتی ہے کہ وہ کس چیز پر کیسے ریکٹ کرتا ہے یہ کیا چیز اس سے کس طرح نکلوائی جا سکتی ہے
ہاں ظاہر سی بات ہے میں کیوں مانگنے لگی احسان کا بدلہ اور ویسے بھی میرا فرض تھا پھپو کا خیال رکھنا وری نے معصومیت سے کہا
کاشی حیران تھا اس کے اس طرح ٹوہ بدلنے پر
اور ویسے بھی مینے اسد سے کہہ دیا تھا وہ سب ساما ن لانے کے لئے وہ ابھی جائے گا کسی کام سے باہر ؛؛وہ میری کوئی چیز لانا نہیں بھولتا یہ بھی لے آئے گا یاد سے آخر میں اسکیی فرسٹ کزن جو ہوں ـ وری نے یہ بات صرف مزاق میں کہی تھی مگر کاشی کو کچھ زیادہ بری لگ گہی تھی یہ بات یا شاید محبوب کے منہ سے کسی اور کی تعریف اسی طرح ہی لگتی تھی جیسی کاشی کو لگی تھی
کاشی نے بنا لحاظ کے پاس پڑھا بیگ اٹھایا اور وری کی طرف بڑھاتے ہوئے نہایت چبھتے ہوئے لہجےمیں گویا ہوا
یہ لو میں صرف مزاق میں تمہیں کچھ نہ لانے کا کہہ رہا تھا میں کبھی تمہاری کوئی زیز وہاں سے بھیجنا نہیں بھولا تو خود کیسے لانے کا بھولتا لیکن تمہاری بات سے مجھے تکلیف ہوئی ہے بہت لیکن یاد رکھنا آج کے بعد کبھی اسکا زکر میرے سامنے مت کرنا
وری حیرت سےاسکا غصے سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھ رہی تھی اسے اندازہ نہیں تھا کہ کاشی اتنا زیادہ برا مان جائے گا ورنہ وہ ایسا مزاق کبھی نہ کرتی
کاشی میں مزاق کر رہی تھی میرا ارادہ تمہیں ہرٹ کرنے کا نہیں تھا میں نے صرف تمہارے مزاق کے بدلے مزاق کیا تھا لیکن وہ تمہیں اتنا ہرٹ کرے گا مجھے اندازہ نہیں تھا ایم سوری
کاشی بھی شرمندہ ہو گیا تھا لیکن اب اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کہے اس لئے صرف خاموچی سے بیگ اسکی شرف بڑھایا
مگر اسنے گفٹ کا بیگ اٹھانے کے بجائے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
اسد مجھے گفٹ ضرور دیتا ہے مگر اسکے گفٹ لیتے ہوئے وہ خوشی محسوس نہیں ہوتی جو تم سے میرو یا فاران بھائی سے لیتے ہوئے ہوتی ہے
تم خود کو اس سے کمپیئر مت کیا کرو تم جو تم میرے لئے ہو وہ اسد کبھی نہیں ہو سکتا اسکی اپنی ایک جگہ ہے اور تمہاری اپنی
اور ویسے بھی تم میرے لئے بہت خاص ہو آکری بات اسنے دھیمی آواز میں کہی تھی تاکہ باقی نہ سن سکے
وہ جو اسکی آواز اور ہری آنکھوں کے سحر مین کھویا ہوا تھا اسی بے خودی میں بولا
میں کیوں خاص ہوں تمہارے لئےـ
کیونکہ تم فیصل پھپا کہ بیٹے ہو اسنے آخری الفاظ بلند آواز میں کہہ کر پھپو کا دیکھا اپنی دائیں آنکھ دبا کر کاشی کے ہاتھ سے بیگ لیا اور اوپر اپنے کی طرف دوڑ لگائی اس سے پھلے نیچے بیٹھی خاتون اسکو تمیز پر لیکچر دیتی
کاشی جو اسکو مبہوت سہ دیکھ رہا تھا اپنے ہاتھ سے بیگ لینے پر چونکا اور اسکو اوپر کی طرف جاتا دیکھنے لگا
اسنے آخری سیڑھی پر رک کر کاشی کو دیکھا اور بلند آواز میں کہا اسد والی بات جھوٹ کہی تھی مینے وہ کہی نہیں جا رہا مینے صرف تم سے گفٹ لینے کے لئے کہپا تھا اور ماما پلیز خالہ کو نہ فون کیجیئے گا پلیز ورنہ میری شامت آجائے گی اسنے اتنا کہا اور اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا دیئے
پیچھے وہ سب مسکرا رہے تھے وری کی ڈرامیں بازیوں پر بلکہ فہد تو افسوس کر رہا تھا سارا بیگ اسکے ہاتھ لگنے پر کیونکہ اب اسنے ایک چیز بھی نہیں دینی تھی اس میں سے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *