Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25

وہ سارے افراد ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے وری اور فہد کا انتظار کر رہے تھے جو اس وقت سے اپنے کمرے میں تھے وہ ہی نہیں نمرہ بیگم بھی اپنے کمرے میں تھی ‘
اور یقینا رو رہی تھی انہوں زندگی میں پہلی بار اپنی اولاد پر ہاتھ اٹھایا تھا وہ بھی بلاوجہ مگر وہ کیا کرتی وہ بھی انسان تھی کسی کی باتوں میں آگئی تھی مائیں تو ویسے ہی اپنی اولاد کیلئے بہت حساس ہوتی ہیں اس لئے اب انہیں بھی یہ بات تکلیف دے رہی تھی
ڈائیننگ ٹیبل پر نہایت خاموشی تھی کہ وہاں سوئی بھی گرتی تو آواز آتی
حسن صاحب اور احسن صاحب سربراہی کرسیوں پر براجمان تھے اور انکے گرد باقی افراد فیصل صاحب کو چھوڑ کر باقی سب نے شام کا منظر دیکھا تھا اور سب ہی افسردہ تھے
کھانا رکھا جاچکا تھا مگر کسی نے بھی اسکی طرف ہاتھ نہیں بڑھائے تھے آفان تو کب سے بےچین تھا اپنئ چھوٹی بہن کے پاس جانے کیلئے مگر حسن صاحب نے منع کردیا تھا کسی کو بھی انکے پاس جانے سے
وہ جانتے تھے وہ نہیں مانے گی اتنی جلدی وہ ہرٹ ہوئی ہے بہت زیادہ اسکو اس تھپڑ سے زیادہ یہ بات ہرٹ ہوئی ہے کہ اسکی ماں کو اس پر اعتبار نہیں ہے اور یہ چیز اسکا دل دکھا رہی تھی
حسن صاحب نے ایک نظر کھانے کو دیکھ کر باقیوں کی طرف دیکھا وہ سب انہی کی طرف دیکھ رہی تھی
جیسے کہنا چاہتی ہوں کہ یا تو آپ اسے بلوائیں یا ہم خود جاکر اسے لے کر آئیں
حسن صاحب نے آہستہ سے میرو کو پکارا
میرو جائو وری اور فہد سے پوچھ کر آئو کھانا کھانے آئیں ورنہ اسکے بعد کھانا نہیں ملے گا حسن صاحب کی آواز میں نرمی تھی میرو کیلئے
اور میرو کو کیا چاہیئے تھا فورا سے چیئر دھکیل کر اٹھا اور اوپر فہد کے کمرے کی جانب دوڈ لگائی
حسن صاحب نے ثمینہ بیگم کو اشارہ کیا نمرہ بیگم کو بھی بلوانے کا انہوں نے خود بھی کبھی انکے بغیر کھانا نہیں کھایا تھا تو اب کیسے کھا لیتے
ناراضگی اپنی جگہ تھی مگر وہ انکی بیوی تھی اور اس سے بڑھ کر وری کی ماں تھی اگر کسی غلط فہمی کے تحت وہ اسے تھپڑ مار چکی تھی تب بھی انکا حق تھا وہ ماں تھی
وہ بھی کتنا کچھ سہتی ہے اپنی اولاد کیلئے تو کیا اولاد کا حق نہیں اپنی ماں کی ناانصافی کو نظرانداز کردے اور ان سے بات کرلیں
میرو دوڑتا ہوا اوپر گیا اور فہد کے کمرے کے باہر سانس لی اور پھر اسکا دروازہ کھٹ کھٹایا
وری پلیز دروازہ کھولو یار آج ہی تو ملیں ہیں ابھی تو مینے دیکھا بھی نہیں تھا تمہیں کہ تم کمرہ نشین ہوگئی میرو نے مزاحیہ انداز میں کہا
مگر اندر سے مکمل خاموشی رہی نہ وری نے کچھ کہا نہ فہد نے وہ دونوں مکمل خاموش تھے جیسے اندر ہو ہی نہ
وری یار پلیز دروازہ کھول دو مجھ سے کیوں ناراض ہو مینے تو کچھ نہیں کیا نہ میرو نے ایک بار پھر کہا
مگر اب بھی کسی نے جواب نہیں دیا
وری اب اگر تم نے دروازہ نہیں کھولا تو مینے فری کو جاکر شوٹ کردینا ہے میرو نے ایک اور کوشش کی اسنے فریحہ اظہر کا شارٹ نیم لیا تھا جس سے وری چڑتی تھی کہ کوئی بھی اسکا آدھا نام لے یا نہ لے اسکے گھر والے نہیں لیں گے اسے لگا تھا اب وہ چڑ کر بولے گی کچھ نہ کچھ
مگر اب بھی خاموشی رہی
وری تم خود کشی تو نہیں کر لی اوہ میرے اللہ چاچو کو بتانا پڑے گا میرو یہ بولتے ساتھ سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا جب ایک جھڑکے سے دروازہ کھلا اور میرو کو گردن سے پکڑ کر وری نے اندر کیا
زیادہ فری ہونے کی کوشش نہ کرو مجھے پتا ہے تم لوگوں کا دل کرتا ہے کہ میں مر جائو مگر مجھے کوئی شوق نہیں ہے مرنے کا نہ مینے کوئی خوکشی کی کوشش کی ہے وری نے اسکو بولنے کا موقع دیئے بغیر اپنی بات کہی
تو یار مینے کب کہا اور کیا تمہیں لگتا ہے میں اپنی اس چڑیل بہن کے بغیر رہ سکو گا میرو نے بولتے ساتھ اسکو بازو کے گھیرے میں لینے کی کوشش کی
دور رہو مجھ سے دیکھ لیا ہے نہ مجھے اب نکلو میرے کمرے سے ورنہ اٹھا کہ پھھینک دو گی کھڑکی سے وری نے اسکا ہاتھ پیچھے جھٹکتے ہوئے کہا
وری تم مجھے کمرے سے جانے کا کہہ رہی ہو جو تمہارے ہر راز کا ہمزاد ہے وری تم اس موٹے کی چاکلیٹ اور سیب کیلئے مجھے ایسے بول رہی ہو میرو نے وری کے انداز میں ایکٹنگ کر کہ ددکھائی وہ اسے اس فیز سے نکالنا چاہتا تھا
ہوگیا اب نکلو وری نے اسکو کوئی اور موقع دیئے بغیر ایک بار پھر اسکی گردن کو مرغی کی ٹانگ سمجھ کر اپنے بازو میں دبوچی اور اسے کمرے کے دروازے سے باہر کردیا
وری میری بات سنو یہ کیا بدتمیزی ہے میرو چیختا رہ گیا تھا مگر وری اسے نکال چکی تھی کمرے سے
فہد پہلے تو حیرت سے اپنی بہن کو دیکھتا رہا جیسے یقین کرنا چاہتا ہو وہ ایک مظبوط مرد کو کمرے سے نکال چکی ہے اور پھر یہ حیرت شوق اور مزے میں ڈھل گئی اور اب وہ ہنس رہا تھا پیٹ پر ہاتھ رکھ کہ
یار آپی کتنی مزے سے تم نے اسکی گردن دبوچی تھی جیسے گردن نہ کوئی بوٹی ہو مرغی کی فہد کے اتنا کہنے پر وری نے اسکو گھورا اور چبھتے لہجے میں کہا
کیا چاہتے ہو تمہیں بھی ایسے ہی کمرے سے نکالو یا وہ ڈیری ملک کا ڈبہ لا رہے ہو وری نے گھورتے ہوئے ایک اور شرط رکھی
فہد اسے گھور کر رہ گیا کہ اسکو تھپڑ کھانے کا کوئی دکھ بھی ہے یا نہیں اتنا ٹھوس چکی ہیں
آپی لگتا تو نہیں تمہیں کوئی دکھ ہے کھا کر فہد نے پوچھ ہی لی اپنے دل کی بات اسکو بھوکو کی طرح اپنی ڈیری کھاتے دیکھ کر
زیادہ بکواس نہ کرنا ورنہ تمہیں بھی ایک الٹے ہاتھ کی لگادو گی تم لوگ تو چاہتے ہی یہ ہو کہ میں ہر وقت روتی رہوں یا بین کرتی رہو شام میں مارا تھا اب رات ہورہی ہے کافی نہیں ہے کہ میں اتنی دیر سے کمرے میں بند ہو اور پلیز اب اپنی زبان کو زحمت نہ دو کہ وہ بکواس کر کہ میرا دماغ خراب کرے
فہد جو اسکو کچھ بولنے کیلئے منہ کھول رہا تھا کہ اسکی بات سن کہ فورا بند کرلیا کیونکہ کوئی بھروسہ نہیں تھا اسکی بات سن کر وری اسے اسکے ہی کمرے سے نکال دیتی
ویسے بھی وہ شاہ میر کی حالت دیکھ چکا تھا اور عقل مند انسان وہ ہی ہے جو وقت سے پہلے بات سمجھ جائے اور غلطی نہ کرے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میرو خاموشی سے نیچے آکر اپنی چیئر پر بیٹھ گیا تھا اسکو اکیلے آتا دیکھ کر سب کے چہرے پر افسردگی چھا گئی تھی
حسن صاحب نے ان سب کی طرف دیکھا اور کھانا شروع کرنے کا کہا
لیکن وہاں بیٹھے وہ سب وجود جانتے تھے کہ انہیں کتنی تکلیف ہوئی ہے وری کے نیچے نہ آنے پر وہ دل سے کتنا دکھی ہے وری کے ساتھ انکا ایک الگ ہی رشتہ
وہ سب جانتے تھے کہ وری کی پیدائش پر وہ کتنا خوش تھے وہ ہی نہیں سب ہی اسکی پیدائش پر بہت خوش تھے وہ پہلی بیٹی تھی اس خاندان کی صرف حسن صاحب ہی نہیں سب کی ہی اسکے ساتھ ایک الگ رشتہ ایک الگ جزبات تھے
اسکی پیدائش پر حسن صاحب نے سارے مدرسوں اور غریبوں میں دیگیں بٹوائی تھی یہ ہی نہیں جب وہ ہسپتال سے گھر لائی گئی تھی اسکے بعد بھ وہ اسکا صدقہ دیتے رہتے تھے
وری میں جان تھی انکی کبھی اگر رات کو وہ سوتے میں اٹھ جاتی تھی تو وہ نمرہ بیگم کو اٹھانے کے بجائے خود اسے اٹھا کر فیڈر بنا کر دیتے تھے اور وہ بھی جیسے اپنے باپ کی حرکتیں دیکھتی تھی
انکی خوہش تھی کہ وہ آئیر فورس یا آرمی میں جائے اپنے ملک کیلئے کچھ کرے ایک مظبوط لڑکی بن کر دکھائے ظاہر اور باطن دونوں سے یہ ہی وجہ تھی کہ وہ دونوں باپ بیٹی اپنے ہر راز سے آگاہ تھے وہ اپنی بات کسی کو بتائے یا نہ بتائے حسن صاحب کو لازمی بتاتی تھی
یہ ہی نہیں وہ بچپن سے اٹریکٹیو تھی ہوتے ہیں نہ کچھ بچے جو خوش مزاج ہوتے ہیں انہیں پیار کیا جائے تو رونے کے بجائے مسکرا رہے ہوتے ہیں کھلکھلا رہے ہوتے ہیں
وہ بھی ایسی ہی تھی کبھی کوئی اسکے گال پر پیار کرتا تھا تو پہلے تو وہ اپنی پوری آنکھیں کھول کر اسکو گھورتی اسکے بعد ایک دم ان آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ جیسے اسے اچھا لگا ہو انکا پیار کرنا
اور اب بھی وہ ایسی ہی تھی خود بھی انجوئے کرنے والی اور دوسروں کو بھی انجوئے کرانے والی
حسن صاحب کی بات سن کر سب سے پہلے انکے بھائی نے انکا مان رکھا تھوڑا سہ کھانا اپنی پلیٹ میں ڈالا اور ایک نوالا لیا
ہوتا ہے گھر کا کوئی ایک ایسا بندہ جسکے بغیر دل دنیا دونوں خالی لگتی ہیں اگر وہ گھر سے کہی چلا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ہر چیز ختم زندگی سے مزہ ختم وہ ہوتا ہے آپکی سننے والا یا اپنی سنا کر آپکو مزہ دلانے والا پھر چاہے وہ اپکے بہن بھائی ہوں یا جگری دوست مگر ایسا کوئی ایک ہوتا ضرور ہے ہماری زندگی میں اور اس گھر میں وہ ایک فرد وریشہ نور تھی
احسن صاحب کو کھانا کھاتے دیکھ کر باقیوں نے بھی اپنی اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالا اور شروع کیا کھانا کھان
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اندر کمرے میں ثمینہ بیگم نمرہ بیگم کو دلاسہ دے رہی تھی جو جب سے روئے جا رہی تھی وہ خود بھی دکھ میں تھی اسے تھپڑ مار کر
ماں اپنی اولاد کو وجہ پر مارے یا بلاوجہ اسے دکھ ضرور ہوتا ہے اپنی اولاد کو مار کر مگر ہم اولاد یہ بات سمجھتے ہی نہیں
بھابھی چپ ہوجائے آپ سے غالطی ہوگئی ہے کوئی بات نہیں آپ بھی انسان ہیں اس سے بات کیجیئے گا اسے منائیئے گا وہ مان جائے گی آپکو پتا تو ہے بات کیئے بغیر اسکا بھی گزارا نہیں ہے پلیز آپ چپ ہوجائیں
وہ راضی نہیں ہو گی ثمینہ مینے اسے سب کے سامنے تھپڑ مارا ہے اسے کتنا برا لگا ہوگا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا وہ کیا سوچے گی کہ اسکی ماں کو اس پر اعتبار ہی نہیں ہے
بھابھی ایسا نہیں سوچیں آپکو پتا ہے اسکا وہ مان جائے گی آپ اسکو منائے تو سہی جاکر وہ بھی کہاں آپسے اور بھائی سے ناراض رہ سکتی ہے
ثمینہ بیگم انکی پیٹ مسل رہی تھی آہستہ آہستہ
وہ پکا مان جائے گی نہ نمرہ بیگم نے آس سے پوچھا
ہاں بھابھی آپ فکر نہ کریں اور چلیں کھانا کھانے میرے ساتھ ثمینہ بیگم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور باہر ڈائینگ ٹیپل کی طرف لے کر گئی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کاشی نے آنکھوں میں وری کے بارے میں میرو سے پوچھا
میرو نے بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تسلی دی
کاشی کو بہت دکھ ہوا تھا وری کا درد اسے اپنے سینے میں اٹھتا محسوس ہو رہا تھا اگر اس وقت اسکے پاس گن ہوتی تو وہ اس سے فری کو شوٹ کردیتا جس نے اسکی وری کو ہرٹ کیا ہے
اسکا بس نہین چل رہا تھا وہ اس وقت جب وری کی آنکھ سے پہلا آنسو گرا تھا اسے اپنی انگلی کی پوروں پر جزب کرلیتا اسے بہت تکلیف ہوئی تھی اسکے رونے سے
وہ ہنستی مسکراتی اپنا روب جماتی ہوئی ہی اچھی لگتی ہے ااسے یوں رونے دھونے والی وری اچھی نہیں لگی تھی اسے
وہ اپنی سوچ میں گم تھا جب ڈائینگ پر پڑا اسکا فون بجا
باس کالنگ
سر اویس کی کال اسکے فون پر آرہی ہے
اسنے فورا انکی کال اٹھا کر سلا کیا
وعلیکم میجر تمہارے پاس صرف تیس منٹ ہیں فورا ائیرپورٹ پر پہنچو ہمیں کل کے بجائے آج ہی نکلنا ہے کل صبح ہم انکے آڈے پر اٹیک کرے گیں اور یہ وری کا فون کیوں بند ہے اسے بھی انفارم کرو اپنے یونیفارم پہنو اور اپنے گھر والوں سے مل کر نکلنا اس بار کا مشن
شاید تمہیں واپس نہ لوٹنے دے کیوں آج ہم اپنی پاک زمیں سے ان زلیل بےحس لوگوں کو مٹانے جا رہے ہیں اور شاید اپنی مٹی کو ان کتوں سے پاک کرنے کیلئے تم لوگوں کو اپنی جان قربان کرنی پڑے سر اویس نے یہ کہتے ساتھ فون بند کردیا
کاشی فورا سے اٹھا تھا اور وری کے کمرے کی طرف بڑھ کر اسکو مطلع کیا اسکی بات سنتے ہی اسنے سر اویس کو کال کر کہ انکی بات سنی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھی
اسکی زندگی میں اب اپنے عزیز لوگوں سے ناراض ہونے کا وقت نہیں تھا کیونکہ یہ جنگ اسکو ہمیشہ کیلئے ان سے دور کرسکتی تھی
ہماری آرمی کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی جنگ پہ جانے سے پہلے اپنی ماں بہنوں اور بھائیوں کو مطلع کردیتے ہیں کہ شاید اس بار تمہارا بھائی اپنے پیروں پر واپس آنے کے بجائے اس پاک پرچم میں لپٹ کر آئے گا
تو کیا ہمارا حق نہیں ہم ان مائوں کے بیٹوں کیلئے دعائیں کرے اور انکو سلام پیش کریں جو ہمارے ملک کی بہن بیٹیوں کی عزت اپنے ملک کو اس پاک مٹی کو دشمنوں سے پاک کرنے کیلئے اپنی جانوں کو قرباں کردیتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *