Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02

وہ لڑکی اپنے موبائل پر کینڈی کرش گیم کھیلنے میں مگن تھی کہ اسکے موبائل نے اسے پکار لیا ـ وہ دو دن سے اس رائونڈ کو پار کرنے میں لگی تھی مگر مجال ہے وہ رائونڈ پار ہو جائے اور اب وہ آخری رائونڈ پار کر لیتی اگر آخری وقت میں موبائل نے اپنی بغیرتی نہ دکھائی ہوتی ـ اسکرین پر آفیسر کھڑوس کا نام جگ مگا رہا تھا اس لڑکی نے گندا سہ منہ بنا کر فون اوکے کیا ـ
اسلام وعلیکم کیسی ہو ـ فون کے اس پار موجود شخص نے نہایت نرمی سے پوچھا ـ
وعلیکم اسلام ابھی تک تو ٹھیک تھی لیکن لگتا ہے اب نہیں ٹھیک رہ پائوں گی –
کیوں ـ اس شخص نے حیرت سے پوچھا
کیونکہ تم نے کال جو کردی ہے اب کیسے ٹھیک رہ سکوں گی ـ اس لڑکی نے بنا لحاظ کے کہا
یار تھوڑی سی شرم کرلو یہ ہی سوچ لیا کرو اگلے کو بری لگ سکتی ہے تمہاری بات : اسنے اسے شرم دلانے کی کوشش کی
آخر تم وہ کام کرنے کا کیوں سوچ رہے ہو جو مجھے پہلے ہی بہت سے لوگ دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں ـ اسنے اسی انداز میں کہا
کیا مطلب کون تمہیں کیا دلوانے کی کوشش کر رہا ہے وہ شخص واقعی نہیں سمجھا تھا اسکی بات
شرم اور کیا دلوائے گے حناکہ میں تھک گئی ہوں ان لوگوں کو بتا بتا کر کہ میرا اور شرم کا آپس میں کیا رشتہ اور ویسے بھی میرے اندر اتنی شرم ہے جس سے میرا گزارا ہو جائے باقی اگر تم لوگوں کو کم لگتی ہے تو میرے بدلے کی بھی تم لوگ اپنے اندر ڈالولو پلیز شاید اس سے مجھ میں بھی کچھ شرم آجائے ویسے تو نہیں آرہی ـ اسنے اس شخص کو بہترین وجہ بتائی تھی اپنی شرم نہ کرنے کی
ہاہاہاہاہا اوکے یار میں سمجھ گیاہوں تمہارا مسئلہ ـ اسنے اپنی ہنسی کے دوران کہا
اچھا چلو اب بتائو کیوں فون کیا ہے اب وہ مقصد جاننا چاہتی تھی اسکی کال کا
کیوں میں تمہیں ویسے ہی کال نہیں کر سکتا کیا ـ اسنے کچھ خفگی سے کہا
کہوں نہیں کر سکتے ہو مگر آج تک کیا نہیں اس لئے مینے سوچا پوچھ لوں کہ اب مجھے فون کرنے کا خیال کیوں آگیا تمہارے زرخیز دماغ میں
وہ غلط نہیں کہہ رہی تھی وہ جب بھی اسے فون کرتا تھا کسی نہ کسی مقصد سے ہی کرتا تھا اور اب اسی لئے اسے شرمندگی ہو رہی تھی اوراسی لئے وہ کچھ لمحے بول ہی نہ سکا کچھ
اسکی خاموشی سے نور کو پتا چل گیا تھا کہ وہ شرمندہ ہوگیا ہے ـــ یار شرمندہ نہ ہو مجھے پتا ہے تمہارا کام ٹف ہے اور مجھے خوشی ہوتی ہے تمہارا کام کر کے ہر کسی کو موقع نہیں ملتا اپنے ملک کے لئے کچھ کرنے کا اور اگر مجھے مل رہا ہے تو صرف تمہاری وجہ سے وہ اسکی شرمندگی ختم کر رہی تھی وہ اسکے بہترین دوستوں میں سے ایک تھا
اور تمہاری کیس کیسا چل رہا ہے اب وہ اسکو دوسرے موضوع کی طرف لے کر جا رہی تھی
وہ کیس ختم ہو گیا ہے وہ بھی صرف تمہاری وجہ سے وہ لڑکا فائز پکڑا گیا ہے اور جو اسکا بڑھا اب اسکو دوسرے آفیسر حل کرے گے میرا کام یہیں تک تھا اور دو سرپرائز ہیں میرے پاس جو مینے ابھی تک گھر میں بھی کسی کو نہیں بتائے کیونکہ میں سب سے پہلے تمہیں بتانا چاہتا تھا
اچھا چلو بتائو پھر کیا سرپرائز ہے اسنے ایکس سائیٹمنڈ ظاہر کی
میری پروموشن اور پوسٹنگ ہو گئی ہے وہ بھی کراچی میں اگلے ہفتے میں کراچی آرہا ہوں
اوہ یار گھدے اب بتا رہے ہو اللہ کتنا مزہ آئے گا اور اب تم شرافت سے مجھے ٹڑیٹ دینا سب سے پہلے اسے بہت خوشی ہو رہی تھی اسکے واپس آنے کی
ضرور دونگا اور اب اگلے ہفتے کو ملاقات ہو گی روبرو
اوکے مگر پہلے یہ بتائو اسکو بتایا ہے اپنے آنے کا
نہیں جاتے ساتھ سرپرائز دونگا
چلو یہ بھی ٹحیک ہے اللہ حافظ
اللہ حافظ
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
احسن ولا کے سب افراد کسی نہ کسی کام میں مصروف تھے مرد حضرات آفس گئے ہوئے تھے اور خواتین میں ثمرہ بیگم اور نمرہ بیگم ملازموں کے ساتھ مل کر گھر کی صفائی کروا رہی تھی اور سحربیگم (میرو) کی ممی کچن میں کھانا بنا رہی تھی
آفان بھائی آپ اپنے ہنی مون پر کہا جائے گے ــ
وہ سب لائونچ میں بیٹھے آفان کی شادی ڈسکس کر رہے تھے جب وری نے سنجیدگی سے سوال کیا ـ
سب نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا مگر اسکے تعصورات میں کوئی فرق نہیں پڑھا ـ
میرا ارادہ نادرن ایریازپر وزیٹ کرنے کا ہے مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو ــ آفان نے نرمی سے پوچھا ـ
مجھے بھی تو پیکنگ کرنی پڑھے گی نہ وری نے سکون سے بتایا
کہاجانے کے لئے پیکنگ کرنی پڑے گی ـوہ سب ہونقوں کی طرح اسکو دیکھ رہے تھے جب آفان نے اس سے پوچھا
آپ کے ساتھ جانے کے لئے ــ جواب پھر اسی معصومیت سے آیا تھا
میں تمہیں اپنے ساتھ کیوں لیکر جائو گا ــ اس بار کاشان نے کچھ غصے سے پوچھا
کیونکہ میں ساتھ جانا چاہتی ہوں ــ اسنے اسی اطمینان سے کہا
لیکن میں تمہیں اپنے ساتھ ہر گز نہیں لے کر جائو گا ــ آفان نے دو ٹوک انداز میں کہا اور کھڑآ ہو گیا
وہ تو دیکھی جائے گی ـ آپ خود مجھے ساتھ چلنے کا کہیں گے دیکھ لیجیئے گا وری نے اتنا کہا تو آفان اسکو زبان چڑھا کر اوپر کی طرف چلا گیا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ اسے نہیں لیکر جائے گا ــ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ خود اسکی منتیں کرے گا ساتھ چلنے گی کبھی کبار قسمت وہ چیز ہمارے سامنے لاکر کھڑی کر دیتی جس سے ہم انکار کر رہے ہوتے ہیں اور اور کبھی وہ کام ہمارے سامنے آجاتے ہیں جو ہم نہیں کرنا چاہتے
آفان کہ اوپر جانے کہ بعد میرو اپنی جگہ سے اٹھ کر وری کہ پاس آکر بیٹھ گیا تھا
وری کو لگا وہ اسکو تسلی یہ کوئی مشورہ دینے آیا ہے مگر وہ اسکے زخموں پہ نمک چھڑکنے آیا تھا جس کا اندازہ اسکو میرو کی ہنسی دیکھ کر ہی ہو گیا تھا
اوہ وری تمہیں تو آفان بھائی لیکر ہی نہیں جارہے اب کیا کرو گی انداز صاف چڑانے والا تھا وری کو پتا تھا وہ اسکے زخموں پر نمک چھڑک رہا تھا بیٹھ کہ
تم دیکھ لینا وہ خود کہیے گے مجھے ساتھ جانے کا اور زیادہ دانت نہ نکالو توڑ دونگی ــ وری نے غصے سے کہا
اوہو کسی کو بہت غصہ آرہا ہے اور دیکھ لینا تمہیں کوئی نہیں لیکر جائے گا میرو نے اسے اور تپایا
لیکن اب وہ اسکے ہر جملے پر اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں ساتھ ملا کر اور آنگھوٹا نیچے کر کے انکوپھر ساتھ ملاتی جیسے بتانا چاہ رہی ہو کہ وہ بکواس کر رہا ہے
یہ ساری لڑائی دیکھ کر سب سے زیادہ کاشی محفوظ ہو رہا تھا وہ 3 سال بعد انکو اس طرح لڑتے دیکھ رہا تھا اس لئے اسے مزہ آرہا تھا
وری جو کب سے اسکی بکواس سن رہی تھی اب اسکی برداشت سے باہر ہو رہا تھا میرو اس لئے اسنے چیخنا شروع کردا ــ لڑکیوں کا پسندیدہ وار اگر انکی نہ سنی جا ری ہو تو وہ دو کام کرتی ہیں یہ تو چیخنا شروع کر دیتی ہیں یہ رونا اور یہ دونوں چیزیں کارآمد ثابت ہوتی ہیں انکے لئے
تائی امی میرو کو دیکھے کب سے لڑکیوں کو بے وقوف اور نکمی کہہ رہا ہے ـ وری زوروشور سے تائی امی کو آوازیں دے رہی تھی
وری مینے صرف تمہیں بے وقوف کہا ہے اس میں ساری لڑکیاں کہا سے آگئی اور مینے نکمی یکا لفظ تو یوز بھی نہیں کیا ــ میرو بے یقینی سے کہہ رہا تھا کیونکہ اس سے پہلے اسنے کبھی ایسا جھوٹ نہیں بولا تھا
تمہارے پاس 10 سیکنڈ ہے بھاگنا چاہتے ہو تو بھاگ لو ورنہ آج تمہیں ٹھیک کرواتی ہوں تائی امی سے وری بنا شرمندہ ہوئے کہہ رہی تھی
اور ابھی وہ صرف بھاگ ہی سکتا تھا کیونکہ اگر سحر بیگم وہاں آجاتی تو اسکی خیر نہ ہوتی وہ وری کی سننے کہ بات کسی کی نہیں سنتی تھی وہ تو پھر انکا لے پالک تھا یہ بات بھی اسکی اپنی کہی ہوئی تھی ــ ورنہ ایسا نہیں تھا لیکن وری آج انکی محبت کا فائدہ اٹھا رہی تھی
لیکن میرو سحر بیگم کہ وہاں آنے سے پہلے بھاگ گیا تھا جس پر سب سے بڑا قہقہ وری نے لگایا تاھ اسے ڈرپوک کہتے ہوئے
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
رات گہری ہو رہی تھی آسمان سارا بادلوں سے بھرا ہوا تھا روز کی طرح آج آسمان
پر ایک بھی ستارا نہیں تھا جیسے وہ بھی ناراض ہوں سب سے جس طرح وہ لڑ کی
تھی اسے اس جگہ پر 2 دن ہو گئے تھے جس دن وہ وہاں آئی تھی بہت بری حالت
میں تھی مگر آج وہ بہتر تھی جسکی وجہ وہ عظیم عورت تھی جو دو دن سے اس لڑکی کا خیال رکھ رہی تھی مگر وہ اس دن سے خاموش تھی وہ عورت دو دن سے اس سے پوچھنے کی کوشش کر رہی تھی
مگر جواب میں صرف خاموشی ملتی وہ لڑکی آج بھی اس کمرے کی کھڑکی کھولے آسمان کو دیکھ رہی تھی مگر آج وہ بجلی کڑکنے یا بادل کہ گرجنے سے ڈر کر اپنی امی یا گھر میں موجود کسی اور ہنستی کہ پاس نہیں جا سکتی تھی کیونکہ آج اسکے پاس کوئی تھا ہی نہیں
بلکہ آج تو اسے کوئی خوف محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا وہ چاہتی تھی کہ شور ہو تاکہ اسکے اندر کی آوازیں آنا بند ہو جائے جیسے وہ اس رات کا ہر پل اپنی آنکھوں سے نکالنا چاہتی ہو ـ وہ ان آوازوں سے پیچھا چھڑانا چاہتی تھی جو پچھلے 4 دنوں سے اسے سونے نہیں دے رہے تھے اسے عجیب سی گھن آرہی تھی اپنے وجود سے– اسے صرف خود سے نہیں ہر شخص سے خوف آرہا تھا ہر کسی سے ایک ہفتہ پہلے وہ بلکل ٹھیک تھی اور آج ایک ہفتہ بعد اگر اسکو اسکے رشتہ دار یا
کوئی جاننے والا اس حالت میں دیکھ لے تو پہچان ہی نہیں پائے گا کہ یہ وہ ہی لڑکی ہے جو ہر وقت ہنستی مسکراتی تھی زندگی بھی کبھی کبھی انسان کو ایسی جگہ لے جاتی ہے جہا کا اسنے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو بلکہ یہ کہا جائے کہ اسکے بارے میں تو کبھی ہم سوچے بھی نہ اپنے لئے اسکے ساتھ بھی یہ ہی ہوا تھا اور وہ سوچنے پر مجبور تھی کہ آخر اسنے ایسا کیا گناہ کیا تھا کہ اللہ نے اس کو اتنی بڑی سزا دی مگر ضروری نہیں وہ آپکے لئے سزا ہو کیا پتا اللہ نے آپکو کسی آزمائش میں ڈال دیا ہو مگر انسان اللہ کہ فیصلے سمجھنے سے قاصر ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ پانچوں ابھی ابھی اپنی کلاس لے کر نکلے تھے اور اب وہ تینوں لڑکیاں اپنے ڈیپارٹمنٹ کی سب آخری سیڑھی پر بیٹھ گئی تھی ـ
یار مجھ سے اور نہیں چلا جا رہا میں تھک گئی ہوں ایک تو سر رضوان پتا نہیں کون سے حال کا بدلہ لہ رہے ہیں ــ ارشاءنے سیڑھی پر بیٹھتے ہوئے دھائی دی ـ
واقعی میں یار ــ علماء نے اسکی بات کی تائید کی اور اب دونوں وری کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی کہ وہ بھی اسکی بات کی تائید کرے ــ
وری نے ان دونوں کی نظروں کو نظرانداز کر کہ میرو کو مخاطب کیا جو علماء کو دیکھنے میں مصروف تھا
میرو میرے لئے ایک چکن رول ایک بریانی کی پلیٹ دو سینڈویچ لے کر آنا جب تک میں اپنا بچا ہوا آسائمنٹ کمپلیٹ کرلوں ــ وری اسے معنی خٰیزی سے دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی وہ جانتی تھی میرو اسکو سیکنڈ سیمسٹر سے پسند کرتا ہے اور وہ اس بات پر اکثر اسکا ریکورڈ لگاتی جس میں ارشاء بھی شامل ہوتی تھی ارشاء اور ارسلان کا پچھلے سال نکاح ہوا تھا اور اس بات سے سب سے زیادہ فائدہ وری اٹھاتی تھی کبھی اگر ارشاء اور ارسلان کی لڑائی ہو جاتی تو انکی صلاح کرانے میں وہ پچھارے ارسلان کو بہت لوٹتی تھی جس میں علماء بھی شامل ہوتی ــ
ابھی وہ سب منہ کھولے حیرت سے اسکو دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں خود کھائو گی یا یہاں پر لنگر بنٹوائو گی
یار اب ایک ہفتے بعد میں یونی آوں گی آج سے میں چھٹیوں پر ہوں اسلئے اتنا کھا رہی ہوں ایسے گھوروں مت بھوکوں کی طرح تم لوگوں نے کھانا ہے تو اپنے لئے بھی منگوالوں مجھے نہ نظر لگوا ئو ــ
اسنے ان سب کو بھی گھورا جو اسے چھبتی ہوئی نظروں سے گھور رہی تھے جن میں سب سے زیادہ ارشاء کی آنکھیں وا ضح تھی جو یہ سوچ سوچ کہ حلقان ہو رہی تھی کہ اسکا کھایا پیا جاتا کہا ہے لگتا تو زرا بھی نہیں ہے اسے ــ
اچھا نہ میرو اور ارسی ( شورٹ فوم ارسلان کی ) جا کر لا دو بھوک لگ رہی ہے ـ اسنے ایک بار پھر کہا تو وہ دونوں سب سے انکی مرضی پوچھ کر وری کو ایک تگڑی گھوری دیکھا کر کینٹین کی طرف چلے گئے
مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے اس کھانے کو واقع میں کسی کی نظر لگ گئی ہے اور آج کا دن یادگار ہونے والا تھا ان سب کے لئے
وہ تینوں سیڑھی پر بیٹھی میرو ارسلان کا انتظار کرنے کہ ساتھ ساتھ نوٹس بنا رہی تھی پرسوں آفان کی منگنی تھی اور کل سے میرو اور وری چھٹیوں پر تھے اور یہ اسئمنٹ کل لازمی جمع کروانا تھا وری نے پہلے ہی تیار کر لیا تھا بس اب لاسٹ کہ پوا ئنٹ میں کریکشن کر رہی تھی تاکہ کل ارشاء یا علماء میں سے کوئی بھی سر رضوان کو جمع کروادے کہ کسی لڑکی نے اسکو پکارا
ہیلو وریشہ اور ارشاء کیسی ہو ــ وری اور ارشاء دونوں نے اس آواز پر جھٹکے سے سر اٹھایا ــ
سامنے ایک بےحد موڈرن لڑکی اور اسکے ہاتھ میں ہاتھ دہئے ایک لڑکا کھڑا تھا جس کی مشابہت بلکل لڑکیوں جیسی تھی وہ دکھنے میں بھی بلکل دبلا سہ تھا وری سے بھی دبلا ہوگا وہ انکا کلاس فیلو ایبک تھا اور ساتھ کھڑی لڑکی وری کہ بابا کی کزن کی بیٹی فریحہ تھی جس سے وری کی کبھی نہیں بنی تھی وہ خود بھی وری کو پسند نہیں کرتی تھی
اگرتمہیں دکھ رہا ہے تو ھمارے ساتھ ایک اور وجود بھی بیٹھا ہوا ہے مس فریحہ ـ وری نے طنزیہ مسکراہٹ کہ ساتھ کہا ـ-
میں جانتی ہون وری مجھے دکھ رہا ہے مگر میں اپنے اسڈینڈر والے لوگوں سے بات کرتی ہوں ـ- فری نے بھی بنا لحاظ کہ علماء کو چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
وری اور ارشاء آپر کلاس سئ بلانگ کرتی ہے اور علماء مڈل کلاس سے تھی مگر اتنی بھی نہیں نارمل تھے مگر فری ہمیشہ اسکے مڈل کلاس ہونے پر چوٹ کرتی تھی
اچھاویسے تو ہم بھی جھوٹے اور دوخؒے لوگوں سے بات کرنا پسند نہیں کرتے مگر پھر بھی کر رہے ہیں داد دو فری ہمارے حوصلے کو ــ وری نے بھی اسکی ٹھیک ٹھاک بیستی کر دی تھی مگر آج شاید وہ کچھ سوچ کر آئی جو اسکی بات پر بھی مسکرا رہی تھی
بلکل تمہاری ہمت کی داد دینی چاہیئے ایسے نڈل کلاس لوگوں کہ ساتھ رہ لیتی ہو فری نہ بھی ڈھٹائی سے کہا
اور ویسے وری میرو کہا ہے دکھ نہیں رہا آخر جو تمہارا بیٹر ہاف ہے نہ فری اسے سلگانے آئی تھی آج
وری تپی ضرور تھی مگر بھڑکی نہیں بلکہ تحمل سے کہا
جس کی جیسی سوچ ہوتی ہے وہ ویسی ہی بکواس کرتی ہے اب دیکھ لو تمہاری بات سے تمہاری جہالت ٹپک رہی ہے
بلکل ہم تو جاہل لگے گیں سچی بات جو کر رہیں ہیں تم نے کون سہ ماننی ہے اپنی ماں کی طرح ہماری بات ــ اب غلط بات کر رہی تھی اسکا مقصد کیا تھا پتا نہیں مگر وری غصے میں آگئی تھی
کیا بکواس کی ہے تم نے میری ماں کہ بارے میں وری نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا جیسے اپنا غصہ کنٹرول کر رہی ہو
کیوں غصہ آرہا ہے تمہیں آخر تو تم بھی تو میرو کہ ساتھ گھوم رہی ہوتی ہو راتوں کو اکیلی ـ- کہیں کوئی اچھی خبر تو نہیں ہمارے لئے فری نے حد کردی تھی اب بکواس کی اور اسکی باتیں سن کر وری کا پارہ ہائی ہو رہا تھا اگر وہ اسکوغصہ دلانے آئی تھی تو کامیاب ہو گئی تھی کیونکہ وری کو بے حد غصہ آرہا تھا جو اسکے کنٹرول سے باہر تھا
فریحہ اظہر ابھی کہ ابھی میری نظروں کہ سامنے سے دفع ہو جائو ورنہ تم زندہ نہیں بچو گی میرے ہاتھوں سے ــ ارشاء اور علماء نے اسے بازئوں سے پکڑا ہوا تھا ورنہ اب تک وہ صیح سلامت کھڑی نہ ہوتی یہاں پر
مگر اس بات فری کی جگہ ایبک نے جواب دیا جو کہ اسے نہیں دینا چاہیئے تھا لیکن اب وہ دے چکا تھا
تم نے صیح کہا تھا اسکی ماں بھی اسکی جیسی ہوگی آوارہ اور تمہاری ماما کہ کزن کو بھی پھنسایا ہوگا آج مجھے یقین آگیا ہے میں تو اچھا سمجھ ـــ وہ جملہ پورا نہیں کر سکا تھا
وری نے ایک زور دار مکہ اسکے منہ پر مارا اور پھر مارتی ہی چلی گئی وہ اسے دیوانہ وار مارے جا رہی تھی جیسے اس پر جنون سوار ہو اسکو جان سے مادینے کا اس لڑکے نے اپنے بچائو کے لئے ایک مکہ وری کہ منہ پر مارا اسکے ہاتھوں میں پہنی آنگھوٹیوں کی وجہ سے وری کا بایاں ہونٹ پھٹ گیا تھا مگر اسے کوئی پروہ نہیں تھی وری کراٹے میں فرسٹ پرائز جیت چکی تھی اسکے سامنے یہ لڑکی نما لڑکا کیا تھا وہ اسکی مار کھا کر ادھ منوا ہو چکا تھا مگر وری کو سکون نہیں آرہا تھا اسکا دل چا رہا تھا وہ ان دونوں کا وجود ہی دنیا سے ختم کر دے جس نے اسکے کردار پر بات کی اسکی ماں کہ بارے میں مغلظیات بکا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *