Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12
اس بچے کے والدین کہاں ہیں اور اس لڑکے کو کیوں نہیں پکڑا گیا اسنے عجیب الجھے ہوئے انداز میں پوچھا
سوال اچھا ہے نور مگر اس وقت جمال کو اس بچے کی فکر تھی وہ بچہ ڈرا ہوا تھا کانپ رہا تھااگر ہم اس لڑکے کو پکڑنے کی کوشش کرتے تو مسئلہ ہو سکتا تھا اور اس بات کا بدلہ وہ بزدل لوگ ان معسوم بچوں سے لیتے جو انکی قید میں ہیں اس لئے پہلے اس بچے کو سیف کرنا تھا اور اس بچے کے والدین اور وہ بچہ ہمارے پاس ہے ہم 6 مہینوں سے اس کیس پر کام کر رہے ہیں
کراچی کا آڈوں کے بارے میں کافی کچھ ہمیں پتا چل گیا ہے مگر بہت سے آڈوں پر صرف انکی میٹنگ ہوتی ہے ابھی تک ہم نے اس کیس کو چھپایا ہوا تھا لیکن اب ہم کھل کر اس پر کام کر سکتے ہیں
اینی کوسچن ٹیم سر اویس نے بلند آواز میں کہا
نو سر سب نے یک آواز مین جواب دیا
اوکے کل تک آپ لوگوں کہ پاس آپکا کام پہنچ جائے گا یہاں دو ٹیموں کہ طور پر کام ہوگا ایک ٹیم آپکی ہے اور ایک میجر احمد کی
آپ لوگوں کہ پاس 20 دن ہیں 10 دن میں انفورمیشن جمع کریں اور اگلے 10 دن کے اندر اندر کراچی میں انکے مقامات پر ریڈ کرنی ہے اور اسکے بعد ہمارا قیام گلگت میں دہشت گردوں کہ مین آڈے پر ہوگا
ان لوگوں نے بہت ہمارے پھولوں کو کچل دیا ہے اب وہ انہیں ہاتھ نہیں لگا سکے گیں
پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے واقعے نے پاکستان کو پھر ایک بار ساتھ کھڑا کردیا تھا ہم ہر سال انکے لئے گانے گاتے ہیں انکو سلام پیش کرتے ہیں
لیکن کیا یہ کرنے سے ان مائوں کے کلجوں کو سکوں آتا ہوگا کیا اس والد کے دل کی تڑپ ختم ہوگئی ہوگی جس نے اپنی جوانی اپنے بچوں کے لئے کام کرنے میں گزاردی جس ماں نے نو ماہ اس پچے کی تکلیف برداشت کی کیا اب وہ انکو بے رحمی سے مرتے دیکھ کر کیسے برداشت کرتی ہوگی وہ خون کے آنسو روتی ہوگی
لیکن اب ہمارا وعدہ ہے ہم جان کی بازی لگا دیں گے مگر اب ان مائوں کی گود نہیں اجڑنے دیں گے اپنے ملک کا مستقبل برباد نہیں ہونے دیں گے
ان لوگوں نے صرف ان مائوں کو نہیں بلکہ قوم کہ مستقبل کو برباد کرنے کی کوشش کی ہے اور اب ہم ان مائوں کا اور اپنی قوم کہ پھولوں کا بدلہ لیں گیں
آر یو ریڈی گائیز سر اویس ان سب میں ایک جزبہ ایک جوش اور ایک جنون ڈال رہے تھے
یس سر سب نے ایک بار پھر بلند آواز میں انکی تائید کی
پاکستان سر اویس نے پاکستان کا نعرہ لگایا
زندہ آباد
سب نے زندہ آباد کہا
میٹنگ اس آور
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دل سوچتا ہے تو سوچتا ہی رہ جاتا
یہ جو اپنے ہوتے ہیں اپنے کیوں نہیں ہوتے
میرو اور وری لوگ ہال میں موجود لوگوں کو رسیو کر رہے تھے شادی والے دن وہ مہمان تھے اور اب میزبان اب وہ ایک جگہ سکوں سے نہیں بیٹھ سکتے تھے بلکہ اب سب سے پوچھنا تھا کہ سب کیسے ہیں جگہ ملی کسی چیز کی ضرورت تو نہیں اور اس چیز سے سب سے زیادہ میرو بیزار تھا
وہ اور وری ابھی ایک گیسٹ سے مل کر آئے تھے ان دونوں کو سکوں سے کھڑا بھی نہیں ہونے دیتے کہ پھر سے آواز آجاتی ہے کہ ادھر آئو بیٹا ان آنٹی سے ملو ان انکل سے ملو اور اب میرو بیزار تھا کہ انہوں نے کیا کرنا ہے ان سے مل کر
میرو آج مجھے بڑی خاص فیلنگز آرہی ہیں وری نے رازداری میں کہا
اچھا مسلا کیسی میرو نے سوالیہ انداز میں پوچھا
دیکھو نہ کیسے مجھے بار بار بلوایا جا رہا ہے وری نے جوش سے بتایا
اچھا اس میں کیا خاص بات ہے میرو نے ناک چڑا کر کہا
رہنے دو میرو پتا ہے تم لوگوں سے نہیں کسی کہ ابھی تک نہ آنے سے چڑے ہوئے ہو وری نے آنکھیں گھما کر کہا
میرو نے اسے گھورا اور چبھتے ہوئے لہجے میں کہا
پھر بھی بے شرموں کی طرح کھڑی ہو فون کرو اسکو اور پوچھو کدھر ہے وہ اب تو کھانا بھی لگنے والا ہے میرو کے بےشرم بولنے پر وری نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
تمنے مجھے بےشرم کہا ہے بےغیرت انسان صبر کرو یہ ولیمہ ختم ہونے دو تایا ابو کو بتائو گی پھر اپنی بہن کو بے شرم بول رہے ہو وری نے اسکو دھمکایا
تم بھی تو مجھے بےغیرت بول رہی ہو میرو نے بھی اسکے انداز میں کہا
ہاں تو تایا ابو نے کیا کہا تھا اس دن بہنیں کچھ بھی کہیں انکی بات کا برا نہ منایا کرو وہ کل کو چلی جاتی ہیں اس گھر سے لیکن بھائیوں کا کام ہے وہ کبھی اپنی بہن کو کچھ نہ کہیں کیونکہ کل کو یہ ہی بہنیں اپنے بھائیوں کے لئے کھڑی ہوتی ہیں لڑنے
لیکن اب تمنے مجھے بے شرم کہہ دیا ہے اس لئے اب تم علماء سے مل کر دکھائو زرا بے غیرت آدمی وری نے آنکھیں گھما کر کہا اور اسکو زباں دکھا کر پیچھے مڑ کر تیز قدموں سے جانے لگی
جب میرو نے کہا
وری قسم سے تم نہ پیدا ہوئی ہوتی تو بڑا سکوں ہوتا میرو نے غصے مین کہا
ہاں تائی امی بھی یہ ہی کہتی ہیں تمہارے بارے میں کہ کاش میری وری جیسی بیٹی ہوتی لیکن ہائے افسوس کہ یہ نکما میرا بیٹا ہے وری نے سحر بیگم کے انداز میں کہا اور آگے بڑھ گئی اس سے پہلے انمیں ہاتھا پائی شروع ہوتی لوگوں کا لحاظ کیئے بغیر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نمرہ بیگم کچھ خواتین کہ ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھی جب مسز اظہر وہاں آئی اور بڑی بے تکلفی سے نمرہ بیگم کو گلے لگایا
کیسی ہو نمرہ کتنی مرجھائی ہوئی ہو کیا کوئی ٹینشن ہے تمہارا رنگ کیوں دن بہ دن پھیکا ہو رہا ہے
وہ اس انداز میں بول رہی تھی جیسے بہت فکر ہو انکو نمرہ بیگم کی
میں ٹھیک ہوں بھابھی آپ نمرہ بیگم نے کچھ بولنا چاہا مگر انہوں نے بیچ میں ٹوک دیا
کہاں سے ٹھیک ہو رنگ خراب ہو رہا ہے کوئی ٹینشن ہے حسن نے تو خوش رکھا ہوا ہے نہ روبینہ بیگم ایسی ہی تھی اگلے کو بات نہیں کرنے دیتی تھی اور نمرہ بیگم سے تو خاص قسم کی چیڑ تھی انہیں
جس کی وجہ انکی بچپن کہ منگیتر حسن صاحب تھے
حسن صاحب کو کالج لائف سے نمرہ بیگم سے محبت تھی جسکی وجہ سے انہوں نے روبینہ بیگم سے شادی کرنے سے انکار کر دیا روبینہ بیگم خود بھی اظہر صاحب کو پسند کرتی تھی لیکن ایک حسد ایک جلن تھی کہ انکے مقابلے میں نمرہ بیگم کو کیوں پسند کیا گیا جو بہت زیادہ نہ خوبصورت تھی نہ باتونی
وہ بہت قابل اور خآموش طبع کی تھی لوگوں کہ سامنے دب جاتی تھی اس وجہ سے روبینہ بیگم اس بات کا فائدہ اٹھاتی تھی اور کبھی بھی کہیں بھی اپنی حسد نکال کا اظہار کر دیتی تھی
ماما بابا کب سے آپکو بلا رہے ہیں جائیں ایک بار انکو اپنی شکل دکھا دیں ورنہ پتا ہے کتنے بےچین رہتے ہیں آپکے بغیر ہوتا ہے کبھی کسی کو اسکی اوقات بتانے کے لئے اسکے معیار پر اترنا پڑتا ہے
وری نے زبردستی انکو وہاں سے ہٹآیا اور روبینہ آنٹی سے مکاطب ہوئی
سب کہہ رہی تھی آنٹی آپ ماما کو ٹینشن ہے
اسکی بات پر روبینہ بیگم نے حیرت سے وری کو دیکھا
سچی میں آنٹی لیکن بابا کی ٹینشن نہیں میری ہے اب ظاہر سی بات ہے اب اگر کسی کی اتنی پیاری بیٹی ہوگی تو فکر تو بنتی ہے نہ
کیا خیال ہے آپکا نرگز آنٹی اسنے وہاں کھڑی ایک خاتوں سے رائے مانگی
بلکل بیٹا بلکہ ہمیں تو تم بیمار لگ رہی ہو روبینہ کیا کوئی مسئلہ ہے تمہارے ساتھ کہی اظہر نے تو نہیں پریشان کیا ہوا
وہ سب خاتوں جانتی تھی کہ وری کہ سامنے تو روبینہ کی نہیں چلنے والی اس لئے وہ سب بھی اپنی بھڑاس نکال رہی تھی
آپ جیسا کریں گے ویسا پائیں گے اور کبھی کسی کی ماں کی برائی کسی ایسے فنکشن میں نہ کریں جہاں اسکی اولاد موجود ہو کیا پتا وہ خاتون آپکی باتیں برداشت کرتی ہو اسکی اوکاد کبھی نہیں کرے گی اور ضروری نہیں اگر ماں معصوم ہے تو بچے ان سے زیادہ معصوم ہو
کہیں دفع ایسا ہوتا ہے ماں یا باپ سادھے سے ہیں تو بچے سہی چلاک ہوتے ہیں اس لئے کسی کہ سامنے کچھ بھی بولتے ہوئے ایک بار سوچ لیا کریں ۔
________
خواہش سے نہیں گرتے پھل جولی میں
وقت کی شاخ کو ہلانا ہوگا میرے دوست
کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا
وہ لڑکی خاموشی سے اس خاتون کو قرآن پڑھتے دیکھ اور سن رہی تھی ان خاتون کی آواز میں عجیب سہ سحرتھا سکوں تھا کہ اسکا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسکی آواز سنتی رہے یا شاید ان خاتون کی آواز میں موجود سحر ان لفظوں کی وجہ سے تھا جو وہ پڑھ رہی تھی وہ عجیب چریقے سے ہیپنوٹائیز ہورہی تھی انکے الفاظ سن کے
ان خاتون نے اپنی تلاوت مکمل کرکے قرآن کو عقیدت سے چوما اور غلاف میں لپیٹ کر اٹھنے لگی جب اس لڑکی نے انکو پکارا
میں بھی قرآن پڑھتی تھی جب گھر میں ہوا کرتی تھی مگر میری آواز میں یا انداز میں ایسا مزہ نہیں تھا جیسا آپکے منہ سے ان الفاظ کو سن کر آرہا ہے اسنے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا
اس خاتون نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا جس نے آج پہلی بار انکی تعریف کی تھی انکی کسی چیز کو پسند کر کہ بنا جلے بنا دکھی ہوئے انکو بتایا تھا اس چیز کے بارے میں
تم اب کیوں نہیں پڑھتی نماز اور قرآن ان خاتون نے اپنی تعریف ہونے پر کوئی ردعمل ظاہر کیئے بغیر اس سے پوچھا
مجھ سے نہیں پڑھی جاتی نماز مینے کوشش کی تھی مگر میرا دل ہی نہیں جاہتا نماز پڑھنے یا قرآن پڑھنے کا اس لڑکی نے بےتاثر انداز میں کہا
کیوں نہیں دل کرتا کیا اب تمہیں اللہ سے محبت نہیں ہے کیا ایک آزمائش نے تمہارا بھروسہ ختم کردیا اللہ کے اوپر سے اس عورت کا لہجہ بےحد نرم تھا کہ انکی کوئی بھی بات تنز یا ہمدردی نہیں لگ رہی تھی بس وہ ایک بات لگ رہی تھی جیسے اسکی مدد کرنے کے لئے یا اسکی الجھنیں ختم کرنے کے لئے اس سے وہ الفاظ کہہ رہی ہوں
نہیں مجھے اللہ سے محبت ہے لیکن شاید میرا ایمان کمزور ہوگیا ہے یا اللہ نہیں چاہتا کہ میں اسے پکارو اس لڑکی کہ چہرے پر تکلیف کے اثار نمایا تھے
تم غلط کہہ رہی ہو بیٹا اللہ چاہتا ہے کہ ہم اسے پکاریں اسی لئے وہ ہمیں بہت سے لوگوں کہ زریعے اپنی طرف متوجہ کر رہا ہوتا ہے لیکن ہم یہ بات سمجھتے ہی نہیں ہیں تمہیں چاہیئے تم ابھی تکلیف میں ہو
اس لئے تم ابھی سے اللہ کے قریب ہوجائو اسکو پکارو اس سے تعلق مظبوط کرو ایک بار اس سے تعلق بنا لو گی تو تکلیف میں بھی خوش رہنے لگ جائو گی اور تمہاری تکلیف تو صرف اللہ ہی جانتا ہے اس سے سکوں مانگو صبر مانگو تم دیکھنا تمہاری تکلیف میں کمی آتی جائے گی وہ خاتون آہستہ آہستہ اس میں اللہ کے ساتھ دوبارہ تعلق جوڑنے کا جزبہ ڈال رہی تھی
مگر مجھے نماز میں ہر چیز یاد آتی ہے میں نماز میں بھٹک جاتی ہوں اس لڑکی نے بیچارگی سے کہا
تو کیا ہوا میرے ساتھ بھی اکثر ایسا ہوجاتا ہے میں اکثر بھول جاتی ہوں کہ مینے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں کبھی میرے دماغ میں سارا دن جو کیا وہ روٹین آجاتی ہے لیکن کیا اس سب کی وجہ سے میں اللہ کو نہ پکارو اسکا کلام نہ پڑھو تم یہ نہ سوچو کہ میں بہت اچھی نماز پڑھتی ہوں پابندی کے ساتھ تو میں بہت اچھی ہوں یا میری نماز بہت اچھی ہے
ضروری نہیں ہے کہ تم ابھی نماز کو دل سے پڑھو تم فرض سمجھ کر پڑھ لیا کرو کیا پتہ اللہ اس پر بھی خوش ہو جائےاور تم میں نماز کو دل سے پڑھنے کا جزبہ ڈال دے انہوں نے نرمی سے اسکا ہاتھ دبا کر کہا
میں کوشش کرو گی ساری نمازیں پڑھنے کی کیا آپ میری ہیلپ کریں گی اس سب میں اسنے التجا کرنے والے انداز میں کہا
بلکل کرونگی بیٹا اس خاتون نے محبت سے اسکی پیشانی چومی اور اسکو دعا دیکر باہر جانے لگیں جب اس لڑکی نے انہیں پکارا
آپ نے ایک بار بھی مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے میں یہاں کیوں پڑھی ہوں بلکہ جب آپ نے میرا نام پوچھا اور مینے آپ سے بدتمیزی سے کہا کہ میرا کوئی نام نہیں ہے اور بھی کافی کچھ کہا تھا تو کیا آپکو برا نہیں لگا آپ نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا اس سب کے لئے آپکو برا تو لگا ہوگا نہ اسنے اپنے رویے پر شرمندگی سے نیچے دیکھتے ہوئے ان سے پوچھا
کیا تم ان سب باتوں پر شرمندہ ہو اس خاتون نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
جی مجھے معاف کردے میں اس وقت دکھی تھی اس وجہ سے یہ سب بول گئی اسنے اپنی بدتمیزی کا عزر پیش کیا انکو
مجھے اچھا لگا کہ تمہیں احساس ہوگیا اپنی بدتمیزی کا اب اپنا نام بھی بتادو اس خاتون نے آخر میں لہجے کو تھوڑآ سہ شریش کر کہ کہا
صفیہ عوان نام ہے میرا اسنے اپنا سیدھا ہاتھ انکی چرف بڑھاتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
جواب میں اس خاتون نے بھی اپنا سیدھا ہاتھ آگے کرتے ہوئے دلکش مسکراہٹ کے ساتھ کہا
زونیرا اویس کہتے ہوئے دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھوں کو گرم جوشی سے ہلایا اور ایک دوسرے کی طرف محبت بھری مسکراہٹ اچھالی
کبھی کبھیزندگی میں خوش ہونے کےلئے بڑی بڑٰ خوشیوں کی ضرورت نہیں ہوتی اگرانسان کا تعلق اللہ سے مظبوط ہو تو وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی خوشیاں تلاش لیتا ہے
اس خاتون نے اس لڑکی کو اللہ کی جانب متوجہ کروادیا تھا اب آگے اس لڑکی کا اور اللہ کا معاملہ تھا اسنے اپنے حصۓ کا کام کردیا تھا
اگر آُ کبھی کسی کو نماز کی تلقین کرتے ہو تو محبت سے کرے کبھی بھی زور زبدستی نہ کریں اس وجود کی وہ خاصیت جانے جس سے وہ آپکی بات مانتا ہے اور اس خاصیت کے زریعے محبت سے اسکو اللہ کی جانب متوجہ کریں تاکہ وہ بیزاری سے نہیں محت سے نماز پڑے ۔
Episode 12
آفان اور ثناء کے ساتھ لوگ تصویریں کھنچوا رہے تھے کھانا کھا لیا گیا تھا دور کے رشتہ دار وغیرہ جا چکے تھے اور قریبی بھی تصویریں وغیرہ کھنچوا کر گھر جانے کی کر رہے تھے
کچھ اور لوگوں نے بھی اوپر اسٹیج پر چڑھ کر تصویریں کھنچوائی اور اسٹیج سے نیچے اتر گئے انکے اترتے ہی آفان نے میرو کر کہا
میرو سب کو بلوائو اب فیملی پکچر بھی لے لی جائے اور یہ بھی دیکھو وری کہا ہے وری کی بات کرتے ہوئے اسکے چہرے پر تشویش تھی
اچھا میں بلواتا ہوں باقی تو سب ادھر ہی ہیں بس فہد اور وری کا نہیں پتا کہ وہ کہاں میرو نے اسکو بتاتے ہوئے ادھر ادھر نظریں گھما کر دیکھا لیکن وری اور فہد کہی نظر نہیں آئے
ٹھیک ہے جائو جاکر دیکھو اور بلوائوسب کو کھانا بھی کھانا ہے ابھی ہم سب نے آفان نے اسکو تنبیہہ کی جلدی بلوانے کی
میرو اسکی سن کر فورا نیچے کی طرف بڑھا اور جوجو فیملی میمبر اسکو دکھا اسکو اوپر اسٹیج پر جانے کا کہا
وہ جیسے ہی کھانا کھانے کی جگہ سے تھوڑا سہ آگے بڑھا وہاں سامنے ہی وری اور فہد کھڑے آپس میں لڑرہے تھےمیرو نے ایک گہری سانس خارج کی اور انکی طرف بڑھاے
تم نے یہ کیسے عجیب سے بال بنائے ہیں سب کے سامنے بیستی کروائو گےسب کہے گے اتنی پیاری لڑکی کا کتنا عجیب بھائی ہے جس کو فیشن کا ہی نہیں پتا وری اسکو کب سے سنا رہی تھی اسکی نظر ہی ابھی پڑھی تھی اس پر
جو سائیڈوں سے گنجا تھا پیچ کے بال چھوڑ کر وہ بال بھی اس نے اوپر کی طرف اٹھائے عجیب سہ کوئی اسٹائل بنایا ہوا تھا
آپکو فیشن کا پتا ہی کہا بس یہ بھرے ہوئے کپڑے پہن کر منہ پر میکپ تھوپ کرآجاتی ہیں جب لڑکوں کے فیشن کا پتا ہی نہیں تو کیوں بول رہی ہیں فہد نے بھی بنا لحاظ کہ کہا
جیسا بھی فیشن ہوتا ہے کم از کم تمہاری طرح کھوتا کٹنگ میں نہیں گھوم رہی ہوتی تمیز کے بال بنا کر پھر رہی ہوتی ہیں اتنے اچھے کپڑے پہن کر بھی تم بھنگی لگ رہے ہو وری بھی اسکو غصے سے ڈانٹ رہی تھی
اور آپ بھی تو کالی بھنگن لگ رہی ہو ان خوبصورت کپڑوں میں آپ نے ساری شو ہی خراب کردی ہے انہیں پہن کر فہد نے بھی اپنا بدلہ لہا
فہد تم میرے ساتھ آئندہ کہیں مت جانا لوگ سمجھے گیں تمہیں میں اپنا بیگ وغیرہ پکڑنے کے لئے لےکہ آئی ہوں وری نے اسکو اچھا خاصہ تپا دیا تھا
وری تم بھی میرے ساتھ کہیں مت جانا ورنہ لوگ بولے گیں راستے میں جھاڑو لگوانے کے لئے میں تمہیں اپنے ساتھ لیکر جا رہا ہوں فہد نے بھی اسکو چڑایا
میں تم سے چار سال بڑی ہوں اور تم میرا نام لے رہے ہو شرم نہیں آرہی تمہیں وری نے غصے سے کہا
نہیں وری مینے شرم بیچ کر مرچی والے پکوڑے کھا لئے تھے فہد نے ڈھٹائی سے کہا
ہاں نظر آرہا ہے کھوتے کٹ وری نے ایک بار پھر اسکے حسیں سلکی بالوں کو نشانہ بنایا
وری اب اگر تم نے میرے بالوں کو ہاتھ لگایا تو میں تمہیں بہت برا مارو گا فہد نے چڑ کر کہا
بیٹا صبر کرو تایا ابو کو بتاتی ہوں گھر جاکر وری نے اسکو دھمکایا
ایک تو تم ہر بات میں تایا ابو کو کیوں لیکر آتی ہو فہد نے غصے سے اسکو گھورتے ہوئے کہا
ہاں جیسے تم تو ہر لڑائی میں ماما کو نہیں لیکر آتے اگریاد ہو تو پیچھلے ہفتے کی لڑائی میں جب مینے تمہیں ہلکہ سہ مکا مار دیا تھا مزاق میں تو کیسے تم نے ماما کو کہا تھا
ماما وری آپی نے میرے بازو پر مکے مارے ہیں وری نے اسکی نکل اتارتے ہوئے کہا
حناکہ مینے تمہیں صرف ایک مکہ مارا تھا
ہاں تو وہ ایک بھی کتنی زور سے لگا تھا فہد نے منہ بنا کر کہا
ہاں تو کیا ہوا اگر زور سے لگ گیا بہن نے ہی تو مارا تھا باہر والوں سے پٹ کر آجاتے ہیں گھر میں بہن یا امی مار دے تو بڑا غصہ آرہا ہوتا ہے وری اب بی اسکو چڑا رہی تھی
آپی صبر کرو میں ماما کو بتاتا ہوں فہد آگے بڑھا اسکی شکایت نمرہ بیگم کو لگانے کے لئے جب کسی نے اسکا بازو پکڑ کر واپس کھینچا
میرو جو کافی دیر سے انکی لڑائی انجوئے کررہا تھا فہد کو جاتے دیکھ کر اسنے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپس کھینچا
فہد ابھی چھوڑ دو گھر جاکر تم بھی شکایتلگانا اور میں بھی مجھے بھی اسنے بہت تنگ کیا ہوا ہے ابھی چلو فیملی فوٹو کھنچوانے میرو نے فہد کو تسلی دیتے ہوئے آگے چلنے کا اشارہ کیا
وری نے ان دونوں کو ایک سخت گھوری سے نوازا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتی انکے پاس سے گزر کے چلی گئی
میرو اسکی اس حرکت پر دلکشی سے مسکرایا وہ جانتا تھا اگر ایسا نہ کرتا تو وری نے جانا ہی نہیں تھا بنا لڑائی کیئے
وہ سب لوگ اسٹیج پر آگئے تھے وری بھی جلدی سے اوپر چڑھی اور اسد کے ساتھ کھڑی ہوگئی
تایا تائی آفان اور ثناء کے آس پاس بیٹھے تھے باقی سارے بڑے پیچھے کھڑے تھے
اب کاشی اور علماء کا ویٹ کیا جارہا تھا ارشاء اور ارسی بھی پیچھے کھڑے ہوئے تھے ان لوگوں کو اتنا عرصہ ساتھ ہوگیا تھا کہ اب وہ فیملی کی ہی طرح تھے
علماء اسٹیج پرچڑنے والی تھی جب پیچھے سے آتی فری نے اسکو دکھا دیکر اس سے پہلے اسٹیج پر چڑگئی مگر اسکے دکھے سے علماء نیچے گرنے والی تھی اگر ان دونوں کے پیچھے اسٹیج پر چڑتے کاشی نے اسکو پکڑ نہ لیا ہوتا
فری کی اس حرکت پر سب سے زیادہ وری اور میرو کو غصہ چڑھا تھا وری آگے بڑھ رہی تھی اسکو سیدھا کرنے کے لئے لیکن اسد نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا تاکہ وہ ابھی کچھ نہ بولے اسکو
اوہ سوری تمہیں غلطی سے ٹچ ہوگیا فری نے پیچھے مڑ کر مکاری سے اسکو سوری کہا اور ثناء آفان کے پائوں کے پاس جاکر بیٹھ گئی جہاں اسکے اور بھی کزن بیٹھے تھے
کاشی نے اسکو سیدھا کھڑا کیا اور پوچھا
آپ ٹھیک ہو علماء پائوں وغیرہ تو نہیں مڑا
نہیں میں ٹھیک ہوں تھیکنس کاشی بھائی علماء کی آواز کانپ رہی تھی جیسے ابھی بھی وہ اس فیز سے باہر نہ آسکی ہو مہرو آگے بڑھی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو اپنے ساتھ لیجا کر کھڑا کردیا اور کاشی بھی جاکر وری کی بائیں طرف کھڑا ہوا جب وری نے کہا
تھینکس کاشی لیکن تمہیں چاہیئے تھا کہ علماء کو پکڑتے اور فری کو نیچے دھکا دے دیتے وری نے دانت پیس کر کہا
وری کیوں تم مجھے بھری جوانی میں قتل کروانا چاہتی ہو وہ دونوں آپس میں بات کر رہے تھے جب فوٹو گرافر نے انہیں ٹوک دیا
آپ دونوں پلیز سامنے دیکھے اور باتیں نہ کرے فوٹوگرافر نے زرا غصے سے کہا کیونکہ کب سے ان سب کا انتظار کر کر کہ وہ بھی اب بیزار تھا
وہ دونوں سیدھے ہوکر کھڑے ہوگئے تھے
تصویریں کھنچوا کر جن جن مہمانوں نے کھانا کھا لیا تھا ان سب کو گھر بھجوا دیا گیا تھا باقی سب کھانے کے لئے بیٹھ گئے تھے بڑوں کو ایک ٹیبل پر اور دلہا دلہن کے ساتھ نوجوان پارٹی الگ ٹیبل پر بیٹھ گئی تھی اس بار وری آفان کے ساتھ بی
اسکے برابر میں کاشی اور فہد تھے اور ثناء کے ساتھ علماء بیٹھی اس سے بات کررہی تھی اسکے ساتھ میروِ، ارشاء، ارسی اور باقی کے کزن بیٹھے تھے
آفی بھائی مجھے لیکر جائینگے نہ ہنی مون پر وری نے مزاحیہ انداز میں کہا
وری کیا تم سچی میں ہم میاں بیوی کے ساتھ جانا چاہتی ہو تم خود سوچو تم کیا کرو گی ہمارے ہنی مون پر آفی نے اسکو سمجھانا چاہا
میں انجوئے کرونگی بلکہ دیکھونگی کہ آپ بھابھی سے رومینس کرتے کیسے لگتے ہیں اسکی بات پر ثناء لال سرخ ہوگئی تھی بلکہ آفی بھی جھینپ گیا تھا
بیٹا اتنا ہی شوق ہے رومینس دیکھنے کا تو تمہاری نہ شادی کروادی جائے آفی نے اسکو تنگ کرنا چاہا
ہائے آفی بھائی کہاں ہوگا میرا شہزادہ اففف کب ملے گا مجھے وری جان بوچھ کر ایسے بول رہی تھی کیونکہ ساتھ بیٹھے کاشی کہ کان ادھر ہی لگے ہوئے تھے
اف تم بھی مہرو کی صوبت میں بے شرم ہوگئی ہو آفی نے اسکو چڑایا
آپ بھی تو ایک دن میں بھابھی کی صوبت میں شرم و حیا والے ہوگئے ہیں وری آفی کوچھیڑ رہی تھی جب فری وہاں آئی اور علماء سے مخاطب ہوئی
تم ادھر سے اٹھو ادھر مجھے بیٹھنا ہے ویسے بھی یہاں سب کزن موجود ہیں تم یہاں بیٹھی کیا کررہی ہوفری نے نخوت سے علماء کودیکھتے ہوئے کہا
علماء نے حیرت سے اسکو دیکھا اس سے پہلے علماء کچھ کہتی وری بول اٹھی
فری یہاں سب فرینڈز جمع ہوئے ہیں اس لئے تم وہاں بیٹھ جائوکیونکہ ہماری پرسنل گپ شب ہورہی ہے اور اس میں تمہارا کیا کام وری نے بھی بنا لحاظ کہ علماء کی بات کا بدلہ لیا
ٹیبل پر بیٹھے سب لوگ ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہےتھے
وری کو پہلے ہی اس پر غصہ تھا اور اب علماء کو اس طرح بولنے پر اور بھی آگیا تھا
فری کا چہرہ انتھائی لال سرخ ہوگیا تھا اپنی تزلیل پر
وریشہ تم حد سے بڑھ رہی ہو مجھ پر تم اس لڑکی کو ترجیح دے رہی ہو فری نے بھی چیخ کر کہا
نہیں تمہارا اور اسکا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے تو ترجیح کیسے دونگی میں میرے لئے جو علماء مقام علماء کا ہے وہاں تم کبھی ہو ہی نہیں سکتی سو تم بات نہ بڑھائو اور اپنے کسی کزن کے پاس بیٹھ جائو ویسے بھی کھانا ہی کھانا ہے وری نے تحمل سے بات ختم کرنی چاہی
لیکن فری کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا
تمہیں تو میں دیکھ لونگی تم نے اس دو ٹکے کی لڑکی کے لئےمیری انسلٹ کی ہ وری نے بیچ میں ہی فری کی بات کاٹ دی
مینے علماء نی وجہ سے نہیں بلکہ تمہارے دوٹکے کے گندے زہن کی وجہ سے تمہاری انسلٹ کی ہے وری نے ہر لفظ پر زور دے کر کہا
وری خاموش ہوجائو اور کھانا کھائو آپ سب بھی کھانا کھائے اور تم فری میرے ساتھ چلو آفان نے لڑائی بڑتے دیکھ کر انکو وری کو خاموش کروایا اور فری کو لیکر انکی ٹیبل سے تھوڑا دور ہوگیا
وری نے سکوں سے بریانی کی ٹرے اٹھائی اپنی حساب کی بریانی ڈالی اوپر رائیتے اور سلاد ڈالا اور کھانے لگی اس ٹیبل پر تین لوگ تھے جو اتنے سکوں سے کھانا کھا رہے تھے
وری فہد اور میرو ایسے کھانا کھا رہے تھے جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہیں ہے
لیکن باقی کے لگی حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے ج کے چہرے پر کوئی شرمندگی نہیں تھی
کاشان نے تاسف سے ان تینوں کو دیکھا اور چکن کھڑائی کا بائول اٹھاکر اپنی پلیٹ میں سالن ڈال کر کھانا شروع کیا
وری نے ایک سیکنڈ کے لئے پلیٹ سے نظر اٹھائی تو سب اسکو ہی گھور رہے تھے
وری نے ایک آبرو اور کو اٹھا یا اور زرا سخت لہجے میں کہا
کیا تم سب مجھے کھانے کے لئے بیٹھے ہو کھانا نکالو اور کھائو کیونکہ 20 منٹ بعد انہوں نے دکھے دیکر ہال سے نکال دینا ہے ہم سب کو
اسکی بات سن کر سب نے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھائے میرو نے علماء کی پلیٹ میں بریانی نکالتے ہوئے کہا
علماء نکال میں دے رہا ہوں اگر کھانے کی ہمت نہیں ہے تو بتائو کھلا بھی دو
علماء نے سٹپٹا کر اسکو دیکھا اور پلیٹ اپنی طرف کر کہ کھانا شروع کیا
ثناء آپی آپ بھی کھانا کھا لیں کیونکہ آفان بھائی اسکوکھانا کھلا کر اور خود بھی اسکے ساتھ کھا کر آئیں گے وری نے انکے فق ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا
وری کیا تمہیں زرا سی بھی شرمندگی نہیں ہے ثناء نے ہلکی کیا میں پوچھا
نہیں ہے لیکن آپ بتائیں کیا ہونی چاہیئے وری نے بے تاثر لہجے میں جواب دیکر والیہ انداز میں پوچھا
ہاں ہونی چاہیئے تھی ثناء نے آہستہ سے کہا وری نے حیرت سے اسکو دیکھا اور س سے پہلے کچھ بولتی کہ ثناء نے اپنا جملہ مکمل
کیونکہ تم نے مجھے اپنے ولیمے کا کھانا اپنے شوہر کے ساتھ نہیں کھانے دیا ثناء نے شریر لہجے میں کہا
وری نے ہلکہ سہ قہقہ لگا کر کہا
آفی بھائی نے آپک دن میں ہی آپکو اپنا عادی اور منہ پھٹ بنادیا ہے آپی
اسکی بات کے جواب میں ثناء نے اسکو صرف آنکھ مار کر تصدیق کی اسکی بات کی اور کھانا کھانا شروع کیا
__________
وہ ایک ہفتے سے اس لڑکی کے پاس جارہی تھی وہ اس سے کیس کے متعلق یا اس کے ساتھ ہوئے کسی بھی حادثے کے متعلق بات نہیں کرتی تھی وہ صرف اسکا خیال رکھتی تھی روز کی روٹین کی بات چیت کرتی تھی اسے اس کمرے سے باہر نکالنے کی کوشش کرتی تھی اسکے علاوہ وہ اس سے کچھ نہیں کہتی تھی
اور یہ سب کرتے نور نے ایک چیز نوٹ کی تھی کہ اسکے مریم کو ہمدردی اور ترس بھری نظروں سے نہ دیکھنا اسکو بہت عجیب لگتا ہے جیسے وہ چاہتی ہے کہ سب اسکو ہمدردی دیں اس پر ترس کھائیں ااسے ٹھیک نہ سمجھیں لیکن نور اسکو یہ سب نہیں دے رہی تھی وہ بہت نارمل انداز میں اس سے ملتی تھی جیسے اسکے ساتھ کچھ ہوا ہی نہ ہو
ابھی بھی وہ مریم کیلئے سوپ لیکر جارہی تھی جب اسکی پینٹ کی جیب میں پڑا فون وائیبریٹ ہوا اسنے کچن کائونٹر پر ٹرے رکھی اور جیب سے فون نکال کہ چیک کیا جہاں پرائیویٹ نمبر سے کال آرہی تھی
اس نے غور سے نمبر کو دیکھا کہ شاید یاد آجائے کس آفیسر کا ہے لیکن وہ اپنے سب ٹیم ممبرز کہ نمبر اسی دن لے کر سیف کرچکی تھی اسنے تھوڑا الرٹ ہوکر فون پک کیا
ہیلو
اسلام وعلیکم مس نور میجر احمد اسپیکنگ فون میں سے احمد کی بھاری روب دار آواز گونجی
وعلیم اسلام نور اسکی آواز سن کر سٹپٹا گئی تھی یہ تو شکر تھا کہ اسکے فون میں وائس چینجر لگا ہوا تھا ورنہ آج اسکی خیر نہیں ہوتی
مس نور مجھے آپ سے اس کیس کے متعلق بات کرنی ہیں کیا آپ مجھ سے مل سکتی ہیں سر اویس کے آفس میں میجر احمد کی آواز دوٹوک تھی
نو میجر آپ مجھ سے فون پر ہی ڈسکشن کرلیں کیونکہ مجھے ابھی کسی سے بھی ملنے کی پرمیشن نہیں ہے آپ جانتے ہیں یہ بات نور نے بھی اسکے انداز میں کہا
آئی نو مگر اس سے پہلے میجر احمد کوئی اور جواز پیش کر کہ اسکو مناتہ نور نے بیچ میں ہی اسکو ٹوک دیا
سوری میجر مگر آپ مجھ سے فون پر ہی بات کرلیں
اوکے کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ کب تک ہمیں اس لڑکی کہ متعلق پتا چل سکتا ہے جس کہ بارے میں جاننے کے لئے ہم نے آپکو اس لڑکی کے پاس بہجا ہے نور کہ بیچ میں اسکی بات کاٹنے پر میجر کہ لہجے میں بھی سختی اور اکھڑا پن آگیا تھا
میجر میں کوشش کر رہی ہوں انشاءاللہ کچھ دنوں میں آپکو رپورٹ کرونگی نور نے نرمی سے کہا
کچھ دنوں میں نہیں مجھے 3 دن کے اندر اندر رپوٹ چاہیئے ہم اور لیٹ نہیں کر سکتے اس کیس کو احمد کے لہجے میں سختی تھی
اوکے میجر میں کوشش کرونگی کہ نور نے ابھی اپنا جملہ بولا ہی تھا کہ میجر احمد نے اسکو ٹوک دیا
کوشش نہیں 3 دن میں مجھے ہر حال میں اس لڑکی کے بارے میں بتائیں ویسے ہی آپکو ایک ہفتہ دے دیا ہے ہم نے یہ کہتے ساتھ میجر احمد نے کال کٹ کردی تھی
نور نے فون کو گھورا اور زیرلب احمد کو گالیوں سے نوازا
بےشرم ہے ایک نمبر کا ابھی اگر بتا دوں کہ کس سے بات کر رہے ہو تو ہوا ٹائٹ ہو جائے گی الو کی ایک تو میں سر اویس سے بھی بےحد عاجز آگئی ہوں میرا خیال ہے یہ چاہتے ہی نہیں ہیں کہ میں یہ کیس پورا کروں نور ان دونوں کو کوستی ہوئی مریم کا سوپ کا بائول اٹھا کر اسکے کمرے کی طرف بڑھی
