Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16
سر اویس اپنی گاڑی میں بیٹھے ہاتھ میں پکڑے فون میں موجود اس لڑکی کی تصویر دیک رہے تھے جو تھوڑی دیر پہلے نور نے انکو بھیجی تھی
انکی گاڑی انکے گھر کے گیٹ کے سامنے رکی تو انہوں نے فون بند کر کے اپنئ پینٹ کی جیب میں رکھا اور ایک گہری سانس خارج کی وہ آج دو ہفتے بعد گگھر جارہے تھے اور تھوڑ ا سہ پریشان تھے کہ پتا نہیں روبینہ بیگم کیسی ہوں وہ ناراض نہ ہو
گاڑی انکی گیٹ کے اندر جا چکی تھی اور جیسے ہی ڈرائیور نے گاڑی سے اتر کر انکی سائیڈ کا دروازہ کھولا تو وہ اپنے ہاتھ میں اپنا فون کچھ فائلز کیس کے متعلق اور ایک ہاتھ میں فلاورز کا بوکے تھامے اترے اور اپنے گھر کے انٹر ہوئے دوپہر ہونے کی وجہ سے لائونچ کا دروازہ کھلا ہوا تھا انہوں نے آہستہ سے دروازہ دھکیلا اور اندر اپنے کمرے کی طرف بڑھے جہاں سے کسی لڑکی کی آواز آرہی تھی مدھم سی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭0
ان دونوں کو اس گھر میں تیسرا دن تھا مگر اب وہ اکیلی نہیں تھی انکے ساتھ کچھ اور لڑکیوں کا بھی اضافہ ہوگیا تھا اور آج ان لڑکیوں کو یہاں سے کسی اور جگہ شفٹ کیا جانا تھا
ان سب لڑکیوں میں کوئی بھی لڑکی اتنی بری حالت میں نہیں تھی جتنی مریم تھی کیونکہ کل اسکی بےجا ضد پر اسکو بدترین سزا دی گئی تھی
کل شام میں ان لڑکیوں کو یہاں لایا گیا تھا جب مریم نے ان میں سے ایک آدمی کو روک کر کہا
ہمیں یہاں کیوں لائے ہو ہمیں جانے دو تمہیں جتنے پیسے چاہیئے ہم دینے کو تیار ہیں بس ہمیں یہان سے جانے دو پلیز دیکھو ہم نے تو کسی کے ساتھ کچھ نہیں کیا پلیز مریم اس آدمی سے بار بار التجا کر رہی تھی یہ جانے بغیر کہ اسکی بےجا التجا اسکو کس تکلیف میں مبتلا کرنے والی ہے
یہ چڑیا بہت شور مچا رہی ہے بس میری جان صرف آدھا گھنٹہ صبر کرلے سب سے پہلے تیری پیشی کروائیں گے تاکہ پھر ہمیں بھی موقعہ ملے تجھ سے اپنا حصہ وصول کرنے کا وہ شخص بے ہودگی سے کہتے ہوئے اسکو اپنی گندی ناپاک نظروں سے دیکھ بھی رہا تھا
اور مریم اتنی چھوٹی تو تھی نہیں کہ اسکی بات کا مطلب جانتی نہ ہو وہ اندر تک کانپ گئی تھی اسکی باتیں جتنی گھٹیا تھیں نظریں اتنی ہی غلاظت بھری تھی کہ مریم کا دل چاہ رہا تھا اسکی آنکھیں نکال کر کتوں کے آگے پھینک دے
تم لوگوں نے اگر میرے ساتھ کچھ کیا تو اچھا نہیں ہوگا تمہارے ساتھ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی کل کو تمہاری بہن بیٹی یا بیوی کہ ساتھ کسی نے یہ سب کیا تو تم کیا کروگے مریم ایک غلط شخص کو ایک غلط درس دے رہی تھی
لڑکیاں لڑکوں اور مردو کو اکثر اپنی باتوں سے مزہب کا درس دے رہی ہوتی ہے جب وہ راستے میں انکو کچھ کہہ دیتے ہیں یا ان پر ہوٹنگ کر رہے ہوتے ہیں حلانکہ ایسا نہیں کرنا چاہیئے برے اور گھٹیا لوگ آپ کو ہر جگہ ملے گے ایسے لوگوں کو اگنور کرنے میں ہی بہتری ہاں اگر وہ آپکو ہاتھ لگانے کی کوشش کرے یا کوئی گندی بات کرے تو ایسے شخص کے ظلم کو کبھی خاموشی سے بردوشت نہ کرے بلکہ بولے یا تو اپنے گھر میں کسی کو بتائیں یا خود اتنے انڈیپنڈنٹ ہو کہ ایسی حرکت پر اگلے کا منہ توڑ دیں اگر آج ایسے شخص کو نہ روکا گیا تو کل کو وہ دوبارہ ایسی کوئی حرکت کرے گا
اس شخص نے مریم کی بات سن کر دو تین تھپڑ اسکے منہ پر مارے اس سے پہلے وہ اسکو لاتیں اور گھونسے مارتا باہر سے اسکا ایک ساتھی دوڑتا ہوا اندر آیا اور اسکو کہا
ابے باہر نکل سر آگئے ہیں لڑکیوں کہ کمرے میں دیکھ لیا تو خیر نہیں ہوگی تو جانتا ہے انہیں صرف صاف مال چاہیئے ہوتا ہے وہ دوسرا بندہ بےہوگی کی انتھا کرتے ہوئے ان جیتی جاگتی لڑکیوں کو مال کہہ رہا تھا وہ لوگ واقعی بے حس اور ظالم لوگ تھے یہی
وہ شخص اسکی بات سن کر فورا اس کمرے سے نکلا اور اپنے باس کو رسیو کرنے گیا مگر جانے سے پہلے مریم کو اپنی گندی نظروں سے دیکھنا نہیں بھولا تھا
وہ دونوں اس آدمی کو لے کر اس گھر کے ایک شاندار کمرے میں لے کر گیا جہاں اس دوسرے کمرے کے مقابلے میں فرنیچر وغیرہ تھا کھڑکی پر خوبصورت پردے گرے تھے اگر کوئی اس کمرے کو دیکھنے کے بعد اس گھر کے باقی کمروں کو دیکھ لیتا تو حیرت میں ضرور جاتا کہ وہ کمرہ اتنا بہترین ہے اور باقی کمرے اتنے بدترین لیکن اگر وہ اس کمرے کی وجہ جان لیں تو شاید مر کر بھی اس کمرے کو یا اس گھر کو دیکھنے کی خواہش نہ کریں
ببلو مجھے آج رات کیلئے ایک بہترین مال چاہیئے اور کل شام میں ان سب لڑکیوں کو یہاں سے ہمارے اس آڈے پر منتقل کرنا ہے اس شخص نے ان میں سے بڑے والے آدمی کو کہا جو کچھ دیر پہلے مریم کے منہ پر تھپڑ مار کر آیا تھا
اس شخص نے مسکراتے ہوئے دوسرے بندے کو دیکھا اور پھر باس کو دیکھ کر اثبات میں سر ہلا کر کہا
باس وہاں منتقل کرنے کی کیا ضرورت ہے یہاں بھی تو یہ سیف ہیں اس ببلو نامی لڑکے نے اپنے باس سے سوال کیا
لیکن اس شخص نے جن نظروں سے اسکو دیکھا تھا وہ اسکی بولتی بند کر گیا تھا سوری باس میں صرف اس لئے پوچھ رہا تھا کہ یہاں سے کیسے نکال کر لے کر جائیں گے وہاں آج کل پولیس کا ناکہ ہے پر جگہ اس شخص نے اپنی بات کی وضاحت کی
کوئی مسئلہ نہیں ہے پولیس کے لوگ اپنے ہی ہیں جس سائیڈ کی تمہیں انفارمیشن دوں گا وہی سے لیکر آنا اور ٹائم پر کیوںکہ وہاں لیجانے کے بعد اگلے دن صبح میں انکو گلگت پہنچانا ہے
اسکی بات سن کر ببلو نے اثبات میں سر ہلایا اور آنکھ کے اشارے سے کسی لڑکی کو لانے کا پوچھا
ہاں جائو اور آج اپنی مرضی سے کوئی لے آئو مگر بہترین ہونی چاہیئے اس شخص نے ببلو کو تنبیھہ کی
ببلو الٹے قدموں اس کمرے سے نکل کر لڑکیوں کے کمرے میں آیا جہاں پچس کے قریب لڑکیاں موجود تھی ان میں سے اسنے سب سے پہلے مریم کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور گھسیٹتا ہوا کمرے سے لے جانے لگا ساری لڑکیاں اس چیز پر واویلا کر رہی تھی مگر وہ اسکو گھسیٹتا ہوا نکال لے گیا
مریم اسکے ہاتھ میں کسی چڑیا کے بچے کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی جو مرتے وقت پانی کا ایک گھونٹ مانگ رہا ہو اور اسکو نہ دیا جارہا ہو
اس شخص نے اسکو اپنے باس کے قدموں میں پھینکا اور کمرے سے نکل گیا
اور پیچھے وہ ساری لڑکیاں اس کمرے کی دیوار میں موجود ایک بلاک نما کھڑکی سے ساتھ والے کمرے میں دیکھ رہی تھی اور وہاں ہوتی عورت کی تزلیل پر ان سب نے اپنی آنکھون کو بند کر لیا تھا وہاں سے جو مریم کی چیخنے چلانے کی آوازیں آرہی تھی وہ دس منٹ بعد وہ بند ہوچکی تھی
اس شخص کو اپنے ایک آدمی کو کال آگئی تھی اور اسکو اس دوسرے آڈے پر بلایا گیا وہ مریم کو چھوڑ کر کمرے سے نکل گیا اور اپنے ان دونوں بندوں کو لیکر باہر کا گیٹ لاک کر کے باہر گارڈ کو کچھ ضروری ہدایت دے کر چلا گیا مگر وہ اس لڑکی کو پامال کر چکا تھا اسکی روح زخمی کرچکا تھا ایک باپ کا مان ایک لڑکی کی عزت اسکا اعتماد جو اسکے ماں باپ نے پندرہ سال بعد اسکے انداز میں دیکھا تھا وہ اسنے آج دس منٹ میں مٹی میں ملا دیا تھا
ان آدمیوں کے نکلتے ہی صفیہ اور باقی لڑکیاں اس کمرے کی طرف بڑھی جہاں وہ بےبس لڑکی پڑی اپنی قسمت پر رو بھی نہیں رہی تھی
ان لڑکیوں نے اسکو ہلایا ایک لڑکی نے اس کمرے کے واٹر کولر سے پانی نکال کر اسکو پلانا چاہا لیکن وہ نہیں پی رہی تھی
مریم یہ پیلو پلیز صفیہ نے روتے ہوئے کہا رونے کی وجہ سے اسکی آواز بھاری ہورہی تھی اور الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے
مگر اسنے پانی پینے کے بجائے اٹھی اور اس کمرے کے واشروم میں جاکر اندر سے لاک کر کہ شاور کھول کر اسکے نیچے کھڑی ہوگئی اسکا دماغ بلکل مائوف ہوچکا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ بلکل خاموش تھی کہ زہن میں اپنے باپ کی تصویر ابھرنے پر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گئی تھی وہ رات بھر اسنے واشروم میں پانی کے نیچھے بیٹھے روتے ہوئے گزاری تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ دونوں آدمی اگلے دن شام میں آئے تھے انکو یہاں سے کہی اور لیجانے کےلئے اور آج مریم خاموش تھی بلکل خآموش جیسے بولنا ہی نہیں جانتی ہو وہ ببلو نامی آدمی اسکو دیکھ کر بے ہودگی سے مسکرا کر گویا ہوا
دیکھ چھوٹے جو کل تک پھڑپھڑا رہی تھی آج کیسے خاموش کیا ہوا میری جان اب بول نہ کچھ تو تو خاموش ہوگئی ہے
وہ دوسرا لڑکا اسکے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنسا
بھائی کیسے بولے گی کچھ سر نے اسکی بولتی جو بند کردی ہے وہ دونوں لوگ اس لڑکی کو اور تکلیف دے رہے تھے جو پہلے سے ہی تکلیف میں پڑی تھی جسکی روح زخمی تھی جسکا وجود لرز رہا تھا اور وہ زلیل اسکے زخم ادھیڑ رہے تھے جو ابھی بھرے بھی نہیں تھے
اس سے پہلے کہ وہ اور اسکو دکھی کرتے اس کے ایک بندے نے انہیں شلنے کا اشارہ کیا
ان لوگوں نے ان ساری لڑکیوں کے ہاتھ رسیوں سے باندھے اور آنکھوں پر پٹیٰ باندھی مگر ببلو نامی شخص نے مریم کے ہاتھ پر بلکل ڈھیلی سی رسی باندھی تھی یہ کہتے ہوئے
جان تیرے کو وہاں نہیں جانے دوں گا تو ادھر ہی رہے گی راستے میں تجھے اتار لوں گا فکر نہ کر مگر کون جانتا تھا کہ اسکی اتنی سی غلطی انکے لئے اچھی ثابت ہوسکتی ہے اسکو رسی باندھنے کے بعد وہ صفیہ کی جانب بڑھا ابھی ایک بل ڈالا تھا کہ باہر سے اسکو بلوایا گیا
ابے چل یار دیر ہورہی ہے سر کی کال پہ کال آرہی ہے یہ نہ ہو ہماری ہڈی پسئلی ایک کردی جائے اس آدمی کی آواز سن کر اسنے جلدی میں اسکی ڈھیلی ڈھیلی رسی باندھی اور ایک نظر مریم کو دیکھ کر کمرے سے نکل گیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ ساری لڑکیاں وین میں تھی انکی رات کا سماں تھا چاندنی ہر سو بکھر رہی تھی وہ تین گھنٹے سے سفر میں تھے اور اب انکی گآڑی عیسی نگری کی پر تھی وہ نیچے کی سائیڈ سے جا رہی تھے اس وجہ سے گاڑی روکنی پڑگئی تھی وہاں ڈھیروں ڈھیر جھگیا تھی اس لئے وہاں سے نکالنا مشکل تھا اور پتھروں کی وجہ سے گاڑی کا پچھلا ٹائر پھٹ چکا تھا آج قسمت بھی چاہتی تھی کہ وہ دونوں وہاں سے نکل جائیں
گاڑی چلانے والا آدمی ماہر تھا جو ٹائر کے پھٹ جانے پر بھی گاڑی سنبھال کر ایک سنسان جگہ روک چکا تھا اور اب ان ساری لڑ کیوں کو نیچے اتارے گاڑی کا ٹائر چینج کر رہے تھے
صفیہ اپنے ہاتھ پر بندھی رسی اپنے منہ سے کھول چکی تھی اور اب مریم کو کہہ رہی تھی کھولنے کا
مریم اپنے ہاتھوں کی رسی کھولو ابھی موقع ہے اپنے آپ کو بچانے کا وہ نہایت دھیمی آواز میں بول رہی تھی تاکہ آس پاس کھڑے وہ بندے نہ سن لیں
مگر میں اب کہیں نہیں جانا چاہتی میں یہی ٹھیک ہوں انکے پاس اب مجھے کوئی قبول نہیں کرے گا میں گندی ہوچکی ہوں صفیہ تم بھاگ جائو میں نہیں جائو گی اب میں کسی کام کی نہیں رہی مریم وہ لڑکی جو سب سے زیادہ وہاں سے جانے کی ضد کر رہی تھی دوسروں کو حوصلہ دلا رہی تھی اب خود ہی جانے سے انکاری تھی
مریم میں تمہیں لے کہ جائو گی تم اپنے بابا کے بارے مٰیں تو سوچو وہ کتنا تڑپ رہے ہونگے صفیہ نے اسکی ہمت بڑھانی چاہی
مجھے دیکھنے کے بعد شاید انکی تڑپ اور محبت دونوں ختم ہوجائے اسنے مایوسی سے کہا
ایسے نہیں بولو تم خود کہتی تھی کہ وہ تم سے بہت محبت کرتے ہیں تو ایسا نہ کرو ایک بار چل لو مجھے یقین ہے وہ تم سے محبت کرنا نہیں چھوڑے گیں
اسکی باتیں مریم کو پگھلا رہی تھی جو بھی تھا وہ اس قید سے نکل کر جانا چاہتی تھی یہاں رہ کر جانوروں والی زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھی
وہاں اس جگہ بلکل اندھیرا تھا کہ اگر وہ دونوں اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹا دیتی تب بھی کسی کو پتا نہ چلتا کہ انکی آنکھون پر پٹی نہیں ہے
صفیہ نے اپنے سے آگے دو اور لڑکیوں کی ہاتھوں کی رسیاں کھول دی تھی اور اب جیسے ہی پیچھے موجود دونوں آدمی آگے ٹائر دیکھنے کے لئے گئے ان میں سے کچھ لڑکیوں نے دوڑ لگا دی تھی کچھ ڈر کے مارے وہی کھڑی رہ گئی تھی ان لڑکیوں میں مریم اور صفیہ بھی شامل تھی وہ اپنی پوری جان لگا کر بھاگی تھی اس خاموش فضاء میں انکے بھاگنے کی وجہ سے ارتعاش پیدا ہوا تھا اور انکے بھاگتے ہی وہ دونوں آدمی بھی انکے پیچھے بھاگے مریم اور صفیہ کے پیچھے دونوں لڑکیوں کو انہوں نے پکڑ لیا تھا لیکن مریم اور صفیہ ان جھگیوں میں سے ایک جھگی میں گھس گئی تھی
ان لوگون کی گاڑی کا ٹائر ٹھیک ہوچکا تھا اور اب ان لڑکیوں کے انتظار میں وہاں کھڑا ہونا خطرے سے خالی نہیں تھا انہوں بھاگنے والی دونوں لڑکیوں کو دو تین چماٹ اور مکے رسید کیئے اور گاڑی میں بھٹا کر وہاں سے نکل گئے
اس سے پہلے کے وہ بات مکمل کرتی سر اویس اپنے کمرے میں انٹر ہوئے انکو دیکھتے ہی دونوں خواتین خاموش ہوگئی تھی صفیہ تو باقاعدہ لرز رہی تھی کسی مرد کو انکے گھر دیکھ کے اس ایک واقعے نے اسکا مردوں سے یقین اٹھا لیا تھا
سر اویس بھی اس لڑکی کو دیکھ کر شاک تھے کہ وہ یہاں انکے گھر پر کیا کر رہی ہے انہوں نے اپنی جیب سے فون نکالا اور ایک بار فون اور ایک بار اس لڑکی کودیکھا وہ اسکیچ والی لڑکی کوئی اور نہیں صفیہ ہی تھی
انہیں اس بندے نے بھی کال کر کہ بتا دیا تھا کہ اس لڑکی کہ گھر والون کا کہنا ہے انکی کوئی صفیہ نام کی بیٹی نہیں ہے جو تھی وہ مر چکی ہے
اور اب وہ حیرت سے اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے جس کو انکے آدمی ڈھونڈ رہے تھے وہ انکے گھر پر کیا کر رہی ہے اور کیسے آئی یہاں پر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نور اور وہ ابھی تک ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے جب نور نے مدھم سرگوشی میں اسکا نام پکارا
کاشی میں ایکسلین کر سکتی ہوں کہ میں یہاں کیسے نور نے کچھ بولنا چاہا مگر وہ اسکے بے یقینی سے دیکھے جارہا تھا اور پھر غصے میں بولنا شروع ہوا
تم نے جھوٹ بولا سب سے تم کہی نہیں گئی تھی تم اپنے پیپرز کے دنوں میں بھی کیس میں الجھی ہوئی تھی اور اب یہ بات مجھے سمجھ آئی کہ کیوں آفیسر اسد علی مجھے تمہارا پرسنل نمبر نہیں دے رہا تھا
تم نے اسکو یہ بات بتائی ہوئی ہے مجھے نہیں وہ تمہارے لئے کتنا اہم ہے اور ہم سب کتنے غیر اہم وریشہ نور ایسا دوسری بار کر رہی ہو تم
وری نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑنا چاہا مگر وہ اسکا ہاتھ جھڑک کر پیچھے ہوگیا
تمہارے لئے میں یا باقی گھر والے کوئی معنی ہی نہیں رکھتے تم سے اتنا نہیں ہوا کہ چلو کسی اور کو نہیں مجھے ہی بتا دیتی میں تو اس کیس کا ہی حصہ تھا کاشی بول رہا تھا جب وری نے بیچ میں اسکی بات کاٹ کر کہا
پہلے بھی تمہیں جب میرے آرمی جوئن کرنے کا پتا چلا تو تمنے سب کو بتا دیا تھا اور اس وجہ سے میری آرمی تو چھٹی تو چھٹی ماما اور ماموں کی بھی ناراضگی آگئی تھی وہ کتنے عرصے سے ایک دوسرے سے ناراغ ہے یہ گلٹ تھا مجھے کب سے اور وہ گلٹ ختم کرنے کیلئے اویس ماموں مجھے دوبارہ اس کیس میں لائیں ہیں وری کی بات اسنے بھی بیچ میں کاٹ دی
اس وقت بھی اس وجہ سے بات کھلی تھی کیونکہ تم نے اس وقت بھی مجھے نہیں بتایا تھا اور اسد کو پتا تھا تمہارے اس فیلڈ کا کاشی نے ایک بار پھر گلہ کیا
کاشی مینے اسکو نہیں بتایا تھا یہ بات مینے تمہیں اس وقت بھی بتائی تھی وہ ماموں کے پاس اپنی اس فیلڈ کے بارے میں انفارمیشن لیینے گیا تھا تو مامی نے یہ بات کردی تھی جیسے تمہارے سامنے بول دیا تھا ایک تو تمہیں پتا ہے کہ یہ عورتیں پیٹ کی کتنی ہلکی ہوتی ہیں ورنہ یہ بات میرے میرو بابا اور تایا ابو کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ میں ہاسٹل پڑھنے نہیں ٹریننگ کرنے گئی ہوں
اور اب بھی اسد کو اس لئے یہ بات پتا ہے کیونکہ وہ مجھے کنوینس کرنے کیلئے آیا تھا وری اسکو منانے کے چکر میں غلط بات کر گئی تھی
یعنی اسد تمہیں اس کیس میں لے کر آیا ہے وہ بھی مجھ سے پوچھے بغیر صبر کرو تم میں ابھی جاکر اس سے پوچھتا ہوں اور آج سے تمہیں سسپینڈ کیا جا رہا ہے کاشی یہ کہتا ہوا باہر کی جانب مڑا کے وری نے اسکی ٹانگ پر وار کر کے اسکو پاس پڑے صوفے پر گرایا اور زرا تیز لہجے میں بولی
اب اگر تم نے ایک بھی آواز منہ سے نکالی تو تمہاری ٹانگیں موڑ دوں گی غضب خدا کا آج تو تمنے لڑکیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے گلے شکوے میں اور ایک بات تم جانتے ہو میں کسی کے کہنے پر کام نہیں کرتی میں اپنی مرضی سے کام کرتی ہون ہاں اسد آیا ضرور تھا
مجھے منانے مگر وہ صرف اویس ماموں کی وجہ سے آیا تھا ورنہ وہ بھی چاہتا تھا کہ میں یہ کیس نہ کرو اور جب ماموں نے تمہارے بارے میں بتایا تو میرا دل چاہا تھا کہ میں تمہیں بتا دوں مگر ماموں نے کہا کہ اس لڑکی کے بارے میں اور کسی کو نہیں بتانا اس لئے تمہیں کیس میں رکھا ہے یہ اس لڑکی کی عزت کا سوال ہے لیکن کچھ دن بھی کیا دو دن بعد ہی تمہیں انہوں نے اس لڑکی کے متعلق بتا دیا
مجھے اویس ماموں پہ غصہ تو بہت آیا تھا مگر میں جانتی تھی وہ اس لئے یہ سب کر رہے ہیں تاکہ میں صرف تمہیں یہ بات بتا دوں تاکہ کچھ پریشانیاں تو ختم ہو لیکن میں چاہتی تھی اس کیس کے بعد ہی سب کو پتا چلے یہ بات تاکہ کوئی بھی میرے لئے پریشان نہ ہو کاشی میرا ارادہ تمہیں یہ بات بتا کر ہرٹ کرنے کا نہیں تھا وریشہ نور یہ کہہ کر خاموش ہوگئی تھی
وری نے ایک نظر اسکو دیکھا جو خاموش بیٹھا اسکو ہی دیکھ رہا تھا اور پھر آہستہ سے بولی
اور تم مجھے سسپینڈ نہیں کر سکتے کیونکہ مجھے بریگڈیئر اویس نے رکھا ہے اور اگر تم نے مجھے کچھ کہا یا کسی کو کچھ بتایا تو کاشی مینے تمہیں چھوڑنا نہیں ہے وری نے اسکو دھمکی دی
تم مجھے پکڑ کر رکھو گی تب بھی میں نے تمہیں اب اس کیس پر کام نہیں کرنے دینا کاشی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
اور اگر تم پھر بھی اس کیس پر کام کرنے کیلئے ضد کروگی تو پھر ٹھیک ہے آج سے تم اسد کے بجائے میرے انڈر کام کروگی اور یہ جو تمنے مجھے ٹانگ پر حملہ کر کے گرایا ہے اس کا بدلہ بھی ڈیو ہے تم پر کاشی نے فریش موڈ میں اسکو یہ بتایا اور ہلکہ سہ مسکرایا اسکی بے یقین آنکھوں میں دیکھ کر
کاشی میں تمہارے کیا کسی کہ بھی انڈر کام نہیں کر رہی ہوں میں اپنی ٹیم کے ساتھ کام کر رہی ہوں اور اگر ٹانگ پر مارنے کا بدلہ تم نے مجھ سے کیس کے دوران لیا تو اچھا نہیں ہوگا وری نے اسکو تنبیہ کی
کچھ بھی بولو میں تمہارا سینیئر آفیسر بلکہ میجر ہوں سو میرا آڈر ہے کہ آج سے تم میرے انڈر کام کرو گی اور غلط کام کرنے یا کیس کے دوران کوئی مسٹیک کرتے ہوئے تمہیں سب سے زیادہ سخت سزا ملے گی کاشی نے مسکراتے ہوئے اسکو وارننگ دی
وری نے اپنی ہرے آنکھیں پھاڑ کر اور اپنا بڑا سہ منہ کھول کر کاشی کو دیکھا اور زرا خفگی سے گویا ہوئی
تمہارے کو نہ بتانے کا دکھ اب جہنم میں چلا گیا ہے اور تم واقعی میں بےحد بدتمیز ہو کاشی اسد ایسے دب کے رہتا ہے میرے سامنے اور تم کیسے مجھے ڈانٹ رہے ہو بلکہ دھمکیا دے رہے ہو اس دن فون پر بھی کتنی بدتمیزی سے بات کی تھی تمنے
ہاں تمنے تو جیسے بڑی محبت سے بات کی تھی بلکہ اس بات کا بدلہ تین کی بعد کی جو کال کی تھی مینے تمہیں کہ اس لڑکی نے کچھ بتایا کہ نہیں تم نے یہ بول کہ کہ پتا چلے گا تو سر کو بھیج دونگی اور میرے منہ پر کال بند کردی بنا اللہ حافظ کہے کاشی نے بھی اس دن کا شکوہ کیا
بسس کاشی تمہارا ابھی سے ایسا رویہ ہے تو پتا نہیں کیس کے دوران کیسا رکھو گے اس لئے اب مینے فیصلہ کیا ہے کہ اب سے اسد کی ٹیم میرے انڈر کام کرے گی اللہ حافظ وری یہ کہہ کر جانے لگی جب کاشی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا
تم اتنے دنوں سے رھ کہا رہی ہو اور اس ٹرپ سے واپس کب آئی ہو کاشی نے تیکھے لہجے میں پوچھا
ہاسٹل میں رہ رہی ہوں ایک اور دوسرے دن آگئی تھی اب چلو مجھے شارع فیصل والے روڈ کو چیک کرنا ہے نور نے ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا
ہممم ویسے مجھے حیرت ہے کہ اتنے دن مجھے پتا کیوں نہیں چل سکا جب تم آفی کو زبردستی ہنی مون پر بھیج رہی تھی اور دل لگا کر یونی میں جاکر پڑھائی کر رہی تھی تم تو کافی تیز ہورہی ہو میری صوبت میں کاشی نے مزاحیہ انداز میں کہا
زیادہ فری نہ ہو پہلے پتا ہوتا کہ تم اس چیز پر ناراغ نہیں ہوگے تو پہلے ہی بتا دیتی ایسے ہی اتنا سسپینس ڈالا تم بدتمیز کی وجہ سے اور اب مجھے فضول میں تنگ کیا تو تمہیں اس کیس سے سسپینڈ کردونگی اللہ حافظ آنٹی بائے بڈی اور خداحافظ میجر کاشان احمد وہ اس کمرے سے نکل کر باہر آگئی تھی اور ان دونوں کو سلام کرتے ہوئے مسکرا کر کاشی کو خداحافظ کیا اور باہر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی
کاشی نے بھی دلکشی سے مسکراتے ہوئے اسکو دیکھا اور اللہ حافظ کہا ۔۔۔۔
