Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26

سر اویس اپنے سب نوجوانوں کو مطلع کر چکے تھے ابھی ائیرپورٹ پہنچنے کا
اور سارے نوجوان اپنے گھر والوں سے مل رہے تھے انکو اپنے لئے دعا کرنے کا کہہ رہے تھے اور وہ مائیں اپنے دل پر پتھر رکھ کر اپنے جگر کے ٹکڑے کو اس پاک مٹی کیلئے قربان ہونے بھیج رہی تھی
اپنے گھر کی رونق اپنے آنکھوں کی ٹھنڈک کو وہ سارے باپ فخر سے بھیج رہے تھے اپنے ملک کیلئے
وری اپنے کمرے میں تھی اور اس کمرے میں گھر کے سارے افراد تقریبا موجود تھے
لیکن وری اس بات سے لاعلم تھی وہ واشروم میں فریش ہو رہی تھی یونیفارم وہ پہن چکی تھی اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اس خاکی یونیفارم کو پہن کر وہ کتنی پیاری لگ رہی ہے
دوسری طرف کاشی یونیفارم پہن چکا تھا اور اب بیڈ پر بھیٹا اپنے رینجرز شوز پہن رہا تھا اس خاکی یونیفارم کی بات ہی الگ تھی اسے پہن کر ایک الگ ہی جزبہ ایک الگ ہی جنون آپکے اندر سر اٹھاتا ہے جیسے ہم یہ خاکی یونیفارم پہنے نوجوانوں کو دیکھ کر پاغل ہو رہے ہوتے ہیں جیسے بچے انہیں دیکھتے ہی خوشی سے سلوٹ مارتے ہیں ویسے ہی انہیں بھی یہ یونیفارم پہن کر ویسا ہی جزبہ آتا ہے
کسی مشن پر جاتے انکے دل میں صرف دو خواہشات ہوتی ہیں ایک کامیابی کی اور دوسری شہادت کی اور اس وقت کاشان احمد کے دل میں بھی صرف یہ ہی دو خواہشات تھی وہ یا تو کامیابی کاجھنڈا لے کر آنا چاہتا تھا یا اس پاک مٹی کے پرچم میں لپٹ کر اسنے اپنے شوز کے لیسز بند کیئے اور شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے
بلیک سلکی بالوں کو کو ہاتھ سے درست کیا
ان بالوں کو جس طرح اوپر اٹھایا گیا تھا وہ اسی انداز میں واپس اسکے ماتھے پر گر گئے تھے آرمی میں بڑے بالوں کی اجازت نہیں تھی اسکے باقی بال چھوٹے ہی تھے سوائے ماتھے کے بالوں کے اس کے ماتھے پر چھوٹے بال نہیں جچتے تھے
اس لئے وہ اپنے آگے کے بالوں کو چھوڑ کر باقی سارے بال کٹوا دیتا تھا اور ابھی بھی اس خاکی یونیفارم کے ساتھ ماتھے پر گرے بالوں کے ساتھ وہ بہت پیارا لگ رہا تھا
ابھی وہ بال سیٹ کر رہا تھا جب ثمینہ بیگم اندر اسکے کمرے میں داخل ہوئی
تم صیح سلامت واپس آئو گے نہ کاشی وہ اسکا کندھا پکڑے آس سے پوچھ رہی تھی
ماما مینے آپ سے کہا تھا نہ آپکا بیٹا اپنے ملک اس پاک مٹی کیلئے اپنی جان قربان کرنا چاہتا ہے کاشی نے انہیں کوئی امید دلانے کے بجائے اپنی خواہش بتائی
کاشی ایسے نہ بولو میں کیسے رہو گی بیٹا تم مت جائو میرا دل گھبرا رہا ہے مجھے بےچینی ہو رہی انہوں نے انکا ہاتھ پکڑ کر بچوں جیسی ضد کی وہ ماں تھی کیسے آسانی سے اپنے جگر کے ٹکڑے کو جانے دیتی
ماما آپ نے وعدہ کیا تھا آپ کبھی ایسے نہیں کریں گی یہ میرا جنون ہے اگر ہر ماں اپنی اولاد کو گھر میں رکھ لے گی تو اس ملک کو دشمنوں سے بچانے کیلئے کون جائے گا
میں یہ نہیں کہو گا کہ میں مر جائو اس جنگ میں اپنی زندگی کی دعا کرتا ہوں مگر بے بس ہوں میں اپنے دل سے شہید ہونے کی خواہش نہیں نکال سکتا اگر مجھے جان دینی پڑی تو میں وہ بھی دو گا
آپ بس دعا کریں اللہ ہمیں کامیاب کرے اس مشن پر کاشی نے انکا ماتھا چومتے ہوئے کہا
ثمینہ بیگم نے پل نم آنکھوں اور فخریہ مسکراہٹ کے ساتھ اسکو دیکھا اور پھر اسکے گلے لگ کر اسکا ماتھا چوما
میں دعا کرونگی اللہ تم سب کی حفاظت کرے
انکی دعا سنتے ساتھ وہ انہیں لے کر احسن ولا کی طرف بڑھا اسے وری کو لیکر نکلنا تھا ائیرپورٹ کی طرف صرف پیس منٹ تھے اسکے پاس اور وہاں پہنچنے میں بھی ٹائم لگنا تھا آگے ٹریفک بھی ہو سکتا تھا راستے میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وری جیسے ہی اس خاکی یونیفارم کو پہن کر باہر نکلی تو وہ سب اسکو دیکھ رہے تھے اسکے بالوں کی ہائی پونی بنی ہوئی جسے وہ جوڑے کی شکل میں باندھ رہی تھی کہ رک گئی
کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں آپ سب اور میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں وہ نارمل انداز میں ان سب سے بات کر رہی تھی اگر ابھی وہ مشن پر نہ جا رہی ہوےی تو شاید وہ ہفتہ بھر انسے ناراض رہتی
مگر اب اسے جانا تھا اور وہاں سے واپسی کا کچھ پتا نہیں تھا اس وجہ سے وہ خود ہی مان گئی تھی انسے تاکہ بعد میں یہ دکھ نہ ہو وہ انسے بات نہیں کرسکی
ان سب کو اپنی طرف تکتا پاکر اسنے ایک آئیبرو اچکا کر پوچھا
کچھ کہنا ہے آپ سب نے یا میں تیار ہو جائو
اب بھی ان سب نے کچھ نہیں کہا
وری نے ان سب کو نظر انداز کیا اور اپنا جوتا اٹھایا پہنے کیلئے ابھی وہ پہلے جوتے کے لیسز باندھ رہی تھی کہ میرو اسکے پاس بیڈ پر آکر بیٹھا اور آہستہ سے بولا
کیا تم ناراض ہو ہم سے
نہیں جواب فورا آیا تھا
تو ہنس کیوں نہیں ری نہ ویسے بات کر رہی ہو نہ ہمیں دیکھ رہی نہ کچھ بتا رہی ہو میرو نے شکوہ کیا
واہ میرو صاحب اب کیا میں باتھ روم میں باتیں کرتی اور تم سب کیا جوکر ہو جو میں باہر نکل کر تم لوگوں کو دیکھتے ساتھ ہنسنا شروع کر دیتی اور آخری بات
سب کچھ کاشی بتا چکا ہے تو مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو
اور بات تم لوگوں کو کرنی چاہیئے مجھے نہیں اب میں جا رہی ہوں کہی تو بات بھی میں ہی کرو یہ اچھا ہے وری نے بڑبڑاہٹ والے انداز میں کہا
وہ لیسز باندھ چکی تھی اب سائیڈ سے اپنا چھوٹا سہ بیگ اٹھایا پیچھے لٹکایا جس میں اسکا سامان تھا لے ئجانے والا اور ان سب کی طرف دیکھا اور کہا
اب مل لیں آپ سب کیا چلی جائو گی تو میرے جن بھوتوں سے ملو گے آپ سب وری نے مزاحیہ انداز میں کہا مگر وہ ہنسے نہیں تھے وہ سب سیریس تھے
پھر ایک دم سے سحر بیگم اسکے گلے لگ کر رونا شروع ہوگئی تھی وری نے انہیں آرام سے پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا اور نرمی سے انکا ہاتھ پکڑ کر کہا
سحر بیگم نہ روئیں میرے لئے دعا کرنے کے بجائے آپ رو رہی ہیں یہ وقت رونے کا نہیں دعا کرنے کا ہے مت روئیں ورنہ میں کیسے جائو گی اور ابھی میرے پاس وقت بھی نہیں کسی کو چپ کروانے کا
اسکی بات سن کر سحر بیگم ہلکہ سہ مسکرائی
وعدہ کرو جیسے جا رہی ہو ویسے آئو گی بھی انہوں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا
اگر آپ نے سچے دل سے دعا کی تو صیح سلامت ہی آئو گی اور اب زیادہ اموشنل نہ ہو پتا ہے مجھے اوپر اوپر سے کہہ رہی ہیں صیح سلامت آئو اندر دل میں تو کہہ رہی ہیں نکل بھی جائو اب میرے گھر سے وری نے مزاحیہ انداز میں چھیڑا
بدتمیز ایسے بول رہی ہو میرو بارے مین تمہیں ایسی لگتی ہوں میں سحر بیگم نے غصہ کیا
بس بس جانتی ہوں آپکو سحر بیگم میں وری انکو پھر سے چھڑتے ہوئے آفان کے گلے لگ کر ملی اب وہ باری باری سب سے مل رہی تھی سب سے لاسٹ میں وہ میرو کے گلے لگی
اللہ حافظ مائے بڈی تم نے بہت ساتھ دیا ہے اللہ اس ساتھ کے بدلے تمہیں علماء کا ساتھ نصیب عطا فرمائے
میرو جو اموشنل ہو رہا تھا اسکو گلے لگا کر ایک دم مسکرایا اور اسکا سر چوما
اللہ تمہاری زبان مبارک کرے وری اور تم کامیاب ہو کر لوٹو صیح سلامت
انشاءاللہ سب کے منہ سے ایک ساتھ ادا ہوا
چلیں اب نیچے بھی دو اور لوگ میرا انتظار کر رہے یہ کہتے ساتھ وہ نیچے آئی ان سب کے ساتھ وہ دونوں نفوس ابھی تک ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے تھے نمرہ بیگم رو رہی تھی اور حسن صاحب خاموش دونوں ہاتھ ڈائینگ ٹیبل پر رکھے ہونٹ آپس میں ملائے چہرے پر سختی لئے بیٹھے تھے
وری نے پہلے نمرہ بیگم کو پیچھے سے گلے لگایا تو نمرہ بیگم کے آنسوئو میں اور روانی آگئی
آئیم سوری وری مینے زندگی میں پہلی بار تم پر ہاتھ اٹھایا وہ بھی بنا وجہ کے آئیم سوری وری وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی
اوہو ماما کوئی بات نہیں اب گلہ تو نہیں ہوگا کہ آپ نے مجھے مارا نہیں کبھی مار تو ہر اولاد کھاتی ہے مینے بھی کھالی آپ بس اب دعا کریں میرے لئے مجھے ابھی گلے شکوے کی نہیں صرف آپ سب کی دعائو کی ضرورت ہے
وری نے انکا ماتھا چومنے کے بعد کہا
اللہ تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ان سب مائوں کے بچوں کو بھی جو وہاں ہے اور جو جارہے ہیں انہیں بچانے کیلئے نمرہ بیگم نے اسے دعا دی وہ جانتی تھی وہ کبھی نہیں رکے گی اور اب وہ اسے روک کر دوبارہ دکھ نہیں دینا چاہتی تھی
وری انسے مل کر حسن صاحب کی طرف بڑھی وہ بھی کھڑے ہوگئے تھے اس سے ملنے کیلئے اور اسکے پاس آنے پر انہوں نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا
کتنے پل ایسے ہی وہ دونوں کھڑے ایک دوسرے کی چلتی سانسیں سن تے رہے
وہ انکی اچھی بیٹی تھی یا نہیں مگر وہ اسکے آئیڈیل باپ ضرور تھے ان دونوں کو ایک دوسررے کی بات جاننے کیلئے الفاظ کی ضرورت نہیں تھی وہ ایک دوسرے کی باتیں جان لیتے تھے ایک دوسرے کی آںکھوں میں موجود پیغآم سمجھ جاتے تھے
اور اب بھی اپنی محبت ان تک پہنچانے کیلئے ان دونوں کو لفظوں کی ضرورت نہیں تھی وہ ایک بہترین باپ تھے جنہوں نے ہر قدم پر اسکا ساتھ دیا تھا اسکو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا تھا آج وہ اس مقام پر بھی انکی وجہ سے تھے
انکی آنکھ سے آنسو نکل کر وری کے بالوں میں جزب ہو گیا تھا مرد صرف دو صورتوں میں روتا ہے ایک اپنی اولاد کی جدائی پر دوسرا اپنی ماں کی جدائی پر اور بھی بہت سی وجوہات پر رو سکتا ہے آخر مرد بھی انسان ہے وہ بھی ایک دل رکھتا ہے کیا اسے حق نہیں وہ اپنے عزیز ترین لوگوں کی جدائی پر دو آنسو بہالے
عورتیں تو اپنے چھوٹے چھوٹے دکھوں پر رونے لگ جاتی ہیں جب انکے رونے پر وہ اسے کندھا دینے کیلئے موجود ہوتا ہے تو عورت یہ فرض کیوں نہیں ادا کرسکتی
انکے آنسو نکلتے دیکھ کر نمرہ بیگم آگے بڑھی اور وری کو انسے الگ کیا پیچھے کاشان بھی آگیا تھا اسے لینے
وری نے اپنے بھی آنسو صاف کیئے وہ جو کسی سے گلے ملتے ہوئے نہیں روئی تھی اپنے باپ کے گلے لگتے ہی اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے
اور پھر حسن صاحب کے
اللہ حافظ بابا اپنا خیال رکھیئے گا اور پلیز روئی گا نہیں اگر زندگی رہی تو میں آپ کے ساتھ بھی ڈیٹ پر جانا چاہو گی آپکی بیوی اور بیٹے کت بغیر وری نے نم آواز میں کہا
ہاں اور ساتھ میں تمہارا یہ بھائی نہیں جائے گا اور نہ ہی یہ لڑکا انہوں نے بھی مزاق میں کاشی کی طرف اشارہ کیا وہ جانتے تھے کاشی کی خواہش وہ اسکی آنکھوں میں وری کیلئے محبت نرمی اور عزت دیکھ چکے تھے
وری نے انکے کان کے پاس جھک کر کہا
آہستہ بولے گھر داماد نے سن لیا تو آپکی بیٹی سے شادی نہیں کرے گا
تو میری بیٹی کونسا مری جارہی ہے اسکے لئے نہ کرے تو کسی اور سے کرادونگا انہوں نے بھی اسے چھیڑا وہ نہیں جانتے تھے کہ دوبارہ موقع ملے گا یا نہیں اس لئے ابھی ہی اس سے مزاق چھڑ چھاڑ کر رہے تھے
اب ایسا بھی نہیں ہے مگر اس گھر داماد کے ساتھ آپکی بیٹی کا مستقبل روشن لگ رہا ہے مجھے وری نے مسکراہٹ دبا کر سنجیدگی سے کہا
اچھا حسن صاحب نے تصدیق چاہی
جی اللہ حافظ میں لیٹ ہو رہی ہوں وری نے جواب دیتے ساتھ انکا گال چوما اور کاشی کے ساتھ باہر لان میں کھڑی گاڑی کی طرف بڑھ گئی
گاڑی میں بیٹھتے ساتھ ان سب نے اپنا ہاتھ ہلایا وری نے بھی ہاتھ ہلا یا اور کاشی زن سے گاڑی نکال کر لے گیا پیچھے صرف دھول رہ گئی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ سب گلگت پہنچھ چکے تھے ابھی رات کے گیارہ بیس ہو رہے تھے اور انہیں صبح تین بجے تک اس کیمپ میں رکنا تھا
وہ سب ایک ایک کیمپ میں چار لڑکے تھے سوائے وری کے اسے الگ کیمپ دیا گیا تھا وہ سب سو نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ علاقہ بھی دہشت گردوں کا ہی تھا
وہاں سونا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا
وہ سب چوکنے ہاتھوں میں گن لیئے بیٹھے تھے کانوں میں ان سب آلے لگے ہوئے تھے جس سے وہ ایک دوسرے سے بات کر سکتے تھے
وہاں بیٹھے انہیں کافی دیر بیت چکی تھی اب صرف پونہ گھنٹہ بچا تھا انکے پاس جب کاشی وری کے پاس آیا
وہ دونوں خاموشی سے آسمان پر موجود چاند کو دیکھ رہے تھے جو آدھی رات ہونے کے باوجود پوری آب وتاب کے ساتھ موجود تھا
کاشی میری خواہش تھی کبھی میں بھی اسی طرح اس آدھی رات کے وقت ستارو سے بھرے آسمان کے نیچے بیٹھ کر دشمنوں کو شکست دینے کا انتظار کرو اور دیکھو آج میں یہاں ہوں
اس ستارو بھرے آسمان کے نیچے میں اپنے گھر سے دور ان دشمنوں کو اس ملک سے ختم کرنے کیلئے بیٹھی ہوں وری نے آہستہ سے کہا
مینے زندگی میں بہت سارے کیسز حل کیئے ہیں مگر یہ کیس مجھے سب سے مشکل لگ رہا ہے جانتی ہو کیوں کاشی نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا
وری جو ستاروں سے بھرے چمکتے اسمان کو دیکھ رہی تھی اسکی بات سن کر اپنی نظریں اسکی جانب کر کہ پوچھا
کیوں مشکل لگ رہا ہے
کیونکہ اس کیس میں تم ہو مجھے خود کے مرنے سے ڈر نہیں لگتا مگر میں تمہیں اس کیس میں کچھ ہوتے نہیں دیکھ سکتا وری
مینے تمہیں کبھی نہیں کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں کیونکہ میں تم سے پاک محبت کرتا ہوں جسکا میں اشتہار نہیں لگانا چاہتا تھا میں تمہیں جائز طریقے سے اپنانا چاہتا تھا
لیکن آج میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور میں تمہیں مرتے نہیں دیکھ سکتا وری میں چاہتا ہوں تم بہت زیادہ سامنے نہ آئو تم ان بچوں کو بچائو مگر ساتھ میں خود کو بھی میں تمہیں کچھ ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکوں گا
ایک مرد سب کچھ برداشت کر لیتا ہے مگر اپنے عزیز لوگوں کو مرتے ہوئے یا تکلیف میں دیکھ سکتا اور تم تو میری محبت ہو وری کاشی نے اسکی طرف دیکھ کر
اس چاند کی روشنی میں ان دونوں کے چہرے چمک رہے تھے دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بات کر رہے تھے
کاشی اگر میں کہوں کہ میں تمہیں بھی مرتے نہیں دیکھ سکتی تم بھی چھپ کر حملہ کرو یا یہ کہ تم بچوں کو بچا کر چلے جائو تو
کیا تم میری بات مان سکتے ہو وری نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا
کاشی خاموش رہا تھا اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھا اسکی بات کا
ایسا نہیں کرسکتے نہ میں تمہیں کمزور نہیں دیکھنا چاہتی بلکہ اگر تمہیں اپنے ملک کو ان بچوں اور ان لڑکیوں کو بچانے کیلئے میری جان بھی لینی پڑی تو تم لے لینا اپنے ملک سے پہلے کچھ بھی نہیں ہے ہمارے لئے کچھ بھی نہیں
وری نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جوش و جزبے سے کہا
وری نہیں جانتی تھی کہ جوش میں کہی اسکی بات کاشی کو کس مشکل ڈال دے گی اور کاشی بھی نہیں جانتا تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے
کاشی نے بھی اسے دیکھا اور آہستگی سے کہا
مجھے خوشی ہے کہ مینے ایک ایسی لڑکی سے محبت کی ہے جسکے دل میں اپنے ملک کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے
وری نے اسکی بات سن کے دلکشی سے مسکرائی ساتھ ہری آنکھوں میں بھی مسکراہٹ چمکی ان سب کے اندر ایک جوش و جزبہ تھا
کاشی نے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں ٹائم دیکھا ابھی بیس منٹ تھے لیکن وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا یہاں سے انہیں پیدل چل کر انکے آڈے تک پہچنا تھا جہاں بیچ میں بہت سارے شکاری انکا انتطار کر رہے تھے
لیٹس گو گائیز ٹائیم از اوور
کاشی کی آواز سنتے ہی وہ سب اپنے کیمپ سے نکل کر کھڑے ہو چکے تھے اپنی گن سنبھالتے وہ سب اسکے پیچھے چل پڑے تھے سب سے آگے کاشان اسد اور انکے زرا فاصلے پر وری اور بلال تھے
کاشی نے پہلے آواز لگائی
نعرہ تکبیر
اللہ اکبر
اسکے بعد پیچھے موجود سب نوجوانوں نے یک زباں کہا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *