Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27
اسد اس بچے کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا تھا اور راستے میں آئے سب دہشت گردوں کو مار چکےتھے
جب اس بچے نے کہا اس جگہ پر ہیں لڑکیاں
کہاں ہے یہاں پر تو کچھ بھی نہیں ہے ایک فوجی نے غصے سے کہا کیونکہ واقعی میں وہاں کچھ بھی نہیں تھا
اسد نے اسکو آنکھوں میں نرمی کا کہا اور اس بچے کو مخاطب کیا
یہاں پر کہاں ہے بیٹا اسد کی بات سن کر اسنے اس مٹی پر چل کر دیکھا تو ایک جگہ سے آواز چینج تھی جب اسنے دوبارہ اس پر اچھل کر دیکھا تو اسمیں سے ٹینکی کے ڈھکن جیسی آواز آرہی تھی
جب کچھ فوجیوں نے مٹی ہٹآ کر دیکھا تو وہاں پر ایک بڑا سہ ڈھکن تھا جس کے اوپر تالا لگایا ہوا تھا
کہا تھا نہ یہی پر ہیں جھوٹ نہیں بولتا میں اس بچے نے سینا تان کر اس فوجی کو دیکھا جو اس پر غصہ کرنے والا تھا اس فوجی نے اسککی طرف دیکھ کر مسکرایا اور اسکا کندھا تھپک شاباشی والے انداز میں اسکو دیکھا
اسد نے ایک گولی سے اس تالے کو توڑا اور اس ڈھکن کو چار آدمیوں نے مل کر اٹھایا
وہ کنوا تھا اندر سے جس میں نیچے جانے کیلئے سیڑھیاں بھی بنائی گئی تھی صبح کی روشنی میں اندر موجود لڑکیاں نظر آگئی تھی اسد کو وہ سب زندہ تھی بس بھوک کی وجہ سے ان سب کی حالت خراب ہو رہی تھی اسد نیچے اترا تھا ان لڑکیوں کو باہر نکالنے کیلئے
اس خاکی وردی کو دیکھ کر کچھ لڑکیاں اس سے لپٹ گئی تھی جو عمر میں اس سے چھوٹی ہونگی اور روئے جارہی تھی
اسد نے ان سب کو باقی فوجیوں کی مدد سے باہر نکالا اور پنجاب پولیس اور بیس پر رابطہ کیا اور کاشی کو بھی انفارم کیا
میجر ہم لڑکیوں کو نکال چکے ہیں بیس پر بات بھی ہوگئی ہے کچھ دیر میں ہی کچھ لڑکیوں کو ہیلی کاپٹر سے اور کچھ کو بلٹ پروف گاڑیوں میں یہاں سے لے جایا جائے گا
دیٹس گڈ آفیسر
کاشی نے اسے داد دی
وہاں کیا حالات ہیں اسد نے استفسار کیا
یہاں کے حالات فلحال اچھے نہیں ہیں ان بچوں کو بم لگایا ہوا ہے اور اب میں انکےئ سامنے جارہا ہوں اپنی ٹیم کے ساتھ کاشی نے اسے آگاہ کیا یہاں کے حالات سے
اوکے میجر میں بھی یہاں سے اس طرف آتا ہوں ان لڑکیوں کو فوجی اپنی نگرانی میں پہنچا دیں گے ہیلی کاپٹر تک
اوکے آفیسر کاشی نے اسکو راستہ سمجھا کر آگے کی طرف قدم بڑھائے
اس جگہ پر پہنچ کر حارث نے ایک بندے کو گولی سے اڑایا جب پیچھے کسی نے اسکی قمر پر گن رکھی
اس سے پہلے وہ اس پر گولی چلاتا صائم نے اس شخص کو گولی ماری
وہ لوگ اس شخص کے سامنے تھے جس کے ہاتھ میں رموٹ تھا بم کا
صائم اور حارث نے ارد گرد گھروں کے اوپرر سے رائفل تھامیں کھڑے بندوں پر اپنا نشانہ کیا ہوا تھا جبکہ کاشی نے اس شخص پر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وری کی بات ایک شخص سے ہورہی تھی جو اسے بم ڈفیوز کرنے کا بتا رہا تھا اسکے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے
سب سے پہلے لال رنگ کی تار کاٹیں جو بلکل کونے سے
اسکے بولنے وری نے وہ تار کاٹ دی
کاٹ دی وری نے اسے مطالعہ کیا
اب یلو تار کاٹیں
وری نے جیسے ہی یلو تار کاٹی بم ایک دم سے اسٹار ہوگیا اس میں گنتی چل رہی تھی جس کا وقت ایک منٹ کا تھا
یہ بم اسٹارٹ ہوگیا ہے وری کے ہاتھ اب اور زیادہ کانپ گئے تھے ایک تو بم ڈفیوز کرنا اوپر سے ان بچوں کا رونا اسے گھبراہٹ میں ڈال رہا تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کاشی کے باقی بندے بھی وہاں آگئے تھے اسد سمیت اور اب انکے بندے ان دہشت گردوں سے زیادہ تھے
اگر وہ انکے ایک بندے پر گولی چلاتے تو وہ سب مارے جاتے
اگر تم لوگوں نے گولی چلائی تو میں ان بچوں کو اس بم سے اڑا دونگا
اسنے انہیں دھمکی دی
ٹھیک ہے ہم کچھ نہیں کر رہے مگر تم ان بچوں کو چھوڑ دو انکی جگہ ہمیں بندی بنا لو وہ سب بچے رو رہے تھے ان بچوں کی عمر آٹھ سے پندرہ سال تھی جو یہاں پر تھے وہ زیادہ بڑے بچے نہیں تھے
کاشی کی بات سن کر اس شخص نے انہیں گن نیچے کرنے کا کہا
ٹھیک ہے ہم گن نیچے کر رہے ہیں کاشی نے ان سب کو گن نیچے کرنے کا کہا مگر گن صرف نیچے کھڑے فوجیوں نے کی تھی باقی جو دوسرے دہشت گردوں کو نشانہ بنائے کھڑے تھے انہوں نے نہیں
کاشی کو صرف وری کا انتظار تاھ کیونکہ جیسے ہی وہ بم ڈفیوز ہونے کی خبر دیتی ویسے ہی وہ انہیں مار کر بچوں کو بچا لیتے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہ سب جنگل کے درمیان میں تھے اب وہاں سے دہشت گردوں کا آڈا اسٹارٹ تھا وہ سب قدم سے قدم ملائے آگے بڑھ رہے تھے جب میجر کاشان احمد نے کچھ نوجوانوں کو اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر کہ لیفٹ سائیڈ سے جانے کو کہا
اور کچھ کو رائٹ سے جن میں وری اپنی ٹیم کے ساتھ رائٹ پر جبکہ آفان اپنے بندوں کو لیکر لیفٹ سائیڈ پر مڑ چکا تھا خود وہ سیدھا سامنے سے انکی طرف بڑھا تھا
ابھی وہ ان جنگلوں کے بیچ میں تھے جب دوسری سائیڈ سے ایک آدمی آتا دکھائی دیا وہ سب سپاہی چوکنے تھے اس وجہ سے فورا ہی اس آدمی کو گولی مار کر گراچکے تھے
گولی کی آواز نے اس خاموشی میں ایک ارتعاش پیدا کیا کچھ لمحوں کیلئے اور پھر خاموشی چھا گئی مگر اتنی دیر میں بھی دوسری طرف موجود لوگ الرٹ ہو چکے تھے کے ان کے آڈے پر حملہ ہوا ہے
کچھ سیکنڈ میں ہی دونوں طرف سے گولیوں کی جنگ شروع ہوچکی تھی
ہمارے پاکستانی نوجوان ہمارے ملک کے رکھوالے بنا اپنی جان کی پرواہ کیئے قدم سے قدم ملاتے اپنی گولیوں سے انکو بونتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے
اب دونوں طرف کے لوگ ان درختوں کے پیچھے سے حملہ کر رہے تھے
ان دہشت گردوں کا ایک بندہ وہاں بیٹھا درختوں میں لگے کیمروں سے آرمی کے بندے دیکھ رہا تھا جب انکا بڑا باس وہاں پر آیا اور اسکو مخاطب کیا
چند نفر از بردگان کشته شدند (کتنے بندے مارے گئے ہمارے)
مواواری صحیب ده کارمند(مولوی صاحب دس بندے)
اینها هر ساله بردهای ما را می کشند(یہ سالے ہمارے بندے مار رہے ہیں)
و ما هیچ کاری انجام نمی دهیم(اور ہم کچھ بھی نہیں کر رہے)
اس شخص نے اپنے ساتھ کھڑے شخص کو دیکھ کر کہا
وہ شخص شرمندگی سے اپنے باس کی طرف دیکھتے ہوئے اسے وجوہات پیش کرنے لگا
رئیس برده جدید به خاطر مرده است(باس یہ نئے بندے ہیں اس وجہ سے مار کھا گئے)
چرا شما آنها را نگه دارید، اگر آنها چیزی را دریافت نکنند؟(تو انکو رکھا کیوں ہے اگر انہیں کچھ آتا نہیں)
رئیس به همه شما گفت(باس آپکے کہنے پر رکھا تھا ان سب کو)
وہ شخص نہیں جانتا تھا یہ کہہ کر وہ خود کو موت کے آگے ڈال رہا ہے اسکی بات سن کر اس کے باس نے بنا کچھ سوچے سمجھے دو گولیاں اسکے سینے پہ ماری اور حقارت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
بعدا با من در مورد مرگ خود صحبت کن(آئندہ مجھ سے ایسے بات کرتے ہوئے اپنی موت کے بارے میں سوچ لینا)
اسکو مارنے کے بعد اسنے پیچھے کھڑے آدمی کو مخاطب کر کہ کہا
این کودکان بمباران شده اند(ان بچوں کو بم لگا دیا ہے)
بله، مولوی این را بیان کرده است(ہاں مولوی صاحب لگا دیا ہے)
اسکی بات سن کر اس شخص کی آنکھیں چمک اٹھی
اور ان لڑکیوں کو کہا رکھا ہے اس شخص نے اگلی بات پوچھی
پچھلی سائیڈ نیچے کنوے میں بند ہیں انکو پتا نہیں چلے گا وہاں کا اس شخص نے ادب سے کہا
ٹھیک ہے اور اپنے اور بندے انکی طرف بھیجو ایک بھی سپاہی زندہ نہیں جائے گا یہاں سے اور نہ ہی کسی بچے یا لڑکی کو بچا پائیں
میں اپنے اور شریک(ساتھی) کو مطلع کرتا ہوں ہمیں اور زیادہ بندوں کی ضرورت ہے اور ان مال کو بھی ابھی یہاں سے نکالنا ہے اسکے باس نے اسے اپنا اگلا لاحلہ عمل بتایا
خوب آقا مولوی(ٹھیک ہے مولوی صاحب)
اسکی بات سن کر وہ شخص اپنے بندوں کو اشارہ کرتا ہواان پاک فوجیوں کی طرف بڑھا ان سب کے ہاتھوں میں مشین گنز توپ اور دیگر گنیں پکڑی ہوئی تھی
وہاں عجیب سہ ماحول بنا ہوا تھا اگر عام انسان وہاں ہوتا تو وہ کانپ جاتا گولیوں کی کان پھاڑ دینے والی آواز میں دونوں طرف کے لوگ اس آواز اس وحشت کو نظرانداز کیئے ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے تھے
کاشان کی ٹیم پھتروں کے پیچھے سے فائرنگ کر رہی تھی جب کاشان کے کان میں لگا آلہ بجا
اسنے ہاتھ سے اسمیں لگا بٹن دبایا جیسے کال اوکے کی
میجر تمہارے رائٹ سائیڈ پر گھر نظر آرہے ہیں اس آلے میں سے وری کی آواز گونجی جو اسے کچھ دکھانے کی کوشش کر رہی تھی
کاشی نے اپنے رائٹ سائیڈ پر دیکھا اور کہا
ہاں نظر آرہے ہیں
ٹھیک ہے اب اس جگہ سے ہٹو اور ان گھروں کی طرف جائو اوپر ایک آدمی کیمرے سے ہمیں دیکھ رہا ہے جس سے ہمارے فوجی مارنا آسان ہو جائے گا انکے لئے اس آدمی کو کچھ بھی کر کہ اپنی گرفت میں لو وہ ہی ہمیں بچوں اور لڑکیوں کی انفو دے سکتا ہے
ٹھیک ہے تم اس وقت کہاں ہو کاشی نے اس سے استفسار کیا
میں بھی انہی گھروں میں ہوں اب یہاں سے آگے بڑھ رہی ہوں اور میرا خیال ہے کہ بچے یہی پر رکھے ہوئے ہیں میری ٹیم میرے ساتھ ہے
ٹھیک ہے تم اس جگہ سے نکلو اور بچوں کو ڈھونڈ کر انہیں سیف کرو باقی ان لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں
اور میجر اسکی بات سن کر وری نے ہاں کہا اور دوسری طرف بڑھ گئی
کاشی نے اپنی نظریں چاروں طرف گھمائی رائٹ سائیڈ پر انکا کوئی بندہ نہیں تھا فلحال اسنے اپنے بندوں کو اپنی جانب متوجہ کر کہ کہا
صائم اور حارث تم دونوں میرے ساتھ چلو اور آپ لوگ یہاں کے دہشت گردوں کو قابوں کریں ہمارا مین ٹارگٹ بچے اور وہ لڑکیاں ہیں ہمیں ہر حال میں ان بچیوں کو یہاں سے نکالنا ہے
میجر کاشان کی بات سن کر انہوں نے منہ سے سلوٹ کہا اور آگے کی طرف بڑھ گئے
کاشان ان دونوں کو لیکر رائٹ سائیڈ کی طرف بڑھ گیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسد اپنی ٹیم کے ساتھ بہت سارے دہشت گردوں کو موت کی نیند سلاتا آگے بڑھ چکا تھا وہاں پر سارا جنگل تھا اور کچی اینٹوں کے گھر بنے ہوئے تھے
وہ گھر بھی بنا پلسٹر کے کچے گھر تھے اسد نے دو اور بندوں کو گولی ماری اور ایک گھر میں گھسا جہاں جہاں کچھ دہشت گرد چھپے تھے
ان دہشت گردوں کے ہاتھوں میں رائفل تھیں مگر وہ دہشت گرد کانپ رہے تھے کانپ تھے بھی کیوں نہیں وہ بچے تھے چودہ سال کے اور شاید انہیں پہلی بار ان جنگوں میں شامل کیا گیا تھا
اسد نے اور اسکے دو بندوں نے ان پر اپنی گن تانی ہوئی تھی جب ایک بچے نے ہاتھ سے گن پھینک کر رونا شروع کردیا تھا
ہمیں چھوڑ دو پلیز ہم نے کچھ نہیں کیا ہمیں یہاں سے جانے دو پلیز وہ بچہ فارسی زباں میں اس سے کانپتے ہوئے کہہ رہا تھا وہ بچہ بہت دیکھا دیکھا لگ رہا تھا مگر فلحال اسکو پہچاننے کا وقت نہیں تھا انکے پاس
انکی بات سن کر اسد نے بھی فارسی زباں میں اسے خآموش کروایا اور کہا
ٹھیک ہے آپ سیف ہو پر آپ جانتے ہو آپکے باقی لوگ کہاں ہیں تاکہ ہم انہیں بھی بچا سکیں ڈرو نہیں ہم آرمی کے بندے ہیں پاکستان سے آپکو بچانے آئے ہیں اسد اسے اپنی باتوں الجھا کر پوچھنا چاہ رہا تھا
وہ بچہ جو ابھی تک کانپ رہا تھا ایک دم سے پیچھے ہوا اور ان دونوں لڑکوں کے ساتھ چپک کر بیٹھ گیا جو پہلے ہی اس سے زیادہ ڈرے ہوئے تھے
نہیں تم ہمیں مارنے آئے ہو تم ہم سے بدللہ لوگے نہ ہمیں بتایا تھا مولوی صاحب نے تم ہمیں مار کہ یہ جگہ اپنے نام کروانا چاہتے ہو وہ بچہ ہقلاتے ہوئے کہہ رہا تھا
نہیں ہم آپکو بچا کر آپکی والدہ کے پاس لے کر جانا چاہتے ہیں اگر آپ ہماری مدد کروگے اسد نے ایک بار پھر اسکو نرمی سے سمجھایا
وہ بچہ کچھ پل اسکو دیکھتا رہا پھر آہستہ سے بولا اسد کی محبت سے بات کرنے پر ہی وہ پگھل گیا تھا کیونکہ وہ بچے جتنے دن یہاں رہے تھے اتنے دن ان لوگوں نے انسے جانوروں کی طرح کام کروایا تھا اور مارا پیٹا بھی تھا
ہمیں باقی لوگوں کا نہیں پتا یہاں پر لڑکیوں کو چھپایا گیا ہمیں وہ جگہ پتا ہے ہم یہاں پر اس لئے بیٹھے تھے تاکہ جب تم لوگ یہاں آئو تو ہم آگے ان کو بتائیں کہ یہاں پر دشمن پہنچ گئے ہیں لیکن ہم نے نہیں بتایا ڈر کے مارے وہ بچہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا
جب اسد نے آگے بڑھ کر اسکو گلے لگایا اور اسکی پیٹھ تھپکتے ہوئے کہا
وہ لڑکیاں کہا ہیں تم ہمارے ساتھ چلو گے وہاں تک وہ واقعی میں کمال تھے اتنے مشکل حآلات میں بھی وہ اس سے اسکی مرضی پوچھ رہا تھا کہ اگر وہ بچہ نہیں جانا چاہتا تو وہ اسکو فورس نہیں کرے گا جانے کیلئے وہ آرمی کے نوجوان واقعی کمال کہ تھے نرم دل اور مظبوط جزبے والے
اگر آپ مجھے اپنے پیچھے رکھو گے تو اس بچے نے سمجھداری سے خود کو محفوظ کرنے کا پلین سوچ کر اپنی سوچ کے مطابق اس سے کہا
اسد اسکی بات سن کر مسکرایا اور اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا ہاں تم میرے پیچھے رہنا میں تمہیں محفوظ کرونگا
اسد نے باہر نکلنے سے پہلے اپنا ایک بندہ ان دو بچوں کی نگرانی کیلئے بلوایا اور باقیوں کو اب یہاں سے پہاڑی والی سائیڈ پر جانے کا کہا جہاں پر وہ بچہ اشارہ کر رہا تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس میٹنگ روم میں کراچی کے جنرل اور بریگڈیئر اور پنجاب کہ بھی جنرل اور بریگڈیئر بیٹھے تھے وہاں کچھ اور لوگ بھی تھی جو اس بلوتوتھ مشین کے زریعے ان سب سے جڑے ہوئے تھے
سامنے دیوار پر بڑی سی اسکرین لگی ہوئی تھی جن میں ان دہشت گردوں کی تصویریں آرہی تھی جن کو مارنا انکا ٹارگٹ تھا
ان بڑے چھ دہشت گردوں میں سے دو مارے گئے تھے باقی کے چار باقی تھے ابھی تک وہ کسی بھی ایک بچے کو نہیں بچا پائے تھے ان دونوں شہروں کے جنرل کی آپس میں اس بارے میں بات چیت ہورہی تھی جب اسپیکر میں اسد کی آواز گونجی
میجر مجھے تیں بچے مل گئے ہیں جن میں سے دو بچے میرے ایک بندے کے پاس سیف ہیں اور ایک بچہ ہمیں لڑکیوں تک کے لے کر جارہا ہے اوور
اسد نے بات مکمل کرتے ساتھ اووور کہا اور اسکی بات کے جواب کا انتظار کیا
آفیسر خیال سے جائیے گا اور ان لڑکیوں کو نکالتے ہی پنجاب ہیڈ سے رابطہ کر کہ ان لڑکیوں کو ہیلی کاپٹر میں بھجوانے کی کوشش کیجیئے گا ورنہ پنجاب پولیس ہمارے رابطے میں ہے ابکو انفارم کریں گے تو وہ اپنی جیپ لے کر پہن جائیں گے آدھے گھنٹے میں تب تک آپ نے ان لڑکیوں کو پروٹیکٹ کرنا ہے ہر حال میں اوور
میجر کی بات سن کر اسدنے بھی آگے کی طرف قدم بڑھائے
جنرل راحیل نے انکی بات سن کر پنجاب کے جنرل عارف سے کہا
کیا آپکے ہیلی کاپٹر تیار ہیں
یس جنرل
اوکے جنرل آپ پولیس کو کہیں کے وہ ریڈی رہیں وہ کبھی بھی انہیں طلب کر سکتے ہیں
اور ارباز آپ دیکھیں وہاں اور کتنی تعداد میں دہشت گرد باقی ہیں انہوں نے کمپیوٹر کے آگے بیٹھے ایک آدمی سے کہا اس وقت وہ اپنی ٹیم کے ساتھ پنجاب میں موجود تھے
یس سر
سر انکے تقریبا کافی سارے بندے مارے جا چکے ہیں
اوکے انہوں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسکرین پر نظریں ڈالی جہاں ابھی ابھی انکا ایک بڑا دہشت گرد پر کراس کہ نشان آرہے تھے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کاشی نے دور سے ہی ان دو لوگوں کو آپس میں بات کرتے دیکھ کر ٰایک دہشت گرد کے سر پر گولی مار کر اسکو موت کی نیند سلا دیا اس سے پہلے دوسرا بھی بھاگ جاتا کاشی نے اسکی ٹانگ پر گولی ماری اور اسکے ایک سپاہی نے بھاگ کر اسکو اپنے قابو میں کیا
بچے کہاں ہیں سارے میجر احمد نے اسکا منہ دو انگلیوں سے مظبوطی سے پکڑتے ہوئے پوچھا
مجھے کچھ نہیں پتا اسکے انکار نے میجر احمد کا خون کھولا دیا اور اسنے ایک اور گولی اسکی ٹانگ پر ماری
بتاتا ہو ایک اور مت مارنا وہ شخص تکلیف سے دہرا ہوتے ہوئے بولا
یہاں سے آگے جاکر دائیں طرف پر مڑو گے تو وہاں پر کھلے میدان میں ہیں وہ سب بچے مگر انکے بیچ میں ایک دہشت گرد ہوگا ہمارا جو انہیں ہاتھ میں ایک رموٹ لیئے کھڑا ہوگا
وہ رموٹ بم کنٹرول ہے اگر اسنے اسکا بٹن دبادیا تو وہاں کے بچے مارے جائیں گے اور ہم سب تباہ ہوج
ابھی اسکی بات منہ میں تھی جب اسکے کان کے آلے میں وری کی آواز گونجی
میجر احمد مجھے کچھ بچے ملیں ہیں پندرہ کے قریب ہونگے مگر ان سب کے ساتھ بم آٹیچ کیا ہوا ہے جسکے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں ہے یہ نئے ماڈل کا بم ہے اسکی تقریبا بارہ تاریں ہیں اگر ایک بھی تار غلط کاٹی گئی یا ہلائی گئی تو یہ بلاسٹ ہوسکتا ہے
وری کی بات سن کر اسنے اپنا ماتھا مسلا اور کہا
وری ہم ان باقی بچوں کی طرف بڑھ رہے ہیں یہ بم انکو بھی متاثر کرسکتا ہے تم جنرل سے رابطہ کرو اور کہو کسی ایسے بندے سے رابطہ کروائیں جو اس بم کو ڈفیوز کرنے کے بارے میں جانتا ہو مگر جلدی کرو ہمارے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے جب تک ہم ان دہشت گردوں کو دیکھتے ہیں
اوکے میجر مگر خیال کریں کیونکہ یہ ایک رموٹ کنٹرول بم ہے اگر اس دہشت گرد نے اسکا بٹن دبا دیا تو یہ اسٹارٹ ہو جائے گا
اوکے وریشہ
اسکی بات سن کر اسنے پیچھے زمین پر پڑے شخص کو دیکھا اور ایک گولی اسکے سر میں مار کر اس ملک کو تھوڑی سی گندگی سے پاک کیا
اور اپنے بندوں کو لیکر اس کھلے میدان کی جانب بڑھ گیا اسے تب تک اس آدمی کو روکنا تھا جب تک وہ لوگ اس بم کو ڈفیوز نہ کردیں۔۔
