Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08

وری جومسلسل خاموش تھی ایک دم چہک کر بولی کاشی میرے پیارے کزن ایک کام تو کر کہ دو کاشی نے تاسف سے اسکو دیکھا جو اب اپنا کام کروانے کے لئے اسکو مکھن لگا رہی تھی اور ایک بات پر آج کاشی کو یقین آگیا تھا
کہ وہ کبھی اسکو کسی چیز کے لئے منع نہیں کر سکتا وہ پہلے بھی اسے کسی چیز کے لئے منع نہیں کرتا تھا مگر اب تو جیسے وہ بلکل ہی اسکو نہ نہیں کر سکتا ہوتا ہے کبھی کبھی محبت ہمیں بلکل بےبس کردیتی ہے کہ ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتے ایسا ہی حال کاشی کا تھا وہ سامنے نہیں ہوتی تو وہ بےچین ہوجاتا ہے اور اگر وہ سامنے ہو تو اسکو دیکھتے رہنے پر بےبس
یہاہ باہر ایک دالسے والا ہے وہ اتنی مزے کی بناتا ہے اسمیں پیاز ٹماٹر اور لمبو کا رس آہ آہ پلیز لادو جاکر وری نے معصومیت سے آنکھیں پٹ پٹا کر کہا اور کاشی ان ہری آنکھو پر ہی تو فدا تھا اتنا وہ باہر کی طرف جانے لگا جب وری نے اسکو 100 کا نوٹ پکڑانا چاہا
کاشی یہ پیسے تو لے لو وری کے پیسے دینے پر کاشی کا دماغ گھوم گیا
کیا میرے پاس پیسے نہیں ہیں جو تمسے پیسے لونگا ٹک کر کھڑی ہوجائو دونوں یہاں لا رہا ہوں کاشی اسے اچھی خاصی جھاڑ پلا کر باہر کی طرف چلا گیا
اسکے جاتے ہی وری کہ ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ارشاء ایک سائیڈ پر کھڑی ہوئی کسی کو کافی دیر سے گھور رہی تھی جب وری نے اسکا کندھا زور سے ہلایا
اوئے یہاں کھڑی کس کو اپنی نظروں سے حفط کر رہی ہو وری نے شوخ انداز میں کہا
ابھی کچھ دیر پہلے وہ اور بشراء کاشی کی لائی ہوئی دالسے کھا کر آئی تھی بشراء تو ثناء کہ پاس چلی گئی تھی اور وری کی نظر ارشاء اور علماء کو ڈھونٹتے ہوئے ایک کونے مین کھڑی ارشاء پر گئی جو بلکل ساکت کسی کو دیکھ رہی تھی وری کے پوچھنے پر اسنے آنکھیں جھپکانے کے بجائے اسی ساکت نظروں سے سامنے دیکھتے ہوئے کہا
کاشی کو اور کسکو ہائے ارشاء تمہیں شرم نہیں آتی ارسو کو دیکھنے کے بجائے کاشی کو دیکھ رہی ہو وری نے بے یقینی سے اسکو دیکھتے ہوئے کہا
اففففف وری سامنے دیکھو پتا نہیں کیا بکواس کر رہی ہو ارشاء نے چڑ کر اسکا منہ پکڑا اور سامنے کی طرف کیا
وری نے سامنے دیکھا تو اسکی آنکھیں پھٹ گئی اسکو کس نے بلایا ہے مینے تو اسکا کارڈ نہیں پڑھا وری کی آواز میں حیرت تھی
وری یہ تمہاری کزن ہے اور تم جانتی ہو کہ یہ ثنا کی بھی کزن ہے انہوں نے بلوایا ہوگا ارشاء نے آہستہ سے کہا
وری ابھی تک سامنے کھڑے کاشی اور فری کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی جو قریب کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے وہ ویسے ہی جل رہی تھی ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر
اور اب کاشی فری سے ہنس ہنس کر بات کر رہا تھا یہ چیزوری کو اور بھی تکلیف دے رہی تھی اب اسے جلن ہو رہی تھی فری کو اسکے ساتھ کھڑا دیکھ کر
وری کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے کاشی کہ پاس سے ہٹا کر کسی سمندر میں پھینک آئے اور اس سمندر سے کہے کہ اس ڈائن کو کبھی باہر نہ آنے دے
ارشاء : وری کاش فری فٹبال ہوتی تو میں اسکو اتنے کک مارتی کہ یہ پھسسسسس ہوجاتی
وری: ا رشاء جو مکہ مینے کاشی کی ناک پہ مارا تھا کاش وہ اس زلیل ڈیکولی کو مارا ہوتا وری بھی اب پچتا رہی تھی اسکو اس دن مکہ نا مارنے پر
ہاں وری مگر اب کیا ہو سکتا ہے سوائے ماتم کہ وہ دونوں وہاں کھڑی افسوس کر رہی تھی جب پیچھے سے علماء نے ان دونوں کہ گلے میں اپنی بانہین ڈالی
یار کب سے ڈھونڈ رہی تھی یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو تم دونو علماء نے حیرت سےان دونوں کہ چہرے کو دیکھا جہاں غصہ اور افسوس نظر آرہا تھا
ماتم کر رہے ہیں تم بھی رلو سامنے دیکھ کر ارشاء نے جلے ہوئے انداز میں کہہ کر اسکا رخ بھی اس طرف کروایا جہاں وہ دونوں کھڑے تھے
آہ ہ ہ ہ یہ یہاں کیسے علماۓ کی بھی وہ ہی حالت تھی جو کچھ دیر پہلے وری کی تھی
ارشاء مجھے کوئی بندوق لادو جس سے میں اسکا اوپر کا ٹکٹ کٹوا سکو وری کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کچھ بھی ایسا کردے جس سے فری یہاں سے دفع ہو جائے
یار میرا بس چلے تومیں اسکو بوتل میں بند کر کے اندر ڈھیر سارے پٹاخے ڈال دوں اور ہر پٹاخے کی ڈھززز آواز کہ ساتھ اسکی چیخے سنو ارشاء نے بھی اپنے دل کے پھپولے پھوڑے
یار تم لوگ کتنی خطرناک ہو کہ اسکو مارنے کہ درپہ ہو علماء نے حیرت سے انکھیں پھاڑ کر کہا
یار اس ڈرپوک کو ٹیم میں رکھا کیوں تھا ہمنے ارشاء نے اسکو سخت گھوری سے نوازا
تمسے نہیں وری سے دوستی کی تھی مینے تم خود ہی آئی تھی مجھ سے دوستی کرنے علماء نے بھی دوبدو جواب دیا
وری دیکھ رہی ہو بچی کہ بھی پر نکل آئے ہیں ارشاء نے وری کو مخاطب کیا مگر وہ اسکی نہیں سن رہی تھی وہ تو ان لفظون کہ سحر میں تھی جو گانا ڈی جے نے لگایا تھا کچھ دیر کے لئے شاید وہ اس سے غلطی سے لگ گیا تھا
درد پہلے سے ہے زیادہ
خود سے پھر یہ کیا وعدہ
خاموش نظریں رہیں بے زباں
باتون میں پہلے سی باتیں ہیں
بولو تو لب تھر تھراتے ہیں
راز یہ دل کا نہ ہوبیاں
ہوبیاں کہ اثرکوئی ہم پہ نہیں
ہمسفر میں تو ہیں ہمسفر ہے نہین
دور جاتا رہا پاس آتا رہا
خواہ مخواہ بے وجہ خواب بنتارہا
وری کی حالت عجیب سی ہورہی تھی اوپر سے وہ الفاظ اسکے دماغ میں گردش کر رہے تھے وہ کالی نظروں سے ان دونون کو دیکھ رہی تھی شاید وہاں فری کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اسکو بلکل فرق نہ پڑتا مگر دکھ ہی یہ تھا کہ وہاں کوئی اور نہیں فری تھی
کچھ دیر وہ انہیں خالی خالی نظروں سے دیکھتے اپنی تکلیف برداشت کرتی ریئ لیکن جیسے ہی فری نے ہنستے ہوئے ایک دم اسکے بازو پہ مارا بس یہ سین وری کی آنکھوں میں شولے ڈال گیا بس یہ حد تھی اسکے برداشت کی
وری نے ادھر ادھر دیکھے بغیر لمبے لمبے ڈگ بھرتی کاشی کہ قریب پہنچ ایک گھری سانس لی اور نہایت خشک لہجے میں کاشی سے کہا
اپنے قیمتی وقت میں سے دو منٹ دیں سکتے ہیں کاشان صاحب وری نے فری کو بلکل نظرانداز کیا وری کا لہجا ہر احساس سے عاری تھا لیکن اسکا چہرہ نہایت سرخ ہو رہا تھا جواسکے غصے کی نشانی تھی
کاشان جو فری کی حرکت پر حیران تھا وری کے بولانے پر چونک سہ گیا ہاں کیا بات کرنی ہے ۔
ابھی اسکا جملہ پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ فری نے آگے بڑھ کر وری کو اپنی جانب متوجہ کیا کیسی ہو وری حیرت ہے تمنے آج مجھے سلام نہیں کیا اس دن کی باتیں ابھی تک نہین بھولی کیا
اس میں حیرت کی کیا بات ہے فریحہ اظہر تمہیں تو میں اس لئے سلام کرتی تھی کیونکہ میرے دل میں اس وقت تمہارے لئے کچھ نہیں ہوتا تھا اور مجھے اچھا لگتا تھا ہر کسی کو دعا دینا لیکن اس دن ایک بات مینے سوچ لی تھی کہ تم میری دعا کہ قابل ہی نہیں ہو اور وہ دن کیسے بھول سکتی ہوں آخر اس دن تو تمنے اپنی بےغیرتی دکھائی تھی اور آج بھی کیسے ڈھٹائی سے آگئی ہو چچ چچ کچھ لوگ بڑے ہی بے شرم ہوتے ہیں کیا خیال ہے تمہارا اس بارے میں فریحہ اظہر تمہارا تو کافی ایکسپیرینس ہے نہ
وری نے کبھی زندگی میں کسی سے ایسی تلخی سے بات نہیں کی تھی جتنی آج تلخی سے آج فری سے بات کی تھی فری نے آج پہلی بار اس پر تنز نہیں کیا تھا وہ شروع سے ایسی تھی مگر آج وری نے پہلی بار اسکے تلخی کا جواب تلخی سے دے کر کیا تھا ہوتے ہیں نہ کچھ لوگ جن سے جتنی محبت سےبھی پیش آئیں وہ پھر بھی اپنا رویہ ٹھیک نہیں کرتے اس بندے کہ ساتھ فری بھی ویسی ہی تھی
لیکن وہ یہ نہین جانتی تھی شاید کہ اگر وہ اس سے محبت سے پیش آرہی ہے تو سختی سے بھی پیش آسکتی ہے کسی کی برداشت کو نہیں آزمانہ چاہیئے کیونکہ اگر اسنے برداشت کا دامن چھوڑ دیا تو آپکو آپکی اوقات دکھانے میں لمحہ نہین لگائے گا
کاشی حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا جو ایک دوسرے کو چھبتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھی گھر میں صرف سحر بیگم آفان میرو اور حسن صاحب کو پتا تھا فری کی ساری بکواس کا باقی سب کو صرف یہ بتایا تھا کہ یونی کی ایک لڑکی اور لڑکے نے کی تھی وہ ساری بکواس مگر اب کاشی کو بھی انکی باتوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ جس لڑکی نے وہ ساری بکواس کی تھی وہ فری ہی تھی کیونکہ اس نے کافی بار اس لڑکی کا نام میرو سے پوچھنے کی کوشش کی تھی مگر وہ ٹال جاتا تھا
میں تمہاری شادی میں نہیں اپنی کزن کی شادی میں آئی ہو فری بےحد تپے ہوئے لہجے میں کہا تضحیک سے اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا
میں جانتی ہوں اور یہ بات یاد رکھو کہ تم واقعی میں ثناء کی وجہ سے یہاں ہو اور میری شادی میں تو آنے کا تصور بھی اپنے زہن سے نکال دو کیونکہ میں اپنی شادی میں کسی گندے زہن کی لڑکی کو نہیں بلوائو گی اوکے پلیز کھانا کھا کر جانا کیونکہ اتنی بےعزتی کہ بعد بھی شرم تو آئی نہٰں ہوگی تمہیں
وری اپنی بات مکمل کر کے جانے لگی تھی جب فری نے اسکا ہاتھ پکڑکر اسکو سامنے کر کے اپنے سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی دکھا کر کہا
تمہاری اتنی اوقات نہیں ہے کہ مجھے کہی سے نکال سکو یا میری انسلٹ کر وری نے اسکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے اسکی انگلی پکڑ کر نیچے کی
ڈیر فری یہ انگلی ان 1999 کی لڑکیوں کو دکھانا جو بہت تمیز اور لحاظ والی تھی ہر قسم کہ لوگوں کا احترام کرنے والی تھی مگر میں آج کی دور کی ہو اینٹ کا جواب ڈپل اینٹ سے دینے والی سمجھ میں اس لئے میرے سامنے اب کوئی بکواس کرتے ہوئے کماز کم ایک بار ضرور سوچنا ورنہ اس بار تمہاری جگہ کسی اور کو نہیں تمہیں ہی پیٹو گی سمجھ میں آئی وری بات مکمل کر کے اس پر ایک چھبتی ہوئی نظرڈال کر چلی گئی کا
کاشی بھی وہاں سے ہٹ گیا تھا ان دونوں کو آپس میں زبانی کلامی کرتے دیکھ کر
باقی کا سارا فنکشن اسکا موڈ خراب ہی رہا تھا لیکن جب رخصتی کا وقت ہوا تو کاشی نے آہستہ سے اسکے کان کے قریب جھک کر اس سے کہا
کچھ لوگ ہوتے ہیں نہ اچھے بھلے موڈ کا بیڑا غرق کرنے والے پھر وہ ہمارے سگے رشتہ دار بھی ہوسکتے ہیں اور باہر والے بھی مگر ہمیں چاہیئے کہ ہم ہر کسی کی بات کو سر پر سوار نہ کریں ایسے لوگ اپکو ہر جگہ ملیں گے جس کے لئے آپکو اپنے اندر برداشت پیدا کرنی پڑھے گی کچھ تحمل سے کام لینا ہوگا کچھ درگزر کرنا ہوگا لیکن اگر آپ نے ان سب کو اپنے سر پر سوار کرلیا تو زندگی مشکل ہوجائے گی وری ضروری نہیں ہر انسان اچھا ہی ملے آپکو بہت سے برے لوگ بھی ملیں گے جو شاید کردار کے برے نہ ہو لیکن زبان کہ ہو تو کیا تم ایسے ہی منہ بنا کر پھرو گی اور یار مجھے نہیں پتا تھا وہ لڑکی فری تھی ورنہ خدا کی قسم مینے اس سے ایسے ہنس ہنس کے بات نہٰن کرنی تھی
کاشی کی آخری بات پر فری کی ہنسی نکل گئی
سچ کہہ رہے ہو نہ وری نے تصدیق چاہی
ہاں یار مرنا تھوڑی نہ ہے بتایا تھا مجھے علماءنے کیسے تم اور ارشاء اسکو قتل کرنے کے پلین بنا رہی تھی ویسے وری کتنی خطرناک ہو تم یار مجھے تو آج پتا چلا ہے لڑکیاں اتنی خطرناک ہوتی ہیں توبہ بیچارے لڑکوں کا کیا حال کرتی ہیں
کاشی لڑکیوں کہ بارے میں ایک لفظ بھی کہانا تو تمہٰن شوٹ کردو گی میں وری نے ایک دم اسکو خطرناک گھوری سے نوازا
اچھایار غصہ کیوں کر رہی ہو لڑکیاں تو بہت مؑصوم ہوتی ہیں ان سے زیادہ معصوم دنیا میں کوئی نہیں اور میری کیا مجال انکی شان میں کچھ کہنے کی کاشی نے اسکو کہہ کر سائیڈ طرف اپنا منہ موڑ کر دونوں کانوں کو ہاتھ لگایا جیسے اپنے جھوٹ کی توبہ کر رہا ہو
کاشی میں دیکھ رہی ہون تمہیں کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے وری نے مصنوعی خفگی سے کہا
یار مینے کچھ نہین کیا اب تو تعریف کر رہا ہوں لڑکیوں کی کاشی نے فورا بات بنائی
دکھ رہا ہے کاش ابھی میری ساری ایف بی کی لڑکیاں ہوتی نا ادھر تو ان سے جوتے پڑواتی تم کو وری نے آنکھیں دکھا کر کہا
رہنے دو وہ مجھے جوتے ہر گز نہ مارتی بلکہ پھول برساتی مجھ پہ وہ سب اتنی فدا ہیں مجھ پر کاشی نے اپنے مصنوعی کالر جھٹکے
یہ منہ اور مصور کی دال ہنہہ وہ اور فدا ہوں تم پہ جائیں کاشان صاحب منہ دھوکر آئیں دنیا میں ابھی لڑکے ختم نہیں ہوئے جو وہ آپ پر مرے گی
کاشی نے اسکا موڈ فریش کردیا تھا
ہاں بس تم جلتی رہنا میری ایگ بی کی میمبر سے وری تمہیں تو میں پوچھتا نہیں ہوں اس لئے تم ان لڑکیوں سے جلتی ہو
اللہ اللہ کتنی غلط فہمی ہے کبھی پوچھنا ان سے کہ وہ تمہیں کس نام سے پکارتی ہیں
یقین کرو اگر انہوں نے لنگور نہ کہا تو آج سے لنگور ہی کہٰن گی وری نے اتنا کہا اور آگے کی طرف بڑھ گئی کیونکہ کاشی کی بھنویں غصے سے آپس میں مل گئی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس شخص نے اپنی کار ڈولمن مال کے سامنے روکتے ہوئے اپنے جیب سے موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا اور فون اپنے کان سے لگایا
دوسری طرف بیل جا رہی تھی مگر کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا اسنے کاٹ کر ایک بار پھر کال ملائی اس بار 5 بیل پر فون اٹھایا گیا
اسلام وعلیکم کیا تم مل سکتی ہو ابھی اسنے سلام کرتے ساتھ اپنی فون کرنے کی وجی ظاہر کردی
وعلیکم اسلام اوہ تم حال بھی پوچھ لیا کرو بس فون کرتے ساتھ اپنے دکھڑے شروع کر دیتے ہو ملنا کیوں ہے اس لڑکی نے شکوہ کرتے ساتھ سوال کیا
اسنے باقی باتیں نظراندازکر کہ آخری بات کا جواب دیا
ایک کیس کے سلسلے میں بات کرنی ہے امپورٹنٹ اگر ابھی مل سکتی ہو تو پلیز آجائو میں ڈولمن مال کہ پاس ہوں
اسنے فون کو کان سے ہٹا کر گھورا جیسے اس آفیسر کو گھورا ہو یہ تم پوچھ رہے ہو یا آڈر دے رہے ہو ا
اسنے تیکھے لہجے میں پوچھا
پوچھ رہا ہوں اب بتا بھی دو اسنے نہایت عاجزی سے کہا
اوکے تم اوپر فوڈ کورٹ میں میرا انتظار کرو میں 10 منٹ میں پھنچتی ہوں اسنے کہتے ساتھ فون بند کیا اور واشروم کی طرف بڑھی دومنٹ میں تیار ہوکر نیچے گئی اور اگلے منٹ میں وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر نکل چکی تھی اگلے 15 منٹ میں وہ اسکے سامنے کھڑی تھی
اسنے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا اور اسکو بیٹھنے کا اشارہ کیا
کیا ہوا ہے تمہارے چہرے کا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے نور نے اسکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو نہایت سنجیدہ اور فکر مند نظر آرہا تھا
اپنی زندگی دور جاتے دیکھ کر سب کا ہی رنگ اڑتا ہے نور صاحبہ اسنے دل میں یہ کہا اور اسکو مسکرا کر دیکھتے ہوئے بولا
کچھ نہین بس تمسے ایک ضروری بات کرنی تھی پہلے کچھ کھالو اسنے وجہ بتاتے ساتھ کھانے کا پوچھا
نہیں تم سیدھے بات بتائو کھانا کھاکر آئی ہوں میں نور نے اسے روک دیا ویٹر کو بلوانے سے
اسنے ایک نظر اسکو دیکھا اور بات کرنے کے لئے لفظ تلاش کر کہنا شروع کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *