Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14

وہ ساری لڑکیاں کالج کے گرائونڈ میں بیٹھی تھی آج انکا انٹر کا رزلٹ آنا تھا اس وجہ سے وہ سب وہاں جمع ہوئی تھی وہاں عجیب سی افرہ تفری تھی کچھ لڑکیاں ٹینشن میں بیٹھی تھی کچھ لڑکیاں ہاتھوں پر تسبیح پڑھ رہی تھی کہ شاید یہ کرنے سے وہ پاس ہوجائے آج کے دن وہ سبھی لڑکیاں ٹینشن میں تھی جنہوں نے سارہ سال صرف تین سے چار بار کالج کی شکل دیکھی ہوگی اور وہ لڑکیاں بھی جنہوں پڑھائی ہی پیپرز کے دوران کی تھی حال تو ان لڑکیوں کا بھی خراب تھا جنہوں نے سارہ سال پڑھ پڑھ کے خود کو پاغل کیا ہوا تھا
صفی تمہیں کیا لگتا ہے میں پاس ہوجائوگی اس لڑکی نےا پنے ساتھ بیٹھی اپنی دوست سے پوچھا
مجھے کیا پتا سارہ مجھے خود اتنا ڈر لگ رہا ہے میرے تو ہاتھ پائوں بھی کانپ رہے ہیں اگر رزلٹ اچھا نہیں آیا تو میں میڈیکل کی ڈائو یونیورسٹی میں کیسے داخلہ لونگی یار میں ڈاکٹر کیسے بنو گی اسکی دوست صفیہ نے بھی اپنا دکھڑا رویا
یار تمہیں کس بات کی ٹینشن ہے تمنے تو اتنے بہترین پیپر دیئے ہیں تمہارا تو فرسٹ ایئر کا رزلٹ بھی شاندار تھا اسکی دوست نے اسکو رشک سے دیکھتے ہوئے کہا
لیکن یار مجھے پھر بھی ڈر لگ رہا ہے میں کیا کرو اسکی بات منہ میں ہی تھی کہ انسے زرہ فاصلے پر بیٹھی لڑکی نے شور مچا دیا
گائیز نیٹ پہ رزلٹ شو ہوگیا ہے میں اپنا چیک کرلو پھر جس نے اپنا چیک کروانا ہے وہ اپنا رول نمبر دیتی جائے اس لڑکی نے چیختے ہوئے کہا اور اپنا رزلٹ چیک کیا
کیا بنا چاندی تمہارا صفیہ نے اسکو دیکھتے ہوئے تیز لہجے میں پوچھا
یار میرے پیپر کلیئر ہیں سارے اس نے خوشی سے جھومنے والے انداز میں کہا
اچھا اپنے نمبرز تو چیک کرو صفیہ نے اسے خوشی سے دییکھتے ہوئے کہا
یار پیپرز کلیئر کر لیئے نہ بس یہ ہی بہت ہے میرے لئے جانی تم اپنے چیک کرو کہ اس بار پرسنٹیج بڑھی ہے یا اور گرا دی تمنے اسنے اسے ڈراتے ہوئے اسکا رول نمبر پوچھا اور رزلٹ کی ویب سائیڈ پر ڈالا
صفیہ کا دل اپنی معمول کی اسپیڈ سے زیادہ تیزی سے بھاگ رہا تھا اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے اسکو لگ رہا تھا اگر اسکا رزلٹ اچھا نہیں آیا تو وہی بیٹھ کر رونا شروع کردے گی
صفیہ اس لڑکی کے ساتھ بیٹھی تھی جب اسنے اسکے نمبر نکال کر اس کی پرسنٹیج نکالی صفیہ ہاتھوں پر درود پڑھ رہی تھی اور بھی بہت سی دعائیں اسکے لبوں پر تھی
صفیہ تمہاری 88 پرسنٹیج آئی ہے پیچھلی بار 83 تھی اسنے اتنی زیادہ پرسنٹیج بڑھائی تھی اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ رہے تھے مگر یہ آنسو خوشی کہ تھے تشکر کہ تھے اسکا دل چاہ رہا تھا وہ یہی بیٹھے بیٹھے سجدے میں گر کر اللہ کا شکریہ ادا کرے اسنے اپنے بہتے آنسو صاف کیئے اور بیگ اٹھا کر کھڑی ہوگئی
اوئے تم کدھر جارہی ہو سارہ نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا
گھر جارہی ہوں یار پلیز ناراض نہ ہونا ماما انتظار کر رہی ہونگی اسنے التجایا انداز میں کہا
نہ نہ جانی تم ہمیں ٹریٹ دے کر جائو گی ایسے نہیں اس رزلٹ چیک کرنے والی لڑکی نے بھی اسکو روکا
لیکن آج وہ صرف گھر جانے کی جلدی میں تھی یار وعدہ لےلو میں تم سب کو ایک دو دن میں ٹریٹ دے دوں گی ابھی گھر جانے دو پلیز وہ انسے التجایا انداز میں کہہ رہی تھی
اوکے مگر ٹریٹ نہ بھولنا ان سب نے ایک آواز میں کہا
ہاں نہیں بھولو گی اللہ حآفظ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ گھر میں داخل ہوئی تو سب گھر پر موجود تھے اسنے آگے بڑھ کر سب کو سلام کیا اور خوشی سے اپنی امی کو گلے لگاتے ہوئے بولی
میرا بہترین رزلٹ آیا ہے امی مجھے دخلہ مل جائے گا ایک اچھی یونی میں ابھی وہ بول رہی تھی جب اسکے والد نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
مجھے فخر ہے تم پر بیٹا تمنے میرا سر فخر سے اونچا کر دیا یہ کہتے ہوئے انہوں نے اسکو گلے لگایا اور ماتھا چوم کر دعا دے کر چلے گئے انہوں نے آج زندگی میں پہلی بار اسکو اس طرح گلے لگایا تھا ورنہ ان کےاور اپنے باپ کے درمیان بہت فاصلے تھے
وہ ایک رعب دار باپ تھے جن کے سامنے آواز تو دور کی بات ہے آنکھیں بھی نہیں اٹھائی جاتی تھی وہ حیرت زدہ تھی ایک عجیب سی سرشاری تھی اسکے باپ نے اسکا ماتھا چوما ہے اسکو گلے لگایا ہے
اسنے اپنی ماں بڑی بہن اور دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ گلے لگا کر گھما ڈالا آج اسکے چہرے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے اسکو قارون کا خزانہ دے دیا ہو صرف ایک باپ کہ محبت کہ اظہار کرنے پر
کبھی کبھار والدین خود اپنے اور اپنے بچوں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا کر دیتے ہیں کہ ایک وقت آتا ہے جب وہ ایک دوسرے کے بہت سے راز سے انجان ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے کے لئے اتنے اجنبی ہوچکے ہوتے ہیں اور ان درمیان سے آہستہ آہستہ محبت بھی ختم ہوجاتی ہے وہاں صرف ضرورت اور فرض کا رشتہ رہ جاتا ہے اور والدین یہ بات جان ہی نہیں پاتے
اپنے بچون کو سپورٹ کرنا یا ان سے محبت کا اظہار کرنے سے وہ آپکی عزت کرنا نہیں چھوڑے گیں نہ ہی اپکی بات ماننا بلکہ وہ آپکی عزت اور احترام کے ساتھ بےپناہ محبت بھی کریں گے آپ سے وہ دوسروں کی اپنے باپ کے ساتھ بےپناہ محبت دیکھ کر لاشعوری طور پر احساس کمتری کا شکار ہوتیں ہیں اور پھر وہ اپنے دوستوں کے سامنے اپنے باپ کی وہ جھوٹی جھوٹی تعریفں کرتے ہیں صرف اپنی ریپوٹیشن اچھی کرنے کے لئے
اور وہاں سے پھر انکے جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے وہ لاشعوری طور پر ایک غلط کام کر رہے ہوتے ہیں ان بچوں کو جتنی محبت سے زندگی کی باتیں سکھائیں گے وہ اتنی محبت کے ساتھ سن کر عمل کریں گیں آپکی ضد اور بےجا سختی انہیں خراب اور ضدی بنا سکتی ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صفیہ آوان کا داخلہ کراچی کی بہترین یونیورسٹی میں ہوا تھا اسکو اسکالرشب ملی تھی وہ لوگ منگھوپیر کے علاقے میں رہتے تھے زولفقار آوان کا اپنا گھر تھا وہاں پر کوئی اچھی یونی نہ ہونے کی وجہ سے صفیہ آوان کو کراچی کی بہترین یونی ڈائو یونیورسٹی میں داخلہ دلایا گیا تھا اوروہی کہ ایک قریبی گرلز ہاسٹل میں اسکو رکھا گیا تھا کیونکہ وہاں سے روز یونی جانے میں اسکو بہت ٹائم لگتا اوپر سے تھکن الگ
اس وجہ سے اسکو گرلز ہاسٹل میں رکھ لیا گیا تھا
یونی چھوڑ کر آنے سے پہلے زولفقار صاحب نے اسکو اپنے پاس بٹھا کر اس سے کچھ ضروری باتیں کی تھی
صفیہ بیٹا آپ نے اب تک ایسے اسکول اور کالحج میں پڑھا ہے جہاں صرف لڑکیاں تھی اب آپ ایک ایسی یونی میں جارہی ہیں جو پورا لڑکوں اور لڑکیوں سے بھرا پڑا ہے مجھے آپ پر اعتبار ہے مگر آپ زندگی میں کبھی اپنے باپ کا اعتبار مت توڑنا مجھے فخر ہے آپ پر آپ اس خاندان کی پہلی لڑکی ہیں جو یونی تک جائے گی
مجھے پتا ہے آپ بہت سلجھی ہوئی بچی ہیں لیکن پھر بھی میں کہو گا آپ نے اپنی عزت کا خیال رکھنا ہے اپنی نظر کا اپنے باپ کے مان کا اپنے باپ کی عزت کا میں آپ کو پڑھنے بھیج تو رہا ہوں مگر یاد رکھنا اگر مجھے کوئی ایسی ویسی بات آپکے متعلق پتا چلی تو آپ مجھے جانتی ہیں
اور صفیہ آوان جو کچھ دیر پہلے یونی جانے کیلئے اپنی میڈیکل کی پڑھائی کرنے کے لئے بے انتہا خوش تھی اب اسے لگ رہا تھا وہ یونی پڑھنے نہیں ایک بوجھ اٹھا کر لیکر جارہی ہے وہ ایک آزمائش کے طور پر جارہی ہے اسے ان سب باتوں پر حیرت نہیں ہوئی تھی کیونکہ اب وہ سب ان چیزوں کے عادی ہوگئے تھے
زولفقار صاحب بات غلط نہیں کر رہے تھے مگر انکا انداز انکی سخت آنکھیں اس بات کی وجہ اور ضرورت کو پس پشت ڈال گئی تھی
وہ اسکو کہہ بھی رہے تھے اعتبار کا اور کر بھی نہیں رہے تھے اعتبار اور یہ چیز صفیہ کو ہرٹ کر رہی تھی اسنے خاموشی سی ایک نظر ان پر ڈالی اور اپنی نئی منزل کی طرف روانہ ہوگئی یہ جانے بغیر کہ اس راستے پر جگہ جگہ تکلیفوں کا انبار ہے
اسکا پہلا سیمیسٹر ختم ہوچکا تھا اور اب دوسرا سیمیسٹر اسٹارٹ ہوا تھا اسکی فرسٹ سیمیسٹر میں بہت اچھی جی پی بنی تھی اسے کوئی مشکل نہیں ہوئی تھی یونی اور ہاسٹل لائف سے وہ سکوں میں تھی اسے یہ زندگی بھی ویسی ہی لگ رہی تھی مگر اسکی یہ خوش فہمی بھی بہت جلد ختم ہوگئی تھی اس رات
٭٭٭٭٭٭٭
نور آج تین دن بعد مریم کے پاس آئی تھی اور مریم اسکو سامنے دیکھ کر رونا شروع ہوگئی تھی
نور تو سٹپٹا گئی تھی اسکے رونے پر
یار مریم کیا ہوا ہے کیوں رورہی ہو کسی نے کچھ کہا کیا کوئی آیا تھا نور نے آگے بڑھ کر اسکو چپ کروانا چاہا جو روتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی
تو پھر کیا ٹینشن ہے کیوں رو رہی ہو نور نے عجیب بےبسی سے کہا
آپ اچھی نہیں ہیں مریم نے بہتے آنسوئو کے درمیان کہا
کیوں یار مینے کیا کیا ہے مجھ بیچاری کو کیوں ایسے بول رہی ہو نور نے حیرت سے استفسارکیا
کیا کوئی یوں غائب ہوتا ہے بنا اطلاع کے پہلے تو روز آجاتی تھی جب میں بات نہیں کرتی تھی اب بولنا کیا شروع کیا آپ نے شکل ہی غائب کرلی مریم نے اپنے آنسو پہنچتے ہوئے شکوہ کیا
نور نے غور سے سامنے کھڑی بیبی پنک سوٹ میں موجود پہلے سے بہتر حالت میں موجود اس لڑکی کو دیکھا جس کے چہرے پر نور کو دیک ر عجیب سی سر شاری تھی کسی نے صیح کہا ہے آپ کسی مرٰیض کو جتنی جلدی محبت سے ٹھیک کر سکتے ہیں اتنی سختی سے نہیں ڈاکٹر کا کام ہی یہ ہے کہ مریض سے دوستوں کی طرح پیش آئے اور نور نے یہ ہی کیا تھا اسنے اسے کوئی دوائی یا منتر پھونک کر بولنے لائک نہیں کیا تھا بس تھوڑی سی محبت دی تھی اسکا خیا ل رکھا تھا بنا کسی مفاد کے
اور آج وہ لڑکی اسکے لئے اپنے بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور نور کو حیرت ہورہی تھی کہ کیا تھوڑی سی محبت اور توجہ انسان کو اتنا خاص بناسکتی ہے
آپ کبھی کسی اولڈ ہوم میں جائیں اور صرف چار دن ان لوگوں کے ساتھ محبت خلوص اور نرمی کے ساتھ ان سے پیش آئیں پھر دیکھی گا آپ تو واپس آجائیں گے چار دن بعد مگر وہ لوگ آپ کو یاد رکھیں گے اور لاشعوری طور پر دوبارہ آپکی آمد کے منتظر رہیں گیں
اس لئے جتنا ہوسکے اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھ محبت اور خلوص سے رہیں کیا پتا آپکی محبت خلوص اور نرمی کسی کے لئے دوا کام کرجائے
یار قسم سے مجھے نہیں پتا تھا ایک حسیین لڑکی میری یاد میں تڑپ رہی ہے ورنہ میں اڑ کر آجاتی تمہارے پاس لیکن تمہارہ شکوہ ناجائز ہے کیونکہ اگر میں نہیں آسکی تو تم نے کونسا فون کر کہ پوچھ لیا نور نے اسکو نرمی سے ڈپٹا
ہاں آپ تو جیسے نمبر بانٹ کر گئی تھی نہ مجھے مریم نے بھی دوبدو جواب دیا
نور کو خوشی تھی کہ وہ تھوڑی بہت اپنی پرانی جوں میں واپس آگئی ہے
اچھا یار ابھی لےلو نمبر لیکن اس سے پہلے مجھے ایک ضروری کام ہے تم سے اور تم سے ملنے بھی اس لئے نہیں آسکی کیونکہ میں اتنے دنوں سے ایک کام میں پھنسی ہوئی تھی نور نے سوال کرتے ساتھ اپنے نہ آنے کی وجہ بتائی
جی کہیئے لیکن اس سے پہلے میری ایک بات سن لیں گی آپ مریم نے جواب دیتے ساتھ ایک اور سوال کیا
ہممم کہو نور نے اجازت دی
میں آپکو سب کچھ بتانے کو تیار ہوں لیکن پہلے آپ وعدہ کریں میرے بابا کو اور اب مجھے کوئی کچھ نہیں کہے گا اور آپ یہ سب جاننے کے بعد مجھ سے رابطہ نہیں ختم کریں گی مریم نے التجایا انداز میں کہا
مریم ہمیں الائو نہیں ہے کیس کے بعد کیس سے جڑے لوگوں سے ملنے کی لیکن میں وعدہ کرتی ہوں جب تک ہوسکا تم سے تعلق نہیں توڑو گی اور جہاں تک بات ہے تمہاری حفاظت کی تو وہ ہم کر رہے ہیں لیکن ہم انسان ہیں تمہیں کسی برائی سے یا کسی آزمائش سے صرف اللہ بچا سکتا ہے اس لئے اس پر اعتبار رکھو ہم پر نہیں نور نے اسکو بڑی نرمی سے سمجھایا
اسنے اثبات میں سر ہلایا اور ایک گہری سانس لیکر اپنے بارے میں بتانا شروع کیا کہ نور نے بیچ میں ٹوک دیا
ایک منٹ روکو تمہاری باتیں رکارڈ کرنی ہے مینے کیونکہ تم کسی بھی آرمی کہ بندے سے نہیں ملنا چاہتی تو اس لئے یہ کرنا پڑے گا نور نے اسکو وجہ بتاتے ساتھ موبائل میں ریکارڈنگ کا بٹن دبا کر اسکو بولنے کا اشارہ کیا مریم نے اثبات میں سر ہلا کر بولنا شروع کیا
میں بادر کمرشل میں اپنے بابا کے ساتھ رہتی تھی ماما میری نہیں ہیں میں اکلوتی ہوں میں ڈائو ہیلتھ سائنس یونی کے سیکنڈ سیمیسٹر کی اسدوڈنٹ ہوں مریم بول رہی تھی جب نور نے اسکے ساتھ سوال جواب کرنے شروع کیئے کیونکہ اگر وہ اپنا پورا بائیو ڈیٹا دیتی تو انہیں کافی ٹائم لگ سکتا تھا ابھی اسے صرف اس لڑکی اور اس جگہ کی انفارمیشن چاہیئے تھی
آپ کو کس نے کڈنیپ کیا تھا وہ دکھتا کیسا تھا اور آپ اکیلی تھی یا کوئی اور بھی تھا ساتھ نور نے اپنے پروفیشنل انداز میں پوچھا
وہ شخص اکثر ہماری یونی سے تھوڑے فاصلے پر کھڑا نظر آتا تھا دکھنے میں وہ 5 فٹ6 انچ ہوگا اور رنگ سانولا تھا مگر جسامت سے وہ باڈی بلڈر جیسا تھا میرے ساتھ میری ایک دوست تھی مریم آہستہ آہستہ جواب دے رہی تھی
یہ واقعہ کس ٹائم ہوا تھا نور نے اسی انداز میں پوچھا
رات 7 بجے کے وقت مریم نے بتایا
آپ کیا کر رہی تھی اس ٹائم اپنے گھر سے باہر اور آپکی دوست نور نے پھر سوال کیا
ہم دونوں لائیبریری گئے ہوئے تھے پڑھائی کےلئے اور واپسی پر اس شخص نے مجھے اور اسکو پکڑ کر ایک وین میں ڈال دیا تھا مریم کی آواز میں نمی گھل گئی تھی
آپکی دوست کا نام کیا ہے نور نے سوال کرنے کے ساتھ اسکا ہاتھ دبا کر اسکو حوصلہ دیا
صفیہ آوان وہ ہاسٹل میں رہتی تھی اور میں اپنے بابا کے ساتھ مریم نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا
اوکے اب تم وہ ساری ڈیٹیل بتائو جو تمہارے ساتھ ہوا ہے
مجھے اور صفیہ کو اس وین میں ڈال کر ایک انجیکشن لگایا گیا تھا جس کی وجہ سے میں اور وہ بیہوش ہوگئے تھے اس کے بعد ہمیں نہیں پتا ہمیں کس جگہ لے جایا گیا
لیکن جب ہماری آنکھ کھلی تو ہم دونوں ایک خالی کمرے میں تھی وہاں ہمارے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا
دروازہ کھولو ہمیں یہاں سے باہر نکالو ہمیں کیوں لائے ہو یہاں پر مریم زور زور سے دروازہ پیٹ رہی تھی اور صفیہ وہاں بیٹھی ہچکیوں سے رو رہی تھی
صفیہ رو نہیں یہ ہمیں غلطی سے لے آئے ہونگیں ہم بولیں گے کہ ہمیں چھوڑ دو پلیز رو نہیں مریم نے صفیہ کو حوصلہ دیتے ہوئے پھر ایک دفع دروازہ پیٹنے شروع کیا جب صفیہ کی آواز آئی
مریم کل اتوار ہے اگر انہوں نے ہمیں ابھی نہیں جانے دیا تو کیا ہوگا کل بھائی مجھے لینے آئے گا اور اگر میں ہاسٹل میں نہ ملی تو کیا ہوگا بابا تو مجھے جان سے مار دیں گے مریم وہ ماما کو بھی جیتے جی مار دیں گے اللہ صفیہ ایک بار پھر بولتے بولتے ہچکیوں سے رونا شروع ہو گئے تھے
مریم نے دروازہ پیٹنا چھوڑ دیا تھا اب وہ اسکے ساتھ بیٹھی بہتے آنسوئو کے ساتھ بول رہی تھی
کچھ نہیں ہوگا صفیہ ہم نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا ہے تو وہ ہمیں کیوں کچھ بولیں گیں مریم اسے حوصلہ دلا رہی تھی لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی یہ درندے معصوم پھولوں کو ہی کچل رہے ہیں جنہوں نے ان کتوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑا ہے انہوں نے جب ان معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے نہیں سوچا انکا دل نہیں کانپا تو تم لڑکیوں کے ساتھ کچھ کرتے ان ظلموں کو کیسے ترس آسکتا تھا
یہ بےحس لوگ ہیں انکا کوئی ضمیر ہی نہیں ہے تو وہ کیا کسی پر رحم کریں گیں وہ کیا کسی ماں کی گود اجاڑتے ہوئے سوچیں گیں ان میں ضمیر ہوتا یا احساسات ہوتے تو یہ لوگ یہ کام ہی نہ کرتے
کیا تم ان جگہ کا بتا سکتی ہو کہ وہاں کتنی لڑکیاں تھی یا کسی اور شخص کے متععلق کہ یا کہ وہاں صرف لڑکیاں تھی یا بچے بھی نور نے اسکو بیچ میں ہی روک دیا تھا
وہ جانتی تھی مریم اپنے بارے میں یہ سب بتاتے ہوئے کس ازیت سے گزر رہی ہے یہ آسان کام نہیں تھا خود کہ ساتھ ہوئی زیادتی کسی اور کو بتانا یہ بھی کسی ازیت سے کم نہیں تھا اور مریم کی حالت بتا رہی تھی وہ خود کو رونے سے بہت مشکل سے روک رہی ہے اس کی شکل سے پتا چل رہا تھا کہ اگر دوبارہ وہ لمحات دہرائے گئے تو وہ دھاڑے مار مار کہ رونا شروع کر دے گی اور نور نہیں چاہتی تھی کہ وسے ازیت ہو وہ بہت مشکل سے اس فیز سے باہر نکلی تھی اب دوبارہ وہ اسکو وہاں نہیں دیکھ سکتی تھی
نہیں اس وقت میری ایسی حالت نہیں تھی کہ اردگرد کا خیال کرتی ہاں یہ ساری انفارمیشن آپ کو صفیہ سے مل سکتی ہیں
اوکے مریم کیا تم اس لڑکی کا اسکیچ بنوا سکتی ہو یا تمہارے پاس اسکی کوئی پکچر ہو نور نے ایک بار پھر استفسار کیا
نہیں پکچر تو نہیں ہے ہاں اسکیچ بنوا دوں گی مریم نے ایک بار پھر اسکی مدد کرنے کے لئے رضامندی دی
اوکے تھینکس مریم اب دوبارہ ملاقات ہوگی اگر کیس کے متعلق کوئی انفارمیشن لینی ہوئی آپ سے نور نے جانے کی اجازت چاہی
اوکے اپنا خیال رکھی گا مریم نے اسکو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا
نور نے مریم کو حیرت سے دیکھا اور اگلے پل اسکا ہاتھ پکڑکے اسکو گلے لگایا اور اسکا دایاں گال چوم کر کہا اللہ حافظ
مریم نے اسکی اس حرکت پر جھنپ کر کہا اللہ حافظ
نور نے ایک نظر اسکو دیکھا اور کمرے سے نکل گئی کیونکہ ابھی اسکے پاس بہت کام تھے کرنے کے لئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *