Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07

“سیکھ لی ہم نے بھی ادائیں مسکرانے کی
“بھاڑ میں جائیں یہ رنجشیں زمانے کی
وہ شخص اپنے گھر کے قریبی پارک میں جوگینگ کر رہا تھا جب اسکی جیب میں پڑھا فون بج اٹھا اسنے رک کر گہری سانس لی اور پھر جیب سے فون نکال کر چیک کیا سامنے بریگڈیئر اویس فون پر لکھاآرہا
اسکے ماتھے پر کچھ بل پڑے جو کہ پریشانی کہ تھے یقینا کوئی مسئلہ تھا ورنہ وہ بلاقجہ فون کرنے کے عادی نہیں تھے
اسنے فون اوکے کر کہ کان سے لگایا اور سر اویس کو سلام کیا
اسلام وعلیکم سر کیسے ہیں سے اسنے فریش لہجے میں پوچھا
وعلیکم اسلام میں ٹھیک ہوں تم سنائو جوان کیسے ہو سر اویس کا لہجہ بہت محتاط تھاجو کہ تب ہوتا تھا جب انہوں نے کوئی بات منوانی ہوتی تھی اپنی
میں ٹھیک ہو آپ بتائیں کس سلسلے میں فون کیا آپ نے ویسے تو آپ یاد نہیں کرتے مجھے اس کے لہجے میں شکوہ تھا ان کے لئے
نہیں یار تمہیں تو میں ہر وقت یاد کرتا ہوں تم جانتے ہو تمہیں یاد کیئے بگیر کیسے رہ سکتا ہوں لیکن ابھی ایک بات پوچھنی تھی وہ اب اصل موضوع کی طرف آگئے تھے
جی کہیئے وہ الرٹ ہوگیا تھا انکی بات سننے کے لئے
تمنے مجھے ابھی تک انفارمیشن نہیں بھیجی انہوں نے بہت محتاط انداز میں پوچھا
کیا ہو گیا ہے سر کل رات کو تو بھیجی ہے اسکے لہجے میں حیرت تھی کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے ایسی کوئی چیز نہیں بھولی تھی اور اتنی اہم انفورمیشن تو کبھی نہیں
اوہ ہاں مینے پڑھی تھی ابھی یاد آیا مجھے انکے لہجے میں تھکاوٹ تھی مگر وہ آفیسر سمجھ نہیں سکا کہ یہ تھکاوٹ واقعی میں تھی یا اپنی کوئی بات منوانے کے لئے وہ خود کو بیچارا ظاہر کر رہے تھے
سر سیدھے سے بتائیں مسئلہ کیا ہے جو بات کرنی ہے وہ کریں ایسے نہ الجھائیں ممجھے اسنے زرا تیز لہجے میں کہا
یار تمہیں پتا ہے نہ یہ کیس میرے لئے کتنا امپورٹنٹ ہے
یس سر مجھے پتا ہے اصل موضوع پر بھی آجائیں اب اسنے ایک بار پھر انہیں ٹوکا مگر وہ پھر بھی بات کو گھما پھرا رہے تھے
تم جانتے ہو اس کیس کو ایک لڑکی کی بھی ضرورت ہے انہوں نے اسکا دیھان کیس کی طرف کیا
یس سر اس میں کونسی مشکل چیز ہے جو آپ بات کو اتنا گھما رہے ہیں آپ کسی بھی ایک ایجنٹ کو بلوالیں وہ کر لے گی سارا کام آپکا پرسنلی اسنے آرام سے انکا مسئلہ حل کردیا
تم یہ بھی جانتے ہو کہ یہ کیس میرا زاتی ہے میں اس میں ہر کسی کو شامل نہیں کر سکتا اس لئے میں چاہتا ہون تم اس کیس مین اسکو شامل کرو
وہ جو آرام سے پارک میں موجود ایک خالی بینچ پر بیٹھا تھا سیدھا ہوگیا اب سارا معاملہ اسکی سمجھ میں آگیا تھاکہ وہ جو چیزیں بھول رہیں تھے باتوں کو اتنا گھما رہے تھے وہ سب صرف اسے الجھانے کے لئے کر رہے تھے تا کہ وہ پہلے سے ہی سوچ لے کہ کوئی اہم مسئلہ ہی ہے جسکی وجہ سے وہ خود اتنا الجھے ہوئے ہیئں
آپکو پتا ہےوہ کبھی نہیں آئے گی اسنے آنا ہوتا تو یہ پروفیشن چھوڑتی ہی نہ وہ واقعی میں چکرا گیا تھا انکی بات پر
مجھے پتا ہے لیکن اسکی ایک وجہ تھی اسنے اپنی مرضی سے نہین چھوڑا تھا تم یہ بات کیون بھول جاتے ہو اس وقت وہ زرا کمزور دل کی تھی اس لئے مینے اسکو نکال دیا تھااور مجھے منع کرنے سے پہلے یہ بات یاد رکھنا کہ مجھے پتا ہے کہ تم بھی اپنے کیس کہ متعلق اس سے کافی کام کروا چکے ہو انہوں نے بھی اسکو منانے کے لئے بہت سی انفارمیشن جمع کی ہوئی تھی
اتنی انفارمیشن کہ ساتھ یہ بھی پتا کر لیتے کہ یہ کام وہ اپنی مرضی سے کرتی ہے میں اسے فورس نہیں کرتا اس سب کے لئے اور خدا کا خوف کرے سر اس عمر میں مجھ سے جھوٹ کیوں بول رہے ہیں آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی کہ اسنے یہ فیلڈ کسکی وجہ سے چھوڑی ہے وہ برا مان گیا تھا انکی بات کا
یار مجھے پتا ہے اور ویسے بھی میں جانتا ہوں وہ کسی کہ دبائو میں نہیں آتی لیکن تمہاری بات سن لیتی ہے اس لئے تمہیں کہہ رہا ہوں اسکو منانے کے لئے ورنہ میں خود بھی اس سے بات کر سکتا تھا انہوں نے اسکی ناراضگی ختم کرنی چاہی
سر کسی اور کو رکھ لیں ہماری اور بھی ایجنٹ یا آفیسرز ہیں انکو کیوں نہیں بلوا رہے صرف اسے ہی کیوں حناکہ آپ جانتے ہیں وہ نہیں مانے گی ویسے ہی آپ مجھے شہد کے چھتتے مین ہاتھ ڈلوانا چاہ رہے ہیں اسنے بیچارگی سے کہا
تم جانتے ہو مجھے اسکے علاوہ کسی پہ اتنا اعتبار نہیں ہے یہ میرا زاتی کیس ہے اور تم جانتے ہو اگر کسی اور لڑکی کو اس میں شامل کردیا تب بھی وہ اس کیس کہ متعلق بات صرف کیس کہ دوران تک پیٹ میں رکھے گی اور اگر یہ ساری باتیں میڈیا تک چلی گئی تو تم جانتے ہو کہ کیا ہوسکتا ہے اور فکر نہ کرو وہ مان جائے گی
میں بات کرلو گا لیکن اس سے پہلے آپ میرے کفن دفن کا انظام کر لیں یہ نہ ہو اس محاظ سے میں زندہ نہ بچ کر آسکو
اسکی بات پر اویس صاحب کہ چہرے پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی
نہیں اب وہ اتنی بھی خطرناک نہیں ہے کہ تمہارا قتل ہی کردے کچھ نہیں ہوگا دعائیں پڑھ کر جانا بچ جائو گے ورنہ ایمرجنسی ہاسپٹل بہت ہیں ہمارے پاس سر اویس نے اسکو حوصلہ دلایا
آپ خود تو یہاں بیٹھ کر حکم چلا رہے ہیں اور مجھے اس چوڑیل کے پاس بھیج رہے ہیں سر چھوڑے نہ کسی اور کو ڈال لیں اس کیس میں پلیز
اس آفیسر نے ایک بار پھر انہیں منانے کی کوشش کی مگر وہ بھی بریگڈیئر تھے کہا ماننے والے تھے
اب تم زیادہ فری نہ ہو اور سوچو اسکو کیسے منائو گے
ایک آخری بات جو مجھے سمجھ نہیں آئی اس نے اپنی آخری الجھن پوچھی
کیا پوچھو انہوں نے اجازت دی
آپ نے کہا وہ مان جائے گی لیکن آپ جانتے ہیں وہ کس کی وجہ سے اس پروفیشن میں نہیں آئی تو وہ اب کیسے آئے گی اس آفیسر نے آخری مسئلہ سامنے رکھا جس پر اویس صاحب ہلکا سہ مسکرا کر گویا ہوئے
جس شخص کی اجازت ضروری تھی اس سے میں لے چکا ہو تم صرف اتنا کہنا اس سے کہ وہ ایک بار اپنی زندگی کہ سب سے اہم شخص سے اسکی اجازت لے لے اور کہنا میں نہیں چاہتا کہ تمہاری دوسری ہستی اس چیز پر ناراض ہو مگر تم ایک بات سوچ لینا فیسلہ کرتے وقت کہ کسی کا باپ آج تمہاری ہاں پر زندہ ہے کوئی ہے جو تمہاری ہاں کی وجہ سے زندگی کی طرف آسکتی ہے اور بولنا سر اویس تمہارے جواب اور آمد کے منتظر ہیں اور میرا خیال ہے اتنا سننے کے بعد اسنے ہاں کہہ دینی ہے
اوکے سر مگر میں ا ب بھی کہہ رہا ہو کہ اگر میں 2گھنٹے میں آپکو اسکی اطلاع نہ دوں تو پلیز کسی کو بھیج دیجیئے گا میری میت کو لینے کہ لئے
سر اویس نے اسکی بات پر قہقہ لگا کر کہا
یار تم اتنی سی چیز پر ڈر رہے ہو اگر مینے تمہین بتا دیا کہ کیس میں اور بھی لوگ ہیں تو تمہاری تو حالت دیکھنے لائک ہوگی سر اویس نے اسکو اور چڑایا
کیا مطلب اور کون لوگ ہیں اس کیس میں اسنے حیرت سے پوچھا
یہ کیس ایک میجر بھی ہینڈل کرے گا تم جانتے ہو تمہین میں سامنے نہیں لانا چاہتا کیونکہ تم پہلے بھی ایک کیس میں ہو انہوں نے تفصیل بتائی
اوکے کوئی مسئلہ نہیں ہے اس سے مجھے کیا مسئلہ ہوگا سر اسنے نا سمجھی سے پوچھا
مسئلہ تمہین اس آفیسر کا نام سن کر ہوگا اس لئے میں ابھی نام نہیں بتائو گا اللہ حافظ
انہوں نے اسکی کوئی بات سن نے سے پہلے ہی فون بند کر دیا اور وہ آفیسر صرف غصے سے بڑبڑاکر ہی رہ گیا
ایک تو پتا نہیں مجھے کیوں یہ سب اپنی انگلیوں پر نچاتے رہتے ہیں میں بیچارا تو شادی سے پہلے ہی غلام بنا ہوا ہوں پتا نہیں شادی کہ بعد کیا ہوگا میرا اب اس مہرانی کو بھی ہینڈل کرنا ہے اففففففف کہا پھنس گیا ہوں اللہ رحم کر مجھ پر وہ خود ہی اپنے آپ کو بیچارا کہہ کر گھر کی طرف بڑھ گیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج آفان کی برات تھی سب لوگ تیار ہوکر نیچے آگئے تھے سوائے وری کہ جو اوپر اپنا کیمرہ ڈھونڈ رہی تھی جو مل کر ہی نہیں دے رہا تھا وہ غصے سے باہر نکلی اور سیڑھیوں کی جانب جاکر پہلی سیڑھی پر کھڑے ہوکر آواز لگائی
میرو کہ بچے میرا کیمرہ کہا ہے میں بتا رہی ہوں اگر مجھے 2 منٹ میں کیمرہ نہ ملا تو تمہارا سر پھاڑ دینا ہے مینے اسکی چیخو و پکار پر نیچے لائونچ میں موجود کاشی اور میرو نے اوپر اسکی طرف دیکھا
جو پرپل کلر کی میکسی میں بالوں کو آگے سے ٹویسٹ کیا ہوا تھا اور باقی بال کھلے چھوڑ رکھے تھے کانوں میں بڑے بڑے ٹوپس ہاتھ میں ایک بریسلیٹ اور گلے میں ایک نیکلس پہنا ہوا تھا میکپ کے نام پر صرف نیچرل لپ اسٹک لائینر اور کاجل اس میں بھی وہ غضب ڈھا رہی تھی
کاشی کو تو لگ رہا تھا کہ اب وہ اس پر سے نظر نہیں ہٹا سکے گا وہ تو اس کے دل پر بجلیا گرانے کے لئے تیار کھڑی تھی
حناکہ وہ خود بھی لائٹ پنک کلر کے کرتا بجامے اس پر کلین شیف بال سلیقے آگے کی طرف گرے ہوئے تھے جس میں وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا
میرو نے اسکی بات سن کر اپنے ماتھے پہ ہاتھ مار کر کہا
اوہ وری وہ کاشی کی گاڑی میں پڑا ہوا ہے تم آجائو نیچے اور یہ بھی بتائو آفی بھائی کہ ساتھ اسکی گاڑی میں جائو گی یا کاشی کی گاڑی میں
اسنے نیچے آکر پہلے میرو کے سلیقے سے بنے بال پکڑکر کھینچے اسکے بعد بولنا شروع کیا گدے آدھے گھنٹے سے مین پاغلوں کی طرح ڈھونڈ رہی ہوں بکواس نہیں کر سکتے تھے کیا تم اور میں تم لوگوں کہ ساتھ نہیں جائو گی
میرو نے اپنے بال اسکی مٹھی سے آزاد کروائے ایک خطرناک گھوری دیکر وارننگ دی پھر انکے ساتھ نہ جانے کی وجہ پوچھی
اچھا پھر کس کہ ساتھ جائیں گی آپ میڈم وہ بھی ہمیں بتا دیں میرو نے زرا سہ جھک کر غلاموں کی طرح پوچھا اس سے میرو کو وری وہی ایک ماہ کی ڈول لگ رہی تھی جس سے اسکی گود میں ڈال کر کہا گیا تھا کہ یہ تمہاری بہن ہے اور اس بات پر میرو تو پھولے نہیں سما رہا تھا وری بہت پیاری لگ رہی تھی مگرا سے بھائیوں والی فکر بھی تھی کہ کہی اسکو نظر نہ لگ جائے
میں مہمانوں والی کوسٹر میں جائو گی انکے ساتھ اور اب ہتو راستہ دو میں جائو ارشاء اور علماء بھی آگئی ہیں وری نے بات مکمل کرتے ساتھ اسکو راستہ دینے کا کہا جو سامنے دیوار بنا کھڑا تھا وہ ساہیڈ پر ہونے کہ بجائے کاشی کی طرف گھما جو ابھی تک وری کو مبہوت سہ دیکھے جارہا تھا
کیا خیال ہے برو ہم بھی چلیں انکے ساتھ انکی کوسٹر میں مزا آئے گا اور ویسے بھی ہمارے بغیر اس وری کو مزہ آئے گا بھی کیسے
کاشی نے اسکی بات پر چونک کر اسکو دیکھا اور اثبات میں سر ہلاایا مگر اسکے کچھ کہنے سے پہلے وری بول اٹھی
زیادہ بکواس نہ کرو پتا ہے کس کے لئے جا رہے ہو اور ہٹو سامنے سے آنا ہے تو آئو ورنہ گاڑی چلوا دینی ہے مینے وری نے زرا روب سے کہا
اففف وری زیاددہ روب نہ جھاڑو بڑا ہوں میں تمسے ابھی اگر زپردستی کاشی کی گاڑی بٹھا کر لے گیا تو کیا کرو گی تم
تمہارا حشر کردونگی اور کیا کرونگی ہنہ وری نے اتناکہہ کر میرو کو دھکا دیا اور باہر کی طرف چل دی
اففف پتا نہیں جو اسکا شوہر بنے گا اسکے ساتھ یہ کیا کرے گی اللہ رحم کرے اس شخص کی حآل پر میرو نے جھرجھری لے کر کہا اسکی بات سن کر کاشی کہ چہرے پر دلکش مسکراہٹ دوڑ گئی
چلو اب جلدی یہ نہ ہو وہ اصلی میں گاڑی چلوادے اتنا کہہ کر ان دونوں نے بھی باہر کی طرف قدم بڑھا دیئے
گاڑی میں چڑتے ہی وری نے بشراء کو دیکھ کر کہا
موٹی میں تمہارے ساتھ بیٹھو گی
سکھڑی میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں بٹھائو گی بشراء نے منہ بنا کر کہا
بشراء کیوں نہیں بٹھائو گی وری نے حیرت سے کہا
یار تم ہر جھٹکے پر اچھلتی ہو اتنی سکھڑی سی تو ہو اور پھر مجھے پکڑتی ہو
تو موٹی اسی لئے تمہارے ساتھ بیٹھ رہی ہوں نہ تاکہ تم ہر جھٹکے پر مجھے پچالو گرنے سے وری نے معصومیت سے آنکھیں پٹ پٹا کر کہا
وہ دونوں ایک دوسرے کو ایسے ہی موٹی اور سکھڑی کہتی تھی مگر صرف وہ دونو کوئی اور یہ بول کر تو دکھائے دونو نے اسے زندہ نہیں چھوڑنا تھا پھر
بشراء نے آگے ہو کر اسکے کان میں رازداری سے کچھ کہا
وری وہ جو ہال کہ باہر دال سے والا ہوتا ہے پہلے بتائو وہ کھانے چلو گی پھر میرے ساتھ بیٹھنا
وری نے تاسف سے اسکو دیکھا اور کہا
موٹی میں اسی لئے آئی تھی تمہارے پاس بیٹھنے مگر تم تو مجھ سے زیادہ بھوکی اور مطلبی ہو
ظاہر سی بات ہے وری سب ایک جیسے تھوڑی نہ ہوتے ہیں بشراء نے اسکو آنکھ ماری اور دونوں جاکر ایک ساتھ بیٹھ گئی
خوب ہلا گلا کیا گاڑی میں اسد نے اور ارسلا نے بریک ڈانس دکھایا چلتی ہوئی گاڑی میں پھر اسکے بعد لڑکوں اور لڑکیوں نے اپنے پھٹے ہوے ڈھولو کی آواز مٰں گانے سنا کر خوب شور مچایا اسی دوران گاڑی ہال پہنچ گئی تھی
جہاں الگ ہی روشنیاں تھی لڑکیاں پھولو کی پلیٹ پکڑے استقبال کے لئے تیار تھی
وہ سب پھولوں اور کیمرے کی فلیش لائٹس کی روشنی میں اندر داخل ہوئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہاں پل پل جلنا پڑتا ہے
ھر رنگ میں ڈھلنا پڑتا ہے
ھر موڑ پہ ٹھوکر لگتی ہے
ھر حال میں چلنا پڑتا ہے
ہر دل کو سمجھنے کی خاطر
خود سے لڑنا پڑتا ہے
کبھی خود کو کھونا پڑتا ہے
کبھی چھپ چھپ کہ رونا پڑتا ہے
کبھی نیند نہ آئے پھولوں پہ
تو کانٹوں پہ سونا پڑتا ہے
ہال میں آفان اور ثنا کا فوٹو شوٹ چل رہا تھا سارے ہال کی لائیٹس آف تھی صرف ایک اسپاٹ لائٹ میں دونوں چلتے ہوئے آرہے تھے وہ دونوں کسی ریاست کے شہزادہ شہزادی لگ رہے تھے ساتھ چلتے ہوئے
ثنا نے بلڈ ریڈ شرارہ پہنا ہوا تھا جس پر میچنگ کی جیولری کے ساتھ ہائی ہیل پہنی ہوئی تھی جبکہ آفان نے سکن کلر کی شیروانی پہنی ہوئی تھی جس میں وہ دونوں جچ رہے تھے
انکے فوٹو شوٹ کے درمیاں ہی وری اور بشراء مینیوں دیکھنے کے لئے چلی گئی مگر وہان ابھی صرف ریشریشمنٹ کا سامان تھا جس میں الگ الگ فلیورز کہ جوس تھے وری اور بشراء نے دو گلاس جوس کے پیئے مگر پانی سے پیاس تو بجھ سکتی ہے مگر بھوک نہیں
وری اور بشراء نے جوس پینے کہ بعد ایک دوسرے کو ایسے دیکھا جیسے پوچھنا چاہ رہی ہو کہ بس پیٹ بھر گیا یا نہیں بشراء نے نفی میں سر ہلا کر کہا یار ان دو جوس کہ گلاس سے میرا پیٹ نہیں بھرتا بشراء نے منہ بنا کر کہا
وری نے اسکی بات سمجھ کر اثبات میں سر ہلایا اور کہا یار مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں دیتے جلدی
سچی میں وری شادی کا کھانا کھانے کی وجہ سے کوئی بھی گھر سے کھانا نہیں کھا کر آتا اور پھر بھی یہ لوگ اتنا لیٹ کھانا دیتے ہیں اور بہت سی شادیون میں اگر کھانا جلدی دے بھی دیں تو پہلے مردون کو دیتے ہیں مطلب یہ کیا بات ہوئی مردوں نے تو کچھ کرنا بھی نہیں ہوتا پھر بھی انکو پہلے کھانا ملتا ہے اور ہمین دیر سے بڑی ناانصافی کرتے ہیں یہ لوگ لڑکیون کے ساتھ بشراء کھانا جلدی نہ ملنے کہ دک میں کچھ زیادہ ہی جزباتی ہو رہی تھی
بشی میں تمہارا دکھ سمجھتی ہوں تم فکر نہ کرو اپنی شادی میں مینے سب سے پہلے کھانا دینا ہے پھرخود کھانا ہے اسکے بعد کوئی اور کام کرنا ہے وری نے اسکو اطمینان دلایا
اور مینے اپنی شادی میں سب سے پہلے لڑکیون کو کھانا دینا ہے تاکہ وہ بیچاری باقی کا فنکشن سکون سے گزار سکیں بشراء نے ایک دفع پھر لڑکیوں کہ لئے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا
ہاں یار بیچاری اپنے بچے بھی سنبھال رہی ہوتی ہیں لوگوں کو بھی کمپنی دے رہی ہوتی ہیں اور پھر بھی انکو کھانا لیٹ دیا جاتا ہے
بسس بشراء اب اور مجھ سے انتظار نہین ہورہا آئو باہر سے کچھ منگوا کر کھائیں یا خود ہی جاکر وہ دالسے لیکر آتے ہیں وہ اور بشراء باتیں کرتے ہوئے ہال کے گیٹ تک پہنچھ گئے تھے وری نے آہستہ سے نطریں گھما کر ادھر ادھر دیکھا جب تصدیق ہو گئی کہ کوئی نہیں ہے تو دونوں باہر کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی
مگر برا ہوا کہ کاشی صاحب جو کب سے ان پر نظر رکھے ہوئے تھے اور اب انہیں باہر جاتے دیکھ کر انکے پیچھے کھڑے ہو کر اپنے دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلی سے انکے سر پر ہلکی سی دستک دی
اسکے انگلی انکے سر پر بجانے کی دیر تھی کہ ان دونوں نے چیخ مار کر پیچھے مڑ کر دیکھا اور کاشی کواپنے پیچھے کھڑے ہوکر جہاں دونوں نے سکون کی سانس لی وہی وری کو غصہ بھی آیا کاشی پر
کاشی سر ہے میرا ڈھول نہیں جس پر تم انگلی بجا رہے ہو تمیز سے نہیں بلوا سکتے تھے وری نے بلا جھجک اس پر اپنا غصہ اتارا
پہلے تو کاشی نے حیرت سے اسکے غسے سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا پھر زرا سخت لہجے میں پوچھا
یہ چھپ چھپ کہ ہال سے باہر کہا جارہی تھی تم دونوں کاشی کہ پوچھنے پر بشراء تو گھبرا رہی تھی مگر وری کو غصہ آرہا تھا اپنے آپ پر کہ اس کو ایک دفع پیچھے مڑ کر بھی دیکھ لینا چاہیئے تھا ایسی بھی کیا جلدی تھی
کاشان بھائی ہم تو بس ویسے ہی باہر دیکھ رہے ڈیکوریشن وری تو بشراء کہ کاشی کوئی کہنے پر عش عش کراٹھئ
حیرت ہے پہلی بار کسی کو باہر جاکر ڈیکوریشن دیکھتے ہوئے دیکھا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *