Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10

سوال زہر کا نہیں تھاوہ تو میں پی گیا
تکلیف لوگوں کو تب ہوئی جب میں جی گیا
اسلام وعلیکم سر
وعلیکم اسلام بیٹا تم تو بہت جلدی پہنچ گئی سر اویس نے نور کے سر پر محبت سے ہاتھ رکھ کر کہا
یس سر آپکے گھر کے قریب تھی اس وجہ سے آپ بتائیں کس سے ملوانا تھا آپ نے نور نے اپنے بلوانے کی وجہ پوچھی
ہمممم آئو تمہیں اس ہنستی سے ملوائو جس کے لئے تمہیں یہاں بلوایا ہے بریگڈیئر اویس اسے ایک کمرے میں لیکر آئے جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا سامنے بیڈ پر ایک بےحد کمزور وجود پڑا ہوا تھا اور اس سے کچھ فاصلے پر ایک ضعیف آدمی اس لڑکی کا ہاتھ پکڑے بیٹھا ہوا شاید کچھ سورتیں پڑھ کر دم کر رہا تھا اس پر
ان دونوں کی حالت ایسی تھی کہ نور اگلا قدم نہیں اٹھا سکی اسنے بےاختیار پیچھے مڑ کر سر اویس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا
سر اویس نے ایک گہری سانس خارج کی اور ایک نظر اس لڑکی کو دیکھ کر کہنا شروع کیا
یہ لڑکی ہمارے کیس کا حصہ ہے جس گینگ کی ہم انفورمیشن جمع کر رہے ہیں اس گینگ کے باس نے اسکا یہ حال کیا ہے اسکو اپنی حوس کا نشانہ بنایا گیا
تمہیں اس کیس میں لانے کی سب سے بڑی وجہ یہ لڑکی ہے نور میں چاہتا ہوں تم اس کے ساتھ وقت گزارو اس کو زندگی کی طرف لائو اس سے پوچھو کہ یہ وہاں سے کیسے نکلی سر اویس اپنی بات کہہ رہے تھے جب اسنے بیچ میں ٹوکا
اس لڑکی کا نام کیا ہے اسکے لہجے میں درد تھا بہت گہرا
مریم اسکا نام مریم ہے سر اویس نے آہستہ سے بتایا
کیا یہ اکیلی نکلی تھی وہاں سے یا کوئی اور بھی لڑکی تھی اسنے اسی انداز میں پھر پوچھا
نہین اسکے ساتھ ایک اور لڑکی بھی تھی اور وہ بچ گئی ہے وہ کسی کی زیادتی کا نشانہ نہیں بنی سراویس نے مدہم آواز میں کہا
آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کیا آپ ملے ہیں اس لڑکی سے نور نے سوالیہ انداز میں پوچھا
نہیں اس لڑکی کا بھی کوئی پتا نہیں ہے کہ وہ کہا ہے یہ بچی کچھ نہیں بولتی بس جب یہ یہاں آئی تھی اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ اللہ نے اس کو بچا لیا بابا مجھے کیوں نہیں بچایا کیا کیا میں اچھی لڑکی نہیں ہوں بس اسکے علاوہ اس بچی نے کچھ نہیں کہا سر اویس خاموش ہو گئے تھے
آپ اس لڑکی کا پتا کروائیں وہ لڑکی بہت ضروری ہے لیکن ایک بات بتائیں کیا آپ مجھے اس گلٹ سے نکالنے کے لئے یہ کیس دے رہے ہیں
اسکے لفظوں پر سر اویس نے نظریں چرائی اور بس اتنا کہا
تم ایک قابل ایجنٹ ہو بہت چھوٹی ایج مٰیں تمنے یہ پروفیشن چنا تھا اور میں چاہتا ہوں کہ تم آگے بھی اسکو لیکر جائو اور مجھے یقین ہے کہ یہ کام صرف تم کر سکتی ہو اس لڑکی کو زندگی کی طرف لانے کا اسکے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں سر اویس نے اسکو یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ کام وہ کر سکتی ہے
اسنے جواب میں کچھ نہیں کہا اس لڑکی کو دیکھ کر اسکی حالت عجیب سی ہورہی تھی آج کافی عرصے بعد وہ ان کیسز کا حصہ بنی تھی اور وہ بھی ایسے کیس کا جو بہت مشکل تھا مگر نہ ممکن نہیں
سر آپ مجھے اس کیس کے متعلق ساری انفارمیشن دیں بلکہ ایک میٹنگ رکھ لیں جس میں یہ کیس کھول کر سب کو بتا دیا جائے لیکن پلیز احمد کو نہیں بلوائیئے گا میں آرام سے خود یہ بات سب کو بتانا چاہو گی لیکن ابھی نہیں اسنے اپنے اگلے لاحلاعمل سے انہیں آگاہ کیا
ٹھیک ہے جیسا تم چاہو انہوں اسکی بات مانتے ہوئے کہا
آج شام 6 بجے سب کو میٹینگ روم میں بلواتا ہوں تم بھی ٹائم پہ آجانا سر اویس نے اسے تنبیھہ کی
اوکے سر اور میں اس لڑکی کہ پاس کل سے آئو گی
اوکے اللہ حافظ سر اویس نے اسکے سر پرشفقت سے ہاتھ پھیر کر کہا
اللہ حافظ سر نور نے بھی آہستہ مگر محبت سے انہیں دیکھتے ہوئے کہا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ سب آفان اور ثناۓ کے کمرے کے باہر کھڑی کافی دیر سے انکا دروزہ پیٹ رہی تھی مگر
مجال ہے کہ آفان صاحب دروازہ کھول دیں
آفان بھائی دروازہ کھولیں کیا آج ہی اپنی ساری زندگی کا سونا ہے آپ نے تو ریکارڈ توڑ دیا ہے وہ ساری لڑکیاں انہیں بول بول کر تھک گئی تھی مگر مجال ہے جو وہ دروازہ کھول دیں
ابھی وہ سب جانے کا سوچ رہی تھی کہ ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور آفان کا سر دروازے
میں نظر آیا
تم لوگوں کو چین نہیں ہے کیوں ہم میاں بیوی کو تنگ کرنے پر تلے ہوئے ہو اٹھ جائیں گے جب دل کرے گا ابھی ہمیں سونے دو آفان نے ان سب کو غصے سے گھورا لیکن اب وہ گیٹ کھولنے کی غلطی کر
چکا تھا اور اب وہ سب لڑکیاں اسکو پیچھے دکھیل کر اندر اسکے کمرے میں داخل ہو چکی تھی
آفان بھائی ساری رات کیا مکھیاں ماری ہیں جو صبح بھی آپکی بیوی ہم آپکو دے دیں بشراء نے بھی مصوعی غصہ دکھایا
ہاں تو شادی میری بیوی بھی میری اور یہ کمرہ بھی میرا تم لوگ کیوں ادھر آگئی ہو اٹھو نکلو
میرے کمرے سے آفان نے بشراء کو زرا سہ باہر کی طرف دکھیلا
آفی بھائی لوگ شادی کے کچھ دن بعد بدلتے ہیں اور آپ تو شادی کی پہلی رات ہی
زن مرید ہو گئے ہیں بشراء نے بھی اپنا بدلہ لیا
آفی آپ مت تنگ کرے نہ بچیوں کو ثنا نے ان لوگوں کا ساتھ دیا
ثناء یہ 25 سال کی لڑکیاں تمہیں بچیاں کہاں سے لگ رہی ہیں آفان نے حیرت سے استفسار کیا
آفی بھائی خدا کا خوف کرے کیوں اپنی طرح ہمیں بھی بڈھا سمجھ رہے ہیں یہاں پر موجود ساری
لڑکیاں 20 تک کی ہیں بس اور آپی یہ آفان بھائی تم سے آپ کب ہوئے ثناء کی جگہ مہرو نے جواب دیا ا ور پھر ثناء کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جو وہاں بیٹھی بلش کر رہی تھی
کیونکہ آفان اسے نہایت گہری محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا اسکی بات کا جواب بھی ثناء کی جگہ آفان
نے دیا
بیٹا کل ہی ترقی ہوئی ہے تم بھی رضوان سے کہو تمہاری ترقی کروائے مہرو تمہیں تو ضرورت بھی ہے اتنی زباں چلتی ہے میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں رضوان کے سامنے کتنی چلتی ہے
آفی بھائی زیادہ فری نہ ہو ایوی آپ سب میری درگت بنانے بیٹھے رہتے ہیں شرم تو آتی ہی نہیں ہے
کہ میرے زخموں پر نمک نہ چھڑکے مگر نہیں خود شادی بھی کرلی اور اب میرے ارمانوں کا قتل کر رہے ہیں مہرو ناک سکیڑ کر کہا
بھئی تم پہلی لڑکی ہو جو شادی کے لئے پاغل ہو رہی ہو ورنہ لڑکیاں شادی کرنے سے منع کر رہی ہوتی
ہیں آفان نے تاسف سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
مہرو کہ پاس اب انکی باتوں کے جواب ختم ہو رہے تھے اس لئے اسنے آہستہ سے ثناء کا ہاتھ پکڑا اور
آفان کو زباں چڑا کر ساری لڑکیوں کو لیکر کمرے سے نکل گئی سوائے وری کہ
مہرو میری بیوی کو تو چھوڑ دو تمنے جانا ہے تو جائو میری بیوی کو کیوں لیکر جارہی ہو آفان پیچھے سے آوازیں لگا رہا تھا
آپکی سزا ہے اب آج کی تاریخ میں آپکو بیوی نہیں ملنے والی مہرو نے بھی زور سے آواز لگائی
اور ثناء کو لیکر نیچے کی طرف بڑھ گئی
اسکے جاتے ہی آفی وریشہ کی طرف متوجہ ہوا جو کب سے خاموش تھی کوئی بھی بات اسنے نہیں
کی انکی نوک جھونک کے درمیاں
کیا ہوا وری کوئی ٹینشن ہے آفان نے محبت سے اسکو ساتھ لگا کر پوچھا
نہیں آفی بھائی بس ایک بات پوچھنی تھی وری نے انکے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا
کیا بات میرا بیٹا آفی نے محبت سے اسکے بال سہلاتے ہوئے کہا
کل اظہر انکل کی فیملی کسکی طرف سے انوائیٹڈ تھی ہماری یا ثناء بھابھی کی طرف سے وری نے آہستہ سے پوچھا
ثناء کی فیملی کی طرف سے آفی نے حیرت سے جواب دیا کیونکہ اس وقت فری کی فیملی کی
بات آکر کرنا واقعی حیرت والی بات تھی
اچھا ٹھیک ہے آپ بتائیں کل رات کیسی گزری ثناء بھابھی کہ ساتھ وری نے شرارت سے پوچھا مگر اسکےلہجے کا وہ جوش مفعود تھا جو ہر وقت ہوتا تھا اسکے لہجے میں
وری سچ سچ بتائو کیا مسئلہ ہے فری نے کچھ کیا ہے کل آفان نے تیز لہجے میں پوچھا
نہیں بھائی بس ویسے ہی پو اس سے پہلے وری جملہ پارا کرتی آفی نے بیچ میں ٹوک دیا اسکو
وری جھوٹ نہیں بولنا ورنہ مجھے جانتی ہو نہ آفی نے اسے تنبیھہ کرتی نظروں سے دیکھا
وری نے ایک گہری سانس لیکر کہنا شروع کیا
بھائی کل روبینہ آنٹی ( فری کی ماما ) نے ماما کہ ساتھ بہت بدتمیزی کی تھی اور آپکو پتا ہے ماما
تو کسی کو کچھ کہتی نہیں ہیں تو مینے سوچا اگر آج وہ آئیں گی تو میں انکی طبیعت صاف کردو وری نے ایک آنکھ دبا کر کہا
ہاہاہاہا تمنے کبھی نہیں سدھرنا لیکن انکو کچھ کہنے سے میں نہیں روکو گا کیونکہ مجھے پتا ہے انہوں کس حد تک فضول باتیں کی ہونگی آفان نے اسکا ساتھ دیا
ہممم چلیں نیچے چلتے ہیں وری نے انکا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہوئی تو آفی نے کہا
ویسے وری تم کس پر گئی ہو ہمارے گھر میں تو کوئی تیز زباں کا نہیں جتنی تم ہو آفی نے شرارت سے کہا وہ اسکا جواب جانتا تھا
آپکی اطلاع کہ لئے بتاتی چلو میں اپنی حسین و جمیل پھوپھی پر گئی ہوں اس لئے اتنی تیز اور ہوشیار ہوں اور آپ لوگ میری ماما پر گئے ہیں اس لئے ڈل اور معصوم ہیں
اسکی بات پر آفی نے قہقہ لگایا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر نیچے کی طرف آیا جہاں سب ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے
انکا انتظار کر رہے تھے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میٹںگ روم میں تمام افراد آگئے تھے سوائے بریگڈیئر اویس کہ سب انکا انتظار کر رہے تھے جب عجلت میں دروازہ کھول کر ایک نسوانی وجود اندر داخل ہوئی
اسلام وعلیکم سوری میں لیٹ ہوگئی اسنے بلند میں سب کو سلام کر کہ اپنے لیٹ ہونے کی معزرت پیش کی وہ سب حیرت اور بے یقینی سے اسکو دیکھ رہے تھے
کہ ایک بار پھر دروازہ کھلا اور بریگڈیئر اویس روم میں داخل ہوئے سب لوگ انکے ادب کے لئے کھڑے ہو کر سلام پیش کیا انہوں نے جواب دینے کہ بعد
علی کہ ساتھ کھڑے وجود کو تیز نظروں سے گھورا
نور نے آہستہ سے کانوں کو پکڑ کر بنا آواز کہ سوری کہا وہ کبھی کسی جگہ پر ٹائم پر نہیں پہنچ پاتی تھی اور اس میں اسکا قصور نہیں تھا کیونکہ وہ خاندانی لیٹ تھی
سر اویس نے ایک نظر نور کو دیکھ کر باقیوں کو دیکھا اور پھر سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
اور خود روسٹرم کی طرف بڑھ گئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سر اویس روسٹرم پر کھڑے تھے انکے پیچھے بڑی سی اسکرین لگی ہوئی تھی جس پر الگ الگ لوگوں
کی تصویریں چل رہی تھی جب بریگڈیئر اویس نے ایک پکچر روکی اور زوم کر کہ سب کو دکھائی
میٹنگ روم میں بےانتھا خاموشی تھی کہ سوئی بھی گرتی تو آواز آتی
یہ باقر خآن ہے دہشت گردوں کا سب سے بڑا ہے اسکا حکم چلتا ہے گلگت کہ آڈے پر یہ وہاں کا بادشاہ کہلاتا ہے اور اب اس بادشاہ پر آپ لوگوں نے ہاتھ ڈالنا ہے یہ کراچی سے منگوائی ہوئی لڑکیوں کو آگے پیچنے کا کام کرواتا ہے زیادہ تر کو اسنے اپنے پاس رکھا ہے اور جنمیں زیادہ تر لڑکیاں کالج کی لڑکیاں ہیں
اس کے علاوہ انکا ٹارگٹ بچے بھی ہیں یہ بچوں کومزہب کے نام پر غلط تعلیم دے کر انکو دہشت گر بنا
دینے کے ساتھ ساتھ کچھ بچے جو انکے خیال میں دہشت گر بننے کے قابل نہیں ہیں ان پر تشدد کر کہ انکے ہاتھ پائوں کاٹ کر انکو بھیگ مانگنے کے لئے بٹھا دیتے ہیں لیکن اصل میں وہ بچے وہاں سے گزرنے والی ہر لڑکی اور بچے پر نظر رکھتے ہیں کہ کون کس ٹائم پر جاتا ہے لیکن ان لڑکیوں پر جو خوبصورت ہو اور اکیلی آتی جاتی ہوں
یہ ایک بچے کی تصویر ہے
انہوں نے سلائیڈ آگے کی اور ایک نہایت گورے بچے کی تصویر دکھائی جو شکل سے پٹھان لگ رہا تھا
1اس بچے کا نام اسفند یار ہے یہ اس تصویر میں تمہیں جتنا پیارا نظر آرہا ہے اب یہ ایسا نہیں رہا یہ بچہ 3 سال کا تھا جب اسکو دہشت گردوں نے آغوہ کیا تھا
اس بچے نے انکی بات نہیں مانی یہ نہایت تیز بچہ ہے حافظے قرآن ہے اس بچے نے قرآن کا ترجمہ پڑھا ہوا تھا اس لئے انکی دی گئی غلط تعلیم پر وہ کہتا تھا کہ آپ غلط بتا رہے ہیں یہ تو قرآن میں ہے ہی نہیں
اس بچے کی اس مداخلت پر انہوں نے اسکے بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں کاٹ دی تھی اور پھر کچھ عرصے تک بھی جب یہ نہیں چل سکا تو انہوں نے اس بچے کو بھیگ مانگنے کے لئے بٹھا دیا تھا
باقی کی بات میں چاہو گا وہ بچہ خود آپ لوگوں کو بتائے سر اویس ان سب سے کہتے ہوئے ایک آفیسر کو اشارہ کیا وہ آفیسر اشارہ ملتے ہی باہر کی طرف بڑھا
اور جب واپس آیا تو اسکے ساتھ 14 سال کہ ایک بلکل دبلا پتلا ڈھانچے جیسا بچہ تھا
اس بچے نے اندر آتے ہی سر اویس کے پیچھے جاکر کھڑا ہو گیا جیسے وہ سب ابھی ان پر تشدد کرنا شروع کر دیں گے
یہ انکا پہلا ایسا بچہ تھا جو انکے ایسے تشدد پر بھی بھاگنے کا سوچے بیٹھا تھا اسفند نے ایک مہینے بعد جہاں ان بچوں کو بھیکمانگنے کے لئے بٹھایا جاتا تھا وہاں ان دہشت گردوں کا ایک لڑکا پہرہ دیتا تھا
آپ وہاں سے کیسے بھاگے تھے بیٹا
ڈرو نہیں یہ سب آپکو کچھ نہیں کہے گے اس بچے نے ایک نظر سب کو دیکھا اور پھر سر اویس کے ساتھ روسٹرم پر چڑھ کر کہنا شروع کیا
ہم وہاں بیٹھا بھیک مانگ رہا تھا جب وہاں سے پولیس کا گاڑی گزرا ہم نے بنا ادھر ادھر دیکھے بھاگنا شروع کیا وہ لڑکا ہم سے بہت دور کھڑا تھا اس لئے ہم کو نہیں دیکھ سکا
بھاگتے ہوئے ہم ایک گاڑی کے ساتھ ٹکرایا تھا اسکے بعد ہم کو نہیں یاد کیا ہوا مگر جب ہمارا آنکھ کھلا تب ہم ایک شریف آدمی کہ گھر پر تھا وہاں وہ اور اویس بھائی سے ہم ملا اور ہم نے انکو سب بات بتایا وہاں کا
اور اب ہم یہاں ہے وہ بچہ خاموش ہوا تو سر اویس نے اسکو باہر لے جانے کا کہا
یہ بچہ ایک ماہ سے ہمارے پاس ہے شروع میں یہ بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا روتا رہتا تھا لیکن اب کافی حد تک ٹھیک وہاں ان بچوں کو زرا زرا سی غلطی پر مارا جاتا ہے جلایا جاتا ہے وہ بےرحم لوگ ہمارا مستقبل برباد کر رہے ہیں
اس دن یہ بچہ میرے دوست ڈاکٹر جمال کی گاڑی کہ آگے آگیا تھا لیکن انکے بروقت بریک لگانے سے بچ گیا زیادہ زخمی نہیں ہوا
اسکے باوجود اسفند کی حالت ایسی تھی کہ اسکو دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا تھا کہ اس بچے کو کوئی پریشانی ہے جمال صاحب اسفند کو ہسپتال سے اپنے گھرلے کر گئے
اورمجھے بھی بلوایا اور جب اس بچے نے اپنے بارے میں اور وہاں کہ اور بچوں کہ بارے میں ہمیں بتایا تو ہمارے رونگھٹے کھڑے ہو گئے اس بچے کی ہچکیاں اور سسکیاں ہمارا دل چیر رہی تھی آرہا
ہم اس بچے کو پولیس کہ حوالے کر سکتے تھے یہ کیس عدالتوں میں چلوا سکتے تھے لیکن یہاں بات صرف ایک بچے کی نہیں ہزاروں بچوں کی ہے یہ بچہ انکی تنظیم کہ بارے میں کافی کچھ جانتا تھا اور یہ ہمارے کیس کے لئے بہت فائدے مند تھا
سر اویس خاموش ہو گئے تھے جب ایک ہاتھ بلند ہوا
سر اویس نے ہاتھ اٹھانے والی کو دیکھا اور آنکھ کے اشارے سے اپنی بات پوچھنے کا کہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *