Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18
سر اویس اسکی باتیں سن کر افسردہ ہوئے تھے مگر وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے ابھی لیکن یہ کیس ختم ہوتے ہی انکا ارادہ تھا کہ اس بچی کہ والدین سے بات کی جائے
صفیہ آپ ایک قابل بچی ہیں آپ جیسی بچیوں کی قوم کو ضرورت ہے مجھے خوشی ہے آپ نے اپنے باپ کی باتوں کو دل سے لگا کر نہیں رکھا یا خود کو پاغل نہیں کیا آپ فکر نہ کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں
اور پلیز جب تک چاہے یہاں رہیں بس میری بیگم کو بھی سدھار دیں انکو بھی خاموش طبیعت کا بنا دیں سر اویس نے اپنی ابت کے اینڈ میں زونیرا بیگم کو چھیڑا جو بےحد غور سے انکی باتیں سن رہی تھی
اس بات کا کیا مطلب ہے میں کیا آپ کا سر کھاتی ہوں ہر وقت انہوں نے بھی اپنے پنجے تیز کیئے
نہیں بیگم میں آپکو کچھ کہہ سکتا ہوں میری کیا مجال میں کچھ ایسا بولو چلیں مجھے اجازت دیں سر اویس یہ کہتے ساتھ اٹھ کر کھڑے ہوگئے
یہ آپ اتنے دنوں بعد آئے ہیں اور اب پھر جارہے ہیں زونیرا بیگم نے افسردہ لہجے میں کہا
ہاں بیگم کل ایک جگہ ریڈ کرنی ہے اور پھر آپکو پتا ہے میں اپنے جوانوں کو اکیلا چھوڑنے والوں میں سے نہیں ہوں سر اویس یہ کہتے ساتھ صفیہ کی طرف مڑے جو سر جھکائے ہاتھ باندے کھڑی تھی
بیٹا ابھی آپ ادھر رہیں اکیلے مت نکلنا آپ اور پلیز ہوسکے تو میری بیوی کو بھی گھر میں روکنے کی کوشش کرنا کل کسی کو بھیج کر میں آپ دونوں کو مریم کے گھر بھجوا دونگا مگر آپ دونوں اس سے ہمدردی نہیں جتائیں گی بلکل نارمل انداز سے ملیں گی میری سمجھ گئی آپ دونوں سر اویس نے ان دونوں سے پوچھا جو خاموشی سے کھڑی تھی
جی دونوں یک زبان کہا
اوکے اپنا خیال دکھیئے گا آپ دونوں فی امان اللہ سر اویس سلام کرتے ساتھ باہر نکل گئے
پیچھے وہ دونوں کھڑی انکو دیکھ رہی تھی جو ملک کے بیٹے اس ملک کے رکھوالے
______________
نور احمد کے پیچھے تھی اور وہ سب سے پہلے اس گھر میں داخل ہوا ابھی تک باہر اندھیرا اور اس اندھیرے میں ہی وہ جانباز سپاہی اس ملک کے گند کو صاف کرنے نکلے تھے
کاشی چاروں طرف دیکھتا ہوا اندر کی جانب بڑھا گارڈ کو پہلے ہی ہٹوا چکے تھے اور کچھ دن سے اسکی جگہ انکا اپنا کوئی بندہ گارڈ کی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا
اسکے سارے آدمی دوسری سائیڈ پر ارد گرد پھیل چکے تھے وہ گھر دو منزلہ تھا باہر لان نہیں تھا انکا سیدھا گیٹ گھر میں کھلتا تھا گیٹ کی حالت عجیب و غریب سی تھی بلکہ اندر سے بھی وہ گھر بہت بوسیدہ حالت میں تھا
کاشان نے گھر میں قدم رکھتے ہی چاروں طرف ایک نظر دیکھا مگر وہاں مکمل خاموشی تھی جیسے ہی وہ آگے بڑھے اوپر سے فائیرنگ کی آواز آنا شروع ہوگئی وہ سب ایک دم سے ادھر ادھر ہوئے
کاشان بیچ میں کھڑے پلر کے پاس کھڑا ہو کر گولیاں چلا رہا تھا باقی کے لوگ بھی اپنی اپنی پوزیشن لے چکے تھے
دونوں طرف سے اندھا دھند فائیرنگ کی جارہی تھی انکے دو بندوں کو تو وہ مار چکے تھے باقیوں سے جنگ چل رہی تھی
انکے انداز سے ایسا لگ رہا تھا کہ انکو پہلے ہی مخبری کردی گئی تھی ورنہ وہ کیسے تیار بیٹھے تھے کہ انہوں نے اتنی خاموشی سے گھر میں قدم رکھے اور وہ لوگ انکو کوئی موقع دیئے بغیر فائیرنگ کر چکے ہیں
وہ لوگ ان لوگوں کی طرف متوجہ تھے کاشی کن اکھیوں سے دیکھ چکا تھا اوپر جانے کے دو راستے ہیں اور دوسرا راستہ صاف تھا وہاں کوئی بھی نہیں کھڑا تھا اسنے اپنے کان میں لگے آلے میں اسد کو اندر آنے کا حکم صادر کیا اور دو لوگوں کو اپنی گن پہ نشانہ رکھ کر اوپر کا ٹکٹ کٹوا دیا اسکے باقی کے کچھ سپاہی اوپر کی طرف بڑھ چکے تھے کچھ باہر سے جاکر کھڑکیوں کی طرف سے جارہے تھے
اسنے ان دو لوگوں کو مارنے کے بعد پیچھے مڑ کہ دیکھا کہ یہ وریشہ نور کہا ہے مگر ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ کسی کی بات مان لے جب وہ بنی ہی نہیں کسی کہ انڈر کام کرنے کیلئے تو کیسے خاموشی سے کرلیتی کاشان احمد نے ایک گہرا سانس اندر کی جانب کھینچا اور اوپر جانے والے راستے پر کھڑے لوگوں کو اپنی گن سے اڑاتا اوپر پہنچا
جہاں ایک الگ ہی ماحول بنا ہوا تھا نیچے وہ جتنی بوسیدہ حالت میں لگ رہا تھا اوپر اتنا ہی حسین تھا وہ گنے بغیر بتا سکتا تھا کہ وہاں بارہ سے چودہ کمرے ہونگیں انکے تقریبا سارے بندے وہ لوگ مار چکے تھے
جب ایک کمرے سے وری برآمد ہوئی
اور نہایت غصے میں بولی ان کتوں کو پہلے سے پتا تھا ہمارے آنے کا یہاں کوئی بچہ یا کوئی لڑکی نہیں ہے ان معمولی گنڈوں کے علاوہ اور ہم پچھلے آدھے گھنٹے سے یہان سر مار رہے ہیں
ایسا نہیں ہوسکتا آخر کون ہماری مخبری کر سکتا ہے کاشی نے ایک نظر ہم سب پر ڈالی اور یہاں وہاں چکر لگانے لگا ڈھونڈو کچھ تو ملے گا یہاں پر کچھ نہ کچھ ہونا چاہیئے باقی میں سر سے بات کرتا ہوں
920 میجر احمد آور کاشی نے اپنا کوڈ بولتے ہوئے کہا
بریگڈیئر اویس اسپیکنگ یس میجر کیا پروگریس ہیں وہاں کی
سر اچھی نہیں ہے یہاں سے ان بچوں کو لیکر چلے گئے ہیں وہ لوگ یا تو ہماری مخبری کی ہے یا کہیں کچھ مسینگ ہے کاشی نے پرسوچ انداز میں کہا
کاشی اس گھر کے نیچے کے حصے چیک کرو کیا پتا انکو کسی ایسے راستے سے لیکر جایا گیا ہو جس کا ہمیں علم نہ ہو
یس سر کاشی نے بلند آواز میں کہتے نیاحکم ان لوگوں کو دیا
نیچے کے کمرے چیک کرو زمیں دیوار ہر چیز اگر انکو آج ہی لے کر جایا گیا ہوتا تو ہمیں معلوم ہوتا کیونکہ یہان پر ہمارے سی ٹی وی کمرے لگے ہوئے ہیں چیک کرو کوئی نہ کوئی چیز ہم ضرور مس کر رہے ہیں
کاشی کا حکم ملتے ہی سب اپنے اپنے کام پر لگ گئے تقریبا بیس منٹ بعد بلال کی آواز اس گھر میں گونجی
سر یہاں پر ہے ایک راستہ
اسکی آواز سن کر اسد کاشی اور وری تینوں اسکی طرف بڑھے سر یہ دیوار ہے یہ دیکھے اسکو پش کرنے سے یہ کھل رہی ہے اور اس دیوار کے اندر ایک دروازہ تھا جو ساتھ والے بینگلو میں کھل رہا تھا
اس سوسائیٹی میں گنے چنے چار پانچ بینگلوز تھے اور شاید اس وقت وہ سب خالی تھے یا نیند کی گولیاں کھا کر سوئے ہوئے تھے تبھی گولیوں کی اتنی تیز آوازاور اتنے شور پر بھی نہیں جاگے
کاشی نے بغیر کچھ سوچے اس دروازے کے لاک پر نشانہ لگایا اور لاک ٹھک کی آواز کے ساتھ ٹوٹ کر انکی سائیڈ پر کھلا مگر اس دروازے کے پیچھے بھی ویسی ہی ایک دیوار تھی جیسی اس دروازے کے آگے تھی
یعنی یہ دیوار صرف اندر سے کھولی جا سکتی ہے اور اب میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ سارے بچے اس گھر میں موجود ہیں اور وہ ڈرپوک زلیل لوگ بھی
آپ سب اس گھر سے نکلیں اور ساتھ والے گھر کو اپنے انڈر میں لے اس گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیں کوئی بھی اس گھر سے نہ جائے گا اور نہ ہی آئے گا
اسکی بات سنتے ہی سارے سپاہی باہر کی طرف لپکے
اب وہ سب باہر کھڑے تھے جب کاشی نے اس گھر کے گارڈ کو سامنے سے ہٹنے کا کہا
صاحب اندر جانا ہے تو صاحب سے پوچھو انکی اجازت کت بغیر اندر جانا منع ہے کاشی نے رکھ کر اس گارڈ کے منہ پر لگائی اس سے پہلے وہ اسکو دیوانہ وار مارتا اسد نے اسکو پکڑ کے پیچھے کیا کاشی کیا کر رہے ہو یہ گھر اس ملک کے امیر ترین بندے کا ہے اور ہم ایسے ان پر حملہ نہیں کر سکتے سر سے کہو آڈرز دلوائیں اندر جانے کے تاکہ ہم انویسٹٰگیشن کر سکیں ر
کاشی نے تحمل سے اسکی بات سنی وہ ٹھیک کہہ رہا تھا اگر وہ یہاں کوئی ہنگامہ کرتا تو سب سے پہلے میڈیا نے یہاں آجانا تھا جو انکے لئے اچھا نہیں تھا زرہ بھی
سر ہمیں سفیر خواجہ کے گھر کی تاشی لینے کا آڈر چاہیئے اس کے بغیر ہمیں اندر نہیں جانے دیا جا رہا کاشی نے ادب سے کہا 2333
اوکے دس منٹ ویٹ کرو
اوکے سر
بریگڈیئر اویس نے فون کاٹ کر اوپر اپنے ماتحت کو فون کیا اور پھر انہوں نے منسٹر کے گھر پر فون کیا
وہاں کی بات سن کر انہوں نے سر اویس کو کال کی
بریگڈیئر صاحب آپ لوگ جھ۶رڑکیس یہی روک دیں منسٹر صاحب نے کہا ہے وہ صبح اس مسئلے پر بات کریں گیں
سر آپ ایسے کیسے کہہ سکتے ہیں میرے آفیسر رات جاگ کر اس ملک سے ان کتوں کو ختم کرنے کی کوششوں میں ہیں اور منسٹر صاحب صبح اس مسئلے کو دیکھٰیں گیں تب تک کیا وہ اس گھر پر پہرہ دیتے رہیں گیں
آپ ان سے بات کریں سر ایسا نہیں ہوسکتا اگر وہ لوگ ان بچوں کو کہیں اور شفٹ کردیا تو پلیز سر
سر اویس کی بات سن کر انکے سینئر آفیسر نے پھر ایک دفع رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر اس بار یہ کہہ کر فون رکھوا دیا گیا کہ پرائم منسٹر سو رہے ہیں ابھی
میں کچھ نہیں کر سکتا اس کے علاوہ اویس صاحب آپ یہ ریڈ روک دیں اس کے علاوہ کوئی چانس نہیں ہے ہمارے پاس انکی بات سن کر اویس صاحب نے بنا کوئی بات سنے کیئے فون رکھ دیا اور وری کو کال کی ان میں ہمت نہیں تھی کاشی سے بات کرنے کی مگر وہ بھول رہے تھے کہ کاشی پھر ان مسئلو کو سمجھ لیتا ہے مگر یہ لڑکی کبھی نہیں سدھر سکتی تو یہ کام کیسے چھوڑے گی
ورشی نور یہ کیس یہی بند کیا جا رہا ہے ریڈ روک دو اس گھر سے ہٹ جائو واپس آجائو اوپر سے آڈر ملا ہے
کیا مطلب ہے آپکا ساری بات بتائیں سر وری کے اتنا بولنے پر ہی سر اویس نے ساری بات اس کے گوش گزار کردی
سر ہم اتنے دنوں سے ہر چیز بھلوئے کتوں کی طرح ان لوگوں کے راستوں پر انکی ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اب وہ ہمیں پیچھے ہٹنے کا کہہ رہے ہیں اگر آج یہاں سے ہٹ گئے تو ان مائوں کہ دل کو ہم بھی مسل دیں ہم انکو ایک بار پھر تکلیف دیں گے ایسا کر کہ وہ جو ہم سے امید لگائے بیٹھی ہیں ٹوٹ جائیں گی
بس آپ اتنا بتادیں اگر ہم نے انکے آڈر کے خلاف جاکر کام کیا تو کیا ہمیں جیل میں ڈالا جائے گا یا سیدھا پھانسی پر لٹکایا جائے گا وری نے اینڈ پر اپنی سزا پوچھی
اس جاب سے نکال دیا جائے گا یا تمہیں بندی بنا لیا جائے گا کچھ بھی ہوسکتا ہے سر اویس نے آہستہ سے کہا
اچھا چلیں پھر میں کوشش کرونگی اندر ہی شہید ہوجائو بندی بننا زرہ مشکل کام ہے آپکو پتا ہے نہ کسی کی قید میں نہیں رہ سکتی میں بس آپ اتنا کروا دیں جب تک ہم ریڈ کریں گے تب تک آپ یہاں میڈیا کو نہیں آنے دیں گے
سر اویس اسکی بات سن کر مسکرائے اور محبت سے بولے
اوکے بیٹا مجھے فخر ہے اپنے ملک کی اس عظیم بیٹی اور ان عظیم بیٹوں پر جو خود کا سب کچھ دائو پہ لگا کر ملک کے لئے لڑنے کا جزبہ رکھتے ہیں انشاءاللہ تم سب کامیاب ہوکر نکلو گے
انشاءللہ سر بس میرے آنے کے بعد آپ نے ایک کام کرنا ہوگا کاشی کو میرے انڈر کام کروانے کا
اللہ حافظ سر وری نے بات کرتے ساتھ زور سے سلام کیا کان میں لگے آلے سے کال کاٹی اور ان سب کی طرف مڑی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شاہ میر لوگ سارے یونی فیلو کے ساتھ آج شملہ پہاڑی پر وزٹ کرنے گئے تھے وہ سب اس پہاڑی کو ہر زاویئے سے دیکھ رہے تھے اور اسکے ساتھ پکچرز لے رہے تھے
علماء اسکے ایک سائیڈ پر رک کر اس پہاڑی کو دیکھ رہی تھی وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ اسکا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا یہاں سے جانے کو شاہمیر لوگ آگے نکل گئے تھے تھوڑا سہ
وہ ابھی تک اس جگہ کو دیکھ رہی تھی جب اسکو اپنے کندھے پر کسی کہ ہاتھ کا دبائو محسوس ہوا وہ ایک جھٹکے سے پیچھے مڑی
اور اپنے سامنے فریحہ اظہر کو دیکھ کر حیران رہ گئی
فری اسکی حیرانگی محسوس کرچکی تھی اسی لئے فوران بولی
میں سوری کرنے آئی ہوں اپنے پچھلے رویے کی مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا آئیم سوری علماء میں وری سے بھی سوری کرنا چاہتی تھی مگر وہ تو گھر ہی واپسی چلی گئی ہے فری نے محبت سے اسکی جانب اپنا جال پھینکا
نہیں وہ اپنے ماموں کے ساتھ گئی ہے اپنے گھر نہیں پلیز تم گھر نہ فون کردینا اور جانے انجانے میں علماء غلط بات غلط بندی کو بتا چکی تھی
جسکی وجہ سے وری کی زندگی میں کتنا بڑا طوفان آنے والا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا ہم انسان بھی کتنے بےوقوف ہوتے ہیں کسی کہ ہنس کہ بات کرنے کو ہم اسکی اچھائی سمجھ لیتے ہیں
جیسے علماء اسکے معافی مانگنے کو اسکی شرمندگی سمجھ رہی تھی یہ جانے بغیر کہ وہ صرف وی کہ بارے مین پتا کرنے آئی تھی جس کے لئے اسکو کی ضرورت
احسن ولا میں آج زرہ رونق ہو نے والی تھی سب لوگ آفان اور ثناء کا انتظآر کر رہے تھے جو آج اپنے ہنی مون سے واپس آنے والے تھے
وہ دونوں مری سے نکل چکے تھے اسلامہ آباد سے انکی فلائٹ تھی کراچی کی اور انہیں ابھی ایک دو گھنٹے لگ جانے تھے مگر گھر کی خواتین ابھی سے کچن میں گھسی کھانا بنا رہی تھی
ان سب کو اب احساس ہورہا تھا کہ شاہمیر اور وریشہ کے ہونے سے کتنا شور اور مزہ رہتا تھا اور جب تک وہ یہاں تھے آفان کے جانے کا لگ ہی نہیں رہا تھا انکے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے اب تو فہد بھی خاموش ہی رہتا تھا
کیونکہ جسکی وجہ سے لڑا جاتا تھا وہ خود نہیں تھی اس لئے اب سکوں تھا گھر میں مگر ان لوگوں کو کہاں عادت تھی اس سکوں کی نمرہ بیگم تو تھک گئی تھی میرو اور وری کو واپس آنے کا کہہ کر مگر مجال ہے انکے کانوں پر جوں بھی رینگی ہو
اور آج جب آفان اور ثناء آنے والے تھے تو زرہ سکوں ہوا تھا ان سب کو کہ کچھ تو رونق ہوگی
بھابھی ایسا کرتے ہیں ٹرائفل بنا لیتے ہیں آفان کو بھی پسند ہے اور وری کو بھی ثمینہ بیگم نے پاس کھڑی نمرہ بیگم کو مخاطب کر کہ کہا
جو قورمے کے سالن میں اب چاول ڈال رہی تھی اسکو دم لگانے کیلئے
کیا فائدہ وہ تو ہے ہی نہیں سچی میں مجھے بھی بہت یاد آرہی ہے ثمینہ وری کی اسکے جانے سے تو ایسا لگ رہا ہے گھر سے رونق ہی چلی گئی ہے حسن صاحب بھی اتنے افسردہ سے رہتے ہیں نمرہ بیگم نے غمگین لہجے میں کہا
ظاہر سی بات ہے بھابھی آپکو پتا تو ہے اسکی بنتی بھی کتنی ہے حسن بھائی سے ثمینہ بیگم نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
ہاں نہ تمہیں یاد ہے جب ایک دفعہ یہ ایک لڑکے کو مار کر آئی تھی اور جب اسکی والدہ شکایت لے کر آئی تو اسنے کیا کہا تھا نمرہ بیگم نے جوش سے پوچھا
جی کیسے بھول سکتی ہوں
اس دن وہ اور میرو لیٹ آئے تھے اسکول سے جسکی وجہ راستے میں رک کر ایک لڑکے کی پٹائی تھی اور یہ بات شام کو سب کو پتا چل گئی تھی کہ اس نے ایک لڑکے کو مارا ہے
شام میں جب اس لڑکے کی والدہ گھر آئی تو نمرہ بیگم نے اسکو انکی والدہ کے سامنے ڈانٹنا شروع کردیا تھا وہ ایک عام ماں کی طرح تھی جو غلطی پر اپنے بچوں کو سب کے سامنے جھاڑ پلا دیتی سوائے اس وقت لحاظ کیئے جب وہ کسی ایونٹ پر گئے ہو
وری سوری کرو اس کو جلدی سے جب انہوں نے اسکو ڈانٹ لیا تو سوری کرنے کا کہا
وری نے اس لڑکے کی طرف دیکھ کر اسکو چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھا اور پھر کہنا شروع کیا
ویسے تو تم اس قابل نہیں کہ میں وریشہ حسن تمہیں سوری بولو نہ ہی مجھے کوئی شرمندگی ہے اور نہ میں تمہیں سوری بولنا چاہتی ہوں
لیکن یہ میری ماں کی خواہش ہے تو سوری لیکن اب تم بھی سوری کرو مجھے جلدی سے
حسن صاحب ایک صوفے پر بیٹھے یہ سارا تماشہ دیکھ رہے تھے وہاں میرو آفان کاشی حسن صاحب اور ثمینہ بیگم موجود تھی سحر بیگم اپنی امی کی طرف گئی ہوئی تھی اور رات کو یہ بات انکو بھی پتا چل گئی تھی
میں کیوں سوری کرو مینے کچھ نہیں کیا اس بچے نے سوری کرنے سے انکا کیا
بغیر سوری کہ تو تم نہیں جائو گے کیونکہ پہلے تم نے مجھ سے بدتمیزی کی تھی پھر مینے تمہیں مارا تھا وری کی بات پر میرو نے اثبات میں سر ہلایا تو اسکی امی نے اسکو بھی سوری کرنے کا کہا
