Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06
دو دن کی زندگی ہے
دو ہی اصولوں پر جیو
رہو تو پھول کی طرح
بکھرو تو خوشبو کی طرح
لڑکی والے آچکے تھے اور اب آفان جو ہلکے انگوری رنگ کے سوٹ میں گلے میں برائون دوبٹہ ڈالے بےحد پیارا لگ رہا تھا تو ثناء بھی پیلے شلوار قمیض میں میکپ سے پاک چہرے کے ساتھ بھی غضب ڈھا رہی تھی ان دونوں کو آمنے سامنے بٹھا دیا گیا تھا اور اب باری باری رسم کی جا رہی تھی پہلے سارے بڑوں نے پھر بچوں نے رسم کی
جن لڑکیوں نے صبح مہندی نہیں لگوائی تھی وہ اب مہندی لگوا رہی تھی باقی آفان اور ثناء کے اردگرد جمع تھی
آفی بھائی کیسی فیلنگز آرہی ہے یہ سوال مہرو نے کیا تھا جسکو اپنی رخصتی کی بڑی جلدی تھی مہرو اور رضوان کے نکاح کو دو سال ہو چکے تھے لیکن ابھی تک کوئی اسکی رخصتی کا نہیں کہہ رہا تھا اس وجہ سے وہ ہر کسی کی شادی کہ وقت اسکے جزبات کا پوچھتی تھی تاکہ اپنی مہندی پر وہ بھی ایسے ہی جزبات رکھے
جیسی بھی فیلنگز ہیں تمہیں کیوں بتائیں نظر لگا دینی ہے تمنے یہ بشراء تھی جو اسکو ہر معاملات میں بولتا دیکھ کر جل رہی تھی
تم تو جلتی ہی رہنا خود کو تو کوئی ملا نہیں اس لئے جل رہی ہو مہرو نے بھی دل کی بھڑاس نکالی
اللہ جھوٹ نہ بلوائے تم بھوتنی سے جلوگی میں شکل دھو رکھو میرے لئے تو کوئی کاشی جیسا آئے گا بشراء نئ کھئے ہوئے لہجے میں کہا
بیٹا بشراء اگر اسکو پتا چل گیا تمہارے جزبات کا تو اسنے شادی سے پہلے ہی رنڈوا ہونے کہ بارے میں سوچنا شروع کر دینا ہے آئی بڑی کاشی جیسا چاہیئے
وری بھی کیسے پیچھے رہتی آخر یہاں تو اسکے عزیز کزن کے بارے بات ہع رہی تھی کہا وہ اسمارٹ ہینڈسم اور کہا یہ موٹی بھینس وری نے جھرجھری لے کر کہا اور ویسے بھی کاشی کا نام لینے پر پتا نہیں کیوں اسے بشراء شدید غصہ آیا تھا
اور اس سے پہلے بشراء کوئی کرارا سہ جواب دیتی نمرہ بیگم نے وہاں آکر وری کی کلاس لینی شروع کردی تھی
وری تمنے مہندی کیوں نہیں لگوائی ابھی تک پہلے تیار دیر سے ہوئی ہو اور اب مہندی بھی نہیں لگوائی نمرہ بیگم بہت بھرہمی سے کہہ رہی تھی
ماما میں نہیں لگوائو گی مہندی اتنی دیر اسڑیچو بن کر بیٹھے رہو اور اگر زرا سہ بھی ہلو تو وہ لڑکیاں شور مچانہ شروع کر دیتی ہیں کہ آپ پلیز ہلے مت پلیز آہستہ سانس لیں ورنہ کچھ دیر سانس روک کر بیٹھ جائیں وری نے انکی نقل اتارنے کہ انداز میں کہا اب بھلا سانس بھی نہ لوں میں اور ماما میں تو ویسے بھی 3 منٹ مشکل سے سکون سے بیٹھتی ہوں کہا آدھا گھنٹہ بیٹھ کر مہندی لگوائو
ساری لڑکیا لگاتی ہیں تم کوئی انوکھی نہیں پیدا ہوئی ہو نمرہ بیگم نے جھاڑ دیا تھا وری کو
او ماں یہ سب اپنے لئے نہیں اپنے شوہر اور ساسوں ماں کہ لئے مہندی لگاتی ہیں لکھ لیں میری بات وری نے آرام سے ان سب کی طرف اشارہ کیا
کیوں لگواتی ہیں ان سب کیلئے نمرہ سوالیہ انداز میں اسکی جانب دیکھا
تاکہ یہ اپنے شوہروں کو مٹھی میں کر سکیں یہ انکی ساس انکے ہاتھ دیکھ کر ان پہ فدا ہو جائے اور جلدی سے شادی کروالے مہرو نے ابھی خود یہ بات کہی تھی اس لئے مجھے ایسے نہ گھورے وری نے فورا ہاتھ اور اوپر اٹھا کر صفائی پیش کی
مینے کب کہا تھا یہ کتنی جھوٹی ہو وری تم مہرو فورا سے اسکی غلط بیانی پر تپ گئی
یار میں تمہارا دکھ سمجھتی ہوں اس لئے اس بار میری جگہ میرو مہندی لگائے گا وری نے فورا میرو کو پھنسانے کی کوشش کی مگر آگے بھی اسکی ماما تھی
تم دفع ہوری ہو یہ میں جوتا اتارو نمرہ بیگم نے زرا سختی سے کہا
اللہ اکبر ماما کوئی کہہ سکتا ہے کہ آپ پڑھی لکھی ایک بڑے بزنیس مین کی بیوی ہیں افففف آپکی بیزتی کرنے والی زبان کوئی سن لے تو خودکشی کر لے وری نے ڈرامائے انداز مین کہا اور مہندی لگانے والیوں کی طرف جانے لگی کہ پیچھئ سے بشراء کی آواز آئی
پھر بھی تمنے نہیں کی کوئی انوکھا ڈھیٹ پیس ہو کہ اتنی بیزتی کہ بعد بھی نہیں مری
اسی سے اندازہ لگالو کہ میں تمہاری ہی کزن ہو بشرا کیونکہ تم بھی اپنی اماں کی بیستی سن کر نہیں مری وہ تو میری ماں سے زیادہ بیستی کرتی ہیں نہ تمہارا کیا خیال ہے مہرو وری نے اسکا بدلہ پورا کرتے ہوئے میرو سے رائے مانگی اسکو کیا چاہیئے تھا اپنا بدلہ لینے کا موقع مل رہا تھا جھٹ سے بولی
تمہاری ہم خیال ہو وری آج پہلی بار مجھے تم پر بہت پیار آرہا ہے مہرو نے اسے محبت سے دیکھتے ہوئے کہا
نوازش پیار کےلئے ملتے ہیں اب میدان میں پارٹنر وری نے سلوٹ مارا جس کے جواب میں وہاں موجود اسکی ٹیم کے لوگوں نے بھی اسکو سلوٹ مارا
وری وہاں سے مہندی لگانے والی لڑکی کے پاس گئی جو ابھی فارغ تھی اسکے سامنے اپنے دائیں ہاتھ کی سیدھی ھتیلی کی اور زرا روب سے بولی
تمنے صرف ایک ہاتھ پہ مہندی لگانی ہے وہ بھی 7 منٹ میں 8 منٹ پر مینے بھاگ جانا ہے یہاں سے
اور علماء زرا کچن سے ایک سیب لے آئو مجھے لگتا ہے مجھے وٹامن کی کی کمی ہو رہی تھی وری نے اس لڑکی کو روب دکھانے کہ بعد پاس کھڑی علماء کو زرا پیار سے حکم دیا
علماء اور ارشاء شام 6 بجے سے آئی ہوئی تھی اس لئے وہ اور ارشاء دونوں اسکو آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی کیونکہ یہ اسکا 7 یا 8 سیب تھا
وری یہ سیب جا کہا رہے ہیں میں تو ایک مشکل سے کھاتی ہوں اور مہیں ہر تھوڑی دیر بعد یاد آجاتے ہیں سیب کھانے علماء کی آواز میں شدید حیرانگی تھی تو ارشاء بھی شاک کہ عالم میں اسکو دیکھ رہی تھی
بس تم لوگوں کی یہ ندیدی آنکھیں ہیں جسکی وجہ سے میں موٹی نہیں ہو پارہی اور اب ایسے گھورو نہیں پلیز سیب لا دو ایک تو صبح سے کسی نے کھانے پینے کا بھی نہیں پوچھا اوپر سے یہ لوگ آنکھیں دکھا رہی ہیں
علماء نے اسکی بات پوری ہونے سے پہلے کچن کی طرف چلی گئی اور ارشاء بھی ادھر ادھر ہو گئی
کیونکہ ان دونو کو پتا تھا اس بولنے والی مشین کو وہ چپ نہیں کرا سکتی تھی اس لئے خود ہی وہاں سے ہٹ گئی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سب لوگ باہر لاں میں تھے علماء نے کچن میں آکر آہستہ سے فریج کھولا اس سے پہلے وہ سیب نکالتی
کسی نے پیچھے اسے بہہو کیا
علماء اپنی جگہ سے اچھل گئی تھی پیچھے مڑکر دیکھا تو شاہ میر کھڑا دلکشی سے مسکرا رہا تھا
اس دن سے وہ اور ارشاء میرو سے ناراض تھے اور آج ہی اس سے براہراست ملاقات ہو رہی تھی
کیسی ہو میرو نے محبت سے پوچھا
جیسی بھی ہوں تم سے مطلب اپنے کام سے کام رکھو مسٹر شاہ میر علماء نے بھی آج بنا لحاظ کہ جواب دیا جس پر میرو کہ چہرے کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی
یار اب تو میرے سارے مطلب تم سے ہی ہیں اور یار اس دن میں غصے میں تھا اس لئے تمہیں اور وری کو ڈانٹا تھا پلیز اب معاف کردو یہ دیکھو ہاتھ جوڑ رہا ہوں
میرو نے با قاعدہ ہاتھ جوڑلیئے تھے اسکے سامنے
ہننہ اب یاد آئی ہے معافی مانگنی 3 دن بعد اس سے پہلے تو یاد ہی نہیں ہونگی علماء کہ منہ سے بےساحتہ شکوہ نکلا تھاجس پر میرو محفوظ ہوا
نہیں یار تم مجھے بھولتی ہی نہیں تھی تو یاد کیسے کرتا میرو کہ لہجے اور آنکھوں میں سچائی تھی
اب بتائو ناراض تو نہیں ہو میرو نے نرمی سے پوچھا اسکی آنکھوں کی نرمی اور لفظوں کی مظبوتی اسے پگھلا رہی تھی اسنے بے اختیار سر نفی میں ہلایا
اچھا یعنی اب بھی ناراض ہو میرو نے اسکو چھیڑا
نہیں تو اب نہین ہوں ناراض علماء نے نطریں جھکا کر کہا
اچھا پھر بات کرو ممی سے اپنی اور تمہاری میرو نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے سوال کیا
کیا میں انتظار کرو تمہاری ممی کے آنے کا علماء نے اسکے سوال کے جواب میں الٹا سوال کردیا
میرو نے کچھ دیر اسے اپنی نرم گرم نظروں سے دیکھا اور پھر سینے پر ہاتھ باند کر زرا سہ اسکے کان کے قریب جھکا اور دلکشی سے کہا
وعدہ رہا زیادہ انتظار نہیں کروائو گا تمہیں میرو نے اتنا کہا اور کچن سے نکلتا چلا گیا علماء نے کچھ دیر رک کر اپنی سانسیں بھال کی اور بنا سیب لئے باہر اگئی اتنے بہترین اظہار پر کس شخص کو کچھ اور یاد رہنا تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسلام وعلیکم میجر کیسے ہو بریگڈیئر اویس نے اپنے اس نوجوان کا بہت پرجوش انداز میں استقبال کیا حال میں ہی اسے یہ عہدا ملا تھا جس کہ ساتھ اسکی پوسٹنگ بھی کراچی میں ہوئی تھی اسنے بہت کم عرصے میں یہ سب حاصل کر لیا تھا صرف اپنی محنت ٭سچے جزبے اور ایمانداری کی وجہ سے جسکی وجہ سے اسکو اتنی زیادہ عزت دی جا رہی تھی اسکی ایمانداری کی وجہ سے
وعلیکم اسلام میں ٹھیک ہو سر آپ کیسے ہیں اسنے ادب سے پوچھا کیونکہ اس مقام تک لانے میں انکا بھی ہاتھ تھا
میں بھی فٹ ہو تم سے ایک ضروری مسئلے پر بات کرنی تھی میں جانتا ہوں تم ابھی چھٹیوں پر ہو مگر یہ کیس بہت ضروری ہے ابھی فلحال میں کیس کہ متعلق تشویش کر رہا ہو جیسے ہی کیس کے بارے میں چلے گا تو مجھے یہ کیس کسی کے لئے کسی کو ہائر کرنا ہوگا اکر تم 3 دن اور چھٹیاں گزار کر باقی کی 10 چھٹیاں ختم کروا کر مشن کرنا چاہتے ہو تو بتائو کیونکہ یہ مشن بہت مشکل ہے
سر آپ پوچھا نہ کریں حکم دیا کریں اور ویسے بھی میرے لئے میرا وچن پہلے ہے میں چھٹیاں بھی ختم کروا کر جاپ پر واپس آنا چاہتا ہون
میں جانتا تھا تمہارا جواب لیکن ابھی چھٹیاں ختم کروانے کی ضرورت نہیں ہے جب تک کیس کے متعلق پتا نہیں چل جاتا ابھی اس بارے میں کسی کو نہیں پتا ورنہ تم جانتے ہو ہمیں اس کیس پر کام نہیں کرنے دیا جائے گا
سر ویسے یہ ہے کس کے خلاف دہشت گردی یا ابھی اس آفیسر کی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ بریگڈیئر اویس نے اسے توک دیا
میجر ابھی میں کچھ نہیں بتا سکتا جب تک ساری صیح انفارمیشن میرے پاس نہ آجائے
اوکے سر آپ مجھے انفارم کر دیجیئے گا ابھی میں چلتا ہو اللہ حافظ
اوکے جوان اللہ حافظ
اس میجر کے نکلتے ہی اویس صاحب کہ چہرے پر گہری تھی جیسے وہ بہت کچھ سوچ رہے ہو اس کیس کے بارے میں انکے لہجے سے بھی لگ رہا تھا کہ وہ بہت کچھ جانتے ہیں مگر ابھی بتانا نہیں چاہتے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وری نے صرف سیدھے ہاتھ کی ہتیھلی پر مہندی لگوائی تھی اور جیسے ہی وہ کمپلٹ ہو ئی اسنے اندر کی طرف دوڑ لگائی کیونکہ نمرہ بیگم سے کوئی امید نہیں تھی کہ اسکو پھر سے بٹھا کر اس ہاتھ کی الٹی سائیڈ پر بھی مہندی لگوا دیتی
وہ جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی ایک ہاتھ میں اپنا فراق پکڑا ہوا تھا اور دوسرے کو ایسے ہوا میں لہرا رہی تھی جیسے پاکستان کا جھنڈا پکڑا ہوہاتھ میں اس وجہ سے وہ آخری سیڑھی پر کھڑے اسکی طرف پشت کیئے اپنا کیمرہ سیٹ کرتے کاشی کو نہیں دیکھ سکی اور سیدھا اسکی پشت سے ٹکرائی اس سے پہلے کہ وہ لڑکتی ہوئی پہلی سیڑھی پہ جاکر اس سیڑھی کو سلامی پیش کرتی کاشی نے اسکو بازئو سے پکڑ کر اپنی طرف
کھینچا وری اس سچویشن کیلئے تیار نہیں تھی سیدھا اسکے سینے سے ٹکرائی اور خود کو بچانے کیلئے وہ ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی وری نے اپنے مہندی والے ہاتھ سے اسکی نئی قمیض پکڑ لی تھی
وہ ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی کیونکہ اگر وہ گر جاتی تو ہاتھ یا پائو نے تو لازمی ٹوٹ جانا تھا وری آریو اوکے کاشی نے نرمی سے اسے پکارا
وری نے آہستہ سے سر اٹھایا اور اسکی برائون آنکھون میں جھانکا
جہاں اسکے لئے بے پناہ نرمی تھی
اففف کاشی اگر میں گر جاتی تو ابھی تم لوگ آفی کی مہندی کا کھانا کھانے کے بجائے میری میت کی دیگ کھا رہے ہوتے اور تمہیں کیا ضرورت تھی لنگورو کی طرح بیچ میں کھڑے ہونے کی وری نے اسکو جھاڑ پلائی اور جھرجھری لے کر کہا وہ سنبھل گئی تھی مگر اب بھی کاشی کی شرٹ اسکے ہاتھ میں تھی اور وری کے بازو کاشی کہ ہاتھ میں
میں کیسے گرنے دیتا تمہیں وری اگر تم گر جاتی تو ہمارا کیا ہوتا اور ویسے بھی تمنے اتنی جلدی ہماری جان نہین چھوڑنے والی کاشی مزاحیہ انداز میں کہا
ہاں تو کیوں چھوڑو میں تم لوگوں کی جان مین تو نہیں چھوڑنے والی جب تک تمہارے اور میرو کہ پوتا پوتی نہ دیکھ لوں وری نے بنا لحاظ کہ کہا
تو کون کافر چاہتا ہے کہ تم اسکی جان چھوڑو میں تو نہیں چاہتا تو پھر بتا ئو کیا کیال ہے رہو گی میرے ساتھ کاشی کے لفظوں میں جتنی نرمی تھی آنکھون میں اتنا ہی جزبات کا سمندر ہچکورے لے رہا تھا
اسنے کبھی اس سے ایسی بات نہیں کی تھی وری نے اسکی آنکھوں میں دیکھا اور اسے لگا
آج پہلی بار اسے کاشی کی آنکھیں ایکسٹرا چمکتی ہوئی لگی تھی وہ مبہوت سی اسکو دیکھ رہی وہ جو جواب میں کچھ بولنے والی تھی اپنی بات ہی بھول گئی اوراس پل وری کو لگ رہا تھا وہ اسے اپنی آنکھوں کہ زریعے ہیپنوٹائیز کر رہا ہے اور ابھی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسکو اپنی حالت پر ایک شعر یاد آرہا تھا
اس شخص نے آنکھوں سے تبلیغ ہی یوں کی کہ”
“میں بنا سوچے سمجھے محبت پر ایمان لے آئی
کاشان کی انکھوں میں صرف محبت ہی نہیں نرمی اور سب سے بڑھ کر احترام تھا وری کے لئے وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہا تھا مگر ان آنکھوں میں بے حیائی نہیں تھی عورت اپنی طرف اٹھنے والی ہر نگاہ کو پہچانتی ہے اور وری بھی ان آنکھوں کہ اھترام پر مر مٹی تھی مگر وہ ظاہر کرنے والوں میں سے نہیں تھی
اسکی دھڑکنیں 120 کی سپیڈ سے دوڑ رہی تھی کہ اسے خود بھی اپنی دھڑکنوں کی آوازیں آ رہی تھی اور آج زندگی میں پہلی بار وہ کاشی سے آنکھیں نہیں ملا پا رہی تھی اسکی پلیں حیا سے جھگ گئی تھی
اور کاشی کا اسکو یوں وارفتگی سے دیکھنے کی وجہ سے اسکے چہرہ لال سرخ ہوگیا تھا یہ منظر نہایت دلکش لگ رہا تھا کاشہی کو کہ وہ اسکو بنا پلک جھپکائے دیکھے جا رہا تھا
وری نے بنا کچھ کہہے کاشی سے اپنے بازو چھڑوائے اور اوپر اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی دروازے کو کنڈی لھائی اور وہی اسکے ساتھ ٹیک لگا کر گہرے سانس لینے لگی کاشی نے اسے جاتے ہوئے دیکھا اور جیسے ہی وہ کمرے میں بند ہوئی بے اختیار اسکے ہونٹوں پر دلکش مسکراہت رینگ گئی ۔
Episode 6
میری آنکھوں میں امڈ آیا ہے دل کا
پھر کہیں ٹوٹ گیا ہو کنارا دل کا
بس محبت سے روایات ہے کہانی دل کی
چار حرفوں سے عبادت ہے فسانہ دل کا
لان میں آفی اور ثنا کی سب رسمیں ہو چکی تھی کھانا بھی کھا لیا تھا سب نے اور اب جوان پارٹی لان میں تھی بڑے سارے چیئرز پر بیٹھے تھے اور نوجوان زمیں پر 2 رائونڈ تھے ایک شعرو شاعری کااور دوسرا ڈانس کا ایک ٹیم وری کی تھی اور دوسری میرو کی وری نے اپنی ٹیم میں مہرو بشراء علماء ارشاء اسد عاقب بھائی اور کچھ اور لوگوں کو لیا
کاشی اسکو آنکھوں سے اشارہ کر رہا تھا کہ اسکو بھی اپنی ٹیم میں لو مگر وری نے اسکو نہیں لیا بلکہ زبان دکھا کر کہا کہ میں تم سے ابھی ناراض ہو کاشی کو بہت غصہ آیا تھا کہ اگر اسکو نہیں رکھ رہی تو اسد کو بھی نہ رکھتی مگر وری کون سہ کسی کی سن نے والی ہے ایک تو اتنے عرصے بعد ایسے ملاقات ہو رہی ہے اسد سے تو وہ کیوں نہ رکھی اسےاپنی ٹیم میں
کاشی اور اسد کی آپس میں کوئی دشمنی نہیں تھی وہ صرف بچپن میں ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے تھے لیکن اب وہ اچھے سے ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے لیکن کاشی کو صرف اسد کا ہی نہیں کسی بھی لڑکے اسکی ٹیم میں ہونا برا لگ رہا تھا ہاں اگر وہ وہاں ہوتا تو وہ لڑکے بھی ضرور بیٹھتے مگر اب کیوں بیٹھے ہیں بے شرم حناکہ ابھی وہ خود بھی اس کے پاس بیٹھنا چاہتا تھا مگر وہ خود بے شرم نہیں تھا لیکن وری کی ٹیم میں موجود سب لڑکے اسے بے شرم لگ رہے تھے
یہ خاندان کی پہلی شادی تھی اس لئے بڑے بوڑے بھی بنا ٹائم اور اپنی نیند کی پرواہ کیئے بیٹھے تھے جج بھی بڑوں کو بنایا گیا تھا کیونکہ وہ ایمانداری سے فیصلہ کرتے ہیں یہ بھی وری کی فلوسفی تھی
ان لوگوں نے ایک دوسرے کی ٹیم کو ایک ورڈ دینا تھا اور ان لوگوں نے پھر ایسا شعر پڑھنا تھا جس میں وہ شعر آتا ہو شعر سنانے کے لئے ان کے پاس 20 سیکنڈ کا ٹائم تھا اگر وہ اس ٹائم میں شعر نہیں سنا ئے گے تو انکی ٹیم کو نمبرز نہیں ملیں گے
پہلا ورڈ میرو کی ٹیم سے رضوان بھائی نے دیا تھا “سمجھ” اب انکی ٹیم نے 20 سیکنڈ میں اس لفظ کا شعر سنانا تھا
وری 10 سیکنڈ سوچااور پھر سنانا شروع کیا
عشق کو وری نے ایک لفظ پڑھ کر ان سب کے تعصورات دیکھے کاشی اسکو محبت سے جبکہ میرو اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا باقی سب کا بھی یہ ہی حال تھا
وری نے باقی کا شعر پورا کیا
عشق کو چارہ سمجھ کر ہر گدا چرنے لگا
عشق کو سمجھا نہیں عاشقی کرنے لگا
وری اتنے دلفریب آواز میں شعر سنا رہی تےھی کہ سب نے انجوائے کیا اور پھر قہقوں کا طوفان اٹھا تھا اسنے ان سب کو گدے سے ملا دیا تھا اسکی ٹیم کو 5 پوائنٹ مل چکے تھے اب وری کی ٹیم نے ورڈ دیا ” بدالزام ” اب میرو کی ٹیم سے رجوان بھائی نے شعر سنا یا
جوانی درحقیقت میں بد الزام ہوتی ہے
نظر جتنی بھی ہو بد نام ہو تی ہے
ان کا شعرسن کر وری لوگوں نے شور مچایا دیا تھا اوہہہہہہ کتنا بورنگ شعر سنایا ہے انہوں نے بھی جواب میں انکے شعر کو بے ہودہ کہہ کر حساب برابر کیا
اور پھر باری باری سب شعر سناتے رہے دونوں ٹیمیں برابر چل رہی تھی اب ورڈ ضمانت میرو کو ملا تھا
زندگی کسی کی امانت نہیں ہوتی”
امانت میں کبھی خیانت نہیں ہوتی
دل زرا دیکھ کر لگانا اے دوست
“کیونکہ عشق کی قید میں ضمانت نہیں ہوتی
اسکے بعد میرو نے ورڈ دیا علماء کو “مار” علما نے 25 سیکنڈ بعد شعر سنایا
لگا کر عشق کی بازی سنا ہے روٹھ بیٹھے ہو”
“محبت مار ڈالے گی ابھی تم پھول جیسے ہو
“اب ایک ورڈ کاشی کو دیا تھا مہرو نے “زات
اسے سونپ دوں اپنی یہ منتظر آنکھیں
وہ میری کھوج میں جانے کا فیصلہ تو کرے
وہ وری کو دیکھ رہا تھا اور اب وری کا دل چاہ رہا تھا تھوڑی سی بےایمانی کرنے کو اسنے کاشی کی
آنکھوں میں آنکھیں گاڑ دی تھوڑی دیر پہلے کاشی نے اسے اپنی آنکھوں سے ہیپناٹائیز کیا تھا اور اب وہ کر رہی تھی
کاشی اسکی آنکھوں مین دیکھ کر شعر پڑھتے پڑھتے خاموش ہو گیا تھا اب وہ اسے دیکھے جا رہا تھا جو اسکو اپنی ہری آنکھوں سے مبہوت زدہ کر دیا تھا
وری کی ٹیم نے گنتی گننا شروع کی لیکن وہ بلکل ساکت سہ اسکو دیکھ رہا تھا جیسے اسکا ٹائم پورا ہوا وری نے شور مچا دیا آوٹ ہو گئے کاشی نے شعر نہیں پڑھا اب ہم تمسے آگے ہیں
ابھی تمہاری آخری کھلاڑی رہتی ہے اگر اسے بھی شعر نہیں آیا تو ڈرا ہو جائے گا میچ میرو اپنی ٹیم کا دفاع کر رہا تھا جب رضوان بھائی نے بولنا شروع کیا
وری نے چیٹنگ کی ہےمیں نہیں مانتا
ہمنے کوئی چیٹنگ نہین کی اب ہار رہیں ہیں تو دیکھو کیسے رو رہیں ہیں اللہ نہیں روئے رضوان بھائی پلیز جائو مہرو اپنے میاں کے لئے فیڈر لائو وری بھی خود میدان میں اتر آئی تھی
اور کاشی بیچارا تو ابھی تک شاک میں تھا کہ وری نے اسکو الو بنا دیا تھا لیکن جب اسکی آنکھیں آئی تصور میں تو اسکے ہونٹو پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی اسنے آہستہ سے کود سے کہا
یہ لڑکی کسی کو بھی دیوانہ کر سکتی ہے مجھے سنبھل کہ رہنا ہوگا ورنہ تو اسکی آنکھوں نے ہی قتل کر دینا ہے میرا
” اب رضوان نے مہرو کو لفظ دیا تھا ” باپ
مہرو نے 18 سیکنڈ کا ٹائم لیا تھا کیونکہ اسکے زہن میں کوئی شعر نہیں آرہا تھا اور اب اس نے سنانا شروع کیا
نا دیکھ حسینوں کو عزاب ہوگا
ایک دن تو بھی کسی حسینہ کا باپ ہوگا
اس سے پہلے مہرو اپنا شعر پورا کرتی رضوان نے اسکی آخری لائنوں میں اپنے لفظ ڈال کر شعر پورا کر دیا
خدا کرے تیری زبان سچی ہو
مجھے باپ کہنے والی تیری بچی ہو
ہال میں قہقوں کا طوفان اٹھ گیا تھا اور بی چاری مہرو شرم سے دہری ہو گئی تھی سب لوگ ہنس ہنس کے لوٹ پھوٹ ہو رے تھے
وری نے اپنی ہنسی کے دوران رضوان کو مخاطب کیا
رضوان بھائی یہ تو پہلے سے ہی اپکی ہے تو یہ اعلان ہمارے سامنے کیوں کر رہے ہیں اپنی امی سے کہے کے اب انتظار نہیں ہو رہا رخصتی کروائیں آپکی
مجھے بھی لگتا ہے رخصتی کروانی پڑھے گی ویسے بھی میری منکوحہ کو بڑی جلدی ہے شادی کی
مہرو تو شرم سے سرخ ہوئی تھی وہ تو صرف مزاق میں رخصتی کا کہتی تھی اسے کیا پتا تھا رضوان سب کے سامنے کہہ دے گا
پہلا رائونڈ لڑکیا جیت گئی تھی اور اب دوسے رائونڈ کی باری تھی ڈانس کی لان میں ہی ایک سائیڈ پر ڈانس فلور بنایا ہوا تھا جس پر گانا گانے کا بھی انتظام کیا ہوا تھا
پہلے ڑکیون نے ڈانس کیا جن میں مہرو بشراء ارشاء اور کئی اور لڑکیا بھی تھی وری اور علماء کو ڈانس کی الف بے بھی نہیں پتا تھی اگر وہ ڈانس فلور پہ چڑھ جاتی تو لوگوں نے ہسن ہنس کر لوٹ پھوٹ جانا تھا
لڑکیوں کہ بعد اب لڑکوں نے ڈانس کرنا تھا پہلے کاشی اور میرو نے صرف پیرو کا ڈانس دکھا یا پھر بریک ڈانس اور اب اسد اور رضوان اور کاشی اور میرو نے کپل ڈانس کیا
کاشی نے میرو کا ایک ہاتھ اپنے کندھے پہ رکھا اور دوسرا اپنے ہاتھ میں پکڑا اب وہ اسے آہستہ آہستہ ڈانس کروا رہا تھا
اب اسنے اسے گھما کہ اپنے ایک ہاتھ سے دور کیا اور پھر اپنے اسی ایک ہاتھ پر واپس لے کر آیا اور نیچے جھکایا وہ بلکل رومنٹک کپل لگ رہے تھے سب لوگوں کہ چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ تھی
میرو نے ان سب کو ہنسانے کے لئے تھوڑا سہ اوپر اٹھا اور کاشی کہ بائیں گال کو چوما
میرو کی اس حرکت پر وہاں پیٹھے لوگوں کو ہنسی کے دورے پڑھ گئےتھے لیکن اسکی اس حرکت پر کاشی نے جو اسکو پکڑا ہوا تھا فورا چھوڑا جسکی وجہ سے وہ دھڑ سے نیچے گرا
سالے میں صرف ڈانس کروا رہا تھا اور تو رومینس بھی جھاڑ رہا ہے
کاشی نے اسکو گھور کر دیکھتے ہوئے کہا
یار کاچی مینے پیار سے چوما تھا تیرا گال لیکن اب لگ رہا تم اسقابل ہی نہیں تھے میرے پیار کے میرو نے اٹھتے ہوئے اپنی پیٹ دبائی جو نیچے اسٹیج پر زور سے لگی تھی
چل ادھر سے اپنی بیوی کو دینا اتن اپیار مجھے نہ دو ہر گز سارے گال پہ اپنا گندا تھوک لگا دیا ہے آخ آخ آخ کاشی نے اپنا گال رگڑتے ہوئے کہا
لیکن پیچھے سے وری نے آکر اسکو بازو سے پکڑ کر گھمایا اور جوش سے بولی یار کیا ڈانس کیا ہے میرو کہی کلب ولب تو نہیں جاتے تم
لو ایک اور آگئی نہیں جاتا بہی بس ویسے ہی آتا ہے میرو نے گردن اکرا کر کہا
وری میری بھی تعریف کردو مینے بھی کیا ہے دانس ورنہ یہ اکیلے کیا کرتا
ہاہاہا یہ بھی ہے تمنے بھی میدان مار لیا ہے کیونکہ یہ رائونڈ لڑکے ہی جیتے ہیں وری کی بات پر میرو نے اسےاپنے بازو میں اٹھا کر گھما ڈالا اور اس چیز پر وہاں بیٹھے سب لوگ حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے
وری کو نیچے اتار کر جب انہوں نے باقیون کی طرف دیکھا تو وہ اسے انکھین پھاڑ کر دیکھ رہے تھے جن میں کاشی بھی شمار تھا وری نے آہستہ سے میرو کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹایا اور ایک چھبتی ہوئی نظر ان سب لوگوں پر ڈال کر خود اٹیج کہ ایک طرف بنےمائیک اسٹینڈ کی طرف بڑی
اسنے مائیک کے آگے پہنچ کر ہلکا سہ مائیک میں کنکھار کر چیک کیا کہ مائیک آن ہے یہ نہیں پھر آہستہ سے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا
اسلام وعلیکم میں آج اپنے بارے میں کچھ بتانا چاہتی ہو میں ورریشہ حسن صرف حسن زیدی کی ہی نہیں احسن زیدی کی بھی اولاد ہوں آج جو آپ لوگ میرے میرو کے اتنی فریکنس کو حیرت بلکہ شاک سے دیکھ رہیں کہ ایک غیر مرد نے مجھے اٹھایا حناکہ ایسا نہیں ہے میں میرو کی دودھ شریک بہن ہوں وہ میرا محرم ہے سگا نہ سہی سوتیلا بھی نہیں ہےکچھ دن پہلے ایک لڑکی نے مجھے اسی بات کا تانہ دیا تھا لیکن آج میں حیران ہو کہ ہہماری سوچ کتنی گندی ہے
اگر ہم کسی لڑکی کو کسی بھی مرد کہ ساتھ دیکھ لیں تو کہتے ہین کہ شاید انکا کوئی چکر ہو یہ اگر کوئی لڑکی کسی لڑکے کہ ساتھ بائیک پہ جا رہی ہے توسب سے پہلا خیال ہمارے دماغ میں یہ آتا ہے کہ شاید یہ فیانسے ہو یا بوائے فرینڈ ضروری نہٰں ہے کہ وہ کوئی فیانسے ہو کیا پتا بھائی ہو کیا پتا شوہر ہو ہم جانتے نہیں ہیں کہ وہ کون ہے پھر بھی غلط مطلب نکال کر اس لڑکی کو بے حیا یا بے شرم بنا ڈالتے ہیں اللہ اس چیز پر بہت ناراض ہوتا ہے کیونکہ ہم اپنے خیالات میں اس پر بیتان لگا رہے ہوتے ہیں
سو پلیز ایسا نہ کیا کرے جب تک اسکے بارے میں سچ نہیں جان لیتے کوئی غلط رائے یہ غلط بات نہ کہیں اسکے بارے سوری آپ سب کا تھوڑا سہ ٹائم ویسٹ کر دیا مگر یہ میرا کام تھا آپ کو بتانا کیونکہ میں اپنے کردار پر زرا سی بھی بات نہیں برداشت کرون گی
وری اتنا کہہ کر استیج سے اترنے والی تھی جب کاشی نے آہستہ آہستہ اپنے ہاتھو کی تالی بجانا شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے سب نے تالی بجا کر اسے داد پیش کی
اب تمنے اتنی اچھی تکریر کی ہے تو چلو ایک گانا بھی سنادو اپنی بے سریلی آواز میں میرو نے ماحول کو پھر سے مزاحیہ بنانے کے لئے کہا
میں نہیں سنا رہی تم کمینوں نے فالتو میں میری خوبصورت آواز کا مزاق اڑانا ہے وری نے بھی ہری جھنڈی دکھائی
اب سنا دو زیادہ مینتیں نہ کروائو ہم سے زرا سی اچھی آواز کیا مل گئی لڑکیاں تو ارعانے لگ جاتی ہیں میرو کی اس بات پر ساری لڑکیوں نے اپنے ناخن تیز کر کہ اسکی طرف مڑی ہی تھی کہ وہ کاشی کہ پیچھے چھب گیا
یار مزاق کر رہا ہوں تم لوگ تو میری دوستیں ہو میرو نے لفظ دوستی پر زور دیا کہ وہ صرف دوست ہیں بہن بننے کوشش نہ کریں
وری اسکو دفع کرو اور ایک گانا سنا ہی دو جو میں بتاتی ہوں بشراء نے اسکے کان میں ایک گانا بتایا
گانا سن کر وری کے ہونٹو پر دلکش مسکراہٹ پھیل گئی کیونکہ یہ گانا اسکا ب ھی فیوریٹ تھا
اسنے مائیک پر زرا سہ ہاتھ رکھا اور میرو کو گٹار لانے کا کہا وری کو دو چیزوں کا بہت شوق تھا ایک گٹار بجانے کا اور دوسرا فٹبال بال کھیلنے کا لڑکوں کہ ساتھ رہ کر اسنے شوق بھی لڑکو والے لئے تھے سارے
میرو نے اسکو دیا تو وری نے پکڑ کر اسکی کچھ سیٹنگ کی اور پھر گانا شروع کیا لان میں بلکل خاموشی تھی جس میں صرف وری کی دلکش آواز سنائی دے رہی تھی وہ اس گانے کی پیچ کی لائینیں گا رہی تھی
تصور کے ھسین لمحے تیرا اھساس کرتے ہیں تیرا جب زکر آتا ہے تو ملنے کو تڑپتے ہیں
ہمارا حال نہ پوچھو کہ دنیا بھول بیٹھے ہیں چلے آئو تمہارے بن نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
سنو اچھا نہین ہوتا کسی کو ایسے تڑپانا
محبت میں کوئی عاشق کیو بن جاتا ہے دیوانہ
وری نےاتنا گایا اور پھر اگلی لائن میں میرو کاشی اور مہرو اسٹیج پر چڑھ کر اسکے ساتھ گانے لگے
فلک سے پوچھ لو چاھے گواہ یہ چاند تارے ہیں
نہ سمجھو اجنبی صدیوں سے ہم تو بس تمہارے ہیں
محبت سے نہین واقف بہت انجان لگتی ہو ہمیں ملنا ضروری ہے
حقیقت نہ سمجھتی ہو
وری گانا پورا کر چکی تھی اور سب اسے مبہوٹ سہ دیکھ رہے تھے اسکی آواز بہت زیادہ دلکش تھی لوگوں کا کہنا تھا کچھ چیزیں اللہ نے اسکو بہت خاصدی ہین اور وری کا کہنا تھا اللہ نے سبکو سب کچھ خاص دیا ہے مگر کچھ لوگ خود کو خاص سمجھتے ہی نہیں ہیں انہیں صرف لگتا ہے اللہ نے دوسرے بندت کو پیارا بنایا ہے اور ہمیں نہیں حناکہ اللہ نے سب کو پیارا بنایا ہے پھر چاہے وہ کالا ہو یہ گورا ان سب میں ایک الگ الگ کش ملے گی کسی کی آنکھیں پیاری ہیں تو کسی کی آنکھیں بہت کشش والی ہیں انسان کو اپنے آپ سے محبت کرنی چاہیئے چاہے وہ کالا ہو یا گورا کسی سے بھی حسد نہین کرنا چہیئے اگر وہ بہت گورا ہے تو آپ میں بھی کسی سے کم نہیں ہین یہ وری کی اپنی لاجگ تھی جو اسے پسند تھی
اسے لوگوں کی تعریفوں کی ضرورت نہین تھی کیونکہ اسے پتا تھا اللہ نے پیارا بنایا ہے بلکہ ہر انسان کو پیارا بنایا ہے۔
