Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22
وہ دروازہ سترہ اٹھارا سال کہ لڑکے نے کھولا تھا جو شاید صفیہ کا بھائی تھا اور اب حیرت سے دروازے میں کھڑا اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا
آپی آپ یہاں کیوں آئی ہیں ابو نے آپکو دیکھ لیا تو وہ گھر پر ہیں پلیز یہاں سے چلی جائیں وہ لڑکا اسے یہاں سے بھیجنا چاہ رہا تھا
اوئے ہم تمہارے ابو سے ہی ملنے آئے ہیں ہٹو راستے سے بات کرنی ہےان سے وری نے اسکو سائیڈ پر کیا اور صفیہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر گھسی جیسے یہ گھر اسی کا ہے
صفیہ کسی بے جان گڑیا کی طرح اسکے ساتھ کھینچی چلی جارہی تھی
پیچھے آتا لڑکا اسکو اشارے سے ڈرائنگ روم کی طرف لے کر گیا اور خود ابو اور امی کو بلانے بھاگا
وری اسکے ساتھ جاکر ایک آرامدہ صوفے پر بیٹھ گئی اور صفیہ کو بھی اپنے پہلو میں بٹھایا جو کانپ رہی تھی اسکا سارا جسم خوف سے کانپ رہا تھا شاید اتنا تو وہ اس قید خانے میں نہیں ڈری ہوگی جتنا اب ڈر رہی تھی
مجھے ڈر لگ رہا ہے نور پلیز یہاں سے چلیں وہ دبے دبے انداز میں بولی مگر وری خاموشی سے آس پاس پڑی چیزوں کا جائزہ لے رہی تھی
پانچ منٹ بعد اس کمرے میں کچھ لوگ داخل ہوئے جن میں اسکے ابو امی اور بڑی بہن تھی
انکو دیکھ کر وری اور صفیہ کھڑی ہوگئی تھی صفیہ کو دیکھتے ہی
اسکی ماں تڑپ کر اسکی جانب بڑھنے لگی جب آوان صاحب نے انکا ہاتھ پکڑ کر انکو سخت نظروں سے دیکھا جیسے تنبیہہ کر رہے ہو کہ اسکی جانب بڑھی تو میرا اور تمہارا تعلق ختم
وہ اپنا معصوم دل اور آس بھری نظریں لئے وہی سے واپس مڑ گئی اس عورت کا دلہ خون کے آنسو رو رہا تھا اپنی بیٹی کو دیکھ کر بھی وہ اسکو مل نہیں پارہی تھی
آوان صاحب نے اسکو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی ایک جگہ پر جاکر بیٹھ گئے وری نے بنا کسی تاثر کے یہ سب دیکھا اور اپنے پہلو میں بیٹھی صفیہ کو دیکھا اور ایک ٹھنڈی سانس خارج کی
یہاں کیوں تشریف لائی ہین آپ آوان صاحب کا لہجہ سخت اور کھدرا تھا
آپ سے بات کرنے کیلئے صفیہ کے متعلق وری نے تحمل سے کہا
ہم نے کوئی بات نہیں کرنی اس لڑکی کے بارے میں انکے لہجے میں کوئی تبدیلی نہین آئی تھی
کیا یہ آپکی بیٹی نہیں ہیں جو آپ اس کیلئے لڑکی کا لفظ استعمال کر رہے ہیں وری نے آہستہ سے پوچھا اسکا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا
ایسی بیٹیوں کو ہم بیٹی نہیں کہتے جن کو اپنے باپ کی عزت کا خیال نہ ہو جو راتوں کو گھر سے باہر رہتی ہوں
کیا آپ جانتے ہیں آپکی بیٹی گھر سے باہر کیون تھی آخر اسکے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا ہے جو وہ گھر سےباہر ہے وہ بھی اتنے دن
آپ نے ایک بار بھی اسکو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع دیا ہی نہیں تو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس نے آپ کی عزت نیلام کی
آپ نے تو کچھ پوچھا ہی نہیں اس سے وری اسکی لئے بول رہی تھی جب آوان صاحب نے اسکو ٹوکا
آپ بتا دیں کہا تھی یہ اتنے دن انہوں نے اسی انداز میں پوچھا
دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئی تھی وہ بھی ان کے جو لڑکیوں کو بیچتے ہیں آپکو تو شکر کرنا چاہیئے تھا کہ وہ صحیح سلامت واپس آگئی ہے اپنی اور آپکی عزت کو بچا کر اسکو کسی نے اپنا گندہ ہاتھ نہیں لگایا ہے
لیکن آپ نے تو اسکی سنی ہی نہیں اور ابھی وہ اور کچھ کہنے والی تھی جب انہوں ٹوک کر کہا
تمہیں کیسے پتا کہ یہ وہاں تھی کیا پتا اسکو بچانے کیلئے تم اسکا ساتھ دے کر جھوٹ بول رہی ہو انکی بات سن کر صفیہ نے اب تک جھکایا سر اٹھایا اور انکو دیکھا
وہ اسے جبھتی ہوئی نظروں سے ہی دیکھ رہے تھے صفیہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑتی محسوس ہو رہی تھی
افسوس ہوا آپکی زہنیت پر آوان صاحب مگر یہ بات جان لیں میں آرمی کی لڑکی ہوں یہ میرا کارڈ ہے اور اب بھی کوئی کنفیوزن ہو تو آپ اس نمبر پر رابطہ کر کہ پوچھ لیں وری نے تاسف سے انہیں دیکھتے ہوئے کہا
مجھے جاننے کی ضرورت نہیں ہے اگر اس لڑکی کو اپنی باپ کی عزت کی پرواہ ہوتی تو یہ کبھی گھر سے نہ نکلتی بلکہ یہ آگے پڑھنے کی ضد ہی نہ کرتی آوان صاحب انکی بات ماننے کے بجائے الٹا صفیہ پر ہی سارا الزام ڈال رہے تھے مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے سامنے کھڑی لڑکی انکے ہر بہانے کا جواب لیئے کھڑی تھی
واہ سر آپکے لئے تو تالیاں بجانی چاہیئے یعنی اسنے پڑھائی کیلئے ضد کر کہ غلط کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں جبکہ آپکو اس کو یہ بولنے کہ بجائے یہ کہنا چاہیئے تھا کہ تم اتنی کمزور کیسے ہو گئی کہ خود کو بچا نہیں سکی وری اتنا کہہ کر ایک گہری سانس لی سب دم سادھے اسے سن رہے تھے
مگر آپ یہ بات کیسے کہتے آپ نے تو کبھی اسکو یہ بات سکھائی ہی نہیں آپ تو بس لڑکوں اور لڑکیوں کے فرق میں رہے کبھی آُ نے پوچھا اپنی بیٹی سے کہ بیٹا راستے مین کوئی مسئلہ تو نہیں ہوتا آپکو
کوئی کچھ کہتا تو نہیں کبھی کسی نے چھیڑنے کی کوشش تو نہیں کی کیا آپ نے پوچھا کبھی کچھ
نہیں نہ پوچھتے بھی کیسے آپ تو انتظار میں تھے شاید کہ کبھی میری بچی ایسی کوئی شکایت لائے اور میں اسکو اسکول سے نکال دو
اور وہ بچی بھی اسی ڈر سے کبھی ایسی کوئی شکایت لے کر ہی نہیں گئی
آپ اتن ابول رہی ہیں تو اتنا بتائیں آپ اگر اپنے باپ کو جا کر یہ باتیں بتاتی تو وہ کیا کرتا آپکی چوکیداری کرنا شروع کر دیتا کہ میری بیٹی کو کوئی کچھ کہہ نہ دیں اگر کرتا تو شاید اتنا فارغ ہوتا مگر میں نہیں ہو میں اپنی جاب کر کہ انکا پیٹ پالو یا وہ چھوڑ کر انکو بھوکا مارو اور اس کے پیچھے جائو کہ کہیں کوئی اسکو کچھ کہہ نہ دیں
آوان صاحب کی آواز غصے سے پھٹ رہی تھی آج تک کسی کی ہمت نہین ہوئی تھی انکے سامنے زبان چلانے کی اور وہ بالشت بھر کی لڑکی انکو بچوں کی تربیت پر بیان دے رہی تھی
یہ ہی تو سوچ غلط ہے انکل اگر ہم سب یہ سوچ کر اپنی بچیوں کو گھر بٹھا دیں گے کہ باہر بھیڑیئے انکے تعاقب میں بیٹھے ہیں تو کیسے ہم اپنے بچون میں شعور ڈالے گیں کیسے انہیں تعلیم دیں گے
اور جہاں تک میرے باپ کی بات ہے انہوں نے گیارہ سال کی عمر میں ہی مجھے یہ کہہ دیا تھا اگر کوئی تم غلط نظر ڈالے یا تمہیں حراست کرنے کی کوشش کرے تو اسکا منہ توڑ کر آنا
اور اپنے باپ کو فخر سے بتانا کہ تم خود کا خیال رکھ سکتی ہو اپنی عزت کا بھی اور اپنی نظرو کا بھی انہوں نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ
تمہارا باپ ہر جگہ نہین ہوگا تمہییں بچانے کیلئے نہ ہی تمہارا بھائی تم نے خود اپنے آپ کو بچانا معاشرے کی برائیوں اور لوگوں سے
اور آج جس مقام پہ میں ہو اس کے پیچھے میری ماں کا نہیں میرے باپ کا ہاتھ ہے جنہوں نے مجھے بچپن میں ہی سکھا دیا تھا کہ لوگوں کو کیسے انکی اوقات میں رکھنا ہے
انکل میں یہ نہیں کہتی کہ اولاد کی پرورش عورت کی زمہ داری ہے اس میں مردوں کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے عورت انکو گھر کہ بارے میں سکھا سکتی ہے
مگر باہر لوگوں کو کیسے فیس کرنا ہے یہ ایک مرد سکھاتا ہے عورت کو اگر مرد کی سپورٹ ہو تو عورت معاشرے میں چلتی ہے لیکن آپ ہی جب عورت کو سپورٹ نہیں کرے گیں تو باہر والے کیسے اسکو عزت دیں گے
وری کی آواز میں التجا تھی جیسے انہیں سمجھانا چاہ رہی ہو اسکی باتیں سن کر صفیہ کی امی بہن اور چھوٹے بھائی کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
آنسو تو اس وجود کے بھی گر رہے تھے جو وری کے پہلو میں بیٹھا تھا
آوان صاحب کی آنکھوں میں شرمندگی نہیں تھی یا شاید تھی مگر وہ اسکو چھپا رہے تھے
ہم غلطیاں تو سرے عام کر لیتے ہیں مگر ان پر نصحیت کبھی بھی برداشت نہیں کرتے
اس سے پہلے آوان صاحب اسکو کچھ کہتے باہر کی گھنٹی بجی
صفیہ کے چھوٹے بھائی نے جاکر دروازہ کھولا اور گھر میں داخلل ہونے والے وجود نے تیز نظروں سے سامنے ڈرائنگ روم کے دروازے سے سامنے صوفے پر بیٹھے ان دونوں وجود کو دیکھا اور تیز تیز قدموں سے صفیہ کی جانب بڑھا اس سے پہلے وہ اسکو تھپڑ لگاتا وری بیچ میں آچکی تھی پیچھے سے آوان صاحب نے بھی اسکو پکڑا تھا
ہاتھ مت لگانا اسکو ورنہ اچھا نہیں ہوگا وری کا لہجہ بےحد سخت تھا
تم کون ہوتی ہو بولنے والی اور یہ لڑکی ادھر کر کیا رہی ہے اسکے بھائی نے چیخ کر کہا
آواز آہستہ رکھو ورنہ اچھا نہیں ہوگا وری نے اسی انداز میں کہا
آوان صاحب نے بھی اسکو روک دیا تھا
آپ اسکو لے جائو میں سمجھ لون گا کہ یہ آپکے پاس حفاظت میں ہے ہم خاندان میں کہہ چکے ہیں کہ اسکی شادی ہوگئی ہے اور یہ اپنے شوہر کہ ساتھ باہر ملک جارہی ہے اس لئے آپ اسکو لے جائیں یہاں سے آوان صاحب کا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا
وری نے انکی بات سن کر تاسف سے انکو دیکھا وہ واقعی اب ڈس ہرٹ ہوئی تھی ان سب باتوں سے وہ کیوں ایسا کر رہے تھے
اس بار صفیہ نے اسے موقع نہیں دیا تھا وہاں رکنے کا اسنے اسکا ہاتھ پکڑا اور باہر نکلنے سے پہلے اپنے باپ کے سامنے رک کر کہا
آپ نے غلط کیا ابو آپ کو کہنا چاہیئے تھا کہ صفیہ مر گئی ہے کم ازکم اس طرح آپکی عزت پر کوئی بات تو نہ کرپاتا اب بھی لوگ باتیں کر سکتے ہیں کہ مینے لڑکا پسند کرلیا ہوگا
صفیہ نے اتنا کہا اور اپنی ماں کی طرف دیکھے بغیر اس کمرے سے نکل کر گھر کا دروازہ بھی پار کر گئی آتے ہوئے وری اسے لائی تھی جاتے ہوئے وہ اسکو لےکر جا رہی تھی
لوگ تو باتیں کرتے ہیں پھر ہم کیوں انکی باتون کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو یا بیٹوں کو چھوڑ دیتے ہیں کیا ایسا کرنے سے وہ باتیں کرنا چھوڑ دیتے ہیں
وہ تو باتیں کرنا نہیں چھوڑتے مگر آپ اور آپکی اولاد بس دور ہو جاتی ہے ایک دوسرے سےاس لئے اپنی اولاد اور اپنے درمیان اتنے فاصلے نہ پیدا کریں کہ کل کو اگر انکے ساتھ کچھ غلط ہو تو وہ آپکو بتائیں ہی نہ اس ڈر سے کہ انہیں ہی گھر میں بٹھا دیا جائے گا انکی پڑھائی چھڑوا دی جائے گی
اس سے صرف آپ اپنا نہیں اوروں کی بیٹیوں کے ساتھ بھی غلط کریں گے جو شخص آج آپکے بچے اور بچیوں کے ساتھ کچھ غلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ کل کو کسی اور کی اولاد کہ ساتھ بھی کر سکتا ہے یہ سب اس لئے
ان سب کو روکیں کم ازکم اپنے گلی محلے کہ ایسے لوگوں کو روکیں جو آپکو لگتا ہو کہ صیح نہیں ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ سب مٰٹنگ روم میں بیٹھے تھے میجر احمد ان سب کو نقشے پر اپنا پلین بتا رہے تھے وہ انہیں وہاں کا ہر ایک علاقے کے بارے میں جب بتا چکا تو جا کر اپنی جگہ پر بیٹھا
اب سر اویس روسٹرم پر کھڑے اپنے کلمات کہہ رہے تھے
میں نہیں جانتا آپ لوگ اس مشن سے غازی بن کر لوٹیں گے یا شہادت کا رتبہ لے کر پاکستان کے پرچم میں لپٹ کر آئیں گے
اس لئے میں چاہتا ہوں آپ سب جانے سے پہلے اپنی کوئی ایک چیز جو آپ چاہتے ہیں آپکی شہادت کے بعد آُکے گھر والوں کو دی جائے میرے پاس امانت کے طور پر رکھوا سکتے ہیں
یہ پہلی بار نہیں تھی جو سر اویس ان سے یہ سب کہہ رہے تھے جب بھی انکے انڈر کوئی کیس ہوتا وہ اپنے ہر نوجوان سے یہ کہتے تھے
اور آج بھی بہت سے نوجوانوں نے انہیں کچھ چیزیں دی تھی کاشان اور اسد نے بھی ایک ایک چیز دی تھی جو وری کو بلکل نہیں دکھائی تھی
وری نے کوئی چیز دینے کے بجائے اپنا ہاتھ فضاء میں بلند کیا
سر اویس نے اسکی طرف دیکھا تو انکا دل عجیب سہ ہوگیا تھا جیسے انہیں بڑا دکھ ہورہا اسکو بھیج کر مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا جو بھی تھا وی بھی اس قوم کی بیٹی تھی اسے بھی کچھ نہ کچھ کرنا تھا اس ملک کیلئے
انہوں نے آہستہ سے اسکو اپنی بات کہنے کی اجازت دی
وری نے اپنا گلا کنکھارا اور کہا
کیا اگر میں وہاں سے غازی بن کر لوٹی تو آپ میرے ساتھ ڈیٹ پر چلیں گے مگر اپنے پیسوں سے
اسکی بات پر وہاں بیٹھے لوگوں کہ چہرے پر دبی دبی سی مسکراہٹ آئی تھی
خود اویس صاحب بھی مسکرائے تھے وہ واقعی نہیں سدھر سکتی تھی
ضرور پہلے آپ یہ کیس تو پورا کر آئیں سر اویس نے اسے ٹالا
اوکے یاد رکھیں میرا بل بھی آپ ہی پہ کریں گے وری نے تنبیہہ کی
اوکے میں ہی کرونگا سر اویس نے اپنی بات کا وعددہ کیا اور میٹنگ ختیم کی اب وری کو یہاں سے گھر جانا تھا
وہ خوش تھی گھر جانے کیلئے یہ جانے بغیر کے وہاں کیا کچھ ہونے والا ہے ۔۔
