Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اس شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں
مجیھے ایک نیا کیس ملا ہے جو میرے باقی کیسز سے زیادہ مختلف ہے یہ کیس بہت الجھا ہوا اور خطرناک ہے اس کیس کے لوگ
آفیسر کیا مسئلہ ہے مجھے کیون بتا رہے ہو اپنے کیس کا تم جانتے ہو نہ کیس کہ متعلق کسی کو بھی بتانا منع ہے اسنے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی
میں پہلے بھی تمہیں اپنے کیس کے متعلق بتاتا رہا ہوں پھراب کیا مسئلہ ہے اسنے اسے کریدا
تم مجھے اس لئے بتا تے تھے کیونکہ تمہیں میری مدد کی ضرورہوتی تھی اگر تمہیں کوئی کام ہے تو بتائو لیکن اگر نہیں تو پھر مجھے کیس کے متعلق بتانے کی ضرورت نہیں ہے
جھے کام ہے تم سے اسنے آہستہ سے کہا
کہو کیا کام ہے اسنے بھی اسکے انداز میں کہا
میں چاہتا ہوں کہ تم اس کیس کو ہینڈل کرو میرے ساتھ اسنے بہت تحمل سے کہا
آفیسر تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا تم جانتے ہومیں یہ فیلڈ چھوڑ چکی ہوں اسنے دبا دبا سہ چیخ کر کہا
میرا دماغ بلکل ٹھیک ہے نور اور میں واقعی میں چاہتا ہو کہ تم یہ کیس کرو
علی مینے تمہارا سر پھاڑ دینا ہے کیسا بےہودہ مزاق کیئے جا رہےہو تمہیں پتا ہے میں یہ کیس نہیں کر سکتی نور کے لہجے میں تیزی تھی بہت اسنے آج کافی عرصے بعد اسکا نام پکارا تھا ورنہ وہ اسے آفیسر ہی کہہ کر پکارتی تھی
وہ ہلکا سہ مسکرایا اپنا نام سن نے پر پھر بہت نرمی سے کہا
کیوں نہیں کر سکتی تم نور تم سب کر سکتی ہو اور میں تمہارا نام اس کیس کی فائل پر لکھوا چکا ہون نور تم اس ملک کے لئے کچھ نہیں کرنا چاہتی کیا تم تو کہتی تھی میں اپنی جان بھی اس ملک کے لئے دینا چاہتی ہوں پھر جب تمہیں اب موقع مل رہا ہے تو تم کیوں نہیں کچھ کرلیتی
علی کون بدنصیب چاہتا ہوگا کہ وہ اس پاک وردی کو نہ پہنے علی مینے پہنی تھی یہ وردی اس وردی کے زریعے اپنے ملک کے لئے کام کیا ہے تم اس درد کو نہیں سمجھ سکتے ایک بار اس وردی کو پہن کر واپس کر دینے کا دکھ کیسا ہوتا ہے
مینے اس وردی کو خوشی سے نہیں چھوڑا تھا کسی کی بے بسی نے اور کسی کے وعدے نے مجھے اپنا جنون اپنی جان چھوڑنے کا کہا تھا
اور میں اس ہنستی کی بات نہیں ٹال سکتی تھی میں ویسے ہی انکو بہت دکھ دے چکی ہوں اور نہیں دے سکتی
نور تم انہیں کوئی دکھ نہیں دے رہی اور فکر نہ کرو تمہاری زندگی کی ایک قیمتی ہنستی سے اجازت لے کر میں تمہارے پاس آیا ہون
ہاں یہ سچ ہے نور کہ تمہاری زندگی کی ایک ہنستی اس بات سے انجان ہوگی مگر دوسری ہنستی کہ پاس تمہارے پل پل کی خبر ہوگی
علی تم کیوں چاہتے ہو کہ میں اس کیس کو ڈیل کرو اگر میں نہ کر سکی تو نور نے اپنے خدشات ظاہر کیئے
نور یہ کیس میں نہیں بریگڈیئر اویس نے تمہیں دینے کا کہا ہے وہ دونوں بہت ہلکی آواز میں باتیں کر رہے تھے تاکہ کوئی اور انکی باتیں نہ سن سکے
نور نے حیرت سے اسکو دیکھ کر کہا انہوں نے تمہیں بھیجا ہے میرے سے بات کرنے کے لئے اسکے لہجے میں بے یقینی تھی
ہاں سر نے بھیجا ہے اور انہوں نے کہا تھا جب مجھے یقین ہو جائے کہ تم نیم رضامند ہو تو میں تمہیں بتا دو کہ مجھے سر نے بھیجا ہے
انہوں نے مجھے بھیجتے ہوئے دو باتیں کہی تھی تم سے کہنے کے لئے وہ اسے دیکھ کر ہلکہ سہ مسکرایا اور پھر سے کہنا شروع کیا
انہون نے کہا تھا اگر تم نہ مانو تو تمسے یہ بات کہو
کوئی باپ تمہاری ہاں کہ لئے زندہ ہے اور ایک لڑکی تمہاری ہان کی وجہ سے زندگی کی طرف آسکتی ہے انہوں نے دعوا کیا تھا کہ یہ بات سن کر تم ہاں لازمی کردو گی
اور اگر تمنے تب بھی ہاں نہیں کی تو سمجھ جانا کہ بریگڈیئر اویس اسے کبھی سمجھ ہی نہین سکے یا شاید جان نہیں سکے وہ اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا تھا اور اب نور کو دیکھ رہا تھا جو رضامند ہوتی نظر آرہی تھی
نور نے ایک گہری سانس لی اور ہلکا سہ مسکرا کر اسکی طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوئی
مجھے ایک بات کافی دیر سے الجھن میں ڈال رہی تھی لیکن اب وہ الجھن بھی ختم ہوگئی ہے وہ سنبھل گئی تھی اور تیار تھی ایک اور بازی کھیلنے کے لئے
کونسی الجھن اسنے حیرت سے پوچھا
یہ کے تم مجھے اتنی پبلک پلیس پر اپنے کیس کے متعلق کیوں بتانے لیکر آئے تھے اسنے اسی انداز میں جواب دیا
کیون لیکر آیا ہوں تمہیں اتنی پبلک پلیس پر اسنے بامشکل اپنی ہنسی ضبط کی
جان تو تم چکے ہو مگر میں پھر بھی بتا دیتی ہوں
کیونکہ اگر تم مجھے کسی خالی جگہ پر لیکر جاتے مسئلا سی سائیڈ یا اپنے آفس میں تو مینے تمہاری بات سن نے سے پہلے تمہارا اوپر کا ٹکٹ کٹوا دینا تھا اور مجھے یقین ہے اتنی پبلک پلیس پر جہاں میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتی تھی تب بھی تم یہاں آنے سے پہلےسر اویس کو بول کر آئے ہوگے کہ میرا کفن تیار رکھیں ہیں نہ اسنے مسکراتے ہوئے اپنی بات مکمل کر کہ اپنی بات کی تصدیق چاہی
ہاں مگر تمہیں کیسے پتا چلا سچی سچی بتائو نور کہی تم مجھ پر جادو ٹونا تو نہیں کر رہی ہو کہ اتنا ہینڈ سم لڑکا تمہاری مٹھی میں آجائے اسنے اسے چھیڑ ا
ہاہاہاہاہاہا تمہاری باتیں پتا کرنے کے لئے یا تمہیں جاننے کے لئے مجھے کسی جادو کی ضرورت نہیں ہے
اسنے فخر سے اپنے مصنوعی کالر جھاڑے
اچھا ورنہ میں سوچ رہا تھا کہی آج کل تم کسی بابا کہ ساتھ نہ بیٹھ رہی ہو کالا جادو سیکھنے کے لئے
اسنے اسے تپانے کی کوشش کی جو کہ فضول ثابت ہوئی
نہیں میں تو نہیں بیٹھ رہی کسی کہ پاس ہاں مگر تم ضرور کسی بے وقوف کہ پاس بیٹھتے ہو شاید اسنے بھی اسے چڑایا
اچھا بس اب زیادہ نہ فری ہو اور کیس کا سن لو میرے علاوہ ایک اور میجر اسے ڈیل کر رہا ہے جس کا نام سر نے نہیں بتایا کیونکہ پھر تم نہ مانتی لیکن تم اگر جاننا چاہتی ہو تو پوچھ لو ان سے اس بہانے مجھے بھی پتا چل جائے
نور نے اسکی بات سن کر اثبات میں سر ہلایا اور سر کو کال کرنے کا کہا
ہمم چلو کال کرو تاکہ سر سے بات کرو
علی نے کال ملا کر فون نور کے ہاتھ میں تھمایا
نور نے فون پکڑ کر کان سے لگایا دوسری بیل پر کال پک کرلی گئی جیسے وہ اس کال کے انتظار میں ہی ہوں
ہاں آفیسر کیا بنا ہماری بیٹی مانی کہ نہیں وہاں سے بہت بے تابی سے سر اویس نے پوچھا جیسے انہیں خدشہ ہو کہ شاید وہ نہ مانے
اتنی ایموشنل باتیں کہی ہیں اس سے کہنے کے لئے اور اب بھی پوچھ رہے ہیں کہ مانی کہ نہیں نو نے ناراضگی سے کہا
اوہ میرا بیٹا کیسا ہے مینے بہت یاد کیا تمہیں نور انہوں نے محبت سے چور لہجے میں کہا
یاد کرلیا مگر فون نہیں کیا ایک فون کرتے میں آجاتی آپ سے ملنے اس کی ناراضگی اب بھی قائم تھی
میں تمہارے لئے مسئلے نہیں پیدا کر سکتا تھا تم جانتی ہو تم مجھے کتنی عزیز ہو انہوں بے حد نرمی سے کہا
اچھا چلیں میں کل آئو گی پھر آپ سے ملاقات ہوگی ابھی آپ مجھے یہ بتائیں کہ یہ کس میجر کو رکھا ہےاس کیس میں ہمارے ساتھ
پہلے تم وعدہ کرو کہ تم اسکا نام سن کر کیس چھوڑ کر نہیں بھاگو گی یا انکار بھی نہیں کرو گی انکے لہجے میں خدشات تھے
آپ کو پتا ہے میں ایک بار ہاں کر کہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہو آپ نام بتائیں میں نہیں چھوڑ کر جانے والی اب آپکو اسنے یقین دلایا
میجر احمد کو ہائر کیا ہے مینے انہوں مجرمانہ انداز میں کہا
کیا سیریسلی آپ نے میجر احمد کو یہ کیس دہیا ہے نور کے لہجے میں بےیقینی ہی بے یقینی تھی
ہاں نور انکار مت کرنا وہ نہیں جانتا تمہارے بارے میں پلیز تم ابھی اس کیس کے متعلق نہیں جانتی مجھے قابل لوگ چاہیئے اوراپنے ملک کے لئے میں کچھ بھی کرسکتا ہو پلیز نور سمجھنے کی کوشش کرو انہوں التجا کی
اوکے سر میں تیار ہوں لیکن اگر بعد میں یہ بات کھلی تو مجھ سے مت کچھ کہیئے گا سب کچھ آپ خود سنبھالیں گے اور مجھے کیس کے پیچ میں کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی پھر چاہے اسکے لئے جان معاملہ بھی آجائے اسنے ایک عزم کے ساتھ کہا
اوکے میرا بیٹا اور شکریہ میرا سر فخر سے اونچا کرنے کے لئے انہوں نے پیار سے اسکا شکریہ ادا کیا
میں یہ نہیں کہو گی کہ شکریہ کر کہ مجھے شرمندہ نہ کہیں بلکہ میں کہونگی کہ شکریہ سے کام نہیں بننے والا اتنا مشکل کام سر انجام دینے والی ہوں اس چیز پر ایک ٹریٹ تو بنتی ہے وہ بھی آپ کے پیسوں پر کیونکہ پتا نہیں اسکے بعد موقع ملے یا نہیں اسکی یہ ہی حد سے زیادہ پریکٹیکل باتیں انہیں کبھی کبھار دکھ دیتی تھی
نور ایسے نہ کہو اللہ تمہیں لمبی زندگی دے کامیاب کرے اوراس کیس سے بھی زندہ صیح سلامت واپس لائے
آمین انشاءاللہ اچھا بتائیں پھر کل دوپہر کا کھانا کھلا رہے ہیں نہ
ہاں آجانا تم بھوکی کہ پیٹ میں مروڑے پڑ رہے ہونگیں میری جیب بھری دیکھ کے انہوں مصنوعی خفگی سے کہا
جی بلکل سہی پہچانا میرے پیٹ میں واقعی میں مروڑ پڑ رہے ہیں اس لئے کل اپنا کریڈٹ کارڈ لے کر آئیئے گا
اللہ حافظ اپنا خیال رکھئے گا
تم بھی میرا بیٹا اللہ حافظ
اسنے فون بند کر کہ علی کی طرف بڑھایا اسنے فوں پکڑکر ٹیبل پر اپنے سامنے رکھا اور سے اسکے چہرے کو دیکھا
جہاں کوئی تاثر نہیں تھا سوائے سکوں کہ
کیا تمہیں کوئی فرق نہیں پڑھ رہا اسکےاس کیس میں ہونے سے علی نے اپنی بات کہہ دی جو اسے کب سے کھٹک رہی تھی
ہاں پڑھا تھا پر اب نہیں پڑ رہا جب میں نے ارادہ کر لیا ہے اس کیس میں آنے کا تو پھرکسی کو پتا چل جانے کا ڈر کیوں رکھو ساتھ خیر اب کچھ منگوا بھی لو بھوک لگ گئی ہے مجھے نور نے بات بدل دی تھی
تمنے بات بدلنی ہے تو ویسے ہی بدل لو میرا خرچہ کیو کروا رہی ہو علی نے اسکو صیح قسم کی گھوری سے نوازا
بس بس اب منگائو کچھ سچی میں بھوک لگی ہے اور ویسے بھی تمنے اپنی ترقی کی ٹریٹ نہیں دی ابھی تک نور نے اسکو یاد دلایا ٹریٹ کا
ہاں ٹریٹ ٹریٹ کر کہ تم نے ایک دن مجھے سڑک پر لے آنا ہے
اسکی بات پر نور نے قہقہ لگایا مگر علی نے اسکو نظر اندازکرکہ ویٹر کو آواز دی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
زندگی کا قصہ کچھ یوں مختصر لکھ بیٹھیں ہیں ہم
زندہ تو ہیں پر اپنی روح کو کھو بیٹھیں ہیں ہم
وہ لڑکی ان خاتوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہی تھی جو بہت آرام سے ٹہر ٹہر کر نماز پڑھ رہی تھی
انہوں نے سلام پھیرا اور دعا کہ لئے ہاتھ اٹھائے وہ رو رہی تھی ٹپکہ ٹپکہ آنسو انکہ شفاف آنکھون سے بہہ رہا تھا
وہ عجیب سے انداز میں انکو دیکھ رہی تھی انکے آنسو اسکو عجیب سے لگ رہے تھے وہ رو رہی تھی مگر انکے آنسوئو میں سکوں تھا
انکو خدا سے کوئی ناراضگی نہیں تھی کوئی شکوہ نہیں تھا وہ اتنی سکوں میں کیسے تھی انکو کوئی تکلیف کیوں نہیں تھی کیا انکی زندگی میں کبھی دکھ نہین آئے اگر نہیں تو پھر میری زندگی میں کیوں ہیں
کیوں جب میں روتی ہوں تو میری آواز تکلیف سے پھٹ رہی ہوتی ہے اور جب یہ روتی ہیں تو ایسا لگتا ہے سکوں میں ہیں یہ آخر سکوں میں کیوں ہیں
وہ لڑکی اپنا اور ان معزز خاتوں کا موازنہ کر رہی تھی مگر کوئی بھی ایسی چیز اسکے ہاتھ نہیں لگ رہی تھی جس سے اسکو پتا چل جائے کہ وہ کیوں اتنی سکوں میں ہیں اور وہ کیوں اتنی بے سکوں ہے
جب کافی دیر تک وہ جواب نہیں ڈھوںڈ سکی تو انسے پوچھ لیا
آپ اتنی سکوں میں کیسے ہیں کیا آپ کی زندگی میں کوئی دکھ نہیں اگر ہے دکھ تو وہ تو میری بھی زندگی میں ہیں پھر آپ اتنی سکوں میں کیسے ہیں اور میں اتنی بے سکوں کیوں ہو
وہ انسے ایسے پوچھ رہی تھے جیسے کوئی بچہ اپنی ماں سے پوچھ رہا ہو کہ اسکے پاس اتنے سارے کھلونے کیوں نہیں ہیں جتنے انکے ہمسائے کہ بچے کہ پاس ہیں لیکن وہ بچہ ہوتا ہے اسے یہ کہہ کر ٹالا جا سکتا ہے کہ اگلے مہینے تمہیں بھی دلوا دوں گی یا یہ کہہ کر کہ آپ تو بہت پیارے بچے ہو اپنی ماما کہ بات مانتے ہو ابھی ماما کہ پاس پیسے نہیں ہیں جب ہونگے تب ماما آپکو ڈھیر سارے کھلونے دلوائے گی
مگر وہ بچہ ہوتا ہے وہ بہل جاتا ہے وہ بڑی تھی اسکو بہلانا نہیں تھا سیدھے راستے پر لانا تھا انہوں نے جائے نماز تہ کر کہ سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور اسکے پاس آکر بیٹھ کر اسکا تھ اپنے ہاتھ میں پکڑکر کہا کیونکہ میں لوگوں سے امیدیں نہیں لگاتی میری صرف ایک ہی امید ہے میرا رب میرا اللہ میں اسکو صرف اپنے دکھ میں نہیں یاد کرتی میں اسکو اپنی خوشی میں بھی یاد کرتی ہو
ہر انسان اپنا ہمدرد خود چنتا ہے مینے بھی چن لیا ہے اللہ کو اس سے زیادہ بہتر زخم پر مرہم کون لگا سکتا ہے وہ دکھ دیتا ہے تاکہ ہم اسے نہ بھولیں اور پھر خوشیی دیتا ہے تاکہ ہم اسکو اپنی خوشی میں یاد رکھیں
مگر تم جانتی ہو تم بے سکوں کیوں ہو
اس خاتوں نے نرمی سے پوچھا آج 12 دن بعد وہ ایک دوسرے سے اس طرح بات کر رہی تھی ورنہ وہ لڑکی کوئی بات نہیں کرتی تھی بس خاموش رہتی تھی یا کبھی رونے لگ جاتی تھی اسکے رونے میں واقعی میں اتنا درد ہوتا تھا کہ وہ ایک ہنستے مسکراتے بندے کو رونے پر مجبور کر دے
انکے پوچھنے پر اسنے نفی میں سر ہلا کر اپنے لا علم ہونے کا اظہار کیا
کیونکہ تم اپنے دکھ میں اللہ کو بھول چکی ہو تم اسکو یاد نہیں کرتی تم اپنا درد سب کو سناتی ہو سوائے اللہ کہ جائو ایک دفع اللہ کہ سامنے رو کر دیکھو تمہیں سکوں مل جائے گا اگر نہ ملا تو اسکا قرآن پڑھ کر دیکھنا تمہارے دل کی شفاء اس میں لازمی ملے گی لیکن جب اللہ کہ سامنے رو تو شکوہ مت کرنا صبر مانگنا حوصلہ مانگنا اللہ کو شکوہ کرنے والے لوگ نہیں پسند اگر تم شکوہ کی جگہ شکر کرو گی تو تمہیں سکوں تو ملے گا ہی لیکن اللہ کی رضا بھی ہو جائے گا اور کیا تم نہیں چاہتی اللہ تم سے راضی ہو
جو دکھ تمہارا ہے اس سے زیادہ بڑا دکھ کسی اور کہ پاس ہوگا لیکن کیا پتا وہ دکھوں کا ڈھیر نہ لگاتے ہو
تمہیں میں سکوں میں اس لئے لگتی ہوں کیونکہ میں اللہ کہ ساتھ خوش ہو میں لوگوں سے ہمدردی نہیں چاہتی اللہ سے اسکا رحم چاہتی ہوں اور جولوگ اللہ سے اسکا رحم مانگ لیتے پھر اللہ بھی انہیں بے سکوں نہیں رہنے دیتا
وہ لڑکی کسی سحر کی طرح انکی باتوں میں آرہی تھی اسکا دل چاہ رہا تھا ابھی جاکر اللہ کہ سامنے رونا شروع کر دے بنا کچھ کہے بس روتی اور اللہ اسے سنبھال لے
وہ خاتوں جیسے اسکی سوچ پڑھ چکی تھی وہ اسکے پاس سے اٹھی ٹیبل پر پڑا جائے نمازخاموشی سے اٹھا کر بچھایا
اور اسی خاموشی سے کمرے سے نکل گئی
وہ لڑکی آہستہ سے اٹھی واشروم سے وضو کر کہ آئی اور عصر کی نماز کہ دوران ہی اسکی ہچکیاں نکل گئی مگر وہ نماز پڑھتی رہی اب اسے لوگوں سے نہیں اللہ سے سکوں چاہیئے تھا اور اللہ سے کوئی چیز دل سے مانگی جائے تو وہ بھی دے دیتا اگر وہ ہمارے حق میں بہتر ہو ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *