Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20
اس بچے نے خاموشی سے وری کو سوری بولا اور وہ دونوں ماں بیٹے اٹھ کر اپنے گھر چلے گئے نمرہ بیگم اس وقت تو خاموش رہی لیکن جیسے ہی ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھی وری کو سیب ہاتھ میں پکڑے دیکھا تو اسکے ہاتھ سے چھین لیا
تم میں تمیز نہیں نہ ڈسیپلن ہے اس لئے آج سے تمہارا سیب کھانا بند تمہیں آج سے بینگن کا بھرتہ بھی نہیں ملے گا اور نہ فرائز ملیں گے یہ ایک مہنے کی سزا ہے
وری خاموش سے انکی بات سنتی رہی کیوںکہ ٹیبل کے نیچے سے حسن صاحب نے اسکی گود میں ایک اور سیب رکھ دیا تھا
کوئی شرم ہوتی ہے کوئی لحاظ ہوتا مگر اس لڑکی کو نہیں ہے آخر اسکو کراٹے سکھائے کیوں رہیں ہیں اپنی عمر کے لڑکے کو مار کر آئی ہے کل کو پتا نہیں کیا کیا کرے گی ہم اس عمر میں صرف گڑیا اور ٹیچر ٹیچر کھیلنے کا شوق ہوتا تھا یا پھر کسی کی شادی کرانے کا اور اس میڈم کو
فٹبال کھیلنے کا لوگوں کے ساتھ مار پٹائی کرنے کا لڑکوں کو میکپ کرنے کا آخری بات کے حوالے پر وری اور حسن صاحب کا قہقہ چھوٹ گیا باقی لوگ حیرت سے انکو دیکھ رہے تھے
بیستی وری کی ہو رہی تھی اور شرمندگی ان تینوں بچوں کو
ویسے بابا مینے کیا کمال کا میکپ کیا تھا میرو کو وری نے دانت میں سیب اڑستے ہوئے کہا
ہاں بلکل میرا بیٹا حسن صاحب نے بھی اسکی بات کی تصدیق کی
نمرہ بیگم نے وری کے ہاتھ میں سیب دیکھا تو فورا اسکے دانتوں کے درمیان میں اڑسا سیب کھینچا
منع کیا تھا نہ سمجھ نہیں آتی کھانا کھائو سیب کو ہاتھ لگانے کی ضرورت ہی نہیں ہے نمرہ بیگم نے ایک بار پھر اس پر اپنا غصہ نکالا انکو تو یہ بات ہی بری لگ رہی تھی کوئی انکے گھر شکایت لیکر آیا ہے وہ بھی انکی بیٹی کی
بابا نے مجھ سے کہا تھا اگر کوئی بدتمیزی کرے تو اسکو دو ہاتھ لگا کر آنا اور آپ مجھے سنا رہی ہیں جانتی ہیں نہ میان کو تو سنا نہیں سکتی اس لئے مجھ پر غصہ نکالا جا رہا ہے وری نے پہلے انہیں دیکھ یہ کہا پھر چیئر سے اٹھتے ہوئے حسن صاحب سے کہا
بابا آپ پلیز دوسری شادی کرلیں آپکی بیوی تو مجھ سے زرہ محبت نہیں کرتی پتا نہیں اللہ پاک میری اصلی ماں کہا ہے وہ مجھے کتنا یاد کرتی ہوگی اور پتا نہیں میں اس گھر میں کیا کر رہی ہوں مجھے تو کسی برطانوی شہزادے کے پاس ہونا چاہیئے تھا
وری یہ سب کہتے ہوئے ٹیبل سے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی کیونکہ وہ جانتی تھی اسکو منانے کیلئے اسکے بابا آئیں گے اور اگر اب ٹیبل پر بیٹھی رہی نمرہ خاتون نے اسکی اگلی پچھلی ساری برائیاں نکال کر اسکو باتیں سنانی ہے
اسکی بات یاد کر کہ وہ دونوں ہنس پڑی تھی
ہاں بھابھی کیسے اس لڑکے کو پیٹا بھی اور سوری بھی احسان کرنے کےانداز میں کیا وہ دونوں اسکی باتیں یاد کرتی ہنس رہی تھی اور کھانا بھی تیار کرلیا تھا تقریبا ساتھ ساتھ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اٹھا کہ چل سر اپنا مگر نگاہیں جھکا کہ چل
راستہ آسان ہے مشکل کے آگے مسکرا کہ چل
ائیز میں زیادہ کچھ نہیں کہو گی کیونکہ ہمارے پاس وقت کم ہے نور نے اپنے ٹرانسمیٹر سے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا
میری سر سے بات ہوئی ہے انکا کہنا ہے کہ ہم یہ کیس چھوڑ دیں یہ آڈرز اوپر کہ ہیں لیکن اب ہم اتنا قریب آکر یہ کیس نہیں چھوڑ سکتے ہم ان معصوم جانوں کو کیسے اس جہنم میں رہنے دیں جو ہماری قوم کا مستقبل ہیں
شاید اس کیس کے آڈرز توڑنے پر ہماری جاب چلی جائے لیکن اپنے دل سے پوچھیں کیا اگر آج اس کیس کو چھوڑ کر چلے گئے تو اپنے ضمیر کے ساتھ رہ سکیں گے
جب ہم اس وردی کوپہنتے ہی سر پر کفن باندھ کہ ہیں تو پھر ہمیں کیوں ڈر ہے اس چیز کا کہ ہماری جاب چھوٹ جائے گی
ویسے بھی رزق دینا اللہ کا کام ہے وہ رزق دیتا ہے ہمیں اس ملک کی حکومت نہیں آپ لوگ یہ سوچ کر مشن کرلیں ہر بار جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے آج جاب جانے کا ہے
یہان کسی کو فورس نہیں کیا جائے گا جو جانا چاہتا ہے وہ صڑف اپنی آواز میں پتا دے
آر یو ریڈی نور نے بلند آواز میں پوچھا
اور وہ ملک کے بیٹے کیسے نہ جاتے وہ تو ہیں ہی ملک کے رکھوالے پھر وہ کیسے ان معصوم بچوں کو چھوڑ دیتے ان سب نے بھی اپنے اپنے ٹرانسمیٹر میں یس کہا
نعرے تکبیر اس بار کاشی نے کہا کیونکہ اب اسکی باری تھی
اللہ اکبر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آپ لوگوں پچھلی سائیڈ سے اندر جائیں گے مس نور آپ آپ کھڑکی کے راستے جائیں گی کچھ بندے ساتھ والے گھر سے انکے گھر میں گھسے گیں اور یہ میرا آڈر ہے ہر بندے کو موت کی نیند سلانا پڑ جائے سلا دو مگر ان بچوں کا صحیح سلامت لانا ہے
جان کی بازی لگا دیں گے مگر ان بچوں پر اب خراش نہیں آنے دیں گیں ہمارا مین ٹاگٹ وہ بچے ہیں جو ان بچوں تک پہنچ جائے انکو سیف کر کہ اپنے ٹرانسمیٹر پر 346 بولے گا
نیچے ایک بلٹ پروف گاڑی جو اس جگہ سے تھوڑے فاصلے پر کھڑی ہے پچھلے گیٹ کے سامنے آجائے گی اور وہ شخص بنا ہماری پروہ کیئے ان بچوں کو یہاں سے لے جائے گا انڈراسٹینڈ
یس سر سب نے یک زبان ہو کر کہا
اسد اپنی ٹیم کے ساتھ اندر گھس چکا تھا اس بار وہ تیا تھے انکے حملے کیلئے کاشی باہر سے فائیرنگ کررہا تھا انکے کچھ بندے انکی چھت پر گود چکے تھے ساتھ والے گھر کی چھت سے
نور اور بلال کھڑکی پر پہنچنے کیلئے پائپ پر چڑے ہوئے تھے جب وری نے بلال کی طرف گولی چلائی اگر وہ چوکنا نہ ہوتا تو گولی اسکو لگ جاتی اس نے اپنے سائیڈ پر دیکھا تو ایک شخص بالکونی میں سے نیچے گرا تھا
نور بتا کر تو چلاتی گولی ابھی مجھے لگ جاتی بلال نے خٖفگی سے کہا
تو کیا سر پر کفن باندھ کر نکلے ہونا نور نے آہستہ سے کہا اسکو ہر کوئی نور کہہ کر ہی بلاتا تھا اسکے سینئر بھی اور جونیئر بھی
وری کی بات سن کر وہ خاموش ہوکر اوپر کی طرف چڑنے لگا سب سے اوپر والی کھڑکی کہ پاس پہنچ کر وہ دونوں رک گئے تھے بلال نے اپنی ٹانگ میں بندھا خنجر نکالا اور کھڑکی کا لاک کھولا
شکر تھا کہ وہ کمرہ خالی تھا کیونکہ ان سب کا فوکس باہر کی طرف تھا اس لئے کسی نے یہاں پر نگرانی نہیں کی ہوگی
وری نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا گن نکالا اور اسکی بلٹ چیک کی چھ پوری تھی پھر آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھول کر چیک کیا باہر سے فائیرنگ کی آوازیں آرہی تھی اسنے دروازہ بند کیا اور بلال کی طرف گھومی
جیب سے ایک بمپ نما بال اسکی طرف بڑھایا اور کہا تم لیفٹ سائیڈ کی طرف جائو میں رائٹ سائیڈ پر جائو گی ہر کمرے میں چیک کرو بچے اسی فلور ہونگیں مجھے یقین ہے تم جس کمرے میں جائو گے ادھر یہ لال والا بٹن دبانا اگر تمہارے علاوہ اس کمرے میں کوئی ہوا تھا تو یہ بجے گا اور جیسے ہی یہ بچے یہ نیلا بٹن دبا دینا ٹھیک ہے نور نے اس سے پوچھا اسکے انداز میں جلدی تھی
واہ یہ کب ملا آپکو بلال نے بھی جلدی سے پوچھا
ملا کیا مینے خود بنایا ہے اگرپتا ہو تو میں انجینیئر بن رہی ہو وری نے تپ کر کہا اور باہر کی طرف نکل گئی
کاشی بھی اپنے بندوں کے ساتھ گھر کے اندر گھس گیا تھا
وہ انکے کافی سارے بندے مار چکے تھے اسد بھی اپنی ٹیم کے ساتھ فائیرنگ کر کہ انکے بندے مار چکا تھا وہاں کوئی بھی دہشت گردوں کہ بندے نہیں تھے وہ سب کرائے کہ گنڈے تھے جنہیں ان بچوں کہ لئے رکھا گیا تھا
تقریبا سب کو ہی وہ موت کی نیند سلا چکے تھے اب انکا رخ اوپر کی طرف تھا جہاں انکے اور بھی بندے موجود تھے
وری لاسٹ والے کمرے میں اسکے ہاتھ میں موجود اس بال سے آواز نکلی اسنے اپنے ٹرانسمیٹر سے بلال کو اس کمرے کی طرف بلوایا اور ان بچوں کو ڈھونڈا وہ اس کمرے کی دیواروں کو ہاتھ سے پش کر رہی تھی جب ایک جگہ کلک ہوا اور وہ دیوار ہٹی اندر اندھیرا ہی اندھیرا تھا جس میں کمرے کی روشنی اب داخل ہورہی تھی
نور نے اندر گھس کہ ان بچوں کو باہر نکالا جنکی حالت بدتر ہوریئ تھی بھوک پیاس سے وہ بچے یہاں پر تین دن سے بند تھے
وہ سب نور اور بلال سے ڈر رہے تھے اور ابھی انکے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ ان کو اپنا یقین دلاتے باہر سے آوازیں آرہی تھی جب نور اور بلال نے باہر سے قدموں کی چاپ سنی
وہ دونوں اب چوکنے ہو چکے تھے نور نے ان بچوں کو دوبارہ اس دیوار کے پیچھے بھیجنا چاہا مگر وہ نہیں جا رہے تھے
اندر جاتے ہو کہ ایک ایک کو گولی مارو جب وہ بچے انکی پیار محبت کی بات نہیں سمجھ رہے تھے تو چار و ناچار بلال کو اپنا رویہ سخت کرنا پڑا
کیونکہ ابھی ان بچوں کی جان بچانا ضروری تھی اسکی دھمکی کا سنتے ہی وہ دوبار اس دیوار کے پیچھے چلے گئے نور نے تھوڑی سی وی دیوار آگے کھسکائی اور دروازے کہ پیچھے چھپ گئی
اندر آتے دونوں بندوں کو وری اور بلال نے گردن مروڑ کر مار دیا تھا ابھی وہ ابھی گن کا استعمال نہیں کر رہی تھی وہ باہر نکلنے لگے جب زمین سے پڑے اس آدمی کہ جیب میں پڑا فون بجا
نور نے اسکا فون اٹھایا اور اسپیکر آن کیا
متوقف کردن نیم ساعت و آنھار ا بہ بندہ من بہ شمار سیدن ( آدھا گھنٹہ انکو روک کر رکھو میرے بندے پہنچھ جائیں گے تمہارے پاس ) اسپیکر میں اس شخص کی آواز گونجی جو یقینا اسکا باس تھا
وری نے اس بندے کی کال کاٹٰی اور کاشی کو ٹرانسمیٹر کہ زریعے اپنا پیغام دیا
ہمارے پاس آدھا گھنٹہ ہے جس میں یہ سب ہمیں مینچ کرنا ہے انکے بندوں کو آنے میں آدھا گھنٹہ ہے اور اگر ہم اس سے پہلے نہ نکلے تو تم جانتے ہو کیا ہوگا اور اگر انکے شور سے میڈیا یہاں پہنچ گئی تو ہمارا بنا بنایا کیس فلاپ ہو جائے گا
نور کی بات سن کر کاشی نے ایک گہری سانس لی اور ان سب کو یہاں سے نکلنے کا سگنل دیا
سولجرز بچے ہمیں مل گئے ہیں پچھلے گیٹ کا راستہ صاف کریں بچوں کو وہاں سے لے جایا جائے گا اور آپ سب بھی بچوں کو گاڑی میں بٹھاتے ساتھ آپ لوگ بھی آفس کے سیف روم پہنچے ابھی انکو آفس میں رکھیں گے اسکے بعد سیف روم پہنچایا جائے گا
آفیسر اسد بلال اور میں ان لوگوں کا صفایا کر کہ آتے ہیں
اسکی بات کہ جواب مین سب نے یس سر کہا سوائے ایک وری کے جس کی آواز کاشی سننا چاہتا تھا
میجر احمد اتنا ٹائم نہیں ہے ہمارے پاس اور نہ ہی آپ کوئی سپر مین ہیں سو پلیز ان لوگوں کو ابھی یہاں چھوڑیں اور نکلنے کی کریں کیونکہ میڈیا میں جب صبح یہ بات آئے گی تو وہ یہ ہی کہیں گہ یہاں چوری ہوئی ہے یا کچھ اور لیکن اگر یہاں آپ رکے تو آرمی کا نام بھی آسکتا ہے سو پلیز فضول میں شہید ہونے کے خواب نہ دیکھیں اسکی آواز میں خفگی تھی بہت مگر کاشی بھی کاشی تھا
چھ سپاہی ان بچوں کی گاڑی میں گئے تھے اور باقی کہ اپنی گاڑیوں میں نکلے تھے مگر وری اس گھر سے دور اپنی گاڑی میں ان تینوں کہ اس گھر سے نکلنے کا ویٹ کر رہی تھی
جب اسکے جیب میں پڑا فون بجا اسکی پاکٹ میں اس آدمی کا فون پڑا ہوا تھا جو اسنے ایک شاپر میں ڈال کر اپنے پاس رکھ لیا تھا
چرا گوشی من قطع شد؟ (میرا فون کیوں کاٹا تھا)
اس شخس نے اس بندے کا جواب سنے بغیر اگلی بات کی جیسے وہ جلدی میں ہو
برده من در فاصله پنج دقیقه از این خانه است، تا آنجا که امکان دارد، آنها را متوقف کنید (میرے بندے اس گھر سے پانچ منٹ کی ڈرائیو کی دوری پر ہیں جتنا ہوسکے انہیں روکو )
آنها نمیتوانند در هر زمان از کودکان بخواهند (وہ کسی حال میں بچوں کو لیجا نہ سکیں)
اس شخص نے وری کی کسی بات کا جواب نہ دینے کا نوٹس لئے بغیر کہا اور فون بند کردیا
وری نے فون رکھا گاڑی اسٹارٹ کی اور کان میں لگے آلے میں چیخ کر کہا
جاہل آدمی دو منٹ میں ان دونوں کو لیکر باہر نکلو پچھلے گیٹ سے ورنہ میں بھی اندر آجائو گی وری نے تپی ہوئی آواز میں کہتے ہوئے گاڑی ریورس کی اور پچھلے گیٹ کے سامنے لائی
تم گئی نہیں ہو ابھی تک کاشی نے ایک شخص پر فائر کرتے ہوئے کہا
ابھی کوئی بکواس نہ کرو نکلو اس گھر سے وہاں تمہارے چاچا آرہے ہیں اور تم یہاں سلمان خان بنے پھر رہے ہو اس کو باتیں سنتے ہوئے اس نے اسد اور بلال کو بھی حکم صادر کیا اور پچھلے گیٹ سے نکل گیا وہ وہاں کہ سبھی بندوں کو مار چکا تھا انکے بندے لیٹ ہو چکے تھے
کاشی آگے بیٹھا جب کہ اسد اور بلال پیچھے وری نے اسی تیزی سے گاڑی ریورس کی اور گلیوں سے نکال کر شمع والے روڈ پر لیکر آئی کیونکہ وہ روڈ رات میں جتنا جتنا ٹریفک ہوتا تھا صبح اتنا ہی خالی
وہ اتنی سپیڈ سے گاڑی چلارہی تھی صاف پتا چل رہا تھا کہ کسی نہ کسی جگہ ٹھوکنے کا ارادہ ہے
وری اگر ہم اندر شہید ہونے سے بچ گئے ہیں تو تم یہاں کیوں موت کی نیند سلانے پر تلی ہو
اسد کے اتنا بولنے پے وری بیک ویو مرر سے اسکو دیکھا اور چبھتے لہجے میں بولی
تم لوگوں کو بہت شوق ہے مجھے نوکری سے نکلوانے کا اگر ابھی وہ لوگ وہاں آجاتے تو تھوڑی دیر بعد وہاں میڈیا نے جمع ہوجانا تھا اور سر ویسے ہی مجھے قید میں ڈالنے والے ہیں تم لوگ چاہتے ہو دنیا سے ہی بھیج دیں وری کی بات کے جواب میں بلال نے کہا
ویسے آپ نے وہ تیار کیسے کیا اسکی سوئی ابھی تک اس بال پر تھی
وری پہلے ہی تپی ہوئی تھی اسکی بات پر اور تپ گئی مطلب اسکو وہ اتنی نالائق لگتی ہے کہ اسکو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ اسنے بنایا ہے
کوئی مشکل نہیں ہے اسکا ایک سویچ بنانا پڑتا ہے اور اسے ان دونوں بغیرتوں کی ناک میں ڈال دینا ہو جائے گا تیار
وہ جو غور سے سن رہا تھا ایک دم شرمندہ ہوگیا
وری کو بہت غصہ تھا ان دونوں پر اگر انکے بندے وہاں پہنچھ جاتے تو کیا ہوتا یہ تین تھے اور وہ درجنوں کے حساب سے ہوتے اگر ان تینوں میں سے کسی گولی لگ جاتی یا کچھ اور تو وہ تینوں اسے اپنی جان کی طرح عزیز تھے بلکہ آرمی کا سپاہی اسے عزیز تھا
مگر اسکی گالی پر کاشی اور اسد نے دل سے قہقہ مارا تھا ہر ٹینشن سے فری ہوکر
اسکی زندگی کا ایک رول تھا غصے میں اپنے سائز کے لوگوں کو بغیرت بولنا لیکن ایک بار نمرہ بیگم نے اسکو یہ کہتے سن لیا تھا اور بس پھر وہ ہی ہوا تھا جو ہر گھر مین ہوتا ہے
اس کے بعد سے اسنے یہ لفظ بولنا چھوڑ دیا تھا
مگر آج کافی عرصے بعد اسکے منہ سے یہ لفظ سن کر اسے مزہ آیا تھا کیونکہ وہ یہ لفظ بلکل پنجابیوں کہ اسٹائل میں بولتی تھی میٹھا میٹھا سہ
ابھی وہ گاڑی میں اپنے میٹنگ روم کی طرف جارہے تھے جب بریگڈیئر اویس کی کال
تم لوگ وہاں سے نکل چکے ہو
یس سر کاشی نے جواب دیا
دس منٹ میں کرنل کے آفس پہنچو سر اویس نے اس بار زرہ سختی سے کہا
اوکے سر کاشی نے پھر جواب دیا
نور اور اسد کو لیکر آنا اس بار انکا لہجہ فخر سے بھرا ہوا تھا اپنے جوانوں کیلئے
اوکے سر کاشی نے جواب دیتے ساتھ وری کو کرنل کے آفس کی طرف جانے کو کہا
Episode 20
گلگت کے ایک روپوش علاقے میں جنگلوں میں بنے اس گھر میں وہ شخص اس آدمی کو فون ملانے کی کوشش کر رہا تھا جس سے اسنے ان بچوں کو خریدا تھا وہ آدمی اسکا پرانا سپلائر تھا
لڑکیوں اور بچوں کا فریش مال وہ ہی بھیجتا تھا اسے ویسے مال کی پیمنٹ بعد میں ہوتی تھی مگر اسنے پہلی بار اس سے ساری رقم ایڈوانس میں لی تھی تین کروڑ کی سپلائی کرنی تھی اس شخص کو مگر وہ شخص فون ہی نہیں اٹھا رہا تھا اس شخص نے غصے سے فون دیوار پر مارا وہ دہشت گردوں کا بڑا تھا اور آج تک کسی نے اسکا فون نہ اٹھانے کی جرات نہیں کی تھی
اور وہ شخص جسکو وہ کال کر رہا تھا پرسوتی نامی آدمی جو ہندو تھا اسکو اپنے باس کا بار بار فون کرنا گھبراہٹ میں ڈال رہا تھا کیونکہ جن بچوں کا مال اس نے آج بھیجنا تھا وہ تین منٹ کی دیری سے اسکے ہاتھ سے نکل گیا تھا
اور اب وہ شخص پریشان تھا کیونکہ وہ تین کروڑ وہ سب لوگوں میں بانٹ چکا تھا جو جو اس میں شامل تھے اور اب وہ کیا کرے گا کیونکہ اگر یہ بات باس کو پتا چل جاتی تو وہ اسکی بوٹیاں بوٹیاں کر کہ کتوں کہ آگے ڈال دیتا
لیکن اب صرف روپوش ہونے کے علاوہ اس شخص کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ وہ بچے آرمی کہ ہاتھ لگ چکے تھے اور آرمی سے بنگا لینا موت کو منہ لگانے جیسا تھا کیونکہ پاکستان کی صرف پولیس ہی بک سکتی تھی لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے اگر
ان کو اتنی فیسیلیٹیز مہیا کی جائیں تو شاید وہ کبھی رشوت نہ لیں مگر ہماری پولیس میں بھی بہت سے ایسے ایماندار آفیسرز ہیں جو اس ملک کیلئے کام کر رہے ہیں
لیکن جو محبت ہمیں اپنی آرمی سے ہے شاید اتنی پولیس والوں سے نہیں ہے کیونکہ انکے کچھ بےایمان لوگوں کی وجہ سے ساری پولیس فورس سے لوگوں کا اعتبار اٹھ چکا ہے
اس شخص نے اپنے بیگ میں کپڑے اپنا پیسا جو اس گھر میں موجود تھا وہ اور اپنی گن رکھی اور اپنے گارڈ کو گاری نکالنے کا بولا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ پولیس کے کچھ ایماندار نوجوان کافی دیر سے اسکے باہر نکلنے کا ویٹ کر رہے تھے اور جیسے ہی انکی گاڑی باہر نکلی وہ بھی اسکا پیچھا کرنے لگے جس روٹ سے انکو جانا تھا ڈرائیور نے گاڑی وہاں سے نہیں موڑی بلکہ ایک دوسرے علاقے سے نکلا وہ پنڈی میں تھی اور آگے سنسان راستہ تھا جب ڈرائیور نے گاڑی روکی اور پولیس کے نوجوان اپنی گاڑیوں سے نکل کر فورا اس بندے کی طرف بڑھے
اسکو کوئی موقع دیئے بغیر ایک انجیکشن اسکی گردن میں لگایا اور گھسیٹتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف لے کر گئے ایک پولیس آفیسر نے اس ڈرائیور کو کچھ پیسے دیئے اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر ایک نمبر ملایا
سر کام ہو گیا ہے تین گھنٹے میں یہ آدمی آپکے پاس ہوگا اس پولیس آفیسر نے اپنے ماتحت کو آگاہ کیا اپنے کام سے
اوہ دیٹس گڈ اسے آرمی کے اس قید خانے میں لے کر آئو جہاں غیر مسلم ایجنٹس کو رکھا جاتا ہے میجر کاشان احمد نے اسکو کچھ اور ہدایت دی
اوکے سر فی امان اللہ
فی امان اللہ جوان تم نے بہت بہترین کام کیا ہے کاشان نے اسکی تعریف کر کہ فون بند کردیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مرتے ہیں اٹھتے ہیں پر جھکتے نہیں
اے میرے وطن تیرے یہ لال کبھی بکتے نہیں
وری گاڑی دڑائیو کر رہی تھی وہ لوگ پانچ منٹ کی دوری پر تھے اسکے اسپیڈ سے چلانے کی وجہ سے پیس منٹ کا راستہ پندرہ منٹ میں تہہ کرلیا تھا
کاشی کہ فون پر آنے والی کال پران سب نے اسکی طرف دیکھا اور اسکے کال اوکے کرنے سے پہلے ہی وری بول اٹھی
اگر صحیح سلامت جرنل کے گھر جانا چاہتے ہو تو کال اسپیکر پر کرو وہ جس انداز میں گھور کر کہہ رہی تھی کاشی نے پہلی فرصت میں کال کا اوکے کر کہ اسکا اسپیکر آن کیا اس کا کیا بھروسہ تھا کہ واقعی میں اسے چلتی گاڑی سے پھینک دیتی
فون پر ہونے والی باتیں ان سب نے سنی تھی
اور سب سے پہلے سوال کرنے والا علی تھا
تم نے کس بندے کو اٹھوایا ہے
سوتی کو کاشی نے آہستہ آواز میں کہا
یہ (سوتی) کون ہے نور نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا
اسنے ایک نظر اسکو اور پھر پیچھے بیٹھے لوگوں کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے جس شخص کی کال تم نے اٹھائی تھی اسکا نام سوتی ہے
اور میں کافی دنوں سے اسکا پتا کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اب فائنلی وہ ہاتھ لگ گیا ہے یہ ہی ہمیں گلگت اس زلیل دہشت گرد کے پاس لے جانے میں مدد دے گا
اس شخص کے پاس ہر انفارمیشن ہوگی اور میں وہاں رکا بھی اسی لئے تھا کیونکہ جیسے ہی اسکو پتا چلتا کہ بچوں کو ہم نے بچا لیا ہے تو وہ اپنے بندوں کو بھیج کر ہر ممکن کوشش کرے گا انہیں ہم سے چھیننے کی اور اس نے ایک غلطی کردی تھی
اپنا پرائیویٹ نمبر یوز کرنے کے بجائے عام نمبر یوز کیا جس کو ہم نے ٹریس آوٹ کر کہ پہلے اسکا گھر ڈھونڈا اور اب وہ ہمارے پولیس کے نوجوانوں کے پاس ہے تین گھنٹے میں یہاں ہوگا کاشی اپنی بات کر کہ خاموش ہوا تو وری نے کہا
ساتھ یہ دعا بھی کرلو کہ تب تک تم اس کیس کا حصہ بھی رہو کیونکہ حلات ایسے نہیں ہے کہ اب آگے ہمیں آرمی میں بھی رکھا جائے
مجھے لگتا ہے وہاں کھڑے تم لوگوں سے وردی بھی مانگ لی جائے گی اس لئے اپنے کپڑوں کا انتظام کر لو وری کی بات پر اس بار صرف بلال نے قہقہ لگایا جبکہ کاشی اور اسد اسکو گھور رہے تھے ایسے کہ ابھی اسکو کچا جباجائیں گے
اچھا نہ ایسے گھوروں تو نہیں ویسے ہی میں اتنا ڈری ہوئی ہوں کیوں اور ڈرا رہے ہو وری نے بڑی معصومیت سے آنکھیں جھپکا کر کہا
تم اور ڈر جائو اللہ کو مانو وری کیوں بھری جوانی میں میرے کانوں کو گناہ گار کروا رہی ہو تم صرف لوگوں کو ڈرانے اور پاگل بناکے لئے ہو اس لئے خود کی ڈرنے کی باتیں نہ کرو وری کی بات سن کر اسد نے بھی اپنا حساب پورا کیا
وری نے زور سے ایکسیلیٹر پر سے پائوں ہٹایا اور بریک پر رکھا گاڑی ایک جھٹکے سے رکی کہ بلال کا سر اگلی سیٹ کی پشت پر لگا اسد بھی تھوڑا آگے ہوا مگر کاشی تھوڑا سہ ہی آگے ہوا اسکو عادت ہوگئی تھی وری کے ساتھ سفر کرنے کی اور اسکی عادت تھی کوئی بھی بات غلچ لگتی فورا ایک جھٹکے سے گاڑی روکتی
فرسٹ ٹائم جب اسنے ایسا کیا تھا تو کاشی کا سر ڈیش بورڈ پر جاکر لگا تھا مگر وری نے شرمندگی کے بجائے غصہ ہی کیا تھا کہ سیٹ بیلٹ کیوں نہیں پہنی
کاشی کو اس وقت تو غصہ آیا تھا مگر برداشت کر گیا اسکو لگا تھا آئندہ وہ ایسے نہیں کرے گی مگر اگلی ہی بار اسنے جگہ جگہ اسکو اتنے جھٹکے لگائے کہ کاشی کی عقل ٹھکانے آ گئی کہ یہ کبھی نہیں سدھر سکتی
وری نے سائیڈ سے ایک کٹ مارا اور جرنل کہ آفس کے آگے گاڑی روکی چلو یار آج انکا آفس بھی دیکھ لو گی بڑی حسرت تھی انکے گھر سے ملاقات کی وری نے ڈرامائی انداز میں شعر بولا اور آگے بڑی
وی تینوں مسکرائے اور کاشی نے ایک چپت اسکے سر پر لگا کر اسکو روکا
تم جونیئر ہو اس لئے میرے پیچھے آئو میں پہلے جائو گا
توبہ آج بتا ہی دیا تم نے کاشی کہ تم ثمینہ پھپو کہ بیٹے ہو بس آج تم نے مجھے یہ بات کہہ کر پرایا کر دیا تم سے جو محبت تھی میرے دل میں آج ختم ہوگئی ہے ہائے اللہ یہ سننے سے پہلے اسد کہ کان بہرے اور دیکھنے سے پہلے بلال کی آنکھیں بھینگی کیوں نہیں ہو گئی وری ڈرامائی انداز میں بولتی ہوئی آگے بھاگی وہ تینوں جو اسکی ایکٹینگ دیکھ کر مسکرا رہے تھے اسکے بھاگنے پر خود بھی دوڑ لگا کر آئے مگر وہ گیٹ کراس کر کہ اندر کھڑی ہوچکی تھی
کاشی نے اسکے پاس آکر اسکو گھور کر کہا
تم گھر چلو زرہ تمہیں ٹھیک کرونگا کاشی نے دانت پیس کر کہا
اب کچھ بھی بول لو باہر لگے کیمرے میں انٹری تو ہوگئی ہے میری سب سے پہلے اس سے پہلے کاشی اسکو کچھ سناتا ایک بندے نے آکر ان چاروں کو اندر جرنل کہ آفس میں بلوایا
کاشی کہ ساتھ ساتھ چلتے وری نے سرگوشی میں کہا
کاشی کیا کھانے کو کچھ دیں گے وری نے معصومیت سے پوچھا
کاشی نے گردن موڑ کر اسکو دیکھا اور زرا تیکھے لہجے میں بولا
جی بلکل اتنا کھانا ملے گا کہ تم سارا ہفتہ کچھ اور نہیں کھا سکو گی یہ ہی کھانا بہت ہوگا
کاشی کی بات کہ جواب میں وری نے کہا
پھر تم زیادہ کھا لینا کاشی کیونکہ تمہیں پتا ہے میں بغر کھائے نہیں رہ سکتی
وری خاموشی سے چلو کیوں اتنا بولتی ہو تم پیچھے سے اسد نے اسکو ٹوکا
تمہارے منہ سے نہیں بولتی ہوں اس لئے میرے ساتھ بکواس نہ کرنا یہ نہ ہو سارا الزام تم پر لگا دوں وری نے تپ کر کہا
اسکی بات کہ جواب میں اسد نے کچھ نہیں کہا کیونکہ اب وہ جرنل کے آفس کا گیٹ کھول کر اندر داخل ہوئے
اندر سر اویس جرنل اور کچھ اور سینئر آفیسر تھے جنہیں دیکھ کر ان چاروں نے سلوٹ کیا
وہاں ان چاروں کو ملا کر نو لوگ تھے اور وہ تین سینئر آفیسر وری کو وہاں دیکھ کر حیرت زدہ تھے مگر کچھ بول نہیں سکتے تھے
جرنل ان چاروں کی طرف مڑے اور اپنے روب دار لہجے میں بولے
میرا حکم کس کہ کہنے پر توڑا گیا تھا اور کیوں توڑ اگیا جرنل کی آواز میں انتہائی سختی تھی
اس سے پہلے کاشی جھوٹ بولتا وری نے کہا
سر ہم نے آپ کا حکم نہیں آڈرز توڑے ہیں اور بھی مینے مجھے شرمندگی ہے آپکی بات نہ ماننے پر مگر خوشی ہے یہ آڈرز توڑنے پر وری کی بات سن کر جرنل نے تیز لہجے میں کہا
آُپ جونیئر تھی اور وہاں آپکے سینئر موجود تھے تو آپ نے کیوں فیصلہ لیا
سر مس نور نے صرف پوچھا تھا آخری فیصلہ میرا ہی تھا کاشی نے بھی بنا تاثر کے جواب دیا
آپ جانتے ہیں میجر کاشان احمد کہ اس چیز پر آپ لوگوں کو نوکری سے بھی نکالا جا سکتا ہے
یس سر کاشی نے بلند آواز میں کہا
وہ چاروں ہاتھ پیچھے باندھے کھڑے تھے پھر بھی اپنے یہ رولز توڑے ہیں جرنل راحیل نے ایک بار پھر استفسار کیا
یس سر کاشی نے ایک بار پھر ہاں میں جواب دیا
وجہ بتا سکتے ہیں آپ
یس سر
تو بتائیں پلیز
سر اگر اس وقت وہاں سے آجاتے تو شاید نوکری بچا لیتے مگر ضمیر سو جاتا یا وہ ساری زندگی کوڑے لگاتا سر ہم پر بھروسہ کرتی ہے ہمری قوم اور کیا نوکری ان بچوں سے زیادہ اہم نہیں تھی ہمارے لئے جب ہم سروں پر کفن باندھ کر نکلتے ہیں تو اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ اگر ہم شہید ہو گئے تو ہماری فیملی کا کیا ہوگا تو سر اب کیسے نوکری کی فکر میں ان بچوں کو چھوڑ دیتے کاشی کی بات بریگڈیئر اویس اور جرنل راحیل نے اسکو فخر سے دیکھا اور کہا
مجھے فخر ہے آپ لوگوں پر میں چاہتا تھا آپ ایسا جواب دیں اور مجھے خوشی ہے کہ آپ نے دیا لیکن آڈرز توڑنے پر آپ لوگوں کو سزا ملے گی کیونکہ یہ رولز ہیں ہمارے اور آپ جانتے ہیں میں یہ کوئی یہ رولز چینج نہیں کر سکتے
آپ دونوں کو ایک ماہ کیلئے سسپینڈ کیا جا رہا ہے ایک ماہ تک آپ آرمی کے کسی کیس پر کام نہیں کریں گے مجھے افسوس ہے اس بات پر لیکن یہ سزا صرف آپ دونوں کیلئے ہے باقی لوگوں کیلئے نہیں بس یہ رعایت دے رہا ہو آپ لوگوں کی پروموشن نہیں رکے گی جرنل کے خاموش ہوتے ہی وری کی زبان پر کھجلی ہوئی جو اس بات کی گوہی تھی کہ وہ اب خاموش نہیں رہ سکتی
سر مجھے سسپینڈ نہیں کیا جا رہا اسنے حیرت سے پوچھا
آپ کو ایک ماہ نہیں بلکہ تین ماہ کیلئے سسپینڈ کیا جا رہا ہے مگر مجھے دکھ سب سے زیادہ آپ کے لئے ہے کرنل نے افسردہ لہجے میں کہا
سر اگر آپ کو اتنا دکھ ہورہا ہے تو پلیز آپ ہمیں اس کیس پر کام کرنے دیں یہ کیس پورا ہوگا تو آپ یہ سزا ہمیں دے دیجیئے گا ہم نے محنت کی ہے اس کیس پر اور اگر یہ کیس کسی اور کو دیا گیا تو وہ دوبارہ سے ان سب کی انویسٹیگیشن کروائے گا جس میں صرف ٹائم ضایع ہوگا اور اس وجہ سے یہ نہ ہو وہ فائدہ اٹھا کر ہمارے قوم کے مستقبل کو روندھ دیں وری نے التجایا انداز میں کہا
میں بات کرتا ہو پرائم منسٹر سے اور میں انہیں منالوں گا دو دن ہیں آپ کے پاس آرام کےآج کا اور کل کا پرسوں آُ لوگ گلگت کیلئے نکلیں گے مگر یاد رہے اب کوئی آڈرز توڑنے پر آپکو غدار سمجھ کر گولی ماری جا سکتی ہے سو بی کیئر فل وہاں صرف آپ ہی نہیں پنجاب کے آفیسرز بھی ہونگیں آپکے ساتھ
اس لئے غلطر کی کوئی گنجائش نہیں کرنل کی بات کے جواب میں انہوں اثبات میں سر ہلایا
یس سر
اب آپ لوگ جائیں کرنل کا حکم سنتے ہی ان چاروں نے سلوٹ مارا اور باہر کی طرف جانے لگے جب سر نے پیچھے سے بلایا
میجر احمد
کاشی نے پیچھے مڑ کر سوالیہ نظروں سے انکو دیکھا وہ تینوں بھی انکو دیکھ رہے تھے
آج سے آپ مس نور کے انڈر کام کریں گے باقی لوگ آپ کے انڈر ہونگیں اور آپ مس نور کہ کرنل کی بات سن کر وری نے سر اویس کی طرف دیکھا جنہوں نے اپنی بائیں آآنکھ دبائی اور مسکرائے
وہ صرف مسکرائی اور ایک دفع پھر سلوٹ مار کر نکل گئی
کون کہتا ہے کہ آرمی والے مزاق نہیں کرتے یا جرنل اور آفیسرز میں باس کا رشتہ ہوتا ہے صرف نہیں کبھی انکے ساتھ رہ کر دیکھیں تو پتا چلے گا کہ وہ کتنی محبت کرنے والے ہیں بیچ میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اکڑو غرور والے ہوتے ہیں
مگر جرنل راحیل بریگڈیئر اویس یہ سب بلکل فیملی کی طرح تھے ایک دوسرے کے ساتھ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ثناء اور آفان گھر پہنچ چکے تھے جہاز سے آنے کی وجہ سے اسنے منع کردیا تھا کسی کوبھی آنے سے اس وجہ سے ڈرائیور ہی انہیں گھر لے کر آیا تھا
اور اب سب ان سے مل رہے تھے سحر بیگم نے آفان کا ماتھا چوما اور دعا دی پھر ثناء کو گلے لگایا اور اسکا بھی ماتھا چوم کر دعا دی
آفان جیسے ہی فہد کے گلے لگا ساتھ میں سب سے استفسار کیا
یہ وری میرو اور کاشان کدھر ہیں اسکے پوچھنے پر نمرہ بیگم نے اداسی سے کہا
وہ ابھی تک ٹرپ پر ہے کل واپس آنا ہے اسنے دوپہر تک لو میں ہنی مون سے بھی ہو آیا اور وہ میدم ابھی تک غائب ہیں چلیں خیر میجر صاحب کدھر ہیں آفی نے کاشی کے بارے میں استفسار کیا
کہاں ہوگا ایک کیس پر کام کر رہا ہے اس لئے غائب ہے ابھی بھی تین دن ہوگئے ہیں گھر نہیں آیا
اوہ یہ بھی ہے اسکا کام بھی تو کتنا مشکل ہے وہ جاگتے ہیں تو بیس کروڑ عوام سکون سے سوتی ہے
ہاں اور اس بار کا کیس بھی زرا مشکل ہے شاید کیونکہ اسد بھی اسکے ساتھ ہے اس کیس میں
اچھا چلیں اللہ پاک حفاظت کرے دونوں کی بلکہ ہمارے سارے آرمی کے نوجوانوں کی
وہ ان سب کو دعا دے رہے تھے مگر انکلے زہن میں وری زرہ بھی نہیں تھی کہ وہ بھی آرمی میں اسی مشکل کیس میں ہو سکتی ہے
ہاں ویسے کہہ رہا تھا کل آئے گا گھر دیکھو اب آتا ہے کہ نہیں ثمینہ پھپو نے ٹھنڈے لہجے میں کہا
چلو تم لوگ بھی فریش ہو جائو پھر کھانا لگایا جائے ان سب نے باتوں کے درمیان ایک دفع بھی حسن صاحب کو نہیں دیکھا تھا جو دل میں اپنی بیٹی کی حفاظت کی دعائیں کر رہے تھے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
واپس میں اسد گاڑی چلا رہا تھا ساتھ میں بلال تھا جبکہ پچھلی سیٹ پر وری اور کاشان فاصلے سے بیٹھے ہوئے تھے
یار ایک بات سمجھ نہیں آئی مجھے وری نے استفسار کیا
وہ کیا بلال نے پوچھا
کہ اگر سر کو میرے لئے اتنا دکھ تھا تو مجھے تین ماہ کے لئے سسپینڈ نہ کرتے لوگ خوش ہی نہیں ہو سکتے مجھ سے مطلب انکا دل نہیں دکھا ہوگا بلال مجھے سسپینڈ کرتے ہوئے وری دکھی انداز میں کہا
لگ تونہیں رے تھے دکھی وری تمہارے لئے جرنل صاحب کاشی نے نمک چھڑکا اسکے زخم پر
میجر صاحب زرہ تمیز سے مس کہہ کر پکاریں ورنہ آپکو سزا دی جائے گی اسکی آپکو وری نے سخت لہجے میں کہا
کاشی نے وہ سے بیٹھے بیٹھے اسکے سر پر چپت لگائی
تم نے چھوٹا ہی رہنا ہے مجھ سے سر کہ بولنے سے کای ہوتا ہے مینے تو تمہیں وری ہی بولنا ہے کاشی نے پھر سے چڑایا
ہاں تو میں بھی تمہٰن کاشی ہی بولونگی فکر نہ کرو ابھی وہ بات کر رہی تھی جب اسکا فون بجا
سر اویس کی کال تھی
اسنے منہ بنا کر کال اٹھائی
کیا مسئلہ ہے میں دو دن کی چھٹی پر ہوں دو دن بعد کال کریں شکریہ وہ فون بند کرنے والی تھی جب سر اویس نے کہا
میرے گھر پہنچو میں بھی آرہا ہوں تم سے کام ہے سر نے سختی سے کہا
زیادہ روب نہ جھاڑیں میں نہیں آ رہی وری نے پھر انکار کیا
وری یہ میرا آڈر ہے فورا گھر آئو انہوں نے یہ کہتے ساتھ کال کاٹ دی
ایک تو ہر کوئی مجھے اپنے روب میں رکھنا چاہتا ہے اور مطلب میں چھٹی کہ وقت بھی سکوں نہ کرو میرے گھر آجائو اللہ مجھ پر رحم کر ان ظالموں کو احساس دلا کہ یہ مجھ بچی سے کتنا کام کرواتے ہیں اتنی تو سیلری بھی نہیں دیتے جتنا کام کرواتے ہیں مجھ سے وری نے منہ بڑبڑا کر کہا
ماموں کہ گھر کی طرف چلو اسنے اسد سے کہا
کیوں ابھی تو دیکھ کر آئی ہو انہیں اسنے حیرت سے پوچھا
ہاں مگر سر کا دل نہیں بھرا مجھے دیکھ کر پھر سے بلایا ہے اور اب کوئی سوال مت کرنا مجھے وہاں چھوڑ کر تم سب جہاں جانا چاہو درف ہو جائو کیونکہ اب میں پرسوں سے پہلے تم لوگوں کو دیکھنا بھی نہین چاہتی وہ یہ بول رہی تھی یہ جانے بغیر کہ کل ہی سب پھر سے ملیں گیں۔
