Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03

کاشی ثمینہ بیگم کو مارکیٹ لیکر آیا ہوا تھا اور اب پچتا رہا تھا انکے ساتھ آنے پہ ساتھ ساتھ اسے میرو اور وری ہمدردیاں بھی یاد آرہی تھی جو کل پھپو کہ اسکو مارکیٹ ساتھ جانے کا کہنے پر کر رہے تھے
اس وقت وہ سب لائونچ میں بیٹھے ڈسپیکیبل مووی دیکھ رہے تھے جب پھپو نے آکر کاشی کو مخاطب کیا
کاشی کل میرے ساتھ مارکیٹ چل سکتے ہو اگر فارغ ہو ــ پھپو نے بےحد پیار سے پوچھا
جی ماما چل لو گا ابھی تو میں فارغ ہو آفان کی شادی کہ بعد ہی ہی میں اپنا بزنس اسٹارٹ کرو گا جب تک فارغ ہو کس ٹائم جانا ہے کاشی نے بھی اسی نرمی سے جواب دیا
لیکن جیسے ہی پھپو دوبارہ کچن کی طرف مڑی وری اور کاشی اسکے پاس آکر بیٹھ گئے تھے وہ حیرت سے ان دونوں کہ دیکھ رہا تھا جو اسکی طرف جھکے رازداری کہ انداز میں کچھ کہہنا چارہے تھے
کاشی ابھی بھی وقت ہے منع کر دو پھپو کہ ساتھ جانے سے یہ وری تھی جو اسکو کہہ رہی تھی
بلکل اگر کل تم ان کہ ساتھ مارکیٹ چلے گئے تو یقین جانو اسکے بعد کبھی تم زندگی میں مارکیٹ جانے کہ بارے میں نہیں سوچو گے ــ میرو بھی اسکو سمجھانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا مگر وہ انکی باتیں سننے اور سمجھنے سے زیادہ اہم کام کر رہا تھا ــ
وری کو دیکھنے کا جو وائٹ پینٹ پر ڈارک بلیو کلر کی کرتی پہ گلے میں مفلر کی طرح وائٹ ڈوبٹہ ڈالے اپنے گولڈن بالوں کی اونچی پونی بنا ئے بلکل باربی ڈول لگ رہی تھی اوپر سے اسکے چہرے پہ چاہئی معصومیت اور ہری آنکھوں میں کاشی کہ لئے فکرمندی لئے وہ کاشی کو بلکل اپنی اپنی سی لگ رہی تھی اسکا دل چاہ رہا تھا وقت یہی تھم چائے اسے دیکھتے مگر وقت کسی کہ لئے نہیں رکا آج تک تو اسکے لئے کیسے رکتا ــ
کاشی ہم کدھر گم ہو ہم بکواس نہیں کر رہے تمہیں سمجھا رہے ہیں اور تم الوئوں کی طرح ہمیں دیکھ رہے ہو ــ
وہ جو مبہوت سہ اسے دیکھے جارہا تھا اسکے زور سے چیخنے پر چونکا تھا
ہاں کیا ہوا میں سن رہا ہو ــ کاشی نے بوکھلاہٹ سہ کہا
کیا سن رہے ہو وری نے جھنجھلاکر کہا اور میرو کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف جاتے ہوئے بولی چلو میرو اس کو کل سمجھ میں آئے گی ہماری بات دیکھ لینا تم میرو ــ
اور واقعی میں اب اسے سمجھ آگئی تھی اسکی بات کی ــ ثمینہ بیگم نے صرف دو سوٹ لینے تھے ایک اپنا اور ایک فیصل صاحب کا جس میں انہوں گھنٹہ لگا دیا تھا
جس پر کاشی چڑ گیا تھا مگر اب کوئی فائدہ نہیں تھا کپڑے خریستے ہی وہ انہیں گھر لے آیا کچھ بھی سنے بغیر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میرو بھاگتا ہوا کینٹین سے وری کی طرف جا رہا تھا وہ اور ارسلان سامان لے رہے تھے جب بھاگتے ہوئے علماء میرو کہ پاس آئی اور اسکا کندھا ہلایا بھاگنے کی وجہ
سے اسکا سانس پھول گیا تھا میرو کسی کہ کندھا ہلاانے پر جھٹکے سے پییچھے مڑا اور ہانپتی ہوئی علماء کو دیکھ کر حیران ہو گیا کیا ہوا ہے اسنے حیرت سے پوچھا
میرو وری ی وری ایبک کو پیٹ رہی ہے جلدی چلو وری نے جیسے ہی ایبک کو پٹنا شروع کیا تھا علماء اسی وقت بھاگی تھی میرو کو بلانے کے لئے
کیا کیا تم مزاق کر رہی ہو میرو نے آرام سے پوچھا کہ شاید وہ مزاق کر رہی ہو کیونکہ وری نے کبھی یونی میں کسی لڑکی کے ساتھ ما پٹائی نہیں کی تھی تو لڑکے کو کیسے مار سکتی تھی اگر کبھی لڑائی ہوئی بھی تو صرف منہ سے ہاتھا پائی کبھی نہیں ہوئی
میں مزاق نہیں کر رہی میرو وہ واقعی میں ؛؛؛؛ میرو نے اسکی بات پوری ہونے سے پہلے باہر کی سمت دوڑ لگائی پیچھے علماء اور ارسلان بھی اسکے پیچھے بھاگی تھے
اور وہا ں وری ایبک کو پیٹ رہی تھی اسکے خود کہ منہ سے بھی خون بہہ رہا تھا آس پاس اور بھی لڑکے لڑکیاں کھڑے تھے کچھ لڑکیاں آگئے بڑنے کی کوشش کر رہی تھی مگر وری کا جنونی انداز دیکھ کر وہ سب پیچھے ہٹ جاتی
وری مارنے کہ ساتھ ساتھ بول بھی رہی تھی تم جانتے ہو کیا میری ماں کو جو انکے بارے میں بکواس کی تم نے تمہیں اتنی جرائت دی کس نے کمینے زلیل انسان ـ- وری نے آخری لات اسکے پائوں پہ ماری اور فری کی طرف بڑی
فری اسکو اپنی طرف آتا دیکھ کر بھاگنا چاہتی تھی مگر بھاگ نہیں سکی کیونکہ وری نے اسکا منہ اپنے دائیں ہاتھ میں دبوچ کر اسے دیوار کہ ساتھ لگایا اور غرا کر بولی
آج کہ بعد اگر میرے میری ماں یہ مجھ سے منسلک کسی بھی رشتہ کہ بارے میں تم نے ایک بھی لفظ کہا تو تمہارا وہ حشر کرو گی کہ خود بھی اپنے آپ کو نہیں پہچان سکو گی ــ وری کی آواز غصے کی شدت سے پھٹ رہی تھی
فری نے اسکی بات پہ گردن اثبات میں ہلائی اس سے پہلے وری فری کو بھی دو دن تھپڑ رسید کرتی میرو نے آکر فری کو اسکی گرفت سے آزاد کرایا
اور ارشاء اور علماء کو وری کو اوپر لیب کی کلاس میں لیجانے کا کہا
وہ دونوں فورا سے اسکی طرف بڑھی جو فری اور ایبک کو چھبتی نظروں سے گھور رہی تھی وہ دونوں اسے زبردستی اوپر لیکر گئی تو میرو فری کی جانب بڑھا جو اب تک اپنے حواس بہال کر چکی تھی
یہاں کیا ہوا تھا فریحہ ــ میرو نے زرا زور سے کہا
میرو میں اور ایبک ویسے ہی ان لوگوں کہ پاس آئے تھے ہیلو ہائے کرنے اور باتوں باتوں میں ایبک نے یہ کہہ دیا کہ میرو تمہارا بوائے فرینڈ ہے تو اسبات پر وہ اسے پیٹنے لگ گئی تھی اسکو کیا پتا تھا کہ تمہارے اور وریشہ کہ بیچ ایسا کچھ نہیں ہے میرو کہ پوچھنے پر وہ اسے اپنی طرف کی فرضی کہانی سنارہی تھی
میرو شرمندہ ہو گیا تھا اس بات پر کیونکہ یہ بات اتنی بھی بڑی نہیں تھی کسی کو کیا پتا کہ انکا آپس میں کس طرح کا ریلیشن شپ ہے
میرو نے فری اور ایبک دونوں سے معزرت کی وری کہ رویہ پر اور ایبک کو منع بھی کیا کہ وہ اس بات کی شکایت ہیڈ ماسٹر سے نہ کرے کیونکہ اس صورت میں ان دونوں کو سسپینڈ کردینا تھا یونی نے
میرو وری کہ منہ سے خون نکالتادیکھ چکا تھا یعنی ایبک نے بھی اسپہ ہاتھ اٹھایا تھا اس لئے سزا بھی دونوں کو ملنی تھی
فری اور ایبک کو فارغ کر کہ اب وہ اور ارسلان لیب کی طرف جارہے تھے جہاں وہ آتش فشاں بییٹھی تھی
___________
اگر تم سے کوئی پوچھے زندگی کیا ہے
تو
ہتھیلی پر زرا سی خاک رکنا اور اڑا دینا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ثمینہ بیگم احسن ولا کے لائونچ میں بیٹھی نمرہ بیگم اور سحر بیگم کو آج کی شوپنگ دکھا رہی تھی پاس ہی بڑے صوفے پر بلیو جینز کی پینٹ پر وائٹ شرٹ پہنے فریش سہ کاشی نیم دراز تھا جو ان تینوں کی گفتگو سننے کہ ساتھ ساتھ تبصرے بھی کر رہا تھا ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ
لائونچ کا دروازہ ایک جھڈکے سے کھالا گیا اور اسی رفتار سے دوبارہ مارا گیا
اس وجود کہ منہ اور ہاتھ سہ خون بہہ رہا تھا وہاں بیٹھے نفوس نے جھڈکے سر اٹھایا اور آنے والے کی سمت دیکھا تو ہر کوئی اپنی جگہ کچھ لمحوں کیلئے شاک ہو گیا تھا
وری کسی کی طرف بھی دیکھے بغیر اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور انے کمرے میں پہنچتے ہی اسنے دروازہ لاکڈ کر دیا بیگ اٹھا کر بیڈ پر پھینکا اور دروازے کہ ساتھ موجود دیوار کہ ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی
باہر سے ان سب کی آوازیں بھی آرہی تھی جن میں میرو کی آواز بھی شامل تھی
اسکے کمرے میں جاتے ہی پیچھے سے گھبرایا ہوا میرو داخل ہوا تھا اور ان سب کو دیکھتے ہی وہ رک گیا اور بے چینی سے وری کہ بارے میں پوچھا
ماما وری کہا ہے وہ گھر پہنچی کہ نہیں وہ ان سب سے پوچھ ہی رہا تھا کہ نمرہ بیگم شاک سے نکل کر آگے بڑھی اور اسے گریبان سے پکڑ کر استفسار کیا
میرو وری کہ ساتھ کیا ہوا کس کہ ساتھ جھگڑا کر کہ آئی ہے وہ اسکو کس نے ہاتھ لگایا مجھے بتائو میرا دل بیٹھا جا رہا ہے نمرہ بیگم کہ لہجے میں مامتا کی تڑپ تھی
میرو چاہ کر بھی انکو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ ایک لڑکے کو پیٹ کر آئی ہے نمرہ بیگم بھی عام مائوں کی طرح اسے معصوم اور گھریلو لڑکی بنانا چاہتی تھی مگر وہ ہمیشہ لڑکوں کی طرح رہی تھی لڑان جھگڑنا لیکن اب وہ کافی عرصے سے تمیز کہ دائرے میں آگئی تھی مگر اب بھی وہ اسکے لئے پریشان رہتی تھی اس لئے میرو نے انہیں سچ اور جھوٹ ملا کر بتایا
چاچی اسکو کچھ نہٰں ہوا بس ایک لڑکی سے لڑائی ہو گئی تھی یونی مٰیں ہاتھا پائی میں وری کو لگ گئی اور جب مینے اسکو چھڑا کر ڈانٹا تو وہ مجھ سے بھی ناراض ہو کر اکیلی گھر آگئی اسکے علاوہ کوئی بات نہیں ہے
میرو تم جھوٹ تو نہیں بول رہے نہ کہیں اسنے کسی لڑکے سے تو لڑئی نہیں کی نہ
نہیں چاچی میں جھوٹ کیوں بولوں گا میرو نے جھوٹ سچ ملا کر انہیں مچمئن کیا مگر سحر بیگم اور کاشی کو پتا تھا وہ جھوٹ بول رہا ہے اسکے لہجے میں لڑ کھڑاہٹ واضح تھی
لیکن فلحال اس سے سچ اگلوانے سے زیادہ وری کے کمرے کا دروازہ کھلوا کر اسکی چوٹ کی پٹی کرنا ضروری تھا
اور اب وہ سب وری کہ کمرے کہ باہر کھڑے تھے اسے آوازیں دے رہے تھے دروازہ کھولنے کا کہہ رہے تھے
لیکن اگر وری کے کمرے کہ اندر جائو تو وہ دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے زارو قطار ہچکیوں اور سسکیوں سے رو رہی تھی عجیب سی تکلیف ہو رہی تھی اسکو ایبک اور فری پر اب بھی غصہ تھا وہ انکی باتوں سے بہت ہرٹ ہوئی تھی مگر زیادہ ہرٹ میرو کی باتوں نے کیا تھا دروازے پر دستک ہو رہی تھی باہر سب اسے دروازہ کھولنے کا کہہ رہے تھے مگر وہ دروازہ نہیں کھول رہی تھی
ہاتھ سے اور منہ سے خون اب بھی بہہ رہا تھا مگر اسے کوئی فرق نہٰں پڑھ رہا تھا وہ ابھی صرف میرو کی اور اپنی یونی میں ہونے والی گفتگو یاد کر رہی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ارشاء اسکو گھسیٹتی ہوئی اوپر لیب کی کلاس میں لائی تھی وری کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ فری کو بھی دو تین چانٹے لگادے منہ پر مگر میرو کہ بیچ میں آنے اور ارشاء اور علماء کہ اسکو کھینچ کر اوپر لیجانے پر اسنے فری کو چھوڑ دیا ورنہ آج
اسکی خیر نہ ہوتی ارشاء نے زبردستی اسکو ایک چیئر پر بیٹھایا اور علماء بھاگ کر لیب کہ ساتھ دو کلاسیں چھوڑ کر موجود اسٹاف روم سے کانچ کہ گلاس میں پانی لائی اور زبردستی اسکو پلایا مگر وری نے بھی ایک گھونٹ پی کر گلاس ہاتھ
میں پکڑ لیا اسے شدید غصہ آرہا تھا اور اسکے ساتھ ساتھ رونا بھی آرہا تھا جو بھی تھا وہ ایک لڑکی تھی اور اسے تکلیف ہوئی تھی فری اور ایبک کی ساری بکواس سے ابھی اسکا دل صرف رونے کو چارہا تھا وہ بہت مشکل سے خود کو کمپوز کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ گھر میں کیا بتائے گی اس چوٹ کا اسکا بہانہ سوچ رہی تھی کہ میرو کلاس میں داخل ہوا اور وری سے چار قدم کہ فاصلے پر جا رکا اور نہایت غصے سے اسکو دیکھا
وری جو اسکے گلے لگ کر رونا چاہتی تھی اسکی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر رک گئی تھی اسے برا نہیں لگ رہا تھا میرو کا اسکو غصے سے گھورنا وہ اسکا بھائی تھا اس سے زیادہ اسکو جانتا تھا وہ اس سے بہت محبت کرتا ہے اور وہ خود بھی اسے اتنی محبت کرتی ہےتو وہ کیسے میرو کا غصہ کرنا یہ گھورنا برا لگ سکتا تھا مگر وری نہیں جانتی تھی کہ آج وہ سب ہونے والا تھا جو اس سے پہلے کبھی نہین ہوا وہ اسی سوچ میں گھم تھی کہ میرو کی سخت آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی
تمہیں کیا ضرورت تھی اسکو مارنے کی آرام سے بھی بات ہو سکتی تھی تو تمنے کیوں مارا اسکو میرو بہت سے بات کر رہا تھا
اسنے غلط باتیں کی تھی تو کیوں نہ مارتی میں اسکو اور پہلے میں آرام سے ہی بات کر رہی تھی وری نے آرام سے ہی کہا تھا
اچھا کتنا آرام سے بات کی تھی کہ وہ زمین پر پڑا تھا اور اسکے منہ سے خون بہہ رہا تھا وری آخر تم کیوں ہر کسی کو مارنا پیٹنا چاہتی ہو اسنے ایک بات کی تھی تم سن لیتی کیا ہو جاتا میرو اب بھی غصے میں چیخ رہا تھا اور یہ چیز وری کو غصہ دلا رہی تھی
اسنے بات نہیں کی تھی بکواس کی تھی اور وہ بھی گندی قسم کی میں کیوں سنتی اسکی بکواس اسکو یہ حق دیا کس نے اور میں ہی کیوں برداشت کروں غلط بات اسنے کی ہی تو مٰں کیون سن لیتی ـ وری بھی اب چیخ کر بات کر رہی تھی
وری ٹھیک ہے اسنے غلط بات کی مگر تم نے بھی اسکو بہت زیادہ مارا ہے اس لئے تم اسکو سوری بول دو تاکہ یہ معاملہ پرنسپل تا نہ پہنچے اس بار میرو نے آرام سے سمجھایا تھا مگر یہ با ت وری کو آگ کی طرح لگی تھی
میں سوری بولو اس بالشت بھر بےبی ڈول ایبک کو تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا میں مر کر بھی سوری نہیں بولو گی وری ہتھے سے ہی اکھڑ گئی تھی اسکی بات سن کر
وری کیوں میرے اور اپنے لئے مسئلے پیدا کر رہی ہو مانگ لو معافی ــ میرو نے نرمی سے سمجھانا چاہا کہ شاید وہ مان جائے
میں نہیں مانگو گی معافی چاہے مجھے یونی سے نکال دیا جائے وری نے دو ٹوک انداز میں کہا
فری نے سہی کہا تھا تم دن بہ دن ضددی ہوتی ئجا رہی ہو اور بدتمیز بھی اور بھی جو کہا تھا وہ بھی سب سہی کہا تھا میرو نہیں جانتا تھا کہ انجانے میں وہ غلط جگہ غلط انسان کی ہمایت کر رہا ہے
میرو یہاں سے دفع ہع جائو اس سے پہلے میں تمہارا منہ توڑ دوں گیٹ آئوٹ وری بہت زور سے چیخی تھی
اور اس تضحیک پر میرو کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا وہ مزید ایک سیکنڈ بھی وہا رکے بغیر کلاس سے نکل گیا
ارسلان اسکے پیچھے گیا تھا اور ارشاء بھی اسے لگا تھا کہ فری نے غلط بیانی کی ہے ورنہ میرو کبھی فری کی ہمایت نہ کرتا
ان تینوں کہ وہاں سے نکلتے ہی وری نے پوری قوت سے پاس پڑھا گلاس اٹھا کر اپنے بائیں ہاتھ سمیت ٹٰیبل پر مارا کانچ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا کچھ کانچ اسکے ہاتھ میں بھی چبھ گیا تاھ اور اب اس میں سے خون بہہ رہا تھا وری کو بہت تکلیف ہو رہی تھی اسکی آنکھ سے ایک آنسو نکلا جسے اسنے بے دردی سے رگڈ دیا
“”آنسو کو بہت سمجھایا تنھائی میں آیا کرو
ہوں بھری محفل میں تماشہ نہ بنایا کرو
آنسو بھی تڑپ کے بولے
تجھے محفل میں اکیلا پایا اسی لئے چلا آیا “”
وری بھی وہاں سے بھاگتے ہوئے پارکنگ کی طرف گئی اور اپنی گاڑی لیکر میرو کو وہی چھوڑ کر چلی گئی
علماء نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی مگر وہ نہیں رکی تھی اور اب وہ بھاگتی ہوئی ارشاء کہ پاس گئی جو اسے ساری گفتگع لفظ بہ لفظ سنا رہی تھی
میرو وری کہ ہاتھ میں کانچ لگ گیا ہے اور وہ گاڑی لیکر بھی چلی گئی ہے
علماء کی بات سن کہ وہ بھی کھڑا ہو گیا تھا اور کچھ دیر بعد وہ گھر پر تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سحر بیگم نے آفان کو گھر بلا لیا تھا وہ گھر ہی آرہا تھا اپنی ایک فائل لینے اس لئے 5 منٹ میں وہ گھر پر تھا وہ سب کافی دیر سے اسکے کمرے کا دروازہ بجا رہے تھے مگر وہ دروازہ نہیں کھول رہی تھی اور اب آفان آخری انسان تھا جسکی وی سنتی تھی
آفان نے ان سب کو خاموش کروا دیا تھا اور اب خود وہاں کھڑا اسکو بلا رہا تھا میرو نے اکیلے میں لیجا کر اسکو مختصر بات بتا دی تھی اور اب اسکو فری بے حد غصہ تھا مگر اس سے پہلے وری کو کمرے سے نکالنا ضروری تھا
وری میرا بیٹا دروازہ کھولو دیکھو میں تمہیں اپنے ساتھ ہنی مون پر بھی لیکر جائو گا تم نے کہا تھا نہ پلیز میری جان دروازہ کھولو دیکھو میں آپکے لئے اپنی اتنی امپورٹنٹ میٹنگ چھوڑ کر یہاں کھڑا ہوں پلیز مجھے اندر آنے دو پلیز وہ آفان اس سے التجا کر رہا تھا جس سے اسکے آفس والے اتنا ڈرتے تھے اور وہ اس چھٹانک بھر کی لڑکی کیلئے اپنی میٹنگ شھوڑ کر کھڑا تھا کچھ تو خاص تاھ اس میں جو لوگ اسکی اتنی پرواکرتے تھے
پہلے وعدہ کریں اکیلے آئیں گے وری نے وعدہ مانگا مگر اسکی آواز بھرئی ہوئی تھی آفان نے فورا سے وعدہ کیا اور وری نے دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھے بیٹھے تھوڑا سہ دروازہ کھولا جس سے آفان اندر آیا اور جلدی سے دروازہ بند کر دیا
آفان نے اسکی حالت دیکھی ہونٹ کہ پاس خون جم گیا تھا لیکن ہاتھ سے خون اب بھی بہہ رہا تھا آفی نے خاموشی سے فرسٹ ایڈ بوکس اسکی کبڈ سے نکال کر لایا اوراسکا ہونٹ صاف کیا جو سوج گیا تھا پھر اسکے ہاتھ کی بینڈیج کی اور اسکو لیکر بیڈ پر بیٹھ گیا کچھ لمحے خاموشی سے سرک گئے پھر آفان نے اپنے بازو سے اسکے گرد حصار بنایا
وری کو اور کیا چاہیئے تاھ وہ بھی اسکے ساتھ لگ کر رونے لگ گئی زندگی میں وہ صرف تین لوگوں کہ سامنے روئی تھی میرو آفان اور پھپو آج بھی وہ آفان کہ ساتھ لگ کر ہچکیو اور سسکیو سے پھر سے رونا شروع ہو گئی تھی
تھوڑی دیر بعد خود ہی خاموش ہو گئی تو آفی نے پوچھا بس یہ اور رونا ہے
بس ــ وری نے آہستگی سے کہا
اب تو نہیں جائو گی نہ میرے ساتھ میرے ہنی مون پر آفی نے پیار سے اسکو چھیڑا
جائو گی کیوں نہیں ضرور جائو گی وری نے بھی مزاق میں کہا وہ جانتی تھی میرونے آفان کو سب بتا دیا ہو گا اور وہ اس سے ابھی کچھ نہیں پوچھے گیں وری خود ہی انہیں سب کچھ بتا دے گی ایک دو دن مٰیں وہ کسی کی باتوں کو کریدتے نہٰن تھے انسان خود ہی انہیں سب بتا دیتا تھا لیکن اگر معاملہ وری کا ہو اور وہ کچھ نہ جامتے ہو تو وہ صرف اسے کریدتے تھے وہ آپس میں تھے ہی اتنے فرینڈلی
چلو اب میں جائو اور اب فری کی باتوں کہ بارے میں مت سوچنا اسکو میں خود دیکھ لوںگا اور میرو سے بھی راضی ہو جائو
بھائی اسکی سائیڈ مت لیں میں اس سے بات نہین کرو گی اوراب مجھے فورس بھی نہیں کریں گے وری نے انکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اپنی شروع کردی
اوکے چلو باہر چلیں
چلیں
باہر آکر کسی نے اس سے اس بارے میں بات نہیں کی خاموشی سے سب نے کھانا کھایا نمرہ بیگم نے اسکو گرم دودھ دینے کہ بعد اسکا ماتھا چوما اور آرام کرنے کا کہہ کر کچن میں چلی گئی باقی سب بھی اٹھ گئے تھے سوائے میرو کاشی اور وری کہ وہ دونوں کوشش کر رہے تھے اس سے بات کرنے کی مگر وکوئی بھی موقع نہیں دے رہی تھی کاشی اور میرو کو بات کرنے کا
اور یہ تو اس گھر کا رول تھا جو ناراض ہوتا وہ اپنے عمر کہ سارے لوگو سے ناراض ہوتا اس لئے وہ کاشی سے بھی ناراض تھی ہوتا ہے نہ ہم ناراض ایک سے ہوتے ہیں اور بات پورے گھر والوں سے نہیں کر رہے ہوتے ایسے ہی وری بھی کر رہی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *