Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29
ہیلو اسد وری کیسی ہے اب حالت کیسی ہے اسکی ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں میرو نے فون اوکے ہوتے ہی بولنا شروع کردیا تھا
یار ابھی وہ کچھ نہیں بتا رہے اسکی حالت ابھی سیریس ہی ہے میڈیا میں یہ بات پھیلنے کی وجہ سے یہاں بھی رش ہے بہت
اسد نے افسردگی سے کہا
چاچو کی طبیعت خراب ہوگئی ہے انہوں نے سب سے پہلے یہ خبر سنی ہے اور ابھی ہوش میں آتے ہی وہ اسکا پوچھے گے میرو نے دکھ سے کہا
ابھی وہ بات کر ہی رہے تھے کہ کال ڈراپ ہوگئی شاید نیٹ ورک پرابلم ہوگیا تھا
حسن صاحب کو ہوش آ گیا تھا اور اب وہ وری کے پاس جانے کی ضد کر رہے تھے
آفان مجھے میر وری کے پاس لے جائو مجھے پتا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے حسن صاحب نے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
چاچو وہ ٹھیک ہے ابھی اسد سے بات ہوئی ہے اس نے بتایا ہے کہ وہ ٹھیک ہے بس بےہوش ہے ابھی جب ہوش میں آئے گی تو وہ آپکی بات کروا دے گا اس سے آپ آرام کریں آفان نے انہیں بہلانا چاہا
مگر وہ باپ تھے کیسے اتنی آسانی سے بہل جاتے
تم جھوٹ بول رہے ہو میں جانتا ہوں وہ ٹھیک نہیں ہے میرا دل کہہ رہا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہے اسکو ضرورت ہے میری میں اسکو دیکھنا چاہتا ہون پلیز مجھے وہاں لے جائو
آج وہ باپ اتنا بے بس تھا کہ اپنے بھائی کہ بیٹے سے التجا کر رہا تھا اپنی بیٹی کہ پاس لے جانے کی
آفان نے ڈاکٹر سے پوچھا تھا کہ وہ سفر کر سکتے ہیں یا نہیں عام حالات میں اس حالت میں وہ پیشٹ کو سفر نہیں کرنے دیتے مگر حسن صاحب کی آنکھوں میں تڑپ اور لہجے میں شدت دیکھ کر انہوں نے اجازت دے دی تھی انکو جہاز میں سفر کی
آفان نے سارے گھر کی ارجنٹ فلائٹ کا انتظام کرلیا تھا اسکے بزنس کے سلسلے میں جانے کی وجہ سے انکی فیملی کو مل جاتی تھی ارجنٹ فلائٹ اس لئے یہ چیز ابھی بھی انکے کام آئی تھی
وہ جانتا تھا یہاں موجود ایک بھی فرد گھر پر نہیں رکے گا اس سمیت اس لئے بھینس میں پڑنے کے بجائے وہ سب کے ٹکٹ آن لائن بک کروا چکا تھا
وری کی فیملی کو حکومت کی طرف سے بھی جہاز کا ٹکٹ ملا تھا انکا سارا خرچہ حکومت کی طرف سے تھا حسن صاحب کی حالت ٹھیک نہیں تھی وہ صرف اسکو دیکھنا چاہتے انکا دل بے چین تھا بہت زیادہ
وہ ہی نہیں سب ہی افراد وریشہ نور کیلئے دعائیں کر رہے تھے
وہ لوگ ہسپتال پہنچ گئے تھے اور اب کاریڈور میں بیٹھے اسکی صحب یابی کی دعائیں مانگ رہے تھے حسن صاحب کو ایک روم لے کر وہاں لیٹا دیا گیا تھا ڈکٹر انہیں انجیکشن لگانا چاہتے تھے مگر وہ لگوانے کو تیار نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے لگوایا
انکا کہنا تھا ابھی اگر وہ بےہوشی کی نیند سو گئے تو انکی وری کیلئے کون دعائیں کرے گا اور آخر ماں باپ کی دعائو سے بڑھ کر کسی کی دعائیں بچوں کو لگ سکتی ہیں
اور ان سب سے یکسر لاتعلق اس بیڈ پر پرا وجود ان سب باتوں سے بے خبر پڑا تھا اسکے کندھے سے گولی نکال لی گئی تھی گولی زیادہ اندر نہیں گئی تھی مگر گولی لگنے سے وہ جو نیچے گری تھی اس سے اسکا سر کسی پتھر نما شہ سے ٹکرایا تھا
جس سے اسکا سر پھٹ گیا تھا اور خون بہت زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے بھی اسکی حالت بہت زیادہ سیریس ہو گئی تھی اسکے بچنے کے چانسز بہت کم تھی
اس وجود کو آج صرف دعائوں کی ضرورت تھی اور آج سارا ملک اس کے لئے دعائیں کیوں نہ کرتا ان مائوں کے دل سے تو دعائیں نکل رہی ہونگی اس لڑکی کیلئے جسکی وجہ سے آج انکی اولاد زندہ ہے
٭٭٭٭٭٭
وہ سب ہسپتال کے کاریڈور میں بیٹھے اسکے لئے دعائیں کر رہے تھے اسے بارہ گھنٹے ہو گئے تھے آئی سی یو میں باہر چیئرز پر بیٹھے وہ سب لوگ پریشان تھے
اسکے کندھے سے گولی نکال لی تھی خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اسکی حالت نہیں سنبھل رہی تھی ڈاکٹر کافی دیر سے اندر تھے لیکن باہر بیٹھے لوگوں کا بس بھی نہیں چل رہا تھا کہ وہ جاکر اسکے گلے لگ جائیں
اسے جھنجوڑ ڈالے کے آخر وہ کیوں نہیں اٹھ رہی حسن صاحب خاموشی سے اس بیڈ پر لیٹے تھے یہ چیز تکلیف دہ تھی کہ انکی لاڈلی اولاد تکلیف میں ہے
وہ کیسے برداشت کرتے اسکی تکلیف اس اولاد کی جنہوں انکی زندگی کو مکمل کردیا اپنے آنے سے انہیں وری کے بعد کسی اولاد کی خواہش نہیں تھی لیکن جب فہد پیدا ہوا تھا تب بھی انہوں نے اتنی خوشی سے خوشیاں منائی تھی
لیکن ہوتی ہے نہ کوئی اولاد خاص ہوتی ہے وہ تھی کچھ اسکی حرکتوں اور باتوں کی وجہ سے اور کچھ انکو بیٹیاں زیادہ پسند تھی اس وجہ سے
انکے کمرے سے باہر بیٹھے لوگوں کا بھی یہ ہی حال تھا اویس صاحب بھی آگئے تھے ہسپتال انہیں لگا تھا نمرہ بیگم ان سے ناراضگی دکھائی گی یا انہیں یہاں آنے کی وجہ سے لڑے گی
مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جیسے ہی انکی نظر اویس صاحب پر پڑی وہ دوڑتی ہوئی گئی اور انکے گلے لگ کر ہچکیوں سے رونا شروع ہوگئی تھی
جس اولاد کی وجہ سے وہ انسے ناراض ہوئی تھی آج اس اولاد کی وجہ سے ہی وہ انکے گلے لگی اپنا دکھ بانٹ رہی تھی
حوصلہ کرو نمرہ اسکو کچھ نہیں ہوگا اللہ پاک اسکی حفاظت کرے گا وہ ٹھیک ہوجائے گی وہ انہیں دلاسہ دے رہے تھے
آپ سچ کہہ رہے ہیں نہ وہ ٹھیک ہوجائے گی نہ میں اسے نہیں ڈانٹو گی اب کچھ بھی نہیں بولونگی میں اس سے محبت کرتی ہوں بھائی آپ اسکو بولیں نہ ایسے تنگ نہ کرے ہمیں اٹھ جائے نمرہ بیگم انکے گلے لگے شکوہ کر رہی تھی
وہ ہو جائے گی ٹھیک اللہ پر بھروسہ رکھو میں حسن سے مل لو جب تک اویس صاحب نے انکو حوصلہ دے کر اپنے قدم حسن صاحب کے کمرے کی طرف بڑھادیئے
وہ بیڈ پر لیٹے دنیا جہاں سے ناراض لگ رہے تھے جیسے اب اس دنیا میں انکے لئے کچھ بچا ہی نہیں ہے جیسے ساری دنیا اس دوسرے کمرے میں لیٹے وجود میں تھی اور اب وہ خود دنیا جہاں سے بیگانہ وہاں پڑا ہے
حسن اویس صاحب نے انکو پکارا
حسن صاحب نے انکی طرف دیکھا اور ہلکہ سہ مسکرائے اس مسکراہٹ میں تکلیف تھی تڑپ تھی یہ بات انسے بہتر کون جان سکتا تھا جب بھی وہ کسی مشن پر جاتی تھی تو وہ ایسے ہی پریشان رہتے تھے
اور اس بار کہ مشن میں تو وہ پوچھتے بھی رہتے تھے وری گھر پہنچ گئی اسکا موڈ کیسا تھا کھانا کھایا ہے اسنے کسی سے فضول میں لڑائی تو نہیں کی
وہ ایسی باتیں پوچھنے کے لئے اسے کئی بار کال کرتے رہتے تھے کبھی کبھار تو وہ ہر آدھے گھنٹے بعد کال کرتے تھے کہ کہی باہر تو نہیں نکلی اگر نکلی ہو تو گن ساتھ رکھو مگر کسی سے فضول جھگڑا مت کرنا
اور وری ان سب چیزوں سے نہیں چڑتی تھی وہ خعشی خوشی کال اٹھا کر انکو اپنے سارے دن کی ڈیٹیل دیتی تھی ہر آدھے گھنٹے بعد مسکرا کر بتاتی تھی کہ وہ کہی نہیں جارہی اب سونے لیٹ رہی ہوں
اولاد بہت بڑی آزمائش ہے والدین کیلئے وری بھی تھی وہ لڑکی تھی اسے معاشرے میں چلانے کیلئے بہت سے کام بہت سی باتیں سننا درپیش تھی
مگر حسن صاحب ٹیپیکل باپ نہیں تھی جو بیٹیوں کو چار دیواری میں بند کرکہ رکھتے وہ چاہتے تھے وہ گھر میں نہ رہے پڑھے لکھے آگے بڑھے انکے خیال میں مرد پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو اتنا فررق نہیں پڑھے گا جتنا ایک عورت کے پڑھے لکھے ہونے سے ہوگا کیونکہ اولاد کی پرورش مرد نہیں ایک عورت کرتی ہے
تو ہم اپنی اس عورت اس بہن اس لڑکی کو تعلیم کیوں نہ دلوائیں جس سے ہماری نسلیں ہمارا گھر اور سب سے بڑ کر ہمارا دل چل رہا ہے
حسن صاحب نے انکو گلے لگایا تھا مگر ہر بار کی طرح کا جوش نہیں تھا اس میں عجیب بیماروں جیسی حالت تھی انکی
حسن کیا حالت بنا کر لیٹے ہو یار تم جانتے ہو وہ اتنی جلدی نہیں جانے والی ابھی تو اس نے میرے ساتھ ڈیٹ پر بھی جانا ہے وہ انہیں بہلانے کیلئے ایسی باتیں کہہ رہے تھے
وہ ہلکہ سہ مسکرائے اور دھیمی آواز میں بولے
تمہیں بھی کہہ کر گئی ہے ڈیٹ کا اور مجھ سے بھی کہہ رہی تھی میں آپ کے ساتھ ڈیٹ پر جانا چاہتی ہوں کیونکہ میری زندگی ویران ہوگئی ہے کسی مرد کا پیسہ لوٹا بغیر
مطلب آپ سوچے میں اتنی کیوٹ لڑکی کسی بھی مرد کوکنگال نہیں کیا مینے اس لئے اس مشن کے بعد آپکے ساتھ جائو گی میں مگر اپنی بیوی کو مت لائیئے گا ساتھ ایسے ہی میرے کھانے اور آپ کے پیسوں کو نظر لگاتی رہتی ہیں
حسن صاحب نے اسکی باتیں انہیں بتائی تو انکا قہقہ نکل گیا
تمہیں یاد نہیں بچپن میں کیسے کہتی تھی سب بچوں کو کہ اویس مامو میرے بابا تایا ابو اور فیصل چاچو میرے ہیں باقی تم لوگ لے لو جسکو لینا چاہتے ہو
ابکی بات سن کر وہ بھی کھل کر مسکرائے
ہاں کتنا روب ڈالتی تھی تم پر بھی کہ آئیندہ میرے بابا کو کچھ مت کھئیے گا ورنہ میں برداشت نہیں کروں گی انہوں نے اسکی ایک اور بات یاد دلائی
ہاں مینے تمہیں حناکہ صرف ہکلہ سہ مارا تھا مزاق میں
ہاں اور وہ دن یاد ہے جب وہ پانچ سال کی تھی اور ہم سب پکنک پر گئے تھے وری صاحبہ گم ہو گئی تھی حسن صاحب نے ایک اور بات کہی
وہ دن کیسے بھول سکتا ہوں سب لوگ پاغلوں کی طرح اسے ڈھونڈ رہے تھے اور میڈم فروٹ کی بڑی باسکٹ میں بیٹھی ایک ہاتھ میں سیب اور دوسے میں انگور پکڑے کھا رہی تھی
ہاں اور جب تم نے اس سے پوچھا تھا غصے سے کہ ہمیں بتائے بغیر اس باسکٹ میں کیوں بیٹھی ہو تو اسنے کیسے جواب دیا تھا
وری نے آنکھیں پٹپٹا کر چہرے پر معصومیت تاری کر کہ کہا
ماموں ٹوکری میں بیٹھنے کا تھوڑی کسی کو بتاتے ہیں اور مجھے بھوک لگی تھی بابا نے کہا ہے بھوک پر کوئی برداشت نہیں کرنا جہاں کچھ ملے وہ کھا لینا تو میں نے سیب کھا لیئے آپکی ٹوکری کہ ویسے بھی ماما نے کہا ہے جو اپنے ہوتے ہیں انکا سب کچھ اپنا ہوتا ہے
اسے اپنے مطلب کے وقت دنیا جہاں کی فلسفی باتیں یار رہتی تھی لیکن جیسے ہی بات اسکی کھانا پکانے یا گھر کہ کام پر آتی تو وہ ایسی بن جاتی جیسے کچھ سننا ہی نہیں آتا اسکو
وہ دونوں اپنی اپنی باتوں میں مصروف تھے جب باہر آئی سی یو میں سے ایک نرس نکلی بھاگتی ہوئی ایک ڈاکٹر کو بلانے بھاگی مگر اس سے پہلے میرو بیچ میں آگیا تھا
آپ لوگ کر کیا رہے ہیں اتنی دیر سے ابھی تک کچھ بھی نہیں بتایا آپ نے کہ اسکی حالت کیسی ہے کیا آپ لوگوں کو علاج نہیں کرنے آتا میرو اس پر چیخ رہا تھا جب آفان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو پیچھے کیا
دیکھئے سامنے سے ہٹیں آپ پیشنٹ کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں آفان کے اسکو پیچھے کرنے پر وہ نرس یہ بولتے ہوئے بھاگی سینیئر ڈاکٹر کو بلانے کیلئے
کاشان جو کب سے ادھر کھڑا تھا خاموشی سے ایک دم سے باہر نکل گیا اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ایسے اس حال میں اسکو دیکھنا
وہ باہر نکل جاتا مگر اس سے پہلے فہد بھی اس کے ساتھ چلنے لگا اسے بھی لگ رہا تھا کہ اگر اب کچھ دیر ادھر رکا تو وہ وری کے کمرے میں گھس کر اس سے لپٹ کر اونچی آواز میں رونا شروع کردے گا
کل تک جس بہن کو وہ سوتیلی کہتا تھا یا اسکے پیدا نہ ہونے کا کہہ کر اسکو چڑاتا تھا آج اسی بہن کیلئے آنسو بہا رہا تھا وہ
کاشی نے اسکو نہیں روکا وہ ابھی تک اپنے آرمی یونیفارم میں تھا سارے خاندان کو خبر ہوگئی تھی اور اب سب لوگ فون کر رہے تھے مگر ابھی کسی کی بھی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ انسے بات کرتے اس لئے فلحال سب نے فون آف کر رکھے تھے سوائے اسد اور اسکے باقی آرمی آفیسر کہ
وہ دونوں نیچے سیڑھیوں پر بیٹھ گئے وری کے کمرے کے فلور کے نیچے والے فلور پر
کاشی نے اسکو اپنے ساتھ لگایا وہ جانتا تھا وہ کافی دیر سے خود کو روکے بیٹھا ہے رونے سے
کچھ لمحے خاموشی سے سرک گئے تو کاشی نے کہا
مجھے بچپن سے اسکے ساتھ مزہ آتا تھا ہم سب کزن میں لڑائی ہو جاتی تھی اکثر اسکو اپنی ٹیم میں رکھنے کیلئے مگر وہ بھی بدتمیزوں کی طرح وہ لڑائی انجوائے کرتی تھی
وہ الگ تھی اگر دو لوگ آپس میں لڑ رہے ہوتے تھے تو وہ انکو روکنے کے بجائے کسی جگہ بیٹھ کر آوازیں لگاتی تھی
لڑو لڑو میں دیکھو گی کس نے کس کو زیادہ مارا یا کون زیادہ اچھے سے لڑا اور یقین کرو اسکی بات سن کر وہ دونوں لڑنے والے افراد حیرت سے اسکو دیکھتے تھے کہ یہ انہیں روکنے کے بجائے لڑنے کا کہہ رہی ہے
اسکی بات سن کر فہد ہنسا وہ کافی دیر بعد ہنسا تھا
ایک دفعہ میری اسکول کے ایک لڑکے سے لڑائی ہوگئی تھی میم نے گھر سے کسی کو بلوانے کا کہا تھا تو میں وری کی منتیں کر کہ اسکو دو ڈیری ملک دے کر اسکول لے کر گیا
غلطی اس لڑکے کی تھی اسنے پہلے مجھے مارا تھا بلاوجہ پھر مینے بھی اسکو مارا وہ ہمارے ایک سر کا بیٹا تھا تو میم انکا سائیڈ لے رہی تھی
جب وری نے کہا
ایک بات بتائیں یہ اگر میرے والدین کے بجائے آپکا بیٹا ہوتا تو کون صیح ہوتا آپ جواب دینے کی زحمت نہ کریں میں ہی بتا دیتی ہوں تو آپ اس کا ساتھ دیتی ابھی بھی آُپ جانتی ہیں کہ غلطی اس ؒرکے کی ہے اور آپ نے پھر بھی مجھے بلوایا ہے بیستی کرنے کیلئے میری
تو ایک بات جان لیں ہمیں اپنے بچے پر اعتبار ہے بلکہ یقین ہے کہ غلطی اس لڑکے کی ہے اگر میرے بھائی کی ہوتی تو آپ سے پہلے میں اسکے منہ پر دو لگا دیتی
میں وری کی باتیں سن کر ڈر گیا تھا کہ میم غصہ ہوجائیں گی مگر وہ نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے معزرت کی اور اس لڑکے کو کہا مجھے سوری کرنے کا اور جب مینے اس سے پوچھا کہ اگر میم غصہ ہو جاتی تو
وری نے بڑی لاپرواہی سے کہا
جب انسان غلط ہوتا ہے تو وہ کبھی غصہ نہیں ہوسکتا آپ پر کیونکہ وہ خود بھوکلایا ہوا ہوتا ہے اسکی اپنی ہی ایک فلسفی تھی مگر مینے اپنے بچ جانے کی خوشی میں اسکو گول گپے کھالئے تھے تاکہ وہ گھر جاکر کسی کو کچھ نہ بتائے
مگر اسنے بتا دیا تھا بابا کو لیکن اس لئے نہیں کہ وہ مجھے ڈآنٹیں گے بلکہ اس لئے تاکہ کبھی دوبارہ ایسا کوئی واقعہ ہو تو وہ لاعلم نہ ہو انہیں علم ہو انکی اولاد کیا کر رہی ہے
وہ کبھی مجھے کچھ سمجھاتی نہیں تھی بلکہ اسکا ہر عمل میں خود ہی سمجھ جاتا تھا اور اس وقت بھی مینے ایک بات جان لی تھی اپنے والدین سے کچھ نہ چھپائو نہ اچھا کام نہ برا
کیونکہ کل کو آپ جب کسی مصیبت میں ہونگیں تو وہ ہی آپکو بچانے آئیں گے کوئی غیر یا آپکا کوئی دوست نہیں جس میں آپ رازداری کیلئے اپنی باتیں بتاتے ہیں فہد خاموش ہوگیا تھا
وہ دونوں پھر سے خاموش تھے وری نے ان سب کو ساتھ بیٹھ کر بات کرنے پر مجبور کردیا تھا کیونکہ جب تک آُپ اپنے غم شیئر نہیں کرے گیں آپ بے چین رہے گیں اس لئے بولیئے جتنا بول سکتے ہیں اپنے دکھ اور کسی کی باتیں دل میں نہ رکھا کریں اس سے آپ صرف خود کو تکلیف دیتے ہیں خود گٹھن اور ڈپریشن میں رہے گیں
کسی سے ناراضگی ہے یا کسی کی بات بری لگی ہے تو منہ پر بول دیں کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ اگلا ناراض ہو جائے گا کم از کم آپ تو سکون میں ہونگیں آپکے دل میں اسکے لئے کوئی میل تو نہیں ہوگا
وہ دونوں خآموشی سے ادھر بیٹھے رہتے اگر میرو آکر ان دونوں کو گلے نہ لگاتا
ڈاکٹر آدھے گھنٹے بعد اس کمرے سے باہر نکلے تھے اور انہوں نے بہت دھیمے لہجے میں کہا تھا
مبارک ہو آپکی بیٹی ٹھیک ہے اب وہ خطرے سے باہر ہے ابھی بے ہوش ہے صبح تک ہوش میں آجائے گی تو آپ سب مل سکتے ہیں اس سے جب تک انہیں کمرے میں شفٹ کردیا گیا تھا
انکی بات سن کر آفان نے نمرہ بیگم کو اور پھر باری باری سب کو گلے لگایا یہ بات سن کر سب کے دل کو جیسے قرار آگیا تھا
آفان حسن صاحب کے کمرے کی طرف بڑھا اور میرو نیچے کاشی اور فہد کو بتانے
حسن صاحب یہ بات سن کر جیسے کھل اٹھے تھے بنا اپنی طبیعت کی پرواہ کیئے وہ اٹھے اور اسکے کمرے کی طرف بڑھنے لگے
چاچو آرام سے ابھی اجازت نہیں ہے صبح ملنے کا کہا ہے ڈاکٹر نے اسکی بات سن کر وہ دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئے تھے اور نم آنکھوں کے ساتھ بولے آفان اسکا صدقہ دو میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں شکرانے کے دو نفل آئو اویس اللہ کی بارگاہ میں شکریہ ادا کریں
انکی بات سن کر اویس صاحب مسکرائے اور انکا ہاتھ پکڑ کر اس کمرے سے نکلے۔۔
