Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21

وہ اسے سر اویس کے گھر ڈراپ کر کہ چلے گئے تھے وری نے گہری سانس لی اور انکے گھر کے دروازے پر دستک دی وہ آج کافی عرصے بعد اویس ماموں کے گھر جارہی تھی
جب سے انکی اور نمرہ بیگم کے درمیان ناراضگی آئی تھی اویس صاحب نے بھی اسکو گھر آنے سے منع کردیا تھا کہ اپنی ماما کو بتائے بغیر ہرگز آنے کی ضرورت نہیں اور آج خود انہوں نے اسکو بلایا تھا
وہ کھڑی وہاں سوچ رہی تھی کہ آخر مجھے کیوں بلایا ہوگا کہ دروازہ کھلا دروازہ کھولنے والی ایک لڑکی تھی وری نے اسکو دیکھا اور آگے بڑھ کے اسکو گلے لگایا
کیسی ہو صفیہ وری نے اپنایت سے پوچھا
میں ٹھیک ہوں پر آپ کون ہیں میںے آپ کو نہیں پہچانا صفیہ نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا
ہائے تم مجھے نہیں جانتی اپنی سہیلی کو توبہ کتنی جلدی بھول گئی وری نے اسکو تنگ کیا
جی کونسی سہیلی میں تو آپ کا نام بھی نہیں جانتی صفیہ نے ڈرتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں یار جان جائو گی میں اس گھر کی مالکن کہ شوہر کی بہن کی بیٹی ہو وہ اسکو وہاں کھڑا کر کہ کنفیوز کر رہی تھی
مگر شاید وہ زہین لڑکی تھی جو اسکے اتنے لمبے چوڑے بنائے رشتے کو فورا سمجھ گئی تھی
اچھا آپ انکی بھانجی ہیں
ہاں نہ دیکھا جان گئی نہ مجھے وری نے مسکراہٹ دبا کر کہا
جی آئیں نہ آپ اندر صفیہ نے اسکو اندر آنے کا راستہ دیا
پہلے یہ بتائو اویس صاحب کہاں ہیں وری نے رازداری سے پوچھا
صفیہ نے حیرت سے اسکو دیکھا وہ تو آپکے ماموں ہیں نہ پھر وہ حیرت زدہ تھی کہ وہ اپنے ماموں کا نام لے رہی تھی
ہاں تو وری نے حیرت سے پوچھا
تو آپ انکا نام لے رہی ہیں صفیہ نے اپنی بات کی وضاحت دی
ہاہاہاہا ہاں تمہیں بھی پتا چل جائے گا کہ میں انکا نام کیوں لے رہی ہوں وری اسکو کہتے ہوئے اندر داخل ہوئی صفیہ بھی پیچھے پیچھے آئی
سامنے زونیرا بیگم ہاتھ میں سالن میں ہہلانے والا چمچہ پکڑے کھڑی تھی اسکو دیکھ کر انکی آنکھیں حیرت سے بڑی ہو گئی اور انہوں نے حیرت سے کہا
وری تم یہاں کیسے
بس آپ سے ملنے کا دل چاہ رہا تھا وری آگے بڑھ کر انکے گلے لگنے لگی جب انہوں نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے روکا
کون ہو تم چلو یہاں سے جائو میں تمہیں نہیں جانتی انہون نے فورا اپنی ٹون چینج کی
واہ ابھی میرا نام لیا جا رہا تھا اور اب آپ مجھے جانتی ہی نہیں ہیں کیا آج کل بادام نہیں کھاتی آپ زونیرا بیگم وری نے محبت سے کہتے ہوئے انکو گلے لگایا
انہوں نے اسکو ہٹانا چاہا مگر وہ انکو زور سے پکڑ کر کھڑی تھی
سچی بہت یاد کیا مینے آپکو وری نے اپنی دل کی بات کی یہ بات سچ تھی وہ انہیں بہت یاد کرتی تھی
جھوٹ بولتی ہو تم اگر یاد کرتی ہوتی تو ملنے آتی مجھ سے انکے آنسو بہہ رہے تھے ہوتا ہے نہ کبھی آپ کسی ایسے بندے سے مل رہے ہو جس کو آپ بہت محبت کرتے ہو تو آنکھوں میں آنسو آہی جاتے ہیں جب آپ اپنی خوشی کا اظہار نہیں کر پارہے ہوتے ہیں
یار زونیرا بیگم روئے نہیں اور مجھ کیوں ناراض ہورہی ہیں جانتی ہیں نہ یہ سارا قصور آپکے میاں کا ہے انہوں نے منع کیا تھا آپ سے ملنے سے وری نے انکے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
ہاں آنے دو انہیں پوچھتی ہوں میں انکو بھی زرا خیال نہیں انکو ہم دونوں کا زونیرا بیگم نے اسکی پیشانی چومتے ہوئے کہا
صفیہ سائیڈ میں کھڑی ان دو کو دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے تھے کبھی کبھار کسی کو خوش دیکھ کر انسان کواحساس کمتری ہو جاتی ہے کہ اس کے پاس سب ہے اور ہمارے پاس کچھ بھی نہیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ کیا پتا اللہ نے ہمارے لئے کچھ خاص رکھا ہو
جو آزمائش ہمیں ملی ہے اسکے بدلے بھی کچھ تو رکھا ہوگا اللہ نے ہر آزمائش کے بعد آسانی ہے بشرط یہ ہے کہ تم اس آزمائش میں صبر کرلو
اور صفیہ نے اس آزمائش میں صبر کر لیا تھااور وہ نہیں جانتی تھی اسکے لئے کتنا بہترین انعام رکھا گیا ہے
کچھ دیر بعد اویس صاحب آگئے تھے اور انہوں نے آتے ساتھ اسکو بلوانے کی وجہ بتا دی تھی
تم اسکو لیکر مریم کے پاس جائو اسکے بعد میں چاہتا ہوں کہ تم اسکو اسکے گھر لے کر جائو اگر تم اسکے پیرنٹس کو سمجھا سکو تو یہ بہت اچھا ہو جائے گا
میرا ارادہ بھی تھا تمہارے ساتھ جانے کا مگر ابھی احمد کا فون آیا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ وہ سوتی نامی بندہ اگلے بیس منٹ میں اس آفس میں ہوگا اس لئے ابھی مجھے وہاں جانا ہے اور کل دوپہر میں میٹنگ رکھی ہے وہ بھی تماہری وجہ سے کہ تمہیں کل گھر بھی جانا ہے
تم ہینڈل کرلو گی انہیں
واہ تالیاں بجائو آپکے لئے میں مطلب مجھ سے یہ پوچھنے کے بجائے کے میں وہاں جائو گی بھی یا نہیں اویس صاحب آپ یہ پوچھ رہے ہیں کہ میں انہیں ہینڈل کرلونگی کہ نہیں اسنے تپ کر کہا
ہاں تو اب میں تم سے یہ پوچھو گا ویسے بھی اکیلے نہیں بھیج رہا میں اسد ساتھ جائے گا تمہارے اویس صاحب نے تحمل سے کہا
وہ جائے یا نہ جائے آج سے میں ان سب کاموں کے بھی پیسے لونگی ورنہ کسی اور کو بھیج دیں آپ
کتنی بےشرم ہو ایک تو اپنے ماموں کا نام لے رہی ہو تم اور اگر میں کچھ کہہ نہیں رہا تو زیادہ فری ہورہی ہو جائیں گے تمہارے اچھے بھی وہاں بنا سیلری کہ اور چلو اب نکلو مریم کے پاس بھی جانا ہے تمہیں اویس صاحب نے اسکو جھاڑ پلائی
مامی ماموں کہہ رہے ہیں گھر سےے نکلو میرے اور آج سے تمہاری سیلری بھی میں رکھوگا وری نے وہی سے کچن میں کام کرتی زونیرا بیگم کو شکایت کی جو صفیہ کے ساتھ مل کر چاولوں کو دم پر رکھ رہی تھی
انہوں نے وری کے لئے چاول اور میٹھے میں ایپل کیک بنایا تھا وہ اس سے اتنی ہی محبت کرتی تھی
اویس صاحب اگر آپ چاہتے ہیں کہ دو دن سکوں سے گھر پر گزاریں تو میری بیٹی کو کچھ بھی کہنے سے پہلے سوچ لیجیئے گا
مینے کچھ نہیں کہا ہے انہیں زونیرا بیگم آپ مجھے جانتی تو ہیں اویس صاحب نے بیچارگی سے کہا
جی جانتی ہوں میں آپکو اچھے سے انہوں نے وہی سے تپ کر کہا ویسے بھی انکو غصہ تھا ان پر کہ انہوں نے منع کیا ہے اسکو ان سے ملنے سے
ہاہاہہاہا توبہ کنے ڈرپوک ہیں آپ ماموں وری نے مزاق اڑایا انکا
بیٹا کون سہ شوہر ہے جو بیوی سے نہیں ڈرتا میرا تو خیال ہے جو شخص اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے وہ اس سے ڈرتا بھی ہے مگر وہ ڈر نہیں ہوتا وہ اس عورت کا مان ہوتا ہے کہ اسکا شوہر اسکی مانتا ہے اور تمہیں پتا ہے یہ زرا سہ رتبا اسکو مجھ سے اور زیادہ محبت کرنے پر مجبور کردیتا ہے
ویسے لگتے تو نہیں آپ اتنے زہین مگر آج مان لیا کہ تھوڑے بہت ہیں وری نے مزاق کیا
شکریہ نوازش مگر آپکو اپنے باپ کہ سوا کوئی زہین لگتا ہی کہا ہے سراویس نے مصنوعی خفگی سے کہا
جی بلکل جیسے آپکو اپنی دونوں بہنوں کے سوا کوئی نظر نہیں آتا وری نےحساب برابر کیا اور اٹھ گئی کیونکہ زونیرا بیگم ان دونوں کو آواز دے رہی تھی کھانا کھانے آنے کیلئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس بندے کو اس کمرے میں باندھا ہوا تھا زنجیروں کے ساتھ اسکے انجیکشن کا اثر اتر رہا تھا آہستہ آہستہ اسنے آہستہ سے آنکھیں کھولی اور ارد گرد نظر دوڑائی مگر وہاں صرف دو چیئر کے علاوہ کچھ بھی نہیں رکھا ہوا تھا
ایک چیئر پر وہ خود اور دوسری پر ایک آفیسر تھا جسکی ایک سائیڈ روشنی اور ایک سائیڈ اندھرے میں تھی اس کمرے میں مکمل اندھیرا تھا بس ایک سائیڈ سے جو باہر کا دروازہ کھلا تھا وہاں سے روشنی آرہی تھی جو سیدھا
میجر کاشان احمد کے بائیں حصے پر پڑ رہی تھی
کچھ پل تو وہ اپنی چیئر کو گھماتا رہا پھر اپنی گردن موڑ کر اسکو دیکا جو آنکیھں چھوٹی کیئے اسکو دیکھ رہا تھا کاشی اپنی چیئر سے اٹھا اور وہاں ٹہلتے ہوئے بولا
تعداد کل دختران را تا آنجا که ممکن است بگویید(اب تک جتنی بھی لڑکیاں ادھر گئی ہیں سب کی تعداد بتائو)
کاشی نے اس سے سخت لہجے میں پوچھا
من چیزی نمی دانم(میں کچھ نہیں جانتا) چرا مرا اینجا بیاور(مجھے یہاں کیوں لائے ہو) وہ شخص چیخ کر بولا
کاشی ٹہلتے ٹہلتے رکا باہر کھڑے اپنے ایک آفیسر کو آواز دی اور کچھ سامان لانے کا کہا جس سے اسکی خاطر توازا کی جاتی
دو منٹ میں وہ سامان اسکے پاس تھا جس میں ایک گول کٹر جس سے انگلیاں کاٹی جاتی ہیں اسکے علاوہ ایک بوتل میں تیزاب تھا کچھ کیلیں کچھ اور ایک ڈرل مشین اور ایک آفیسر پاس ہی گرم کھولتے ہوئے پانی کی بالٹی لئے کھڑا تھا
کاشی جو اس سے فارسی زبان میں بات کر رہا تھا اب اردو میں بولنا شروع کیا
تمہارے پاس دس منٹ ہیں جو کچھ ان دہشت گردوں کہ بارے میں جانتے ہو بتادو ورنہ دس منت بعد تمہارے چیخیں سنی جائیں گی
میں کہہ رہا ہوکہ مجھے کچھ نہیں پتا تو تم کیوں بار بار پوچھ رہے ہو مجھے چھوڑدو ورنہ تم جانتے نہیں میری اوپر تک پہنچ ہے وہ آدمی مسلسل چیخ رہا تھا جب کاشی نے کہا
تین منٹ ضایع ہوچکے ہیں اب تمہارے پاس صرف سات منٹ ہیں کاشی کی بات سن کر وہ آدمی چلایا
میں کہہ رہا ہو مجھے کچھ نہیں پتا کاشی نے پورے دس منٹ انتظار کیا اور گیارواں منٹ شروع ہوتتے ہی اس آفیسر نے گرم کھولتا پانی اسکے پائوں پر ڈالا
اس شخص کی چیخیں اس پورے قید خانے میں گونج رہی تھی وہ درد سے تڑپ رہا تھا
جب کاشی نے تیزاب کی بوتل نکالی اور کچھ قطرے اسکے ہاتھ پر گرائے اور پھر جواس آدمی کی آوازیں تھی وہ درد سے بےحال ہورہا تھا
تکلیف ہورہی ہے اب تمہیں زلیل انسان ان مائوں کو بھی ایسی ہی تکلیف ہوئی تھی جب تم نے انکے بچوں کو انکے معصوم پھولوں کو انکے گھر کے چراٖ غ کو بجھایا تھا ایسے ہی چیخی تھی وہ
اور وہ لڑکیاں جو گھر سے تعلیم حاصل کرنے نکلی تھی تم کتوں کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے اپنے گھروں سے دور ہوگئی تم لوگوں نے انہیں ایسا کردیا ہے کہ وہ کسی کام کی نہیں رہی تم نے ہمارا مستقبل خراب کردیا اور اب بولتا ہے تجھے کچھ نہیں پتا
بول گلگت میں کہا اس کمینے کا سیف ہائوس کہاں رکھا ہوا ان بچون کو اور لڑکیوں کو ایک ایک ڈٰیٹٰل چاہیئے مجھے بول ورنہ یاد کرلے اپنے خدا کو کیونکہ آج کہ بعد تجھے موقع نہیں
ابھی کاشی بول رہا تھا جب اس شخص نے کہا
میں سب بتانے کیلئے تیار ہو پہلے میرے پائو پرکچھ لگادو بہت درد ہورہا ہے مجھے پلیزکچھ لگادو
تم نے کچھ لگایا تھا ان چوں کی انگلیاں کاٹنے کے بعد تم اتنے بڑے آدمی ہوکر رو رہے اور وہ تو معصوم تھے تمہیں احساس ہوا کبھی نہیں ہوا نہ تو اب بولنا شروع کرو
اور اگر بیچ میں رکے تو یہ آفیسر ڈریل مشین سے تمہارے ہاتھ میں اتنے سراغ کردے گا کہ کبھی ان ہاتھوں سے بھیگ بھی نہیں مانگ سکو گے سمجھ میں آئی
اس قید خانے سے باہر والے کمرے میں کچھ اور آفیسر اسد اور اویس صاحب بیٹھے ہوئے تھے میجر احمد نے منع کردیا تھا کسی کو بھی اندر آنے سے
وہ وہاں بیٹھے اسکی درد سے بھری اوازیں سن رہےتھے وہ سب بنا تاثر کے وہاں بیٹھے تھے انکے دل مین اس شخص کیلئے کوئی ہمدردی نہیں تھی
انہوں نے اپنے قریب سے اتنے جان سے عزیز لوگ کھوئے تھے اتنے معصوم بچوں کی ایسی حالت دیکھی تھی کہ اس شخص کیلئے کوئی انسانی ہمدردی نہین تھی بلکہ وہ چاہتے تھے کہ انکو بھی موقع ملے اس شخص کو مارنے
کتنے لوگوں کو انہوں نے تکلیف پہنچائی کتنی مائوں کی گود اجڑ گئی کتنی بہنیں ایک بھائی سے محروم ہوگئی کتنے والد اپنی اولاد کو کندھا دیتے ہوئے مرے ہونگیں اور کتنی با4ر اپنی بیٹیوں کو اور بیٹوں کے کھو جانے کا ماتم کیا ہوگا
مگر اب بس بہت مار لئے تم نے ہمارے نوجوان ہماری قوم کی بیٹیاں ہمارا مستقبل اب تمہاری باری ہے آج ان سب نے وہاں بیٹھے یہ قسم کھائی تھی کہ جان بھی دینی پڑی تو وہ اپنے قوم کا مستقبل بچانے کیلئے دیں گیں
وہ شخص ساری انفارمیشن دے چکا تھا گلگت کی انکے آڈے کہاں ہیں انہوں نے لڑکیوں کہاں رکھا بچے کہاں ہیں اور اس جنگل میں کہاں کہاں انکا پیرا ہوتا ہے
کاشی نے ساری انفارمیشن لینے کے بعد کہا
تمہارا وہ سارا پیسہ کہاں ہے جو تم نے ان لڑکیوں اور بچوں کو دینے کے بدلے لیا تھا
مجھے نہیں پتا اس شخص نےڈر کر کہا
کاشی نے پاس رکھی تھیلی سے گول کٹر نکالا اور اسکی شہادت کی انگلی پکڑ کر کاٹی وہ شخص زور زور سے چلا رہا تھا انگلی کٹنے کا درد اسے آدھ موا کرچکا تھا
کہا تھا نہ جھوٹ نہیں بولنا اب بتائو ورنہ تمہاری ساری انگلیاں کاٹ دوں گا کاشی نے اسی سخت لہجے میں کہا
میرے فارم ہائوس کے ایک کمرے میں دیوار کے اندر ایک تجوری بنی ہوئی ہے وہاں پر میرا سارا پیسہ رکھا ہوا ہے اسنے روتے ہوئے تکلیف سے ادھ موا ہوتے ہوئے ساری بات کہی
بلال اسکی بتائی گئی جگہ سےے وہ سارا پیسہ نکلوائو اور غریب بچوں میں بٹوا دو
اور ابھی اسکو فرسٹ ایڈ دو کیونکہ یہ بہت ضراری ہے ہمیں گلگت پہنچانے کیلئے اسکی سانسوں کی ہمیں ضرورت ہے کاشی نے اس کمرے سے نکلتے ہوئے ساتھ چلتے بلال کو ضروری ہدایت دی اور سر اویس کے کمرے کی طرف بڑھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نور صفیہ کو لیکر پہلے مریم کے گھر گئی اور آدھا گھنٹہ وہاں بیٹھ کر وہ اسے اسکے گھر لیکر گئی
صفیہ ڈر رہی تھی اس گھر میں جانے کیلئے جہاں اسنے اپنی زندگی کے انیس سال گزارے تھے آج اسے ڈر لگ رہا تھا اس گھر میں جانے سے
انکے گھر کے دروازے کے سامنے گاڑی رکی تو صفیہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا
مجھے واپس لے جائیں پلیز مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے وہ مجھے مار دیں گے پلیز آپ سمجھنے کی کوشش کریں وہ روتے ہوئے اس سے التجا کر رہی تھی
کچھ نہیں ہوگا صفیہ میں ہوں نہ اگر انہوں نے کچھ کہا تو ہم واپس آجائے گیں ویسے بھی یہ اسد جا تو رہا ہے ہمارے ساتھ وری نے اسے بہلانا چاہا
مادام آپ اترے گی اور ہمیں آپنے گھر لے کر جائیں گی تو پتا چلے گا کہ آپ کے والد صاحب کیا کہتے ہیں
اسد کی بات سن کر وہ وری کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی سے اتری اسدنے گاڑی سائیڈ پر پارک کی اور اسکے ساتھ آگے بڑھا
آپ بھی جائیں گے ہمارے ساتھ صفیہ نے حیرت سے پوچھا
جی مادام آپکو کوئی مسئلہ ہے
جی ابو کو یہ بات بری لگے گی وہ غلط مطلب لے لیں گے آپ پلیز نہ جائیں ہمارے ساتھ صفیہ نے التجایا انداز میں کہا
اسکی بات سن کر اسد کو بے انتہا غصہ آیا مگر وری اسکی بات سمجھ چکی تھی
ٹھیک ہے اسد تم یہی ویٹ کرو میرے پاس گن ہے اور مینے کان میں بلوتوتھ لگا لیا ہے میں رابطے ،میں رہو گی تم سے وری نے آرام سے اسکو سمجھایا
میں کیا ڈروئیور ہوں تم دونوں کا جو گاڑی میں ویٹ کرو اسد نے مصنوعی غصہ کیا
دیکھیں میری بات کا غلط مطلب نہ لیں یہاں یہ چیز غلط سمجھی جاتی ہے صفیہ نھے تحمل سے اسکو سمجھانا چاہا جب وری نے مداخلت کی
یار میں رات ساری نہیں سوئی ہو کچھ رحم کھائو میری حالت پر بعد میں ایک دوسرے کو سمجھا لینا ابھی چلو تم میرے ساتھ اور تم انتظار کرو یہاں پر
وری نے کہتے ساتھ صفیہ کو اپنے ساتھ کھینچا اور اسکے گھر کہ پاس جاکر بیل بجائی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *