Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR NovelR50717 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17
Rate this Novel
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 01 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 02 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 03 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 04 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 05,06 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 07 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 08 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 09 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 10 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 11,12 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 13 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 14 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 15 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 16 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17 (Watching)Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 18 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 19,20 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 21 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 22 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 23,24 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 25 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 26 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 27 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 28 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 29 Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Last Episode
Tum Meri Zindagi Ho by Aroob AR Episode 17
بریگڈیئر اویس حیرت سے سامنے اپنی بیوی کے پہلو میں کھڑی لڑکی کو دیکھ رہے تھے جو کانپ رہی تھی اسکا پورا جسم ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا
آنٹی یہ کون ہیں پلیز ان کو کچھ مت بتائیے گا کچھ کرے نہ اپنے ہزبینڈ کو فون کریں یہ اندر کیسے آئے صفیہ کانپتے لہجے میں مسز اویس سے فریاد کر رہی تھی
یہ میرے ہزبینڈ ہی ہے ڈرو مت بیٹا مسز اویس نے اسکو حوصلہ دیا
سر اویس اپنے تیز کانوں سے انکی مدھم آواز میں ہوئی گفتگو سن چکے تھے
زونیرا آپ میرے ساتھ باہر آئیں اس بچی کو لیکر مجھے اس بچی کے بارے میں بات کرنی ہے اس سے بھی اور آپ سے بھی سر اویس یہ کہتے ہوئے باہر جانے لگے جب اس لڑکی نے کہا
میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جائو گی میں کچھ نہیں بتائو گی آپکو آپ پلیز مجھے یہاں سے جانے دیں صفیہ نے التجایا لہجے میں کہا
کہاں جائیں گی آپ ہاں اپنے پیرنٹس کے پاس جنہوں نے آپکو وہاں رکھنے سے انکار کردیا ہے اور آپکو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے مریم سب کچھ بتا چکی ہیں آپکے اور اپنے بارے میں سر اویس نے زرا تیز لہجے میں کہا
وہ آپکو کہاں ملی وہ ٹھیک ہے وہ کس کے پاس رہ رہی ہے اسکے بابا نے اسکو رکھ لیا کیا صفیہ نے ایک سانس میں اپنا ہر سوال کردیا تھا
مسز اویس حیرت سے کبھی اسکو اور کبھی اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی
آپ باہر لائونچ میں آئیں دونوں پھر بات کرتا ہوں آپ سے سر اویس یہ کہتے ہوئے اپنے اور مسز اویس کے مشترکہ کمرے سے نکل گئے تھے
صفیہ بھی فورا سے مسز اویس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے نکلی اسکو بہت جلدی تھی مریم کے بارے میں جاننے کی کتنے دنوں بعد کوئی ایسا ملا تھا جو اسکی خیر خبر بتا سکتا ہو وہ واقعی اسکے لئے دکھی تھی پتا نہیں وہ کس حال میں ہو وہ بھی جلدی سے سر اویس کے پیچھے لائونچ میں پہنچی اور ایک صوفے پر سکڑ کہ بیٹھ گئی
آپ بتائیں نہ وہ کیسی ہے کہاں ہے کیا وہ آپ کے پاس ہے اسکے بابا کہان ہے صفیہ نے ایک بار پھر سوالوں کی بوجھاڑ کردی تھی ان پر
پہلے آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ میرے گھر پر کیسے آئیں اور مسز آپ نے بھی انکو رکھ لیا چلیں یہ بچی اپنی ہے اگر اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی وہ کوئی چور ہوتی تو پھر اور ایک لڑلکی کو گھر میں رکھ کر آپ نے مجھے یہ بات بتانے کی زحمت بھی نہیں کی سر اویس نے ان دونوں دیکھتے ہوئے زرا سخت لہجے میں پوچھا
آئیم سوری غلطی میری ہے انکی نہیں اس لئے آپ انکو کچھ مت کہیں صفیہ کو برا لگ رہا تھا انکا زونیرا آنٹی سے سخطئ سے بات کرنا
تو کیا آپ بتائیں گی آپ یہاں کیسے آئی ہیں سر اویس اب زرہ نرمی سے پوچھا
لیکن آپ وعدہ کریں مریم سے ملوائیں گے مجھے صفیہ ایک شرط رکھی انکے سامنے
ٹھیک ہے آپ بتانا شروع کریں سر اویس نے یہ کہتے ساتھ ریکارڈنگ اپنے فون میں اسٹارٹ کی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ جھگی خواجہ سرائو کی تھی اس میں چار سے پانچ خواجہ سرا تھے اور زندگی میں پہلی بار نہ مجھے ان سے گھن آئی نہ نفرت نہ ڈر لگا
مجھے مردوں کی بھیڑ میں وہ ہی اپنا خمسار لگ رہے تھے مریم اور وہ اندر آتو گئے تھی مگر اب پریشانی یہ تھی کیا کریں وہ جھگی بہت چھوٹی سی تھی اور آج زندگی میں اس پریشانی کی حالت میں بھی مجھے دکھ ہو رہا تھا خود پر اور اپنے جیسے اور لوگوں پر کہ ہم اتنے بہترین گھر میں رہ کر کبھی اللہ کا شکر نہیں کرتے اور یہ اس چھوٹی سی جھگی میں رہ کر بھی کیا اللہ سے شکوہ نہیں
وہ آج انسانوں کی تیسری مخلوق کو دیکھ خوش ہورہی تھی کہ وہ اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے کم از کم ایک خطرہ تو کم ہوا اور شکر ہے وہ سوئے ہوئے ہٰیں لیکن یہ شکر بھی دو سیکنڈ کا تھا کیونکہ اگلے ہی پل ان میں سے ایک خواجہ سرا اٹھ چکا تھا
آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ان دونوں پر نظر پڑتے ہی اس خواجہ سرا نے چیخ ماری مگر صفیہ نے آگے بڑھ کر اسکے منہ پر اپنا دایاں ہاتھ رکھ کر اسکا منہ بند کردیا تھا
وہ اس وقت خود اتنی کانپی ہوئی تھی کہ اسکو کچھ اور سوجا ہی نہیں آگے بڑھ کر اسکے منہ پر ہاتھ رکھنے کے علاوہ
صفیہ نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے سرگوشی نما انداز میں کہا
میں ہاتھ اٹھا رہی خدا کا واسطہ ہے چیخنا مت ہم کوئی چور یا ڈاکو نہیں ہو پلیز صفیہ نے التجایا انداز میں کہا مریم خاموش تھی بلکل اسکی ایسی حالت ہی نہیں تھی کہ وہ وہاں کوئی مشورہ یا کوئی صفائی دیتی ان لوگوں کو صفیہ نے آہستہ سے اسکے منہ سے ہاتھ ہٹایا
اے باجی تم ادھر کیا کر رہی ہو ہمارے جھگی میں اس خواجہ سرا تالی پیٹ کر یہ بات کہی
آہستہ تالی نہ مارو کوئی اٹھ جائے گا صفیہ نے ڈرتے ہوئے کہا
اوہ باجہ تم ڈرو نہ یہ سارا دن میں اتنا تھک جاتے ہیں کہ اب بلکل ٹون ہو گئے ہیں اب بتائو تم ادھر کیا کرتا ہے باجی اسخواجہ سرا نے انکو یقین دلاتے ہوئے اپنے یہاں آنے کی وجہ پوچھی
ہم اپنے گھر جارہے تھے کہ راستے میں ہمیں کچھ لڑکوں نے اغوہ کرلیا اور اب انکی گاڑی یہاں پر رکی تھی انکی گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا تھا تو ہم دونوں موقع کا تلاش کر وہاں سے بھاگ گئی اور بھاگ کر سامنے تمہاری جھگی نظر آئی تو اس میں چھپ گئی ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گی پلیز ہمیں صبح تک کے لئے یہاں رہنے دو ہم اس وقت کیسے جائیں گی صفیہ نے آخر میں التجایا انداز میں کہا
ٹھیک ہے باجی تم یہاں رک جائو ہم ساتھ والا جھگی مین تمکو لے جاتا ہے وہ بھی ہمارا ہی جھگی ہے مہمان کیلئے ہم استعمال کرتے ہیں اور ہم خود تم کو صبح چھوڑ کر آئے گا یہاں پر بھی خطرہ ہے باجی وہ خواجہ سرا ان دونوں اپنی کو دوسری جھگی میں لےجاتے ہوئے ہوئے سرگوشی میں بولا
کس طرح کا خطرہ صفیہ اور مریم دونوں نے ایک ساتھ پوچھا وہ پہلے ہی ڈری ہوئی تھی اوپر سے وہ اور انہیں ڈرا رہا تھا
اوہ باجی ڈرنا نہیں ہے میں نسرین ہوں نہ آپ کے ساتھ اس خواجہ سرا نے ایک بار پھر اپنے ہاتھ کی تالی بجا کر کہا
اور میرا مطلب ہے جی کہ یہ والا روڈ پار کریں گی تو آگے ایک جھاڑیاں شروع ہونگیں اور جھارڑیوں کو بیچ میں ایک جھوٹا سہ گھر ہے باجی اللہ معاف کرے اس گھر میں کیا کچھ ہوتا ہے میں آپکو بتا نہیں سکتی صفیہ نے ایک جھٹکے سے اسکو دیکھا
اسکے دل میں اس وقت صرف ایک سوچ گردش کر رہی تھی کہ کیا ان لڑکیوں کہ ساتھ بھی یہ سب کیا جائے گا اور وہ بچی جو انمیں سب سے چھوٹی تھی پندرہ سال کی کیا اسکے ساتھ بھی یہ سوچنا بھی تکلیف دہ تھا اور جس کے ساتھ یہ زیادتی ہوگی اسکی کیا حالت ہوگی
ہماری بہت سی زینب جیسی بچیاں رل گئی ہیں اب اور کتنی کو یہ پامال کریں گے اللہ ان پر اپنا قہر کب نازل کرے گا انکی رسی کب کھینچی جائے گی وہ یہ سب صرف دل میں سوچ کر رہ گئی تھی
وہ رات جیسے تیسے کر کہ ان لوگوں نے گزار لی تھی اور صبح فجر کے وقت کے فورا بعد وہ دونوں نسرین کے ہمراہ نکل گئی تھی وہ انہیں بہت خاموشی سے چھپ کر لے کر جارہا تھا کیونکہ اسکا کہنا تھا اس جگہ پر بہت سے نشے میں دھت مرد بھی ہوتے ہیں
نسرین اور صفیہ نے مریم کو پہلے اسکے گھر کے گیٹ پر چھوڑا مگر چھوڑنے سے پہلے صفیہ اسکے گلے لگ کر اسکو تسلی دے رہی تھی کچھ نہ ہونے کی اسکے باپ کے اسکو قبول کر لینے کی یہ جانے بغیر کے اسکا باپ تو اسکو قبول تو دور کی بات ہے اپنے گھر پر رکھنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرے گا
ان بسوں کے کرائے وغیرہ وہ نسرین اپنی جیب سے دے رہا تھا اپنے گھر کے اسٹاپ پر اتر کر اسنے بہتے آنسوئو کے ساتھ نسری کا شکریہ ادا کیا اسے آج انسانوں کی اس تیسری مخلوق سے بےپناہ اپنایت محسوس ہورہی تھی جنہوں نے مشکل میں انکا ساتھ دیا
او باجی رو نہیں ہم کو خوشی ہے آپ اپنے گھر جارہی ہو ہم کو اچھا لگا آپ کی مدد کر کے نسرین نے تالی پیٹ کر کہا
مگر اس بار صفیہ نے اسکو نہیں روکا تالی پیٹنے سے اور اسکو اللہ حافظ کہہ کر اپنی منزل کی طرف مڑھ گئی یہ جانے بغیر یہ منزل تو کب کی ختم ہوچکی ہے اب نئے راستے اور نئی منزل کی تلاش کرنی ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسنے اپنے گھر کا دروازہ بجایا اور کچھ دیر رک کر انتظار کیا دروازہ بجانے کے پانچ منٹ بعد دروازہ کھولا گیا سامنے اسکا بڑا بھائی کھڑا تھا جو اسکو اجنبی نظروں سے دیکھ رہا تھا
بھائی میں صفیہ آپ کی بہن صفیہ کو لگا کہ وہ اسے بھول گیا ہے لیکن کیا انسان چار دن میں اپنے خونی رشتوں کو بھول سکتا ہے
اسکا بھائی خاموشی سے سامنے سے ہٹ گیا وہ آہستہ آہستہ چلتی اندر داخل ہوئی اندر خاموشی تھی شاید سب سو رہے تھے شاید جب اسکے بھائی نے آواز لگائی سب کو
بابا بابا باہر آئیں پلیز اور دیکھے زرہ اس زلیل کو امی امی وہ زور سے چلا رہا تھا سب کو اپنے کمروں سے باہر نکال رہا تھا جب اسکی نظر سامنے کمرے سے نکلتے اپنے ماں اور باپ پر پڑھی جو اسکو حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے
اور پھر جیسے ہی اسکی امی روتے ہوئے اسکی طرف بڑھنے لگی زمان آوان صاحب نے انکا ہاتھ پکڑ کر انکو روکا اور تیز لہجے میں بولے
کیا کرنے آئی ہو کیوں آئی ہو یہاں نکل جائو یہاں سے میری عزت کا تو جنازہ نکال چکی ہو اب کیا ہمرا جنازہ نکالنا چاہتی ہو
ابو ایسے نہ بولیں مینے کچھ نہیں کیا ہے میں آغوہ ہ ابھی اسکی بات منہ میں ہی تھی جب اسکے بھائی نے اسکے منہ پر تھپڑ مار کر اسکا منہ بند کروادیا تھا
چپ ہوجا بغیرت لڑکی جس عاشق کے ساتھ رنگ رلیاں منا کر آرہی ہے اسکے پاس ہی جا نکل اس گھر سے چل اٹھ وہ یہ تو جانتی تھی اس گھر میں مرد کی زیادہ سنی جاتی ہے مگر یہ نہیں کہ عورت کا تو بولنا ہی جرم سمجھا جاتا ہے
فاخر بیٹا چھوڑ دے اسکو کچھ بولنے تو دو میری بچی کو تم مات مارو میری بیٹی کو مسز آوان رو رو کر فریاد کر رہی تھی وہ ماں تھی اپنی بیٹھی کو جانتی تھی اور اگر نہیں تب بھی وہ اسکی بات سنے بغیر اسکو کچھ نہ کہتی مگر کئی بار مائیں بھی یہ زیادتی کر جاتی ہیں آخر وہ بھی انسان ہوتی ہیں
گر تم نے اس معاملے میں کچھ کہا تو تمہیں بھی دو بول بول کر فارغ کردونگا پھر کرتی رہنا اس کی حمایت آواز صاحب کی آواز سارے گھر مین گونج رہی تھی
آپ انکو کچھ مت کھائیں میں چلی جاتی ہوں اس گھر سے مگر آپ بھی یاد رکھیں آپ ظلم کر رہے ہیں ساری زندگی آپ نے ہمیں بیٹوں سے کم سمجھا اور آج بھی آپ مجھے میری نظروں میں گرا رہے ہیں آج مجھے خود سے شکوہ ہے اللہ سے بھی شکوہ ہے کہ اسنے مجھے بیٹی کیوں بنایا مجھے حواہ کی بیٹی کیوں بنایا مجھے آدم کا بیٹا کیوں نہیں بنایا گیا جو سب کی نظروں میں بہترین ہوتا ہے جسکے لئے بہت سے لوگ اپنی بیٹیوں کو بھول جاتے ہیں جس کے لئے لوگ اپنی بیویوں کو چھوڑ دیتے ہیں بس ایک آدم کے بیٹے کے لئے
اور اگر بیٹی بنانا ہی تھا تو کسی ایسے گھر میں کیوں نہیں پیدا کیا جہاں بیٹیوں اور بیٹوں میں فرق نہیں کیا جاتا اور اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی اسکے بڑے بھائی نے اس پر تھپڑوں اور لاتوں کی بارش کردی تھی
وہاں ایک دفع پھر عورت کی تزلیل ہورہی تھی ایک بھائی کے ہاتھوں جس بھائی سے وہ بہنیں بے انتھا محبت کرتی ہے یہاں ہمارے والدین کی سب سے بڑی غلطی ہے انکو یہ حق کبھی نہیں دینا چاہیئے اپنے بیٹوں کو کہ وہ اپنی بہن پر ہاتھ اٹھائیں چاہے چھوٹے ہیں یا بڑے
جب آپ آج انکو ہاتھ اٹھانے س روک دیں گے تو کل کو وہ باہر سے لائی گئی کسی اور عورت پر بھی ہاتھ اٹھاتے ہوئے سوچیں گے مگر زمان صاحب خاموش تھے وہ اپنی بیٹی کو پیٹتا دیکھ رہے تھے کبھی کبھار یہ عزت بھی انسان کو کہیں کا نہین چھوڑتی جیسے صفیہ آواز کو پاک صاف ہوکر بھی وہ داغ دار ہوگئی تھی
آواز صاحب مینے ساری زندگی کچھ نہیں کہا آپکو نہ کوئی خواہش کی نہ کوئی التجا صرف آپکا حکم مانا آج خدا کا واسطہ ہے میری برسوں کی محنت میرے احسان لوٹانے کا میری بچی کو چھوڑ دے اس گھر میں نہیں رکھنا چاہتے مت رکھیں مگر اسکو روکیں میری بیٹی کو کچھ مت کہیں وہ عزت سے چلی جائے گی آپکو خدا کا واسطی ہے
آج ایک ماں اپنی اولاد کے سامنے اپنے شوہر سے اپنی بیٹی کو چھوڑ دینے کی بھیک مانگ رہی تھی کیا اہمیت تھی اس عورت کی کہ آج وہ بھیک مانگ رہی تھی اپنی بیٹی کی اپنی ماں کے جڑے ہاتھ دیکھ کر فاخر نے اپنا ہاتھ روک دیا تھا
امی کی وجہ سے تمہیں چھوڑ رہا ہوں ابو اب باہر روشنی ہوگئی ہے اور اگر ابھی یہ گھر سے گئی تو محلے والے سوال کریں گیں انکو تو نہیں پتا اس کے بھاگ جانے کا اس لئے بہتر ہے اسکو شام میں یہاں سے بھیجا جائے صفیہ حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی وہ کیسا بھائی تھا جو اپنی بہن کو گھر سے نکالنے کا سوچ رہا تھا کیا عزت اتنی اہم ہے کہ انسان اپنے رشتے ہی توڑ دے کیا اتنی بےبس ہے عزت کہ اگلے کی بات بھی نہیں سننے دیتی
اسکو اسکی ماں کہ ہمراہ دوسرے کمرے میں بٹھا دیا گیا تھا اور شام چھ کے قریب فاخر اسکو اپنی گاڑی میں ڈائو یونیورسٹی کے سامنے لا چکا تھا گھر سے نکلتے ہوئے اسکی امی روئی تھی بہت اسکی بہن بھی روئی تھی جسکی زندگی صفیہ کی وجہ سے اب اور مشکل ہونے والی تھی اس سے ایک دو سال بڑا بھائی بھی دکھی تھا اسکو یقین تھا اپنی بہن پر مگر وہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا اپنے باپ اور بڑے بھائی کو
اور اب اسکو ڈائو کے سامنے اتارتے ہوئے فاخر نے اس سے چبھتے لہجے میں کہا
کوشش کرنا کبھی زندگی میں مجھ سے سامنا نہ ہو ورنہ بہت برا ہوگا اگر آج امی بیچ میں نہ آتی تو تم زندہ نہ بچتی تم جیسی بہنوں کو تو زندہ زمین میں گاڑ دینا چاہیئے
صفیہ تاسف اور دکھ سے اسے دیکھتے ہوئے زخمی سا مسکرا کر آگے بڑھ گئی نہ اسنے خداحافظ کہا نہ فاخر کو زحمت ہوئی وہ دونوں اپنی اپنی منزلوں کی طرف بڑھ گئے تھے یہ جانے بغیر کہ بہت جلد وہ پھر سے ملنے والے ہیں
وہ ڈائو تو جا نہیں سکتی تھی وہاں بھی سب کو خبر ہوگئی ہوگی اس لئے اسنے ان انجان راستوں پر چلنا شروع کردا تھا آج اسکو کوئی فرق نہیں پڑھ رہا تھا وہ اکیلی ہے بابا کیا سوچیں گے اگر کبھی اکیلی باہر نکلی تو نہ ڈر لگ رہا تھا کہ راستے میں کوئی گاڑی ٹکرا گئی تو وہ مر جائے گی
بلکہ آج وہ اتنی بے فکری سے روڈ پر چل رہی تھی جیسے واقعی میں مرنا چاہتی ہو وہ اس روڈ سے اگلے روڈ پر ٹن ہوئی تو سامنے سے آتی اس گاڑی سے ٹکرا گئی
وہ یہ بات بھول رہی تھی اللہ ایک دروازہ بند کرتا ہے تو کئی دروازے کھول دیتا ہے اس کے لئے بھی ایک اور دروازہ کھول دیا تھا وہ گاڑی مسز اویس کی تھی جو وہ خود ڈرائیو کر رہی تھی اسکو گاڑی اتنی زور سے نہیں لگی تھی کیونکہ انہوں نے فورا بریک لگا دی تھی مگر وہ اسکو وہاں سے اپنے گھر لے آئی تھی
باقی کی باتیں مسز اویس سر اویس کو بتا رہی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وریشہ نور نے وہاں سے نکلتے ہی علی کو کال ملائی اور شروع ہوگئی اسکی کلاس لینے
تم نہایت کمینے ہو اسد مینے بکواس کی تھی جب وہ کسی ایسی جگہ جائے جہاں میں پہلے سے موجود ہوں تو تم مجھے انفارم کردینا مگر تمہیں تو کوئی ہوش ہی نہیں ہوتا کہ انسان بتا دے تمہاری بلا سے آج میں قتل ہوجاتی
تمہیں تو خوشی ہوجاتی کہ بھئی چلو ایک تو حسین لڑکی دنیا سے گئی اب تکہ بریانی ملے گی جلدی سے چار قل پڑھ دوں اس پر وری کی باتوں پر اسد نے قہقہ لگایا اور زرا مزاق اڑانے والے انداز میں بولا
جب میں کال کر کے تمہیں کہہ رہا تھا میری بات سن لو اس بچے سے آج ملنے نہ جائو تو کس کو جلدی تھی اس وقت اپنے اوپر قل پڑوانے کی
اسد علی زیادہ فری نہ ہو اس سے پہلے میں فون کے اندر گھس کر اپنا نیو جوگر تمہارے منہ پر مارو مجھے شارع فیصل روڈ پر ملو اور اپنے ماموں سے بولو اگر مجھ سے کاشی کے انڈر کام کرویا تو مینے جان نہیں لینی اپنی زیادہ خوش نہ ہو مینے تم سب کو الٹا لٹکا دینا ہے سمجھ میں آئی وری نے ڈرامائی انداز میں کہا
لو میں کیوں خوش ہونے لگا تمہارے مرنے پر میں جانتا ہوں برے لوگ جلدی نہیں جاتے دنیا سے اور ماموں وہ صرف میرے نہیں تمہارے بھی ہے اور اب مجھ پر حکم مت چلائو زیادہ میں تمہارا لیڈر ہوں تم میرے انڈر کام کر رہی ہو میں تمہارے نہیں اسد اسکو چھیڑ رہا تھا بڑا مزہ آتا تھا ان سب کو اس سے تفری لےکر
بیٹا تمہارے جو پر نکل رہے ہیں نہ زرا ہاتھ لگو میرے پھر بتائو گی تمہیں بھی اور اس کاشی کو بھی اور جس دن میں مرونگی اس سے پہلے اپنی وصیت میں لکھوا دونگی کہ تمہیں اور کاشی کو میرے تیسرے کی بریانی نہ دی جائے وری نے بھی حساب برابر کیا یہ جانے بغیر کے موت بتا کر نہیں آتی اور وہ لوگ بھی جو اسکی موت کی باتوں پر ہنس رہے تھے یہ نہیں جانتے تھے اگر وہ مر گئی تو بعد میں شاید وہ انہی باتوں کو یاد کر رہے ہونگیں اسکی
علی نے ہنستے ہوئے کہا چلو آج کے لئے اتنا کافی ہے ابھی کاشان کا فون آیا تھا اسنے کہا ہے کل صبح چار بجے شمع کے روڈ پر ریڈ کرنا ہے وہاں پر بھی کچھ بچوں کو اور شاید لڑکیوں کو پکڑا ہوا ہے خبر پکی ہے اس لئے ٹائم پر تیار رہنا اور ابھی اس جگہ کو چھوڑ دو وہاں پر بلال کو بھیج دیا ہے مینے تم کل کی تیاری کرو اور اس آدمی کا اسکیچ بھی بھیجو جو اس لڑکی مریم نے بنوایا ہے
اوکے اللہ حافظ وری نے سلام کر کہ فون بند کردیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
احمد کاشان نور اور انکی ٹیم کے باقی میمبر بھی اس جگہ پر موجود تھے صبح کے چار دس ہو رہے تھے
وہ آدھے گھنٹے سے اس گھر کی نگرانے کر رہے تھے انہیں پانچ منٹ بعد اندر بڑھنا اندر انکا ایک آدمی تھا جس کے اشارے کا وہ ویٹ کر رہے تھے مزید تین منٹ انہوں نے ویٹ کیا
اور پھر اشارہ ملتے ہی کاشی نے اسد کو اور باقی لوگوں کو انکی پوزیشنز کا بتایا
آفیسر علی آپ اپنی ٹیم کو لیکر رائٹ سائیڈ کی طرف سے جائیں اور میں اپنی ٹیم کے ساتھ سے گھر میں جائو گاجتنا ٹائم ہم انکو اپنی طرف متوجہ رکھیں آپ تب تک اندر موجود بچوں کو سیف کریں گے
میجر احمد کا آرڈر سنتے ہی علی اپنی ٹیم کے ساتھ جانے لگا جب احمد نے انکے ساتھ جاتی نور کو روکا
مس نور آپ میرے ساتھ جائیں گی مجھے پروٹکٹ کرنے کےلئے احمد کی بات سنتے ہی اسکا منہ کھل گیا
مگر کاشی میں اسد کی ٹیم میں ہوں وریشہ نور نے احتجاج کرنا چاہا مگر کاشی کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھا
کاشی نہیں میجر یا سر کہیں میں آُکا سینیئر آفیسر ہوں کاشی نے زرا سخت لہجے میں کہا
اور یہاں میرا آڈر چلے گا آپکو کوئی بروبلم ہے آفیسر اسد کاشی نے اسد سے استفسار کیا
نو سر اسد علی یہ کہتا ہوا اپنی ٹیم کے ساتھ رائٹ سائیڈ پر مڑ گیا
وری نے اسکو جاتے ہوئے دیکھا تو بڑبڑاتی ہوئی کاشی کے ساتھ آگے بڑھ گئی
صبر کرو تم دونوں ادھار ہے یہ سب کچھ تم دونوں کا مجھ پر بس یہ کیس پورا ہونے دو وری نے بڑ بڑاتے ہوئے پورا پلین بنا لیا تھا یہ جانے بغیر اگر اس کیس میں وہ یا کوئی اور شہید ہوگیا تو۔۔
