Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Last Episode)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul 

مزید چار ماہ بعد ۔۔۔

بھائی بھابھی یار جلدی کرو۔۔ہمیں بارات لے کر پہنچنا ہے۔۔علی بلیک کلر کی شیروانی پہنے سر پر بھی بلیک کلا سجاۓ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔اُسکی جلد بازی پر سبحان نفی میں سر ہلانے لگا۔۔۔

فضا جانم یار جلدی کرو تمہارے دیور سے رہا نہیں جا رہا کہی ہمارے بغیر ہی نہ چلا جاۓ۔۔۔سبحان دیا کو گود میں لیے باہر کی جانب بڑھتا ہوا شرارت سے بولا ۔۔جہاں وہ جھجھلایا سا بارات کے ساتھ کھڑا اُن کا باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔بابا ماما سو لیزی۔۔۔دیا سبحان کو دیکھ ناک چڑا کر بولی۔۔اُسکی اِس حرکت پر سبحان کو اُس پر ٹوٹ کر پیار آیا۔۔نہیں میری جان ماما لیزی نہیں ہے ہم نے ماما کو تنگ کیا ہوا تھا نہ اِس لئے وہ ہماری وجہ سے لیٹ ہوگئی۔۔وہ اُسکے پھولے پھولے گالوں پر بوسہ دیتا ہوا محبت سے بولا ۔

تم دونوں باپ بیٹی کر لو برائیاں میری جتنی مرضی کرنی ہے ایک بار میرے بےبی کو آنے دو پھر بتاؤ گئی۔۔تم دونوں کو میسنے نہ ہو تو۔۔۔وہ اپنے بھرے بھرے وجود کو شال سے چھپاتے ہوۓ کے اُن کے پیچھے آتی ہوئی خفگی سے بولی۔۔۔اُسکی بات پر دونوں باپ بیٹی نے ایک دوسرے کو دیکھ کر سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔جب بھی وہ دونوں اُسے تنگ کرتے تھے وہ ایسے ہی اُن کو دھمکاتی تھی۔۔

بھائی بھابھی یار آپ بعد میں لڑ لینا اب چلو پلیز میری دلہن میرا ویٹ کررہی ہوگی۔۔علی اُن دونوں کو لڑنے کے موڈ میں دیکھ کر جلدی سے بولا۔۔۔۔کہی بچارا یہی کا یہی نہ رہ جائے۔سبحان نے نفی میں سر ہلاتے دھیان سے پہلے فضا کو گاڑی میں بیٹھایا پھر دیا کو۔۔اور خود آ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں بارات کے روپ میں گاڑیوں کا قافلہ ہوٹل کے جانب گامزن ہوچکا تھا۔۔۔۔

________________

دو ماہ پہلے جیسے ہی علی کو پتہ چلا کہ ہادیہ کا رشتہ آیا ہے تو اُسنے بنا دیر کیے فضا کو جاکر سب کچھ سچ سچ بتا دیا کہ وہ اور ہادیہ کافی وقت سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔جسے سن کر فضا کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی کہ اُسکی بہن اُسکی ہمراز اسکے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔۔ایک ہی چھت کے نیچے ایک گھر میں۔اُسنے بنا دیر کیے سبحان سے بات کی اور اگلے دن ہی وہ سبحان کو لیے ہادیہ کے گھر جا پہنچی۔۔کسی کو بھی اِس رشتے سے کو بھی مثلا یہ اعتراض نہیں تھا۔۔۔سدرہ بیگم نے بھی اپنے پرانے رویے کی فضا سے معافی گی جسے فضا نے بنا کسے اور بات کے اُنہیں معاف کردیا۔۔۔ اور ایسا اُن دونوں کی ایک ماہ بعد شادی کی تاریخ رکھ دی گئی۔۔۔

اور آخر آج اُن دونوں کی بارات تھی۔۔۔

کچھ ہی دیر میں بارات ہوٹل پہنچ چکی تھی سب نے بہت خوشگوار اور شاندار طریقے سے اُن سب کا استقبال کیا۔۔۔۔

فضا میری جان تھک گئی ہوگی آپ یہ لو جوس پیو۔۔سبحان اُسکے چہرے پر تھکاوٹ کے اثرات دیکھ فکرمندی سے بولا۔۔

اُسکی اِتنی فکرمندی پر وہ کی جان سے مسکرا دی۔۔۔میں ٹھیک ہوں سبحان ۔۔۔آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔

مجھے پتہ ہے آپ کتنی ٹھیک ہے آئیے یہاں بیٹھے وہ اُسے کونے والی ٹیبل پر بیٹھاتا ہوا نرمی سے بولا۔۔۔آپ یہ جوس ختم کرۓ میں ابھی آیا وہ اُسے جوس کا گلاس تھاما کر خود دیا کی جانب بڑھ گیا جسے آہان اپنے ساتھ کھیلنے کے لیے لے کر گیا تھا۔۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں نکاح کی رسم ادا ہوچکی تھی۔۔۔سب نے علی کو باری باری گلے لگا کر مبارک بعد دی۔۔آج تو اُسکے دانت ہی اندر نہیں جارہے تھے۔۔۔۔یہ خیال ہی بہت خوبصورت تھا کہ اُس کی محبت اُسکے نام لکھی جا چکی ہیں۔۔۔ وہ سٹیج پر بیٹھا تھا دیا اُسکی گود میں چڑ کر بیٹھی تھی۔۔جب علی کو یو مسلسل دانت نکال کر ہنستا دیکھ دیا منہ بنا کر بولی۔۔۔تاتو اپنے دانت اندر تر لو تاتی نے بڑے دانتوں والے بندر تو کونی لینا۔۔(چاچو اپنے دانت اندر کر لو چاچی نے بڑے دانتوں والے بندر کو نہیں لینا)۔دیا کی بات پر علی کو صدمہ ہی لگا جب کہ سٹیج کی طرف آتے سبحان کا قہقہہ لگا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں کھانے کے بعد رخصتی کا شور اُٹھا۔۔ہادیہ کو علی کے ساتھ قرآن پاک کے سایہ تلے زندگی کے ایک حسین اور نئے سفر پر رخصت کردیا گیا تھا ۔۔۔

خانزادہ ولا میں ہادیہ کا بہت ہی پُرتباک اور خوبصورتی کے ساتھ شاندار استقبال ہوا مزید کچھ ضروری رسموں کے بعد فضا اُسے علی کے روم میں چھوڑ کر جاچکی تھی۔۔۔

فضا کمرے میں آئی تو کمرہ بالکل خالی تھا دیا سبحان کے ساتھ ابھی نیچے تھا۔۔۔وہ بےمشکل تھکاوٹ کی وجہ سے چلتے ہوئے بیڈ تک پہنچی اُسے اپنی حالت بگڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔مزید کچھ دیر کے بعد بھی اُسے اپنے پیٹ میں درد محسوس ہوا۔۔۔اُسنے سبحان کو بلانا چاہا۔۔۔لیکن پیٹ میں شدید درد کی وجہ سے اُسکے منہ سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔۔۔ضبط کےباوجود اُسکی آنکھوں سے آنسو نکلتے اُسکے گالوں کو بھگو نے لگے۔۔۔تبھی دروازا کھول کر سبحان اور دیا اپنے دھیان اندر داخل ہوۓ لیکن فضا کی بگڑتی حالت دیکھ سبحان جلدی سے اُسکی جانب بڑھا۔۔فضا میری جان کیا ہوا وہ اُسے اپنے سینے سے لگائے فکرمندی سے بولا۔۔۔سس۔سبحان۔۔مم۔میرے پیٹ میں درد ہورہا ہے۔۔۔آہ۔آہ۔۔فضا مجھے لگتا ہے ٹاٹم ہوگیا بےبی کے آنے کا ہمیں ہوسپٹل چلنا ہوگا۔۔۔بوا بوا ۔۔وہ بوا کو آواز لگاتے ہوۓ بولا۔۔۔بوا پلیز آپ دیا کا خیال رکھیے۔۔۔۔میں فضا کو لے کر ہوسپٹل جارہا ہوں کہتے ہی وہ فضا کو گود میں اُٹھاۓ باہر کی جانب بھاگا ۔۔۔

بوا ۔۔ماما۔تو۔۔تیا۔۔ہوا۔۔اُن۔تو۔۔پین۔ہولئی۔۔ہے۔۔وہ۔۔رہ۔لئی۔۔تھی۔۔بابا۔۔کیاں۔لے۔تر۔گے۔ہیں۔۔(بوا ماما کو کیا ہوا ہے ۔اُن کو پین ہورہی تھی وہ رہ بھی رہی تھی بابا ماما کو کہاں لے کر گئے ہیں)۔دیا بوا کی جانب دیکھتی ہوئی نم آنکھوں سے بولی۔۔۔

بچے ماما ٹھیک ہے۔۔آپ کا بھائی آنے والا ہے نہ اِس لیے بابا اُنہیں ہوسپٹل لے کر گئے ہیں ۔۔آپ رہ مت میری جان۔۔بوا اُسے اپنی گود میں لیتی اُسے پچکارتے ہوئے بولی۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ فضا کے ساتھ ہوسپٹل میں موجود تھے فضا کو آپریشن تھیٹر میں لےجایا گیا۔۔۔اُسنے کاشان کو فون کرکے جلدی سے ہوسپٹل میں بلایا۔۔۔کاشان بھی پہنچ چکا تھا۔۔وہ دونوں بےچینی سے کوریڈور میں مسلسل چکر کاٹ رہے تھے۔۔۔ایک گھنٹہ ہونے کو آیا تھا لیکن ڈاکٹر ابھی تک باہر نہیں آئی تھی وہ مسلسل فضا اور بچے کی صحت یابی کی دعائیں کررہا تھا ۔۔۔

سبحان یار بیٹھ جاؤ انشاللہ سب ٹھیک ہوگا۔۔کاشان اُسے تسلی دیتا ہوا بولا۔۔اِس سے پہلے سبحان کچھ کہتا تبھی ڈاکٹر باہر نکلی۔۔۔

ڈاکٹر میری بیوی اور بچہ کیسے ہیں وہ دونوں ٹھیک تو ہے ۔۔سبحان ڈاکٹر کو دیکھ پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔

مسٹر خانزادہ دونٹ وری۔۔شی از اول رائٹ۔۔۔بےبی بوائے ہوا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے ماشاءاللہ سے ڈاکٹر مسکرا کر بولی۔۔۔اور میری بیوی ۔۔جی جی ماشاءاللہ سے وہ بھی ٹھیک ہے۔۔بس کمزوری کی وجہ سے بےہوش ہے۔ ۔۔۔ڈاکٹر کی بات سن کر اُسنے دل ہی دل میں خدا کا لاکھ بار شکر ادا کیا۔۔۔مبارک ہو بڈی کاشان اُسکے گلے لگتا ہوا مسکرا کر بولا تمہیں بھی ۔۔۔

تبھی نرس سفید کمبل میں گلابی سے گول مٹول بچے کو لپٹے لائی۔۔۔سبحان نے نم آنکھوں سے مسکرا اُسے اپنی گود میں تھاما۔۔۔وہ بالکل سبحان جیسا تھا۔۔سب نکش اُسنے سبحان سے چراۓ تھے۔۔۔بس سبز آنکھیں فضا اور دیا پر گئی تھی۔۔جو اُسے مزید خوبصورت بنا رہی تھی۔اُسنے مسکرا کر بچے کے دونوں گالوں اور سر پر بوسہ دیا۔۔اُسکے بعد کاشان نے اسے گود میں لیا۔۔۔کچھ دیر بعد سبحان جیسے ہی بچے کو تھامے کمرے میں آیا تو تب تک فضا جاگ چکی تھی۔۔۔اُسنے نم آنکھوں سے مسکرا کر سبحان کو دیکھا۔۔۔شکریہ میری جان اِتنے پیارے اور خوبصورت تحفے کے لیے وہ محبت پاش نظروں سے اُسے دیکھتا باری باری اُسکی آنکھوں پر بوسہ دیتے ہوئے بولا۔۔۔فضا اپنے وجود کا ننھا ساحصہ دیکھ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔تبھی دروازا دھکیل کر ہادیہ علی،نوفل رانیہ اندر داخل ہوئے دیا بھی علی کی گود میں موجود تھی۔۔۔مبارک ہو بھائی بھابھی آپ دونوں کو ۔۔۔میں ایک بار پھر سے چاچو بن گیا۔۔۔

علی ہادیہ کی گود میں موجود گلابی سے بچے کو دیکھتا ہوا مسکرا کر بولا جسے آتے ہی ہادیہ اپنی گود میں لے چکی تھی۔۔

مبارک ہو آپ دونوں کو بہت بہت رانیہ اور نوفل باری باری اُن دونوں کو مبارکباد دیتے ہوئے بولے۔۔۔جسے اُن دونوں نے خوشدلی سے قبول کی۔۔۔

دیا ٹکر ٹکر بچے کو اپنی سبز آنکھوں سے مسلسل نہارنے میں مصروف تھی۔۔۔جبکہ دیا کو آہان اپنی نیلی آنکھوں سے نہارنے میں مصروف تھا۔۔۔نوفل مسلسل اپنے بیٹے کی حرکتیں دیکھ رہا تھا۔۔پھر چمکتی آنکھوں کے ساتھ بولا۔۔۔سبحان اپنی پرنسس مجھے دے دے نوفل سنجیدگی سے بولا۔۔جب کہ سبحان اور باقی سے نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔اُسنے اِشارے سے اُسے سامنے دیکھنے کا بولا۔۔۔جسے سمجھتے ہی ہوسپٹل کے اِس روم میں اُن سب کا قہقہہ گونجا ۔۔۔۔تو بس پرنسس مجھے دے دے ہم دونوں باپ بیٹے اپنی جان سے بھی زیادہ تمہاری پرنسس کا خیال رکھے گے نوفل اُسے دیکھ محبت سے بولا۔۔۔اُن سب کے بار بار محبت سے کہنے پر سبحان نے فضا کی جانب دیکھا۔۔۔فضا نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلایا۔۔اور کچھ ہی دیر ۔۔۔رشتہ طہ ہوگیا۔۔۔دیا 10 وی سالگرہ پر اُن دونوں کا نکاح رکھ دیا گیا۔۔۔سب ہی بہت خوش نظر آ رہے تھے ۔۔۔جب دیا کی جھجھلائی سی آواز گونجی ۔۔۔۔

بابا یہ تون ہے۔۔دیا سبحان کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔

بابا کی پرنسس سبحان نے مسکرا کر اُسے اپنی گود میں لیا ۔۔

پرنسس یہ آپ کا چھوٹا سا بھائی ہے ۔۔جس کے ساتھ اب آپ کھیلو گی۔۔واہ۔۔بابا میں اش کے ساتھ کھیلو گی۔۔۔دیا تھالی بجاتے ہوئے خوشی سے دھمکاتے چہرے کے بولی۔۔۔

اپنے آشیانے کو یو ہنستا مسکراتا دیکھ فضا نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔اور اپنے رب کا ڈھیروں شکر ادا کیا۔۔۔۔

جس نے اُسے اِتنی مصیبتوں اور تکلیفوں کے بعد اِتنی خوشیوں سے نوازا تھا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *