Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul NovelR50617 Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 23)
Rate this Novel
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 23)
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul
فضا باقی سب کے سونے کے بعد کچن کا سارا کام نمٹا کر جیسے ہی وہ کمرے میں آئی۔۔تب تک دیا سو چکی تھی۔۔وہ ایک نظر اُس پر ڈالے سبحان کی طرف مڑی جو بغیر اُس کے آنے کا تاثر لیے وہ صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کررہا تھا۔۔اُسنے فضا کے آنے کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور سنجیدگی سے لیپ ٹاپ پر جھکا کام کررہا تھا ۔فضا غصے سے اُسے گھورتی سر جھٹکتی ہوئی الماری سے اپنا سادہ سا ڈریس لے کر واشروم میں بند ہوگئی۔۔دروازا اِتنی زور سے بند کیا۔۔کہ سبحان نے بےساختہ اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔۔۔اور پھر سب سمجھ میں آنے پر سر نفی میں ہلاتا دوبارہ سے کام میں مصروف ہوگیا۔۔۔کچھ دیر بعد فضا شاور لے کر واشروم سے نکلی اور بغیر اُس پر ایک بھی نظر ڈالے شیشے کے سامنے کھڑی اپنے بال سلجھانے لگی۔۔سبحان نے لیپ ٹاپ پر سے نظریں اُٹھا کر اُسکی جانب دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔سفید گوری نکھری ہوئی رنگت۔۔چہرے پر چمکتی پانی کی ننھی سی بوندیں اُسے بےاِنتہا دلکش بنا رہی تھی۔۔سبز آنکھوں پر اُٹھتی گرتی پلکوں کی جالر۔۔۔سبحان کو اپنا دل ایک نئے لیول پر دھڑکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔وہ چا کر بھی اُس سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا۔۔۔سبحان بےساختہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُسکے پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا۔۔۔فضا جو اپنے دھیان میں نرمی سے بال برش کررہی تھی کہ سبحان کو اُس پر کسی بھی قسم کا شک نہ ہو۔۔لیکن یو سبحان کو اچانک اپنے پیچھے کھڑا دیکھ وہ گھبرائی۔۔۔سبحان اُسکی کمر کے گرد بازوں حائل کیے اُسے اپنے نزدیک تر کر گیا۔۔اور اُسکے گیلے نم بالوں میں بےخود سا ہوتا اپنا منہ چھپانے لگا۔۔۔سس۔سبحن۔سبحان۔۔نن۔نہیں۔۔کریں۔۔پپ۔پلیز۔۔وہ نم آنکھوں سے منمنائی۔۔۔ایک تو سبحان کی قربت دوسرا اُسے ڈر تھا کہ کہی سبحان کو پتہ نہ چل جاۓ جو وہ نہیں چاہتی تھی۔۔سبحان کی اِتنی سی قربت پر ہی فضا کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔اُسکا دل کررہا تھا وہ سبحان کی نظروں سے کہی دور ہوجاۓ۔۔۔وہ منمناتے ہوئے اُس سے دو قدم دور ہوئی۔۔۔۔
اور یہی سبحان کا اپنے اوپر موجود ضبط جواب دیے گیا۔۔۔
فضا۔۔یار۔۔کیا۔۔مثلا۔۔ہے۔۔۔قریب آتا ہوں۔۔تو قریب نہیں آنے دیتی ہو۔۔ دور جاتا ہوں تو دور نہیں جانے دیتی ۔۔آخر تمہارے ساتھ مثلا کیا ہے۔۔۔سبحان اپنا ضبط کھوتا غصے سے اُس کا رخ اپنا جانب موڑتا ہوا بولا۔۔رمشا کی ٹینشن کی وجہ سے وہ آج کافی ڈسٹرب تھا اور فل وقت سکون چاہتا تھا۔بس جو اُسکی بیوی حرام کررہی تھی۔سس۔سبحان۔۔وہ نم آنکھوں سے اُسے پکارتی ہوئی بولی۔۔۔کیا۔۔کیا۔۔سبحان۔۔۔فضا میں چاہو تو ابھی زور زبردستی سے اپنا حق وصول کرسکتا ہوں دنیا کی کوئی عدالت یا کوئی بھی قانون مجھے نہیں روک سکتا۔۔لیکن میں ایسا نہیں کرنا چاہتا اور تم مجھے مجبور کررہی ہو۔۔۔فضا یار کیسے یقین دلاؤ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔وہ آخر پہ بےبسی سے بولا۔محبت سے بھی زیادہ عشق کرتا ہوں۔۔۔دیا اگر میرا دل ہے تو تم میری دھڑکن ہو۔۔۔میں نے تمہیں اب تک وقت دیا کہ تم ہمارے رشتے کو سمجھو۔۔مجھے سمجھو۔لیکن اب تم میرا ضبط آزما رہی ہوں۔۔۔وہ اُسے جھجھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔جو نظریں جھکائے ہوئے چپ چاپ آنسو بہانے میں مصروف تھی۔۔۔
مم۔میں تمہارے ساتھ اب بھی کوئی زور زبردستی نہیں کرو گا۔۔کیوں میں تم سے بےاِنتہا محبت کرتا ہوں۔۔۔اور جب تک تم خود نہیں چاہو گی میں تمہارے قریب نہیں آؤ گا۔۔۔وہ سنجیدگی سے کہتا پلٹا۔۔۔اور ہاں۔۔۔جتنا ہوسکے میرے سامنے کم آنے کی کوشش کرنا یہی ہم دونوں کے لیے بہتر ہے۔۔۔وہ اِنتہائی سنجیدگی سے کہتا اپنی جگہ پر لیٹ کر رُخ موڑ گیا۔۔۔
اور وہ بےبسی کی مورت بنی پتھرائی نظروں سے سبحان کی پشت کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ ساکت وجود کے ساتھ وہی کھڑی رہی پھر آخر وہ اپنے آپ میں ہمت جما کر کے ایک فیصلے پر پہنچی۔۔۔اور لرزتے قدموں کے ساتھ قدم قدم چلتی ہوئی سبحان کی سائیڈ پر آئی۔۔۔اور ایک نظر اُسکے چہرے پر ڈالی۔۔۔
سبحان رخ موڑے آنکھیں بند کیے ہوئے لیٹا تھا۔۔۔جب اُسکے ہاتھ پر کسی نے ہاتھ رکھا۔۔اُسنے آنکھوں کھول کر دیکھا تو فضا نظریں جھکائے بیڈ کے پاس نیچے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
ایم۔۔سس۔۔سوری۔۔وہ۔نظریں جھکاۓ شرمندگی سے بولی۔۔۔
سبحان نے اُسکی بات پر نظریں پھیری۔۔۔اُسکا نظریں پھیرنا فضا کو انگارہ پر جھلسا سا گیا۔۔فضا خود میں ہمت جمع کرتی سانس روکے اُسکی طرف جھکی۔۔۔اور اپنے کانپتے لرزتے ہونٹ اُسکی گال پر رکھ دیے۔۔۔سبحان تو اُسکی حرکت پر ہی ساکت ہوگیا۔۔۔۔ابھی وہ سنبھلا بھی نہیں تھا جب فضا نے اپنے ہونٹ اُسکی دوسری گال پر رکھے۔۔سبحان ساکت نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا اُسنے کہاں تواقع کی تھی ۔۔۔سبحان نے ہوش میں آتے ہی ایک جھٹکے سے اُسے اپنی جانب کھینچا۔۔وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور سیدھا اُسکے سینے پر آ لگی۔۔۔جانِ سبحان اب تم یہ سب کرکے میرے بندھ باندھے جزبات کو مزید بھڑکا رہی ہو۔۔۔سبحان اُس کے بال کان کے پیچھے کرتا اُسے دیکھ گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔۔
اُسکی بات کا مطلب سمجھ کر فضا کا جسم لرزا ۔۔
سس۔سوری۔۔وہ نظریں جھکائے سوں سوں کرتی ہوئی بولی۔۔مجھے آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔میں یہ۔جج۔جان۔بوجھ۔کرنہیں۔کرتی۔پتہ۔۔نہیں مجھے کیا ہوجاتا ہے۔۔مم۔موسی۔۔کی۔۔بےوفائی۔۔کی۔۔وجہ۔۔سے۔ممم۔۔میں۔آپ کی یہ کسی کی۔۔مم۔محبت۔پر۔اعتبار۔ہہ۔ہی۔نہیں۔۔کرپارہی۔۔ہوں۔۔وہ روتے ہوئے نظریں جھکائے بولی۔۔موسی۔کا۔۔نام۔۔سن۔۔کر۔سبحان کا حلق تک کڑوا ہوا۔۔۔
فضا کیا۔۔تمہیں۔۔اب۔۔بھی۔۔لگتا۔۔ہے۔۔کہ۔۔میں۔تم۔سے۔۔یا۔۔دیا۔۔سے۔محبت۔۔کرنے۔کا۔ڈھونگ۔کرتا۔ہوں۔۔سبحان اُسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا۔۔بولا۔۔اگر۔۔ایسا لگتا۔۔تو۔۔مم۔میں۔۔ابھی۔آپ۔کو۔۔منانے۔۔لیے۔۔یہ۔چھچھوری ۔۔حرکت کبھی سر انجام۔۔نہ دیتی۔۔۔وہ نظریں جھکائے بلش کرتی ہوئی بولی۔۔اُسکی بات پر سبحان کا قہقہہ چھوٹا۔۔او۔۔تو میری معصوم بیوی مجھے منانے کے لیے یہ حربے آزما رہی تھی۔۔سبحان۔۔اُسکی آنکھوں میں اپنی ہیزل آنکھیں گاڑتے ہوئے شرارت سے بولا۔۔فضا زیادہ دیر سبحان کی آنکھوں میں نہ دیکھ پائی۔۔جہاں جزبات کا ایک جہان آباد تھا۔۔۔جس سے فضا نے نظریں چرائی۔۔
سبحان میں آپ کے لائق نہیں ہوں۔۔کچھ دیر بعد وہ نم آواز میں بولی۔۔میری جان سبحان کے لیے صرف سبحان کی جان فضا سبحان ہی لائق ہے۔۔۔جسے اللّٰہ نے ایک تحفہ سمجھ کر میری جھولی میں ڈالا۔۔۔اور ساتھ مجھے ایک ننھی سی رحمت سے بھی نوازا۔۔جس کا میں بےحد شکر گزار ہوں۔سبحان دیا پر ایک نظر ڈالے محبت سے چور لہجے میں بولا۔۔
آپ ایسے کیوں ہے۔۔کیسے کسی اور کی اولاد سے اِتنا پیار کرسکتے ہیں۔۔۔وہ یک ٹک اُسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔فضا میں آپ کو کتنی بار بولو۔۔۔دیا صرف میری بیٹی ہے بس۔۔یہ میں آپ کو لاسٹ ٹاٹم بول رہا ہوں۔۔۔وہ اُسے آنکھوں سے وارننگ دیتا ہوا بولا۔۔۔تو وہ سر ہلا گئی۔۔۔
سبحان نے جزبات سے چور لہجے میں آگے بڑھ کر اُسکی دونوں روئی جیسی گالوں پر بوسہ دیا۔۔اِس بار اُسنے سبحان کو نہیں روکا۔۔لیکن سبحان کی حرکت پر فضا نے اپنی آنکھیں میچی۔۔۔مم۔میری۔۔جان۔۔اِجازت۔۔ہے۔۔وہ اُسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامے اُسکی آنکھوں میں دیکھتا خمار آلودہ لہجے میں بولا۔۔۔۔فضا شرم و حیا کے مارے سبحان کے سینے میں منہ چھپا گئی۔۔فضا کی حرکت کو اُسکی اجازت سمجھ کر وہ سرشار سا اُس کے گلابی ہونٹوں کو اپنی قید میں کرگیا۔۔۔فضا اچانک اُسکی حرکت پر بوکھلا گئی۔۔اُسنے مضبوطی سے اُسکی شرٹ کو اپنی مٹھی میں جکڑا۔۔۔جو سب کچھ بھلاۓ مدہوش سا اُس پر جھکا اُسکی سانسیں پی رہا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر بعد وہ اُسکے لبوں کو آزادی بخشے اُسکی گردن پر اپنا جانجا لمس چھوڑنے لگا۔۔جس سے فضا خود میں سمٹی۔۔سس۔۔سبحان۔۔نن۔۔فضا لرزتے جسم کے ساتھ صرف اِتنا ہی بول پائی۔۔۔ننن۔نہیں۔میری جان اب کچھ نہیں بولا۔۔اب بس مجھے۔میری۔۔محبت۔کو۔۔محسوس کرو۔۔تم نے خود ہی میرے جزبات کو بھڑکایا ہے۔۔اب مجھے جھیلوں اپنی ننھی سی جان پر۔۔وہ باری باری اُسکی سبز آنکھوں پر بوسہ دیتا ایک بار پھر اُسکے گلابی لبوں کو اپنی قید میں کرگیا۔۔۔
فضا سب کچھ بھلاۓ اپنا آپ اپنے محرم کے حوالے کر گئی۔۔جسے کتنے ہی وقت سے اُس اُسکے حق سے محروم رکھ کر اپنے اللّٰہ کو ناراض کیا تھا۔۔۔رات سرکنے کے ساتھ ساتھ سبحان کی شدتوں میں اضافہ ہوتا گیا جس سے اُس کے اوسطا خطا ہونے لگے۔۔۔سبحان قطرہ قطرہ اُس پر اپنی محبت برسا رہا تھا۔۔جس میں وہ مکمل طور سبحان کی محبت میں بھیگ چکی تھی۔۔۔۔
________________
صبح کے ساتھ بج رہے تھے۔۔باہر موسم کافی خوشگوار اور ابرآلودہ تھا۔۔۔فضا ابھی کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی۔۔جسے سبحان نے پوری نہیں سونے دیا۔۔وہ مزے سے اُسکے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی۔۔جب دھڑام سے دروازا کھٹکھنے لگا۔۔۔فضا جلدی سے ہڑبڑا کر اُٹھی۔۔سبحان بھی شور کی آواز پر نیند سے چور آنکھیں کھولتا فضا کو دیکھنے لگا۔۔۔سبحان۔۔دروازا کھولو۔۔رمشا کی چنگھاڑتی ہوئی آواز اُن دونوں کی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔اُسکی آواز سن کر دونوں کا حلق تک کڑوا ہوا۔۔۔فضا سبحان کو ایسے گھور رہی تھی جیسے ابھی کچا چبا جاۓ گی۔۔۔
اُسنے رات کو بھی سبحان کو بولا تھا۔۔جسے سبحان نے یہ کہ کر چپ کروا دیا کہ وہ کچھ دن تک چلی جاۓ گی۔۔۔
مم۔میں۔بول۔۔رہی۔۔ہوں۔۔سبحان۔۔آپ۔۔کی۔یہ۔ایٹم۔۔اس۔۔گھر سے جلدی دفع نہیں ہوئی نہ تو پھر میں نے اِسے اپنے طریقے سے دفع کرنا ہے۔۔فضا رمشا کی کل والی حرکت یاد کرتے ہی سبحان کو دیکھتی چبا چبا کر بولی۔۔۔اور الماری سے اپنے کپڑے لیے واشروم میں بند ہوگئی۔۔۔سبحان ایک نظر بند دروازے کو دیکھتا رمشا کو دل میں کہی القابات سے نوازتا سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا دروازے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
اُسنے جیسے ہی دروازہ کھولا۔۔تو وہ سامنے ہی ٹریک سوٹ پہنے چمکتی آنکھوں سے اُسے دیکھ کم گھور زیادہ رہی تھی۔۔۔گڈ مارننگ ہینڈسم مین۔۔وہ اُسکے سکس پیک کو دیکھتی ہوئی خوشگوار لہجے میں بولی۔۔سبحان کو جب اپنی پوزیشن کا خیال آیا تو اُسنے دل میں کہی القابات سے خود کو نوازا کے کیا ضرورت تھی اِس میک اپ کی دکان کے سامنے شرٹ کے بغیر دروازا کھولنے کی۔۔۔
مارننگ وہ زبردستی مسکراتا ہوا بولا۔۔خیریت صبح صبح یی۔یہاں۔۔۔ہاں۔۔وہ میں نے سوچا کہ ملکر جوگنگ پر چلتے ہیں ۔۔مزہ آۓ گا۔۔وہ اُسکی طرف دیکھتی ایک ادا سے بولی۔۔۔۔
ہمممم۔۔تم۔چلو۔۔میں۔۔آتا ہوں۔۔اُسکے جاتے ہی وہ بیزاری سے دروازا بند کرتا جیسے ہی مڑا تو سامنے ہی وہ کمر پہ ہاتھ رکھے اُسے گھور رہی تھی۔۔۔کک۔کیا۔۔ہوا۔۔ایسے۔۔کک۔کیا۔۔دیکھ۔رہی۔۔ہو۔۔زیادہ۔۔پیارا۔۔لگ۔ہوں۔۔کیا۔۔وہ گڑبڑا کر کہتا آگے بڑھ کر اُسے کمر سے تھامے اُسکے نم بالوں میں منہ چھپانے لگا۔۔۔آپ کو کیا ضرورت تھی اس چھمک چھلو کے سامنے شرٹ کے بغیر جانے کی۔۔وہ اُسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے غصے سے بولی۔۔۔یار۔۔دھیان۔۔نہجں۔۔رہا۔اگلی دفعہ دھیان رکھو گا۔۔
پکا۔سبحان اُسکی بات کا جواب دیتا بغیر اُسے کچھ سمجھنے کا موقع دیے اُسکے ہونٹوں پر جھک گیا۔۔۔
