Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul NovelR50617 Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 21)
Rate this Novel
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 21)
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul
دیا کے ساتھ پیش آۓ واقعے کو ایک ہفتے سے زیادہ گزر چکا تھا۔۔لیکن سبحان ابھی تک دیا سے بےاِنتہا ناراض تھا۔۔وہ نہ تو اُس سے بات کررہا تھا اور نہ ہی اُسکی کسی بھی بات کا جواب دیتا تھا۔۔۔فضا کافی بار کوشش کرچکی تھی کہ سبحان اُس کے ساتھ پہلے جیسا ہوجاۓ۔اُس سے بات کرے اُسکو ڈانٹے لیکن یو ناراض نہ رہے۔۔۔پتہ نہیں کیوں اُسے سبحان کی ناراضگی برداشت نہیں ہو پارہی تھی۔۔سبحان کا ایسا اجنبی رویہ اُسکے لیے بالکل نیا تھا۔۔وہ جب سے خانزادہ ہاؤس آئی تھی اُسنے سبحان کی صرف اور صرف محبت اور نرمی ہی دیکھی تھی۔۔لیکن اب اُسکی ناراضگی اُسے انگارہ پر جھونک رہی تھی۔۔۔جس وہ آج کل کافی جھجھلائی ہوئی تھی۔۔۔اب بھی وہ اپنی سوچوں میں گم سبحان کی کافی لیے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
فضا نے نظر اُٹھاکر کر اُس مغرور شہزادے کو دیکھ ۔۔۔
جہاں وہ اپنی تمام تر وجاہت اور شان بے نیازی کے ساتھ شیشے کے سامنے کھڑا شرٹ کے بٹن بند کررہا تھا۔۔۔اُسکو کمرے میں آتا دیکھ سبحان نے شیشے سے ہی ایک سرسوری نظر اُس پر ڈالی۔۔جہاں وہ کافی جھجھلائی ہوئی لگ رہی تھی۔۔لیکن وہ اُسکی ذات کو فراموش کیے دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا تھا۔۔
اپنی ذات کو یو اگنور ہوتا دیکھ فضا کو تو تپ ہی چڑ گئی۔۔۔اُسکا شدت سے دل چاہا سبحان کے سر پر کچھ مارنے کا۔۔۔کافی۔۔فضا غصے سے ہر لفظ چبا چبا کر بولی۔۔سبحان بغیر کچھ کہے چپ چاپ کافی کا مگ اُٹھاۓ صوفے پر بیٹھ کر مزے سے کافی پینے لگا۔۔اُسے فضا کو یو تپانا بےحد مزہ دے رہا تھا۔۔۔دیا بیڈ پر سوئی ہوئی تھی۔۔۔فضا کتنی ہی دیر وہاں کھڑی رہی کہ وہ کچھ بولے گا۔۔لیکن اُسے مزے سے کافی پیتا دیکھ وہ غصے سے کھولتی ہوئی کمرے سے جانے لگی جب سبحان کی آواز اُسکی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔
میں کچھ ضروری کام سے جارہا ہوں ۔۔۔پتہ نہیں کتنی دیر لگتی ہے۔۔اور واپسی کب ہو اِس دیا کا خیال رکھیے گا۔۔وہ دیا کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے جان بوجھ کر صرف دیا کا بولا۔۔۔اور ایک نظر شیشے سے اپنے اوپر ڈالے اپنا کوٹ اُٹھاۓ کمرے سے باہر جانے لگا۔۔۔لیکن دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر روکا اور اُسکی طرح رُخ موڑ کر بولا۔۔۔میڈیسن ٹائم پر لے لیجیے گا۔۔میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرو گا۔۔اور کل ڈاکٹر کے پاس چلے گے آپ کا چیک اپ کروانے۔۔وہ سنجیدگی سے کہتا کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
سبحان کا خود کے ساتھ ایسا رُوکھا رویہ دیکھ فضا کی سبز سہر زدہ آنکھیں نم ہوئی۔۔۔دیا کا خیال رکھیے گا۔۔وہ منہ بسورتی ہوئی اُسکی بات کی نکل اُتارتی ہوئی بولی۔۔اور دیا کی ماما کے خیال کا کیا۔۔کھڑوس۔۔وہ بڑبڑاتی ہوئی سر جھٹک کر دیا کی جانب متوجہ ہوگئی۔۔۔جو سوئی جاگی کفیت میں لیٹی ہوئی ٹکر ٹکر اپنی سبز آنکھوں سے فضا کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔ماما کی جان اُٹھ گئی۔۔۔میرا بچہ۔ماما کا پارا بچہ۔۔۔فضا محبت سے اُسے اپنی گود میں لیتے ہوئے مسکرا کر بولی۔۔اور محبت سے اُسکے پھولے پھولے گالوں پر بوسہ دیا۔۔۔دیا سوئی جاگی کفیت میں کچھ دیر سے سب سمجھنے کی کوشش کرتی رہی۔۔۔ب۔بب۔بابا۔۔اُسکے منہ سے سبحان کا نام سن کر مانو فضا کو تو آگ ہی لگ گئی۔۔بس تم دونوں باپ بیٹی کو بس ایک دوسرے کی پڑی رہتی ہے۔۔۔کبھی ماں اور بیوی پر بھی اپنی نظر کرم کرلیا کرو۔۔جو تم دونوں کی یاد میں پلکیں بچھاۓ بیٹھی ہوتی ہے۔فضا اُسکی طرف دیکھتی ہوئی ہر لفظ چبا چبا کر بولی۔۔ماں کو یو غصہ ہوتا دیکھ دیا کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔
سبحان کسی کام سے واپس کمرے میں آرہا تھا لیکن ابھی وہ اندر داخل ہونے لگا تھا کہ تبھی فضا کی بڑبڑاہت سن کر سبحان کے چہرے پر زندگی سے بھر پور مسکراہٹ نے اپنی چھاپ دکھلائی۔۔جس سے اُسکے ڈمپل نامدار ہوئے۔۔او تو سبحان کی جان کو سبحان کی ناراضگی برداشت نہیں ہورہی۔۔۔وہ فضا کو سوچتے ہوئے سر نہ میں ہلاتا بغیر کچھ لیے وہی سے واپس مڑ گیا۔۔۔
__________________
وائٹ گھٹنوں سے اُوپر تک آتی سلیولس شرٹ کے ساتھ بلیو جینز پہنے۔۔کندھوں تک آتے گولڈ بال۔۔جن کو وہ ایک ادا سے پیچھے جھٹک رہی تھی۔۔ڈارک میک اپ کیے لبوں پر بھی ریڈ لپسٹک لگایا۔۔آس پاس موجود مردوں کو مکمل بہکانے کا کام کررہی تھی۔۔۔
جو اِس وقت اپنے تمام تر حسن کے ساتھ شہر کے سب سے بڑے اور مشہور ہوٹل میں اپنے دوستوں کے ساتھ لنچ کررہی تھی۔۔۔۔آس پاس موجود مرد اُسے للچائی اور ہوس بھری نظروں سے دیکھ کم گھور زیادہ رہے تھے۔۔جب کہ خواتین اُسے اِنتہائی غصے اور حسد سے دیکھ رہی تھی۔۔وہ آس پاس کے ماحول سے بے نیاز اپنے دوستوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی۔۔۔
جب اُسکی دوست ندا کی خوشی سے بھرپور آواز گونجی۔۔۔
لُک سو ہینڈسم یار۔۔۔رمشا دیکھ وہ لڑکا کتنا حسین ہے ایک دم کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا ہے۔۔۔ندا کی خوشی ایکساٹڈ سے بھرپور آواز گونجی۔۔رمشا کے ساتھ سب نے بیک وقت نظریں اُٹھا کر انٹری سائیڈ پر دیکھا۔۔۔جہاں وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ پہنے بائیں ہاتھ پر رولکس کی واچ لگاۓ۔۔بالوں کو جل سے سیٹ کیے۔۔آنکھوں پر بھی بلیک گلاسز لگاۓ چہرے پر چھائی سنجیدگی جو اُسے اور دلکش بنا رہی تھی۔۔ وہ اپنے بوڈی گارڈز کے درمیان مغرور چال چلتا ہوا سچ میں کسی ریاست کا شہزادہ ہی تو لگ رہا تھا۔۔جسے لڑکیاں پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ حسد سے دیکھ رہی تھی۔۔۔یا۔۔اٹس سو ہینڈسم۔۔۔ رمشا کی سرگوشی بھری آواز گونجی۔۔۔اِس قدر خوبصورت اور حسین مرد اُسنے اپنی پوری زندگی میں کہاں دیکھا تھا۔۔وہ تو پہلی نظر میں ہی اُس پر اپنا دل ہار بیٹھی تھی۔۔جو اردگرد کے ماحول سے بے نیاز کسی سے محو گفتگو میں مصروف تھا۔۔۔
عاطف اُسنے ہوش میں آتے ہی اپنے دوست عاطف کو پکارا۔۔
مجھے اِس ہینڈسم مین کی پوری ڈاٹیل چائیے وہ بھی آج شام تک۔۔۔وہ چمکتی آنکھوں سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی تو وہ ہاں میں سر ہلا گیا۔۔۔بہت جلد ملتے ہیں مائی ہینڈسم مین وہ دل میں اُس سے مخاطب ہوئی۔۔۔اور ویٹر کو اوڈر لکھنے کا بولا جو بچارا پچھلے آدھے گھنٹے سے کھڑا تھا۔۔۔
ہاں۔۔بب۔بولو۔۔وہ اپنے ازالی سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔۔ایس۔کے۔۔کام۔ہوگیا۔۔۔ہمم۔۔گڈ۔۔ویسے۔۔ایس کے آپ کی خوبصورتی پر تو کوئی بھی مر مٹے پھر وہ محترمہ کیا چیز ہے۔۔۔اور اگر بھابھی کو پتہ چل گیا نہ کہ آپ ہوٹل میں بیٹھے لڑکی پٹا رہے ہو۔۔تو بس پھر آپ کا اللّٰہ ہی مالک۔۔ولی کان میں لگے بلیو ٹوتھ میں سنجیدگی سے بولا۔۔لیکن اُسکے لہجے میں شرارت واضح تھی۔۔جس پر سب کی ائیر سپیکر سے دبی دبی ہنسی گونجی۔۔۔۔۔ولی تم کسی دن میرے ہاتھوں مرو گے ایس کے چبا چبا کر بولا۔۔۔
ولی نے بےساختہ جھرجھری لی۔۔لاحول ولا قوتہ۔۔ایس کے میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔اور مجھے پاپا کون بولے گا۔۔میں نے ابھی اِتنی جلدی نہیں مرنا۔۔وہ اُسے مزید تنگ کرنےلگا۔۔۔ولیییییی۔۔۔وہ دبا دبا چیخا۔سسس۔سوری۔ایس۔کہ۔۔وہ جلدی سے سیدھا ہوا۔۔۔
اُسنے اپنے دوست کو آپ کے بارے میں آج شام تک سب کچھ پتہ لگانے کا بولا ہے۔۔ولی سنجیدگی سے بولا۔۔۔ہممم۔
باقی ہم دیکھ لے گے۔۔تم۔۔۔آج شام تک وہی ویٹر کی نوکری کرو گے۔۔۔اِٹس مائی اوڈر۔۔۔ایس کے کی بات پر اُن سب کا ایک ساتھ قہقہہ چھوٹا۔۔۔ایسسسس۔۔کککک۔۔ےےے۔۔وہ چلایا۔۔لیکن اب کوئی فائدہ نہیں تھا رابط منطقہ ہوچکا۔۔۔اُسے پتہ تھا یہ اُسکے کچھ دیر پہلے والے مزاق کی سزا ہے۔۔جس کو اُسے ہر ہال میں پورا کرنا ہے۔۔وہ خود چھوہر دیکھاتی زبان کو کہی القابات سے نوازتا پیر پٹخ کر آگے بڑھ گیا۔۔جو کہی بھی کسی کے بھی سامنے بے قابو ہوجاتی تھی۔۔۔
__________________
موسیٰ مجھے تم سے یہ اُمید بالکل بھی نہیں تھی۔۔تمہارے ہوتے ہوئے کوئی کمینہ ایس کے کیسے میری اِتنی محنت سے بنائے اڈھوں پر قبضہ کر سکتا ہے۔۔۔شاکر دادا آج فون پر موسیٰ کو آڑے ہاتھوں لے چکا تھا۔۔۔
کچھ ضروری کام کی وجہ سے اُسنے اب پاکستان پانچ دن بعد جانا تھا۔۔۔
مم۔معاف۔۔کرنا۔۔دادا۔۔۔پتہ۔۔نہیں کیسے یہ سب ہوگیا۔۔ہر شہر میں اڈھوں پر اِتنی ٹائٹ سکیورٹی کے ہوتے ہوۓ بھی پتہ نہیں وہ کمینے کیسے سب کچھ وہاں سے لے اُڑے۔۔۔موسی غصے اور حقارت کے ملے جلے تاثرات لیے سنجیدگی سے بولا۔۔۔مجھے اِس سب کا کچھ نہیں پتہ موسیٰ پاکستان میں موجود سب کام تمہارے حوالے کیا ہیں میں نے۔۔اور تم اب تک پتہ نہیں لگا پاۓ کہ یہ کیا دھرا کس کا ہے۔۔شاکر دادا اپنی ازالی آواز میں دھاڑا۔۔۔اُسکی دھاڑ پر موسیٰ نے اپنا تھوک نگلا۔۔۔دادا آپ فکر مت کرے۔میں جلد ہی اُس ایس کے کا پتہ لگانے کی کوشش کرتا ہوں۔۔موسی اپنا ماتھا مسلتا ہوا سنجیدگی سے بولا۔۔۔اور پھر کچھ اور ایک دو باتوں کے بعد اُسنے فون رکھ دیا۔۔۔
موسیٰ ڈارلنگ کیا ہوا ہے۔۔یو۔وِل۔بھی۔۔اول۔۔رائٹ۔۔اِنتہائی بےحودہ لباس زیب تن کیے وہ لڑکی موسیٰ کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرے فکرمندی سے بولی۔۔۔یا۔۔بےبی۔۔ایوری تھنک اِز اول رائٹ۔۔وہ سب کچھ بھلاۓ اُسکے گالوں پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا گھمبیر آواز میں بولا۔۔تو وہ لڑکی مسکرا دی۔۔
اور بے باکی سے اپنے گلابی ہونٹ اُسکے ہونٹوں پر رکھ گئی۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ ایک دوسرے میں گم ہر جائز ناجائز پردہ گرا چکے تھے۔۔۔
____________________
فضا ایک نظر کمرے کو دیکھے سر نفی میں ہلاتی سارا پھیلاؤ سمیٹنے لگی۔۔پورا کمرہ دیا کے کھلونوں سے بھرا پڑا تھا جو سبحان کچھ دن پہلے ہی اُسکے لیے لایا تھا۔۔فضا نفی میں سر ہلاتی ہوئی کمرے کا پھیلاؤ سمیٹ رہی تھی۔۔دیا کو علی کچھ دیر کے لیے باہر لے کر گیا تھا۔۔۔شام کے چار بج رہے تھے لیکن سبحان ابھی تک گھر واپس نہیں آیا تھا۔۔فضا دیا کا پھیلاؤ سمیٹ رہی تھی جب ایک دم سے اُسے چکر آیا۔۔وہ اپنا سر تھامے وہی صوفے پر بیٹھ گئی۔۔یااللّٰہ یہ منحوس چکر کب میری جان چھوڑے گئے۔۔وہ سر ہاتھوں میں گرائی بڑبڑائی۔۔۔کچھ دیر وہ آنکھیں موندے وہی صوفے کی بیک سے سر ٹکا گئی۔۔۔دس منٹ بعد جب وہ کچھ سنبھلی۔۔تو باقی سامان سمیٹنے کے لیے وہ صوفے سے اُٹھنے لگی تبھی اُسکی نظر اپنے کندھوں اور گود پر گئی۔۔۔وہ حیران اور پتھرائی نظروں سے کبھی کندھوں اور کبھی گود کو دیکھ رہی تھی جہاں ہر جگہ بال ہی بال موجود تھے۔۔۔وہ لرزتے جسم کے ساتھ جلدی سے بھاگ کر شیشے کے سامنے گئی۔۔۔اور اپنا ہاتھ بالوں میں پھیر کر اپنی آنکھوں کے سامنے کیا۔۔تو اُسے ایسا لگا جیسے اُسکے خوبصورت بال کسی نے اُکھاڑ کر اُسکے ہاتھ میں پکڑا دیے ہو۔۔۔وہ منہ پر ہاتھ رکھے پتھرائی نظروں سے نیچے گرے بالوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔آنکھوں سے آنسو روانگی کی صورت تیزی سے بہ رہے تھے۔۔۔ممم۔میر۔میرے۔۔بب۔بال۔۔کہیتی ہی وہی روتی ہوئی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔۔۔اُسنے یہ سب کب سوچا تھا کہ اُسکے بال۔۔۔اُسے تو اپنے لمبے بالوں سے عشق تھا۔۔۔اور اب اُسکے وہی بال نہیں رہے گے۔۔یہ سوچ آتے ہی وہ گھٹنوں میں سر دیے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔وہ ابھی سنبھلی بھی نہیں تھی۔۔تبھی دروازا نوک ہونے پر وہ جلدی سے دروازے کی جانب متوجہ ہوئی۔۔اور جلدی سے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو صاف کیے۔۔۔
کک۔کون۔۔ہے۔۔وہ وہی بیٹھی دروازے کی طرف دیکھ کر بولی۔۔بب۔بھابھی۔۔میں۔۔ہوں۔۔علی کی آواز گونجی ۔۔وہ جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھی۔۔اور ایک نظر اپنے بالوں کو دیکھ کر اُنہیں اُٹھا کر ڈسٹ بن میں پھینکا۔۔۔اور جلدی سے الماری سے بڑا سائز کا دوبٹہ لےکر نماز کے سٹائل سے سر پر اُوڑھا۔۔اور خود کو نارمل کرتی ہوئی اُسنے دروازا کھولا ۔۔۔
ہاں۔۔بولو۔۔علی۔۔وہ اُسے دیکھ نرمی سے بولی۔۔بھابھی آپ کی پٹاخہ سو چکی ہے تو اِسے میں چھوڑنے آیا تھا۔۔علی اپنے کندھے کی طرف اِشارہ کرتا ہوا بولا۔۔جہاں وہ سر رکھے سکون سے سوئی ہوئی تھی۔۔۔ہممم۔اِسے کمرے میں آکر بیڈ پر لٹا دو۔۔فضا کہتی ہی اُسے اندر آنے کا راستہ دے گئی۔۔علی اُسے بیڈ پر لٹا کر کمرے سے جاچکا تھا۔۔۔
